
یسُوع ’’زندگی کی روٹی‘‘ کیسے ہے ؟
25/12/2025
یسُوع قیامت اور زِندگی کیسے ہے؟
22/01/2026یسُوع اچھا چرواہا کیسے ہے؟
اس عظیم سوال کا جواب نہایت سادہ ہے: یسُوع اس لیے اچھا چرواہا ہے کیونکہ اُس نے خُود فرمایا کہ وہ ہے۔ یوحنا کی اِنجیل میں یسوع نے فرمایا:’’ مَیں اچھا چرواہا ہوں‘‘ (یوحنا ۱۱:۱۰)۔ ہم یہیں پر معاملہ کو ختم کر سکتے ہیں اور اُس دعوے پر قناعت کر سکتے ہیں—یہ اُس ہستی کا دعویٰ ہے جو اپنے مخالفین سے پورے اِعتماد سے یہ کہہ سکتی تھی: ’’ تُم میں کَون مُجھ پر گُناہ ثابت کرتا ہے؟‘‘(یوحنا۴۶:۸)۔ نہ صرف یہ کہ یسوع سچ بولتا تھا، بلکہ اُس نے یہ بھی فرمایا: ’’ حق مَیں ہوں ‘‘(یوحنا ۶:۱۴)۔
تاہم، یسوع نے کبھی کوئی ایسا دعویٰ نہیں کِیا جو ثبوت کے بغیر ہو۔ کوئی بھی شخص اپنے بارے میں بڑے بڑے دعوے کر سکتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی غیر معمولی کیوں نہ ہوں۔ لیکن دعووں کو پرکھا جانا ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ وہ دعوے حق پر مبنی ہیں یا محض خُود فریبی پر ہیں ۔ یسوع کے دعوے نہ صرف سچائی پر مبنی تھے، بلکہ اُن کی تائید اُس کی زِندگی، اُس کے اَعمال اور اُس کی قربانی سے بھی ہوتی ہے۔
جب یسُوع نے فرمایا، ’’ اچھا چرواہا مَیں ہوں‘‘ ،تو اُس کے بعد کے اَلفاظ نے نہ صرف اُس کے ارادے کو واضح کِیا بلکہ اُس دعوے کو حقیقی معنویت بھی عطا کی۔ اُس نے فرمایا:’’ اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں۔ اچھّا چَرواہا بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہے‘‘(یُوحنّا ۱۱:۱۰)۔
چرواہے اور بھیڑوں کی چراگاہی کی تمثیل ، یسوع کے سامعین کے لیے ایک جانی پہچانی اور دِل سے سمجھی جانے والی تصویر تھی۔ وہ ایک ایسی سرزمین میں رہتے تھے جہاں چرواہے اور بھیڑیں عام منظر تھیں اور روزمرہ کی زِندگی کا حصہ تھیں ۔ مگر یہ محض ثقافتی واقفیت نہ تھی—اُنھیں پاک نوشتوں سے یہ بھی معلوم تھا کہ خُداوند نے اپنے آپ کو چرواہے سے تشبیہ دی ہے، جو اپنی بھیڑوں—یعنی اِیمان دار قوم—سے گہری محبت اور فکر مندی سے خیال رکھتا ہے۔ شاید سب سے زیادہ واضح، مؤثر اور دِل نشین انداز میں خُداوند کی بہ طور چرواہے جیسی نگہبانی کو زبُور ۲۳ میں بیان کِیا گیا ہے، یہ زبُور اُس اِلٰہی قُربت، حفاظت اور پرورش کی بھر پور تصویر پیش کرتا ہے، جو خُدا اپنے وفا دار بندوں کے لیے ہمیشہ سے مہیا کرتا آیا ہے:
’’خُداوند میرا چَوپان ہے۔ مُجھے کمی نہ ہو گی۔
وہ مُجھے ہری ہری چراگاہوں میں بِٹھاتا ہے۔
وہ مُجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔
وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔
وہ مُجھے اپنے نام کی خاطِر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔
بلکہ خواہ مَوت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گُذر ہو
مَیں کِسی بلا سے نہیں ڈرُوں گا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے۔
تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مُجھے تسلّی ہے۔
تُو میرے دُشمنوں کے رُوبرُو میرے آگے دسترخوان بِچھاتا ہے۔
تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پِیالہ لبریز ہوتا ہے۔
یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی
اور مَیں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکُونت کرُوں گا۔‘‘ (زبُور ۱:۲۳- ۶ )
مَیں نے اِس زبُور کو سینکڑوں بار پڑھا ہے، اور اپنی چالیس سالہ خِدمت کے دوران سات سو سے زائد جنازوں میں اِسے دِل کی گہرائی سے تلاوت کِیا ہے۔ اِن اَلفاظ میں آسمانی چرواہے کی نگہداشت، شفقت، روزی رسانی، حفاظت اور بے پایاں محبت کو نہایت خُوب صورتی سے بیان کِیا گیا ہے—وہ محبت جو وہ اپنی قیمتی بھیڑوں پر نچھاور کرتا ہے۔ یہ زبُور واضح کرتا ہے کہ خُداوند کیوں ’’اچھا چرواہا‘‘ کہلاتا ہے۔
جب یسوع نے فرمایا: ’’ اچھا چرواہا مَیں ہوں‘‘ تو یہ ایک نہایت حیران کُن دعویٰ تھا—وہ یہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ مجسم خُداوند ہے ؛ وہ جو اپنی بھیڑوں سے محبت کرتا ہے، اُن کا خیال رکھتا ہے، اُن کی پوری دیکھ بھال کرتا ہے اور اُنھیں ہر آفت سے بچاتا ہے۔ لیکن یسُوع کے یہ اَلفاظ اُس کی سچائی کو ایک عظیم اور نرالا رنگ دیتے ہیں:’’ ’ اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں۔ اچھّا چَرواہا بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہے۔‘‘
محبّت میں ، یہ آسمان سے بھیجا گیا چرواہا خُود کو قربان کر دیتا ہے تاکہ وہ بھیڑیں—جو گمراہ ہو چکی تھیں اور عدل کے تقاضے کے مُطابق سزا کی مستحق تھیں—خُدا کے راست اِنصاف سے بچا لی جائیں، اُس کی دوستی اور رفاقت میں بحال ہو جائیں اور ایک دِن اُسی کے حضور، اُس کی قربت میں پائی جائیں۔
یسوع کا ’’اچھا چرواہا‘‘ ہونے کا دعویٰ سب سے زیادہ حیران کُن اور حیرت انگیز طور پر اُس وقت ظاہر ہوا جب اُس نے اپنی بھیڑوں کی اَبدی بھلائی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔
مشہور اِصلاحی راہ نما مارٹن لوتھر نے ایک بار لکھا :’’کرکس پروباٹ اومنیا‘‘(Crux probat omnia) —یعنی ’’صلیب ہر شے کی کسوٹی ہے۔‘‘ اُس کا مطلب یہ تھا کہ کلوری کی صلیب پر یسُوع کے گناہ اُٹھانے والی اور کفارہ دینے والی موت، خُدا کی محبت کا گناہ گاروں کے لیے کامل ترین مُکاشفہ ہے۔
آدم، جو ہمارا پہلا سردار تھا، اُس کے گناہ اور گراوٹ نے ہمیں خُدا سے جُدا کر دیا تھا اور ہمیں خُدا کی راست اور منصفانہ عدالت کے نیچے لے آئے تھا ۔ ہم میں کوئی قدرت نہ تھی کہ خُدا کے ساتھ اپنے رشتہ کو درست کر سکیں ۔ مگر جو ہم کرنے کے لیے بے بس تھے ، خُدا نے وہ خُود کِیا—اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہماری جگہ زِندگی گزارے اور مَوت کو قبول کرے؛ وہ ہمارا گناہ اُٹھائے، جو سزا ہم پر واجب تھی، اُسے اپنے اُوپر لے اور تیسرے دِن فاتحانہ طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھے —تاکہ ہمارا خُدا کے ساتھ ملاپ ہو سکے ۔
تو پھر، یسُوع ’’اچھا چرواہا‘‘ کیسے ہے؟ محبّت میں، یہ آسمانی چرواہا خُود کو قربان کرتا ہے تاکہ وہ بھیڑیں جو گمراہ ہو چکی تھیں اور سزا کی مستحق تھیں، خُدا کے راست غضب سے بچا لی جائیں، اُس کی دوستی اور رفاقت میں بحال ہوں اور ایک دِن، ہمیشہ کے لیے اُس کےاِلٰہی قُربت میں اُس کے حضور میں پائی جائیں۔
اب مَیں آپ سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوں: کیا آپ توبہ اور اِیمان کے ساتھ اُس اچھے چرواہے کے حضور آئے ہیں؟ کیا آپ نے خُدا باپ کا شکر اَدا کِیا ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو نہ بخشا بلکہ اُسے صلیب کی مَوت کے حوالہ کر دیا — تاکہ وہ ہماری جگہ اور ہماری کی خاطر جان دے؟
یسوع نے فرمایا: ’’ میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔ اور مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چِھین نہ لے گا۔ میرا باپ جِس نے مُجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چِھین سکتا۔ مَیں اور باپ ایک ہیں ‘‘ (یُوحنّا ۲۷:۱۰- ۳۰ )۔
کیا آپ نے اِنجیل میں اُس کی آواز سُنی ہے؟ کیا آپ یسوع کی پیروی کرتے ہیں — نہ صرف زُبان سے اُس کا اقرار کرتے ہیں، بلکہ اپنی زِندگی میں اُس کی فرمانبرداری بھی کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو خُوشی منائیں !کیونکہ آپ اُس کی اُن بھیڑوں میں شامل ہیں جنھیں اُس نے اپنے خُون سے مول لِیا ہے اور جنھیں اُس نے ہمیشہ کی زِندگی عطا کی ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


