تین چیزیں جو آپ کو آستر کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/12/2025
یسُوع ’’زندگی کی روٹی‘‘  کیسے ہے ؟
25/12/2025
تین چیزیں جو آپ کو آستر کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/12/2025
یسُوع ’’زندگی کی روٹی‘‘  کیسے ہے ؟
25/12/2025

صفنیاہ نبی کی کتاب کے بارے میں تین اہم باتیں

صفنیاہ کی کتاب ایک نہایت نفیس و  پختہ اور فکری لحاظ سے گہری نبیانہ تصنیف ہے، جو پیچیدہ تردید ، اعلیٰ شاعری، گہرے وعدے اور سخت تنبیہات سے بھر پور ہے۔ صفنیاہ نے جنوبی سلطنت (یہوداہ) کے اِختتامی ایام میں نبوت کی اور اُس کا پیغام بڑی حد تک عدالت پر مبنی ہے۔

خُدا سب سے پہلے یہوداہ پر عدالت کرے گا، جیسا کہ جلاوطنی کے ذریعے واقع ہوا (صفنیاہ۴:۱- ۶) اور پھر قیامت کے دِن تمام اقوامِ عالم پر اپنی عدالت نازل کرے گا (صفنیاہ۲:۱- ۳)۔ در حقیقت، کتاب کا بڑا حصہ (صفنیاہ ۲:۱ – ۸:۳) اِسی عالمی عدالت کو بیان کرتا ہے۔

تاہم، صفنیاہ کی یہ عدالت انگیز پیشن  گوئی مایوسی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ قاری کو  اُمید کے وعدوں کی  جانب لے جاتی ہے۔ وہ ہمیں خُدا کے اُن وعدوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کے ذریعے وہ اپنے لوگوں کو فدیہ دے کر بحال کرے گا (صفنیاہ۹:۳- ۲۰ )۔ صفنیاہ کے پیغامِ عدالت و اُمید کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے درج ذیل تین نکات اہم ہیں:

 ۱۔ صفنیاہ کی نبوّت پرانے  عہد نامے کی کتابوں کے حوالوں سے معمور ہے

اگر آپ صفنیاہ کی کتاب کو صحیح طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو سب سے بہتر مشورہ یہ ہے کہ آپ پوری  بائبل سے اچھی طرح  واقفیت رکھیں۔ صفنیاہ کی نبوّتی خدمت اُن قدیم عہد نامے کے حوالہ جات سے بھری ہوئی ہے جو اُس کے پیغام کو سمجھنے کی کُلید  فراہم کرتے ہیں۔ چند مثالیں اس نکتے کو واضح کرتی ہیں:

  • صفنیاہ۲:۱- ۳ میں پیدایش ۱ باب کا ایک بر عکس نظر آتا ہے، جہاں صفنیاہ تخلیق کا ذکر بالعکس  ترتیب سے کرتا ہے تاکہ عدالت اور ہلاکت کی تصویر کشی کرے۔ جب کہ پیدایش ۱باب  میں سب چیزوں کی اِبتدا خُدا کی تخلیقی قدرت سے بیان کی گئی ہے، صفنیاہ اُن ہی تمام چیزوں کے ’’ مٹ جانے ‘‘ کی عالم گیر پیشن گوئی کو بیان کرتا  ہے۔ یہ حوالہ نہ صرف پیدایش ۱  باب کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ اُس کی بنیاد پر مزید وضاحت بھی پیش کرتا ہے، خاص طور پر جب وہ کہتا ہے کہ ’’شریروں اور اُن کے بتوں کو نیست کروں گا‘‘۔ یہ اِنسان کی بد کردار بُت پرستی ہی ہے جو خُدا کی عدالت کو دعوت دیتی ہے۔
  • صفنیاہ۹:۱  میں اُن لوگوں کے خلاف خُدا کی عدالت کا ذکر ہے جو ’’ لوگ گھروں میں گُھس ‘‘ جاتے ہیں ۔ یہاں صفنیاہ فلستی دیوتا دجون کے مندر میں کی جانے والی عبادت کی طرف اشارہ کرتا ہے (۱۔سموئیل ۵:۵)  اور بیان کرتا ہے کہ خُدا کے لوگ بھی اسی انداز میں عبادت کر رہے ہیں — وہ سچے اور واحد خُدا کی پرستش کو غیروں کے باطلہ  طریقوں کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ یہ اشارہ نہ صرف اِسرائیل کی امتزاج ضدین  عبادت کو خُدا کی عدالت کی وجہ قرار دیتا ہے، بلکہ ’’آقا کے گھر‘‘  کا ذکر بھی اسی تسلسل میں آتا ہے، جو مُقدس ہیکل کو ظاہر کرتا ہے — ایک ایسا مَقام جو اب جھوٹی عبادت کے سبب’’ لوٹ اور مکر‘‘  سے بھر گیا ہے۔
  • صفنیاہ۱۵:۲ میں اسُور بڑی نخوت سے کہتا ہے:’’ مَیں ہُوں اور میرے سِوا کوئی دُوسرا نہیں‘‘  یہ دعویٰ یسعیاہ ۴۰ – ۴۸ ابواب کے اُس مشہور فقرے سے ماخوذ ہے جس میں صرف خُدا ہی اپنے آپ کو یوں ظاہر کرتا ہے کہ ’’مَیں ہُوں اور میرے سِوا کوئی دُوسرا نہیں‘‘ (یسعیاہ ۶:۴۴؛ ۵:۴۵، ۶، ۱۴، ۱۸، ۲۱؛ ۹:۴۶)۔ اسُور کا یہ دعویٰ سراسر غرور اور گستاخانہ  خُود سر بلندی  پر مبنی ہے، کیوں کہ وہ اپنے آپ کو خُدا کے برابر ٹھہراتا ہے ۔
  • صفنیاہ۴:۲- ۱۵ میں جو ’’ قوموں کے خلاف پیشن گوئی‘‘  پیش کی گئی ہے، اس کا بڑا حصہ پیدایش ۱۰  باب میں پائی جانے والی اقوام کےاحوال پر مبنی ہے، جو بتاتی ہے کہ خُدا کی عدالت دُنیا کی تمام قوموں پر محیط ہے۔
  • صفنیاہ ۹:۳- ۱۲  میں نجات کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ بابل کے واقعہ (پیدایش ۱:۱۱- ۹ ) کی  متضاد  ہے — جہاں زُبانوں میں اختلاف پڑا   تھا، وہاں خُدا اب پاک زُبان عطا کرتا ہے، تاکہ تمام اقوام یک دِل ہو کر خُدا کی پرستش کریں۔

یہ تمام اشارات  اور دیگر متعدد حوالہ جات  کے ساتھ، یہ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ صفنیاہ کی کتاب  عہد نامہ قدیم  کی آیات اور واقعات سے لبریز ہے۔

۲۔ خُداوند کا دِن—عدالت اور بحالی کا دِن ہے

صفنیاہ کی کتاب کا ایک بنیادی اور اہم موضوع ’’خُداوند کا دِن‘‘ ہے—ایک ایسا جملہ  جو  عہد  نامہ قدیم  میں سولہ مرتبہ آیا ہے، جن میں سے تین بار صفنیاہ میں موجود ہے (صفنیاہ۷:۱، ۱۴ )۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے جملے بھی قاری  کے لیے  اسی موضوع ’’ خُداوند کا دِن‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جیسے صرف ’’دِن‘‘ کا ذکر (۲۰ مرتبہ)،’’اُس وقت‘‘ (۴ مرتبہ)، یا سادہ طور پر  ’’تب یا پھر ‘‘ (۲ بار)، یوں اِس موضوع کی کُل ۲۹ صراحتیں کتاب میں موجود ہیں۔

محققین طویل عرصے سے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ’’خُداوند کا دِن‘‘ دراصل کیا ہے؟ اس حوالے کے متعلق  مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، جن میں یہ دِن مذہبی رسوم  کا دِن، مُقدس جنگ،الٰہی ظہور، عہد کا دِن، یا ان تمام باتوں کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔

صفنیاہ اس بحث میں ایک نہایت اہم پہلو کا اضافہ کرتا ہے، اور ہمیں  ’’خُداوند کے دِن‘‘ کی ایک بنیادی تفہیم عطا کرتا ہے۔ اگرچہ مفسرین کے پیش کردہ تمام تصورات — جیسے کہ مذہبی رسومات، مُقدس جنگ، عہد کا دِن ، خُدا کی ظاہری حضوری یعنی تجلّی  — صفنیاہ کی کتاب میں موجود ہیں، مگر صفنیاہ اس دِن کو سب سے بڑھ کر خُدا کے آنے کی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

صفنیاہ کے مُطابق خُداوند کا دِن وہ دِن ہے جب آسمانی خُدا اپنی مُقدس ہیکل میں ظاہر  ہوتا ہے اور مذہبی استعاروں کے ساتھ مداخلت کرتا ہے (صفنیاہ۷:۱، ۹ )۔ وہ ایک اِلٰہی جنگ جُو  کی حیثیت سے اپنی آسمانی افواج کی قیادت کرتا ہے (صفنیاہ۷:۱، ۱۴، ۱۶)، عہد کی برکتیں اور لعنتیں نافذ کرتا ہے (صفنیاہ۱۳:۱، ۱۸ ؛ ۱۹:۳- ۲۰) اور اپنی جلالی تجلی کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے (صفنیاہ ۱۵:۱)۔

چنانچہ، خُداوند کا دِن در  حقیقت اُس کی آمد کا دِن ہے—ایک ایسا دِن جو اِیمان داروں کے لیے باعثِ برکت و اُمید  ہے، کیوں کہ وہ خُدا کے پہاڑ پر اُٹھائے  جائیں گے (صفنیاہ۱۱:۳) اور اُس کے ساتھ ہمیشہ کی سلامتی میں سکونت کریں گے (صفنیاہ۹:۳- ۲۰)۔ لیکن یہی دِن بد کاروں کے لیے خُدا کے قہر و غضب کا دِن بنے گا (صفنیاہ۲:۱- ۱۸ ؛ ۴:۲- ۸:۳)۔

۳۔انکساری اور تکبّر  کُلیدی  موضوعات ہیں

آخر کار، صفنیاہ میں’ ’خُداوند کے دِن‘‘ کا موضوع اُس کے ایک نہایت اہم اِلٰہی خیال سے جُڑا ہوا ہے: مغروروں اور فروتنوں کی تقدیروں کا معکوس ۔ یہی تکبّر اور خُودستائی ہے جو خُدا کے قہر و عدالت کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو بلند کرتے ہیں اور خُدا کے لوگوں پر فخر اور تمسخر سے حملہ کرتے ہیں، اُن کے لیے خُداوند کا دِن تباہی کا پیغام لاتا ہے۔

جب صفنیاہ موآب پر لعنتوں کا اِعلان کرتا   ہے—اُس کے اُن طعنوں اور فخریہ کلمات کے سبب جو اُس نے خُدا کے لوگوں کے خلاف کہے—تو وہ واضح طور پر فرماتا ہے:’’ یہ سب کُچھ اُن کے تکبُّر کے سبب سے اُن پر آئے گا کیونکہ اُنہوں نے ربُّ الافواج کے لوگوں کو ملامت کی اور اُن پر زِیادتی کی‘‘(صفنیاہ ۱۰:۲)۔

مغرور لوگ وہ ہیں جنھیں خُداوند کے مُقدّس پہاڑ سے ’’نکال دیا جائے  گا‘‘ (صفنیاہ۱۱:۳)۔  تکبر نہ صرف خُود پسندی کو سر بلند کرتا ہے بلکہ ایسا گھمنڈ ہے جو گستانہ خانہ اور فخریہ خُودی  کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ اِن کی خُود ستائی دراصل خُدا کی برتری اور حاکمیت کو چُھوٹ دینے کی جسارت ہوتی ہے۔

قومِ اسُور کو صفنیاہ نے ایک ’’شادمان  شہر‘‘  کے طور پر بیان کِیا ہے—ایسا شہر جو یسعیاہ ۴۰ تا ۴۸ ابواب کے اُس خُداوندی نعرے کو—’’ مَیں ہُوں اور میرے سِوا کوئی دُوسرا نہیں۔ ‘‘—خُود پر چسپاں کر لیتا ہے (صفنیاہ ۱۵:۲)۔

مغرور ی اور  خُود ستائی دراصل خُدا کی ذات پر گستاخانہ  دعویٰ ہے—ایک ایسا غرور جو اِنسان کو خُدا کے مرتبے پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن خُداوند کے دِن پر، جو لوگ خُود کو سربلند کرتے ہیں اور اپنی بڑائی میں مگن رہتے ہیں، وہ نیچے  کر دئیے  جائیں گے۔ کیونکہ خُدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے، لیکن فروتنوں کو رحم کرتا  ہے۔

تاہم صفنیاہ کی کتاب میں فدیہ اُن فروتنوں کی سربلندی ہے جو خُداوند میں شادمان ہوتے ہیں۔ جب صفنیاہ۹:۳ میں عدالت سے نجات کی طرف رُخ بدلتا ہے تو یہ تبدیلی قوموں کے درمیان سے عبادت گزاروں کے جمع ہونے کو  ظاہر ہوتی ہے۔ صفنیاہ اُنھیں ’’ ایک مظلوم  اور مسکین قوم‘‘  قرار دیتا ہے(صفنیاہ ۱۲:۳)۔ 

یہ لوگ خُود کو سرفراز نہیں کرتے بلکہ ’’خُداوند کے نام سے مدد مانگتے ہیں‘‘ تاکہ اُنھیں نجات ملے (صفنیاہ ۹:۳)۔ یہ فروتن اپنے آپ میں خُوش نہیں ہوتے، ’’بلکہ پُورے دِل سے خُداوند کی عبادت کرتے ہیں اور اُس میں شادمان ہوتے ہیں ‘‘(صفنیاہ ۱۴:۳)۔ اور اِس سب سے بڑھ کر، صفنیاہ۱۷:۳ میں خُداوند کا وہ حیرت انگیز عمل سامنے آتا ہے جہاں وہ خُود فروتنوں پر شادمان ہوتا ہے، گویا آسمانی خُوشی سے جھوم اُٹھتا ہے— یہ خُدا کی محبّت اور فروتنوں کی عزّت افزائی کا نایاب منظر ہے۔

اگرچہ کچھ عرصے کے لیے خُدا کے لوگ ’’لنگڑے‘‘ اور ’’ہانکے ہوئے‘‘ کہلائے جاتے ہیں (صفنیاہ ۱۹:۳)،  جن پر قومیں فخر کرتی ہیں (صفنیاہ ۸:۲) اور رسوا ہوئے ہیں (صفنیاہ ۱۹:۳) تو بھی خُدا کا وعدہ ہے کہ وہ انہی فروتنوں کو سرفراز کرے گا اور اُنھیں’’ زمِین کی سب قَوموں کے درمِیان نامور اور سِتُودہ کرُوں گا‘‘(صفنیاہ۱۹:۳، ۲۰)۔ در حقیقت، صفنیاہ کی کتاب کی مرکزی نصیحت صفنیاہ ۳:۲ میں سامنے آتی ہے، جہاں وہ پُکارتا ہے: ’’راست بازی کو ڈُھونڈو، فروتنی کو تلاش کرو‘‘—اور یہ دراصل ایک جامع دعوت ہے: ’’خُداوند کو تلاش کرو!‘‘ 

حاصلِ   کلام یہ ہے کہ صفنیاہ کی اِلٰہیاتی  تعلیم، جو متعدد پرانے عہد نامے کی تحریروں سے جُڑی ہوئی ہے، ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ’’خُداوند کے دِن‘‘  کے موقع پر، ’’ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گا‘‘(متّی ۱۲:۲۳)۔

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔