تین چیزیں جو آپ کو عبدیاہ کی  کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو ایوب کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
23/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو عبدیاہ کی  کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو ایوب کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
23/09/2025

تین  چیزیں جو آپ کو عاموس کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

ہم  اَنبیاء کی کُتب کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں لیکن  عاموس کی کتاب،  اپنے ہم عصر نبی یسعیاہ کی طرح  مختلف ہے۔  عاموس اپنی کتاب کے بالکل آغاز ہی میں ہمیں بتاتے ہیں کہ  وہ تقوع کے چرواہوں میں سے تھے اور اُن کی خدمت  شمالی اِسرائیل کے بادشاہوں  کے دومیان تھی۔  مزید وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ  خداوند کا کلام اُس پر بھونچال سے دو سال قبل رُؤیا میں نازل ہوا ،  جب عُزیاہ یہوداہ کا او ر یربعام اِسرائیل کا بادشاہ تھا (عاموس ا:ا)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس کتاب کے لکھے جانے کا دَور تقریباً 760 قبل مسیح کے قریب ہے،  حالاں کہ  بھونچال کی تاریخ  کا تعین بالکل درُست طور پر کرنا ممکن نہیں۔  اِس کتاب سے ہم تین خاص باتیں سیکھ سکتے ہیں: 

1۔ نبی کی بلاہٹ خدا کی طرف سے لازم تھی

عاموس اِسرائیل میں سے نہیں آیا تھا،  بلکہ وہ جنوبی سلطنت  یہوداہ  میں سے تھا۔ بیت ایل کے کاہن اِمصیاہ نے عاموس نبی سے کہا  : ”اَے غیب گو!  تُو یہوداہ کے مُلک کو بھاگ جا۔ وہیں کھا پی اور نبوت کر“ (عاموس 10:7-13)۔  اِس سے  پہلے کہ   خدا عاموس کو یہ  حکم دیتا کہ وہ شمالی اِسرائیل میں جا کر اُس کا پیغام سنائے، وہ ایک کسان تھا ۔ 

نبی ہونا کسی کے خاندانی پس منظر یا کسی مذہبی پیشہ ور گروہ سے وابستہ ہونے پر منحصر نہیں تھا، بلکہ  یہ خدا کی حاکمِ اعلیٰ بلاہٹ پر مبنی تھا کہ  کس کو اپنے پیامبر کے طور پر چُنے۔  ہر دَور کی ضرورت کے مطابق خدااپنے نبیوں کو اُٹھا کھڑا کرتا  اور اپنے کلام کو اُن کے سپرد کرتا تاکہ وہ اُسے  اُس کے لوگوں تک پہنچائیں۔ خدا کے کسی بھی عمل سے پہلے، خدا کی طرف سے اُس کے چُنے ہوئے پیامبر اُس کے کلامِ اِلٰہی سے معمور کئے جاتے۔ خداوند کی پوشیدہ مشورت  اپنے خادموں، یعنی  نبیوں کے ذریعہ سے ظاہر کی جاتی تھی۔ 

2۔ نبیوں کا کردار خدا کے اِسرائیل سے باندھے گئے عہد سے جُڑا ہوا تھا

نبی کا کردار یہ تھا کہ وہ خدا  اور اُس کے عہد کے لوگوں کے درمیان ثالثی بنے ، اُنہیں خدا کا کلام سنائے اور  اُس کے تقاضوں کے مطابق  فرماں برداری کے لئے اُن کی حوصلہ اَفزائی کرے۔  وہ بادشاہت کے نگہبان تھےاور اُن کی کوشش یہ تھی کہ بادشاہوں اور دِیگر حکمرانوں کو اُن کے اَعمال کے لئے خدا کے حضور جواب دہ ٹھہرائیں۔ وہ خدا کے ساتھ کئے گئے عہد کے درمیانی تھے،   جو خدا اور اُس کی چُنی ہوئی قوم کے درمیان قائم اُس  میثاق کی حفاظت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے تھے۔ 

اِس عہد نے بنی اِسرائیل کو  خدا کے ساتھ ایک منفرد اور بابرکت تعلق میں لا کھڑا کیا تھا۔ عاموس کی کتاب کے اِبتدائی پیغامات اِرد گرد کی قوموں  یعنی  اَرام  ، غزہ، صور، ادُوم، عمون، موآب اور یہوداہ   کی جانب متوجہ کئے گئے ہیں (عاموس 1:1 16:2)۔  مگر جب  آخر کار نبی اِسرائیل سے مخاطب ہوتا ہے تو وہ خداوند کا پیغام گناہ آلود قوم تک پہنچاتا ہے  : ”دُنیا کے سب گھرانوں میں سے مَیں نے صرف تم کو برگزیدہ کیا ہے   اِس لئے مَیں تم کو تمہاری ساری بدکرداری کی سزا دُوں گا“ ۔  عبرانی متن اِس حقیقت کو بڑی شِدت سے بیان کرتا ہے  کہ خدا اور اُس کی قوم کے درمیان  ایک عجیب اور انوکھا  تعلق   استوار ہوا تھا  ”مَیں نے صرف تم کو برگزیدہ کیا ہے   “ اِسرائیل کا چناؤ  اُس کی کثیر تعداد یا  اُس کی ذاتی خوبیوں کی  بنا پر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ فقط اِس لئے کہ خدا نے اُس سے محبت کی تھی (اِستثنا 7:7)۔ 

لیکن ایک منفرد تعلق اپنے ساتھ منفرد ذِمے داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ اُن کو اِس بات کا اِدراک ہونا چاہئے تھا کہ ایک ممتاز مقام پر منتخب ہونے کا مطلب ہے کہ اُن پر خاص قسم کی ذِمے داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اِسرائیل کے لئے کبھی بھی خود بخود برکات نازل نہیں ہوں گی۔ بلکہ لوگ اِلٰہی عدالت کے خطرات میں مبتلا تھے اور اپنے گناہوں کی سزا سے بچنے کے قابل نہیں تھے (عاموس 2:3)۔ بائبلی اُصول یہ ہے کہ عدالت کا آغاز خدا کے اپنے گھرانے سے ہوتا ہے (1۔پطرس 17:4)۔ عاموس ہمیں سکھاتا ہے کہ عہد کی برتری کو خدا کے احکام کی فرماں برداری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 

3۔ عاموس کا آخری زمانے سے متعلق نقطہ نظر کئی پہلو رکھتا ہے

تقریباً ہمیشہ ہی نبیوں کا پیغام مستقبل کے لئے کچھ نہ کچھ اہمیت رکھتا تھا۔ لوگ ”خداوندکے دِن“ کو روشنی اور نور کا دِن سمجھتے تھے، یہ سمجھے بغیر کہ اُس روز ”تاریکی“ ہو گی  روشنی نہیں، ایسا اندھیرا جس میں کسی قسم کی کا کوئی نور یا روشنی نہیں ہو گی (عاموس 20:5)۔ اُنہیں یہ سیکھنے کی ضرورت تھی کہ شادمانی کی عید اور قربانیوں کا پیش کیا جانا ناراض خدا کو راضی نہیں کر سکتا۔ اُن کے گناہ جن میں بُت پرستی شامل تھی، آخرکار اُن کے دِمشق میں جلاوطن ہونے کا باعث بنیں گے (عاموس 26:5-27)۔ اِسرائیل کا وعدے کی سرزمین سے اسیر ہو کر دُوسرے مُلک میں جانا خدا کے حاکمانہ فعل کا نتیجہ تھا (اور مَیں تمہیں بھیجوں گا۔۔۔)۔ 

لیکن ایسی دو اَور جہتیں بھی ہیں جو اخیر زمانے اور روزِ قیامت کے بارے میں ایک زیادہ مثبت تصویر پیش کرتی ہیں۔ اِن میں سے پہلی وہ آیت ہے جو داؤد کے گرائے ہوئے مسکن کے بارے میں ہے(عاموس 11:9-12)۔ داؤد کا گھرانا اِسرائیل اور یہوداہ میں ایک اہم مقام رکھتا تھا۔ یہ مسکن کھنڈرات کی صورت میں دِکھایا گیا ہے، جسے بلآخر بحال کیا جائے گا اور اِس کا نتیجہ غیر اَقوام کی شمولیت میں ظاہر ہو گا۔ یعقوب نے اِس حوالے کو یروشلیم کی مجلس میں جس طرح اِستعمال کیا، وہ اِس تشریح کی تائید کرتا ہے (اَعمال 16:15-17)۔ نئے عہد نامے کی کلیسیا میں غیر اَقوام کی شمولیت عاموس کی خدمت کے ذریعے خدا کے منصوبے کی تکمیل تھی۔ 

  اُمید کا آخری عنصر یہ ہے کہ خدا اپنے لوگوں کو ایک نئے عدن میں بسائے گا۔ یہ ایک معنی خیز بات ہے کہ اِسرائیل کے گناہ کے باوجود خدا نے اُنہیں ترک نہیں کیا۔ وہ اپنے لوگوں کی حالت کو پھر سے بحال کرے گا، جو غالباً روزِ قیامت واقع ہو گا، جب خدا کے پراگندہ لوگ اُس کی اَبدی بادشاہی میں اِکٹھے ہوں گے۔ نبی کی پیشین گوئی کے آخری اَلفاظ دراصل عہد کے تعلق کی دوبارہ سے تصدیق کرتے ہیں، کیوں کہ عہد کا خدا (یہاں خدا کے لئے اِستعمال ہونے والے نام ”عہد کا خدا“ کی تفصیل کے لئے دیکھیں ”یہوّاہ“) اُن کا خدا ہے اور وہ اُن کے لئے اپنی مرضی کو پورا کرے گا (عاموس 11:9-15)۔ 

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔