
تین چیزیں جو آپ کو مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/12/2025
صفنیاہ نبی کی کتاب کے بارے میں تین اہم باتیں
23/12/2025تین چیزیں جو آپ کو آستر کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
آستر کی کتاب میں خدا کا نام براہِ راست مندرج نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ تمام روایت بظاہر دِین داری اور مذہبی رنگ سے خالی نظر آتی ہے۔ اِس کتاب کے مرکزی کردار بھی ایسے دِکھائی نہیں دیتے جو عہد کی وفاداری کے ساتھ خدا کے احکام کی پیروی کرنے والے وفادار یہودی ہوں۔ تو ایسی کتاب میں ہم خدا اور اُس کی راہوں کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اگرچہ مجھے آستر اور اُس کی داستان سے دِلی محبت ہے (یہاں تک کہ میری ایک بیٹی کا نام ”ہدساہ “ ہے جو آستر کا عبرانی نام تھا) مگر مَیں یہ اِعتراف کرتا ہوں کہ اِس روایت میں بعض ایسے لمحات آتے ہیں جب یہ سوال ذہن میں اُبھرتا ہے کہ آستر اور مردکی کی حقیقی اُمید کس میں ہے اور کیا اُن کے اَعمال اُس اِیمان کا عکس ہیں جسے عبرانیوں ۱۱ باب میں بیان کیا گیا ہے؟ تاہم اِن اِبتدائی تاثرات کے باوجود، اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو آستر کی کتاب ہمیں ایک ایسی گہری اِلٰہیاتی سچائیاں سکھاتی ہے جو مسیحی زِندگی میں تازگی، اِستقامت اور شعورِ نجات پیدا کر سکتی ہیں۔ ذیل میں آستر کی کتاب کے بارے میں تین بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں:
1۔ خدا کی عہد کے ساتھ وفاداری: آستر کی کتاب خدا کے عہد ی وعدوں کے مٹ جانے کے قریبی لمحات کی ایک سنسنی خیز داستان ہے۔
آستر کا واقعہ وعدے کی سرزمین سے بہت دُور پیش آتا ہے۔ بابل کی اسیری کے بعد 539 قبلِ مسیح میں جب شاہِ فارس خورس نے واپسی کا فرمان جاری کیا تو بعض اِسرائیلی یروشلیم لوٹ گئے، تاہم بعض نے فارس میں قیام ہی کو ترجیح دی (عزرا 1:1-4)۔ قاری بڑی تیزی سے اُن قیام پذیر یہودیوں میں سے ایک کے ساتھ متعارف ہوتا ہے۔ وہ فوراً فارسی دربار کی بلند ترین حیثیت میں پہنچا دی جاتی ہے اور اُس وقت فارس کی ملکہ بن جاتی ہے جب بادشاہ کو اپنی پہلی ملکہ کی گستاخی کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرانہ اسلوبِ بیان کے ذریعے، جو تجسیم، طنز اور حیرت انگیز پیچیدگیوں سے بُنا گیا ہے، مصنف ہمیں یہ دِکھاتا ہے کہ ایک معمولی سا خاموش ردِعمل، جو ایک عمالیقی (ہامان) اور ایک یہودی (مردکی) کے درمیان ذاتی رنجش کو جنم دیتا ہے۔ آخرکار یہ جھگڑا اِس قدر بڑھ جاتا ہے کہ حکومت کی منظوری سے کی جانے والی نسل کُشی کے ذریعے خدا کی عہد یافتہ قوم (اور یوں اُس کے وعدے بھی) مکمل طور پر مِٹ جانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ مگر ایک احمق بادشاہ کی بے خوابی اور ایک اَخلاقی اِعتبار سے متزلزل ملکہ کی وقتی دانائی کے باعث آخری لمحے پر منظر نامہ یکسر بدل جاتا ہے۔ نسل کُشی کا منصوبہ بنانے والا ہامان، آخرکار اُسی سولی پر چڑھتا ہے جو اُس نے مردکی کے لئے تیار کی تھی اور بنی اِسرائیل تباہی سے مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔
یہ کتاب ایک سنسنی خیز ناول کی طرح پڑھی جاتی ہےاور اگر آپ نے ابھی تک اِس پوری داستان کو ایک ہی نشست میں نہیں پڑھاتو مَیں آپ کو ضرور ترغیب دوں گا کہ آپ ایسا کریں۔ اِس کہانی میں آنے والے حیران کن موڑ ہمیں ایک نہایت اہم سچائی سکھاتے ہیں: خدا اَبرہام، اِضحاق اور یعقوب سے کیے گئے اپنے عہدکے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پوری طرح وفادار ہے اور شیطان کا کوئی بھی آلہ کار، نہ فرعون، نہ اخی اب، نہ ابی سلوم، نہ نبوکدنضر اور نہ ہی ہامان خدا کے اُس عہد کی قوت کو ناکام بنا سکتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لئے ایک قوم کو محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ خدا کی غیر مرئی تدبیر: آستر کی کتاب خدا کے بارے میں اِس لئے خاموش ہے تاکہ وہ ہمیں خدا کے بارے میں ایک بلند ترین اور گہرا پیغام سنا سکے۔
آستر کی کتاب میں پائے جانے والے طنزیہ اور ”قریب الوقوع مگر نامکمل“ واقعات دراصل کہانی کے ذریعے ہم پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خدا اپنی غیر مرئی دانش اور حکمت سے سب کچھ سنبھال رہا ہے، جسے ہیڈلبرگ کیٹی کیزم یوں بیان کرتا ہے: ”خدا کی غیرمرئی تدبیر اُس کی قادرِمطلق اور واجب الوجود قوت ہے جس کے وسیلے سے وہ آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کو گویا اپنے ہاتھ سے سنبھالے رکھتا ہے اور اُن پر یوں حکومت کرتا ہے کہ پتا ہو یا سبزہ، بارش ہو یا خشک سالی، زرخیز سال ہوں یا قحط کے دن، روٹی اور پانی، صحت یا بیماری، کامیابی ہو یا تنگی، درحقیقت ہر چیز ہمیں کسی اِتفاق سے نہیں بلکہ اُس کے باپ کی مانند ہاتھ سے حاصل ہوتی ہیں“ (ہیڈل برگ کیٹی کیزم سوال و جواب 27)۔
بظاہر یوں لگتا ہے کہ آستر کی کتاب میں سب کچھ محض اتفاقاً ہو رہا ہے، تاہم آسمانی حکمت رکھنے والے قارئین اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک ماہر مصنف تمام حالات کو اپنی اُس قوم کو جس کے ساتھ اُس کا عہد ہے، یعنی وہ جو اُس سے محبت رکھتے ہیں اور اُس کے خاص مقصد کے تحت بلائے گئے ہیں (رومیوں 28:8) کی بھلائی کے لئے ترتیب دے رہا ہے۔ خدا کی حکمتِ عملی میں کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔ آستر کی کتاب میں پایا جانے والا ہرحسنِ اِتفاق، خدا کی اُس خاموش اور غیرمُرئی حکمت و مصلحت کی گواہی دے رہا ہے جو اُس کی تمام مخلوقات اور اُن کے تمام اَعمال پر حکومت کرتی ہے (ویسٹ منسٹر مختصرکیٹی کیزم سوال نمبر11)۔ اِس کتاب میں پائی جانے والی خدا کی خاموشی ایک نہایت اہم سبق سکھاتی ہے: خدا کی قادرِ مطلق حکمرانی جو اُس کی تمام مخلوقات کو سنبھالتی اور چلاتی ہے، اِس قدر خاموش ہے کہ نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ اُس کی حکمت و مصلحت کے دائزہِ اِختیار سے کوئی چیز بھی بالاتر نہیں، چاہے ہم اُس نقشہ ساز کو دیکھ نہ سکیں جو پسِ پردہ سب کچھ ترتیب دے رہا ہے۔
3۔ خدا کا ناپختہ لوگوں کا مسلسل اِنتخاب: آستر کی کتاب، اپنے مرکزی کرداروں، جو خدا کے عہد کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں، سے متعلق کئی اَخلاقی سوالات کو بے جواب چھوڑ دیتی ہے۔
عبرانی اندازِ بیان کے مطابق،آستر کا مصنف واقعات کو بیان کرتا ہے، مگر ہر عمل پر اَخلاقی تبصرہ نہیں کرتا۔ اِسی انداز نے اکثر قارئین کو آستر اور مردکی کو اِیمان کے ہیرو اور اَخلاقی نمونہ قرار دینے پر مائل کیا ہے۔ تاہم یہ کہانی خوف اور اِیمان کی ایک اُلجھی ہوئی آمیزش سے بھری ہے، جہاں قاری کے لئے ہر بار یہ پہچاننا آسان نہیں ہوتا کہ کون سا روِیہ اِیمان کا مظہر ہے اور کون سا خوف کا۔ آستر اور مردکی کے کردار اور اَعمال سے متعلق کئی سوالات تشنۂ جواب رہ جاتے ہیں۔ اِن میں سے چند مبہم سوالات درج ذیل ہیں:
- مردکی اور آستر نے اپنے وطن واپس جانے کا فیصلہ کیوں نہ کیا؟ (آستر 5:2)
- کیا آستر خداوند کے مقرر کردہ حفظانِ صحت کے قوانین سے بے پروا تھی، یا وہ محض اپنے حالات کی ایک معصوم اور مجبور شکار تھی؟(آستر 9:2)
- مردکی نے آستر کو اپنی مذہبی شناخت چھپانے کا مشورہ کیوں دیا؟ (آستر 10:2، 20)۔
- مردکی نے احتجاج کرنے کے بجائے اپنی بھتیجی کو بادشاہ کے محل (آستر8:2) اور حال ہی میں طلاق یافتہ ہونے والے بادشاہ کے بستر پر جانے کی اِجازت کیوں دی؟ (آستر 15:2-18)۔
- مردکی کا ہامان کو سجدہ نہ کرنا، جس کے تباہ کن نتائج نکلے، کیا یہ ایک معمولی ضد تھی یا اِیمان پر مبنی مضبوط موقف؟(آستر 2:3)
- آستر کا اِبتدا میں اپنے لوگوں کے لئے بادشاہ کے حضور سفارش کرنے سے اِنکار، کیا یہ خود غرضی تھی یا دانائی؟(آستر10:4-11)
- جب آستر نے مردکی کی درخواست کو مسترد کر دیا، تو کیا مردکی نے اُسے بے نقاب کرنے کی دھمکی دی، یا یہ تنبیہ محبت بھری نصیحت تھی؟ (آستر 12:4-14)۔
- بادشاہ اور ہامان کو دعوت دینے کے عمل میں آستر کی حکمتِ عملی، کیا یہ ایک چالاک فریب تھا یا راست باز تدبیر؟ (آستر 4:5-8)
- کیا آستر کا یہ مطالبہ کہ یہودی تین سو مزید آدمیوں کو قتل کریں اور ہامان کے دس بیٹوں کو سولی پر لٹکایا جائے ، سنگ دِل اِنتقامی جذبے کا مظہر تھا یا ایک موزُوں اور بروقت موقع سے فائدہ اُٹھانے والی جائز حکمتِ عملی؟ (آستر13:9-15)۔
اگرچہ یہ سوالات ناقابلِ حل اخلاقی پیچیدگیاں معلوم ہوتے ہیں کہ آخر نجات کی تارِیخ میں کلیدی کردار ادا کرنے والی خدا کی عہد یافتہ قوم ایسی اَخلاقی غیر یقینی کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہے؟ مگر درحقیقت یہ تمام پہلو ایک نہایت تسلی بخش سچائی کو نمایاں کرتے ہیں کہ نجات کا اِنحصار بالآخر نہ تو اِنسان کی وفاداری پر ہے اور نہ ہی اُس کی کمزوریوں پر، بلکہ خدا کی اپنی وفاداری پر ہے، جو وہ اپنے نام کی خاطر اپنے عہد کے وعدوں سے کرتا ہے (یسعیاہ 9:48-11؛ حزقی ایل 44:20)۔ آستر اور مردکی، اپنے گناہ آلود اور خوف زدہ روِیوں کے ذریعے اور اپنی راست بازی اور وفادار اَعمال کے ذریعے، خُدا کے اُس اٹل اور ناقابلِ شکست منصوبے کا حصہ بنتے ہیں جس کا مقصد صیون کی بھلائی کرنا ہے (زبور 18:51)۔ یہی ”ہَدّساہ “ کی خوبصورت کہانی کا اصل مفہوم ہے۔ اگرچہ وہ ایک سادہ ”مہندی کا درخت“ (عبرانی میں ہدساہ کا مطلب) ہے جو ہر بات میں کامل نہ تھی، مگر ملکہ آستر خداوند کا وہ آلہ کار بنی جس کے ذریعے اُس نے اپنے عہد کی برکات کو محفوظ رکھا اور اپنی اِلٰہی تدبیر کو پورا کیا۔ آستر کی کہانی میں یہ حقیقت نہایت واضح اور ناقابلِ اِنکار ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


