صفنیاہ نبی کی کتاب کے بارے میں تین اہم باتیں
23/12/2025
یسُوع اچھا چرواہا کیسے  ہے؟
30/12/2025
صفنیاہ نبی کی کتاب کے بارے میں تین اہم باتیں
23/12/2025
یسُوع اچھا چرواہا کیسے  ہے؟
30/12/2025

یسُوع ’’زندگی کی روٹی‘‘  کیسے ہے ؟

یوحنا۴۸:۶  میں ہم یسوع کے سات دعوؤں میں سے پہلے ’’ مَیں ہوں‘‘  کو سنتے ہیں۔ یہ اُن  سات دعوؤں  میں سے  ایک ہے جو یوحنا کی اِنجیل میں مذکور  ہے ۔ ان میں سے چھ ایک حالتِ فاعلی میں فاعل کی پیش بینی شامل  ہے—روٹی (یوحنا۴۸:۶)، نُور (یوحنا ۱۲:۸؛۵:۹)، دروازہ (یوحنا۷:۱۰، ۹ )، اچھّا چرواہا (یوحنا۱۱:۱۰، ۱۴)، قیامت اور زِندگی (یوحنا۲۵:۱۱)، اور راہ اور حق  اور زِندگی (یوحنا ۶:۱۴)—جو یسوع کی ذات اور خدمت کے بارے میں  بتاتے ہیں ۔ 

اِن دعوؤں میں سے ایک دعویٰ ، یوحنا۵۸:۸ ، کسی حالتِ فاعلی میں فاعل کی پیش بینی پر مشتمل نہیں، بلکہ صرف یہی اَلفاظ ہیں:’’  پیشتر اُس سے کہ ابرہامؔ پَیدا ہُؤا مَیں ہُوں۔‘‘  یہ دراصل وہی خدائی نام ہے جو یسوع مسیح کے اِلٰہی نام کی ملکیت کے طور پر کھڑا ہے —’’ مَیں  جو ہوں سو مَیں  ہوں‘‘ —جب موسیٰ نے خُدا کا نام دریافت کرنا چاہا تو خُداوند نے اس نام سے اپنے آپ کو  موسیٰ پر ظاہر کِیا تھا (خروج ۱۴:۳)۔ یوحنا۵۸:۸  کا یہ مطلق بیان  ہے جو اِس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یسوع  کے ہر ’’مَیں ہوں‘‘ کہنے کہ قول میں اُن کی الوہیت کا اثبات ملتا   ہے۔

چُونکہ یہودی مذہبی پیشواؤں نے یسوع  کو مسیحا ماننے سے اِنکار کر دیا تھا، اس لیے اُنھوں نے اِس بیان کو ’’گستاخانہ‘‘اقرار دیا   اور’’ پس اُنھوں نے اُسے مارنے کو پتّھر اُٹھائے ‘‘ (یوحنا ۵۹:۸)۔ وہ یسوع کی اِس سچائی کو سمجھ تو  گئے تھے جس کا  یسوع نے اپنی اِلٰہی ذات   کے بارے میں  اِعلان  کِیا تھا—لیکن  وہ اُس پر  اِیمان نہیں  لائے تھے ۔ جیسا کہ ہم یسوع کے پہلے ’’مَیں ہوں‘‘ کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے غور کریں گے ، یہ بات واضح ہو گی کہ عدمِ اِیمان کوئی معمولی بات نہیں۔ یسوع  کے یہ اَلفاظ زِندگی اور مَوت کا معاملہ  ہیں۔

یسوع نے فرمایا، ’’مَیں زِندگی کی روٹی ہوں‘‘ —یہ بات اُنھوں نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک طویل گفتگو کے دوران کہی (یوحنا۴۸:۶)۔ یہ کلام اُس حیرت انگیز معجزے کے فوراً بعد فرمایا گیا ، جس میں یسوع نے پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے پانچ ہزار افراد کو سیر کر دیا تھا (یوحنا۵:۶- ۱۴)۔
یہ سارا مکالمہ فسح  اور عیدِ خیام سے عین پہلے  وقوع پذیر ہوا (یوحنا ۴:۶)۔ یہ دونوں واقعات یہ سمجھنے کے لیے اہم سیاق و سباق فراہم کرتے ہیں کہ یسوع کے اِس بیان—’’مَیں زِندگی کی روٹی ہوں‘‘ —کی سچائی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتا  ہے کہ زِندگی کی روٹی کا کیا مطلب ہے ۔  یاد رکھیے،

عدمِ اِیمان معمولی بات نہیں—یسوع کے اَلفاظ زندگی اور مَوت کا فیصلہ کُن معاملہ ہیں۔

عیدِ خیام کے تہوارکے موقع پر بنی اسرائیل اُس فضل اور کفالت کا جشن مناتے تھے جو خُدا نے اُن پر اُس وقت فرمائی، جب وہ مصر کی غلامی سے نجات پا کر بیابان میں جا نکلے تھے۔ بیابان کوئی مہمان نوازی کی جگہ نہیں تھا ۔  —وہ ایک ایسی بنجر اور بے آب و گیاہ سرزمین تھی جہاں اِنسانی زِندگی کے لیے ضروری وسائل  ناپید تھیں: خُوراک، پانی، دِن کے وقت سایہ اور رات کے وقت رُوشنی نہیں تھے ۔

تاہم، اس سنسان اور کٹھن سفر کے دوران، زمین و آسمان کے مالک نے خُود کو اُن پر  ایک فیّاض میزبان کے طور پر ثابت  کِیا اور مسیح یسوع کے جلال کی دولت میں اُن کی ہر احتیاج کو رفع کِیا  (فلپیوں۱۹:۴؛ نیز دیکھیں ۱۔کُرنتھیوں ۱۰:۱–۴)۔

یہ خُدا کی عنایت کے اِبتدائی معجزات میں سے ایک یہ تھا کہ اُس نے اُن کو  روزانہ کی خوراک مہیا کی—آسمانی روٹی! جب بنی اِسرائیل نے پہلی بار اِس نازل شُدہ روٹی  کو دیکھا، تو وہ حیران ہوئے اور پوچھا:’’ یہ کیا ہے؟‘‘  چُنانچہ اُنھوں نے اُسے ’’مَن‘‘ کہا ، یعنی ’’یہ کیا ہے ؟‘‘  (خروج ۱۵:۱۶)۔ زبُور۲۳:۷۸- ۲۵ میں خُداوند کی اُس نیکی اور فضل کو یاد کِیا گیا ہے، جب اُس نے بیابان میں اپنے لوگوں کو روٹی عطا فرمائی:

’’ تَو بھی اُس نے افلاک کو حُکم دِیا 

اور آسمان کے دروازے کھولے 

اور کھانے کے لِئے اُن پر مَنّ برسایا

 اور اُن کو آسمانی خُوراک بخشی۔ 

اِنسان نے فرِشتوں کی غِذا کھائی۔

 اُس نے کھانا بھیج کر اُن کو آسُودہ کِیا۔ ‘‘

یوحنا  باب ۶ میں یہودیوں نے یسوع سے مطالبہ کِیا کہ وہ اپنی صداقت کو کسی معجزے کے ذریعہ ثابت کرے —ویسا ہی معجزہ جیسا موسیٰ نے کِیا تھا، جب اُن کے باپ دادا کو مَن عطا ہوا۔

لیکن یسوع نے اُن کی غلط فہمی دُور کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا کہ وہ مَن موسیٰ نے نہیں، بلکہ میرے باپ نے بخشا تھا۔ اُنھوں نے مزید فرمایا کہ در اصل وہ خُود آسمان سے نازل ہونے والی حقیقی  روٹی ہیں—وہی  ہے جو اِنسانی رُوح کو تقویت دیتی ہے۔

مَن خُدا کی طرف سے ایک بہترین  تحفہ  تھا، جو بنی اِسرائیل کے جسمانی وجود کو چالیس سال تک بیابان میں برقرار رکھنے کے لیے دیا گیا— جب  تک کہ وہ وعدہ شُدہ سر زمین میں داخل  نہیں ہوئے تھے ۔ مگر اُنھوں نے جو مَن کھایا، وہ سب آخر کار مر گئے۔ تب یسوع نے وہ انقلابی اِعلان فرمایا: ’’ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا‘‘(یُوحنّا ۵۴:۶)۔ 

جب یسوع نے پانچ ہزار کو کھانا کھلایا، تو وہ دراصل اُس واقعے کو دہرا رہے تھے جو خُدا نے موسیٰ کے ایّام میں کِیا تھا— تاکہ ظاہر کریں کہ وہی خُداوند ہے  جو اپنی مخلوق کو مہیا کرتا ہے ۔

لیکن جب لوگ دوبارہ اُس  کی تلاش میں آئے، تو یسوع نے اُنھیں خبردار کِیا کہ اُنھیں  غلط بھوک لگی ہوئی ہے ۔ وہ ایسی خوراک کے لیے محنت کر رہے تھے جو فانی ہے، جو آخر کار فنا ہو جاتی ہے۔ اس کی بجائے  یسوع نے اُنھیں نصیحت کی کہ وہ اُس خوراک کے لیے محنت کریں جو ہمیشہ کی زِندگی تک قائم رہتی ہے۔ پھر اُنھوں نے اُس عظیم سچائی کو آشکارا کِیا: وہ خُود ’’زندگی کی روٹی‘‘  ہیں۔

’’روٹی‘‘ اور ’’اُس کا گوشت  کھانا ‘‘ اور ’’اُس کے  خون پینے  ‘‘  کی زُبان، صاف طور پر یسوع کی اِنسانی فطرت  کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یسوع پر اِیمان لانا دراصل اُس کی اِنسانی زِندگی کی قربانی کو قبول کرنا ہے— وہ جسم جو صلیب پر ہمارے لیے پیش کر دیا  گیا۔

تاہم، یسوع کے ’’مَیں ہوں‘‘  والے بیانات صرف اِنسانی پہلو پر محدود نہیں،  بلکہ وہ اُس کی اِلٰہی ذات  کی بابت بات کرتے ہیں ۔  لہٰذا، مسیح  کو صرف اُس کی قربانی کے وسیلہ سے اِیمان کے ساتھ قبول کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اُسے اُس کی نا قابلِ فنا اِلٰہی زِندگی کے طور پر بھی قبول کرنا ہوتا ہے—
یعنی خُدا جو مجسم ہوا۔

’’کھانے‘‘  کی تمثیل نجات بخش اِیمان کو بیان کرنے کا نہایت موزوں طریقہ ہے، کیونکہ جو چیز کھائی جاتی ہے وہ اندر جذب ہو جاتی ہے اور زِندگی کو پرورش  دیتی اور صحت کو مضبوط بناتی ہے۔ مگر یسوع کی زِندگی، جو اِیمان لانے والے کے اندر بستی ہے، اُس جسمانی خوراک کی مانند نہیں جو اِستعمال ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔ نہیں— مسیح کی اَبدی زِندگی وہ خوراک ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی رُوحانی زِندگی کو قائم رکھتی ہے جو ہمیشہ خُدا کی طرف مائل رہتی ہے اور جو اَبدیت تک جاری رہتی ہے۔

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔