
تین چیزیں جو آپ کو ناحوم کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو عاموس کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/09/2025تین چیزیں جو آپ کو عبدیاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
عبدیاہ کی نبوت کو نظر انداز کرنا آسان ہے، کیوں کہ یہ عہدِ عتیق کی سب سے چھوٹی کتاب ہے اور اِس کا شمار اَنبیائے اصغر میں ہوتا ہے جو کتابِ مقدس کے بیشتر قارئین کے لئے نسبتاً ایک غیر مانوس حصہ ہے۔ عبدیاہ کی کتاب کے بنیادی حقائق کو جلدی سمجھا جا سکتا ہے کیوں کہ اِسے مکمل طور پر مطالعہ کرنے میں محض ایک یا دو منٹ لگتے ہیں۔
نبی، ادُوم کی قوم کے خلاف خداوند کی عدالت کا اعلان کرتا ہے (عبدیاہ 1-4؛ 8-10) جو ایک چھوٹا سا مُلک تھا ،لیکن ایسا مُلک جو آرام اور تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا، تاہم اُس نے اپنے اندر تکبر اور غرور پیدا کر لیا تھا (عبدیاہ 3،12)۔ اِس اعتماد کی دو بڑی وجوہات تھیں: یہ ایک کوہستانی مُلک تھا جس کا دِفاع اِنسانی نقطہ نظر سے آسان تھا (عبدیاہ 3-4) اِس کے علاوہ، ادُوم (جسے اکثر اُس کے مرکزی شہر تیمان کے نام سے جانا جاتا ہے) کو عظیم اِنسانی حکمت کا حامل ہونے کا شہرت حاصل تھی (عبدیاہ 8-9؛ یرمیاہ 7:49)۔ یعنی ادُوم کو جنگی حکمت عملی کے تمام فوائد حاصل تھے جو اُس کے باشندوں کو پُرسکون زندگی گزارنے کے فوائد فراہم کرتے تھے۔ پھر بھی خداوند اعلان کرتا ہے کہ ادُوم پر عدالت آ کر رہے گی، اِس لئے کہ بابلیوں نے یہودیوں پر حملہ کیا (جو کہ 586/587 قبلِ مسیح میں یروشلیم کی تباہی اور جلاوطنی کا سبب بنا) نہ صرف اِس لئے کہ اُنہوں نے یہودیوں کی مدد نہ کی بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر اِس لئے کہ اُنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی تھی اور فرار ہونے والے یہودیوں کو اُن کے حوالہ کیا تھا (عبدیاہ 11-14؛ زبور 8:137-9؛ حزقی ایل 12:25؛ 5:35)۔ اِس نبوتوں پر مبنی عدالت کے ساتھ ساتھ، خداوند اپنے لوگوں کو رِہائی دینے اور اپنی شاہی طاقت کے بلبوتے پر اُنہیں دوبارہ بحال کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے (عبدیاہ 17-21)۔
عبدیاہ کی کتاب کے بارے میں مندرجہ ذیل تین باتیں سمجھنا، اُس کے پیغام کو مکمل طور پر سمجھنے میں ہماری مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
1۔ عبدیاہ کی پیشین گوئی اِس بات کی عملی تکمیل کو ظاہر کرتی ہے جو خداوند نے اِضحاق سے اُس کے بیٹوں یعقوب اور عیسو کے بارے میں کی تھی کہ ”بڑا چھوٹے کی خدمت کرے گا“ (پیدایش 23:25)۔
ادُوم اور یہوداہ کی دونوں قومیں عیسو اور یعقوب کی نسل سے ہیں (پیدایش 1:36-43؛ 1:49-28) جیسے اِن دونوں بھائیوں کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق تھا (پیدایش 41:27-45) ویسے ہی اُن دونوں قوموں کے درمیان بھی جو اُن سے پیدا ہوئیں (عیسو سے ادُوم اور یعقوب سے یہوداہ)۔ اگرچہ یعقوب نے فریب اور دھوکا دِہی کا سہارا لیا، پھر بھی وہ اپنے بھائی سے اُس کے پہلوٹھے ہونے کا حق اور برکت لے گیا (پیدایش 29:25-33؛ 1:27-40)۔ اِسی طرح یہوداہ کی قوم کو بھی فضل کے تحت ادُومیوں پر غلبہ حاصل ہوا۔ اگرچہ اِن دونوں اَقوام کے درمیان تصادم اور جنگ رہی (مثال کے طور پر دیکھئے: 1۔سموئیل 47:14؛ 2۔سموئیل 47:22؛ 1۔تواریخ 11:18)۔ خداوند کا اِسرائیل کے ساتھ برتاؤ اِس بات کا مظہر ہے کہ خدا اپنے فضل کو اُن پر بھی ظاہر کرتا ہے جو اِس کے لائق نہیں ہوتے (ملاکی 1:1-4؛ رومیوں 10:9-16)۔
2۔ عبدیاہ کی رُؤیا میں خدا کی عدالت کے فیصلے اور نجات کے اَعمال یوں یکجا دِکھائی دیتے ہیں جیسے وہ ایک ہی لمحے میں وقوع پذیر ہو رہے ہوں۔
عبدیاہ نہ صرف ادُوم پر عدالت کی پیشین گوئی کرتا ہے بلکہ وہ ”خداوند کے دِن“ کا بھی ذِکر کرتا ہے(عبدیاہ 15) جو اَقوام عالم پر عدالت کو برپا کرے گا (عبدیاہ 16) اور خدا کے لوگوں کی نجات کا باعث ہو گا (عبدیاہ 17)۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بیک وقت وقوع پذیر ہو گا۔ تاہم بائبل کے اَنبیا عموماً خدا کی عدالت اور نجات کے اَعمال کو یوں یکجا پیش کرتے ہیں جیسے کوئی طویل دُوربین کو سمیٹ کر ایک مختصر اور جامع شکل میں بدل دیتا ہے۔ اِس طرح کی بات چیت کو اکثر ”نبوتی پیش گوئی کی کمی یا ”دُوربین کی طرح سمٹنا“ کہا جاتا ہے اور اِس تکنیک سے آگاہی قاری کو ابہام سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ جب ہم نبوتی اَوراق کی اِس عام خصوصیت کو سمجھتے ہیں تو ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عبدیاہ کی پیش گوئی کی تکمیل مختلف اوقات میں ہوگی۔ مثال کے طور پر، ادُوم کی تباہی پہلے ہی واقع ہو چکی ہے، لیکن اِیمان دار ”خداوند کے دِن“ کا اِنتظار کر رہے ہیں جس میں دُنیا کی تمام قوموں کی عدالت ہو گی اور کلیسیا کی نجات پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔
3۔ عبدیاہ کی پیشین گوئی کو عہدِ جدید میں براہِ راست نقل نہیں کیا گیا، تاہم کتابِ مقدس حیرت انگیز طور پر یسوع مسیح میں اِس کی حتمی تکمیل کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔
عبدیاہ اور عہدِ عتیق کی چند ایک دِیگر کُتب جیسے کہ آستر اور صفنیاہ کو عہدِ جدید میں اِقتباس نہیں کیا گیا۔ تاہم، کتابِ مقدس یہ ظاہر کرتی ہے کہ عبدیاہ کی پیش گوئی ایک حیرت انگیز طریقے سے پوری ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ادُومی غیرمُلکی قوتوں سے مغلوب ہونے لگے، اور یہودی مورخ یوسیفس کے مطابق، وہ ایک بار پھر یہودی حکومت کے تسلط میں آ گئے اور دُوسری صدی قبلِ مسیح کے آخر میں یوحنا ہرکانس (جو کہ ایک حصمونی حکمران اور یہودی سردار کاہن تھا) کے ہاتھوں ختنہ کی رسم کے پابند ہوئے (Antiquities 13:256).۔ نتیجتاً، یہ ادُومی، جیسا کہ اُنہیں جانا جاتا تھا، یوں یہوداہ کی قوم میں شامل ہونے لگے۔ اپنے آبا و اَجداد کی سرزمین اور اپنی قومی شناخت کا کھونا اُن کے لئے ایک پوشیدہ برکت ثابت ہوا، کیوں کہ ادُومیہ کے لوگ اُن لوگوں میں شامل ہو چکے تھے جو یسوع مسیح کی پیروی کرنے کے لئے کھنچے چلے آئے (مرقس 8:3-9) جو کلسیوں کی سچائی کو ثابت کرتا ہے: ”وہاں نہ یونانی رہا نہ یہودی۔ نہ ختنہ نہ نامختونی۔ نہ وحشی نہ سکوتی۔ نہ غلام نہ آزاد۔ صرف مسیح سب کچھ اور سب میں ہے“ (کلسیوں 11:3)۔ جیسا کہ عبدیاہ نے بیان کیا تھا ”نجات کوہِ صیون پر پائی گئی“ (عبدیاہ 17) یعنی زندہ خدا کی قوم میں جو یسوع کی پیروی کرتی ہے جو ایک بہتر عہد کا درمیانی ہے (عبرانیوں 22:12-24)۔
عبدیاہ کی کتاب کے ساتھ، ایک قدیم مقولہ سچ ثابت ہوتا: اچھی چیزیں چھوٹے حصوں میں آتی ہیں۔
یہ مضمون ،کتابِ مقدس کی ہر کتاب کو جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


