تین چیزیں جو آپ کو پطرس کے دوسرے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
09/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو عبدیاہ کی  کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو پطرس کے دوسرے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
09/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو عبدیاہ کی  کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/09/2025

تین چیزیں جو آپ کو ناحوم کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

ناحوم کی کتاب کا مطالعہ کرنا آسان کام نہیں،  اگرچہ اِس میں اسُور پر خدا کی عدالت کا اِعلان اِس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ خدا گناہ کو ہمیشہ کے لئے غالب نہیں ہونے دے گا، لیکن نینوہ کے زوال پر اِس کتاب کی مسرت کو مکمل طور پر سمجھنا یا سزا پر اِس کے مستقل زور کو اِنجیل کے پیغام سے جوڑنا بعض اوقات مشکل معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، اِن اور دِیگر تفسیری نکات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے قاری کو درج ذیل تین نکات ذہن میں رکھنے چاہئیں۔

1۔ اِنجیل، ناحوم کی کتاب کا پس منظر مہیا کرتی ہے (ناحوم 2:1-8)

ناحوم 2:1-8 اِس کتاب کا پہلا بنیادی حصہ ہے، جس کا لب و لہجہ سخت اور تنبیہ آمیز ہے۔ ناحُوم یہ تصور پیش کرتا ہے کہ محض اسُوری ہی نہیں، بلکہ تمام اِنسان خدا کی کامل عدالت کے سامنے بے نقاب ہیں (ناحوم 2:1-3؛ 5-6،8)۔ مگر اِسی تناظر میں یہ ایک مسرت بخش حقیقت ہے کہ خدا  نہ صرف سچا عادِل و منصف ہے بلکہ وہ  ”مصیبت کے دن میں پناہ گاہ“ بھی ہے اور اپنی رحمت پر بھروسا کرنے والوں کو اِسی عدالت سے ”پناہ“ بھی  فراہم کرتا ہے (ناحُوم 1:7)۔ 

چونکہ یہ حصہ کتاب کے آغاز میں واقع ہے، تاہم اِس کی باقی ماندہ تعلیمات کو سمجھنے کے لئے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف یہوداہ کے ماضی کے گناہ اور اُس کی مصیبت کے خاتمے کے لئے خدا کے فضل سے کیے گئے فیصلے (ناحوم 12:1) کو واضح کرتا ہے، بلکہ اسُور پر نازل ہونے والی عدالت کے طوفان کو بھی خدا کے دو رُخی کام ”عدالت اور نجات“ کا ایک نمونہ قرار دیتا ہے۔ مزید برآں، اگرچہ اسُور کی فتوحات ناقابلِ تسخیر معلوم ہوتی تھیں اور اُس نے ناحُوم سے ایک صدی قبل شمالی اِسرائیل کو بھی اسیر کر لیا تھا، مگر خدا کی مداخلت ثابت کرے گی کہ اِس سلطنت کا برتری کا دعویٰ باطل تھا، اور اِسی طرح اُس کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد تھا کہ اُس کی برتری اُس کے معبودوں کی عنایت کا نتیجہ تھی۔

2۔ اسُور خدا کا حتمی دُشمن نہیں ہے

اگرچہ ناحُوم اسُور، خصوصاً اُس کے دارالحکومت نینوہ،  کی شدید مذمت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیشتر اسُوری اُس کی جارحیت میں براہِ راست شریک نہ تھے، اور اُس کے بعض باشندے اِسرائیلی اسیر تھے۔ درحقیقت یہ کتاب مسلسل اسُور کے بادشاہوں (ناحوم 11:1،14) اُس کی عسکری قوت(باب دوم کا بیشتر حصہ) اور اُن عناصر پر توجہ مرکوز رکھتی ہے جو اُس کی اِستحصالی اور خود پرستی کی پالیسی میں شریک تھے اور یہ واضح کرتی ہے کہ خدا کی عدالت بنیادی طور پر اُنہی پر نازل ہوگی۔ ایسے شہنشاہ، جیسے اسرحدّون (681-669 ق م)  جو خود کو ”دُنیا کا فرماں روا… تمام حکمرانوں میں برتر “ قرار دیتے تھے اور مردوک اور نبو جیسے ”عظیم دیوتاؤں“ پر اِنحصار کرتے تھے۔ خداوند کی طرف سے صرف یہ سنتے ہیں: ”تیری کچھ حقیقت نہیں“ (ناحوم 14:1) اور خدا اُسے ایسا ہی کر دیتا ہے۔ اسُوری سلطنت پر خدا کی یہ سزا درحقیقت اُس آخری عدالت کا پیش خیمہ ہے جو مکاشفہ کی کتاب میں  ”بابل “ پر نازل ہوتی ہے، جو نہ صرف روم بلکہ اُس سے قبل بابل ،نینوہ اور اُس کے بعد آنے والی تمام اِنسانی طاقتوں کی نمائندگی کرتی ہے جو ظلم، مادہ پرستی اور خدا سے سرکشی کی خصوصیات رکھتی ہیں (مکاشفہ 17-18)۔ 

3۔ خدا اپنے تمام دُشمنوں کو مغلوب کرے گا اور اپنی قوم کو مکمل نجات بخشے گا

اگر خدا نے محض اپنے فضل اور رحمت سے گنہگاروں کی نجات کا عزم نہ کیا ہوتا، تو اُس کے تمام دُشمنوں کی ہلاکت کا مطلب سب کے لیے دائمی سزا اور موت ہوتا (رومیوں 12:5-14) حیرت انگیز طور پر،خدا کے فضل نے ایک ایسی دُنیا میں مداخلت کی ہے جو اپنی خود مختار خود پرستی پر پوری طرح قائم ہے، چاہے وہ ماضی میں اسُوری سلطنت کی توسیع پسندی ہو یا آج کے دَور میں خدا کے خلاف بغاوت کی دِیگر صورتیں۔ 

گناہ کی قوت کے پیشِ نظر، نجات اور عدالت دونوں ہی شادمانی کا باعث ہیں۔ جب بدی اور اُس کو اَنجام دینے والے نابود ہوتے ہیں تو اُن کے مظلوم حق بجانب طور پر خوشی مناتے ہیں (ناحوم 19:3- مکاشفہ 1:19-5)۔ اِسی طرح، جو لوگ خدا کی نجات کو خوشی سے قبول کرتے ہیں، وہ اُس کے فضل اور رحمت  سے شادمان ہوتے ہیں (ناحوم 15:1) اور اُس کی نجات کے مکمل ظہور کے منتظر رہتے ہیں (ناحوم 2:2)۔ 

آخری زمانے کی اِس حالت میں جہاں خدا کی بادشاہی آ چکی ہے مگر مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئی، ناحُوم کا پیغام اِیمان داروں کو خدا کے وعدوں پر ثابت قدم رہنے اور دُنیا کی اُن گمراہ کن باتوں کو بے نقاب کرنے کی دعوت دیتا ہے جو اِلٰہی سچائی سے متصادم ہیں۔ جس طرح ناحُوم نے نینوہ کی خود غرض اور تباہ کن بت پرستانہ سلطنت کو آشکار کیا، اِسی طرح مسیحیوں کو بھی اُن رویوں پر تنقید کرنی چاہیے جن کے ذریعے اَفراد، گروہ اور تہذیبیں خدا کے  اِلٰہی اِختیار کو غصب کرتے ہیں، یہ تصور کرتے ہوئے کہ اِنسان خود مختار ہے، فطری طور پر خدا کے شعور سے خالی ہے اور اپنی کوششوں سے کامل خوشی حاصل کر سکتا ہے۔

ناحُوم اِیمان داروں کو اِس بات پر بھی غور و فکرکرنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اِن عارضی ”حتمی قدروں“ کو جانچیں، جنہیں اِنسان سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ چاہے وہ مادی دولت ہو، سماجی حیثیت، دِکھاوے کے نیک اَعمال کے ذریعے خود ساختہ اخلاقی پاکیزگی یا طاقت کا اِستحکام۔ یہ سب اِنسانوں کے بنائے ہوئے جھوٹے معبود ہیں، جو نہ بچا سکتے اور نہ تسلی دے سکتے ہیں اور جن کی بے بسی پہلے ہی عیاں ہو چکی ہے (ناحوم 13:1)۔  

ناحُوم کی اِنجیل پر مبنی اسُوری سلطنت پر تنقید قاری کو یہ سکھاتی ہے کہ ثقافت کا تجزیہ خدا کی عدالت اور نجات کے تناظر میں کیسے کیا جائے تاکہ اِیمان دار اپنی گواہی کو موثر بنا سکیں۔ یہ ہمیں دُنیا کے فریب میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھتی اور ہمارے  اِیمان کو بھی متزلزل ہونے سے روکتی ہے، جب دُنیا اِس جھوٹے دعوے پر زور دیتی ہے کہ ساری بھلائی کا سرچشمہ وہ خود  ہے، باوجود اِس کے کہ یہ مقام محض خدا کے لئے ہی مخصوص ہے اور وہی حقیقت میں اُن لوگوں کو نجات اور اِطمینان بخشتا ہے جو اُسے جانتے ہیں (ناحوم 17:1)۔ 

یہ مضمون کتابِ مقدس کی ہر کتاب کو جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔