
تین چیزیں جو آپ کو عاموس کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو اَمثال کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
25/09/2025تین چیزیں جو آپ کو ایوب کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
1۔ ایوب کی کتاب ایک قدیم تصنیف ہے جو ایک غیر اقوام اَسلاف کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ہے
یہ کتاب عہدِ عتیق کے صحائف میں آستر اور زبور کی کتاب کے درمیان رکھی گئی ہے۔ بعض اوقات اِس ترتیب کی بنیاد پر ایوب کی شناخت اور اُس کی رِہایش سے متعلق غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اوّل، زیادہ تر عُلماء اِس بات سے متفق ہیں کہ ایوب اِسرائیل میں سے نہیں تھا۔ اِس نتیجے کی بنیاد اِس حقیقت پر مبنی ہے کہ وہ ”عوض کی سزرمین“ پر رہتاتھا نہ کہ سرزمینِ کنعان میں (ایوب 1:1)۔ عین ممکن ہے کہ وہ ادُوم کی سرزمین پر رہتا ہو، کیوں کہ نوحہ کی کتاب عوض کو ادُوم کے ساتھ منسلک کرتی ہے (نوحہ 21:4)۔
اگرچہ ایوب اِسرائیلی نہ تھا ، تاہم یہ بات بلاشُبہ طے شدہ ہے کہ وہ اِسرائیل کے خدا کی عبادت کرتا اور اُسی کی خدمت بجا لاتا تھا۔ اُس کا اِسرائیل سے باہر سکونت پذیر ہونا اِس حقیقت کی جانب اِشارہ کرتا ہے کہ ایوب کی کتاب میں پائی جانے والی حکمت ، جیسا کہ وہ اَمثال کی کتاب میں فطری طور پر ایک عالم گیری حیثیت رکھتی اور اِنسانی مسائل (مثلاً دُکھ اور مصائب) کے بارے میں بحث کرتی ہے جن سے اَقوامِ عالم اور نسلِ اِنسانی دوچار ہوتی ہیں ۔
ایوب کی کتاب کے حوالے سے دُوسرا مغالطہ اُس کے واقعات کی تاریخی ترتیب سے متعلق ہے، جنہیں اکثر آستر کی کتاب کے واقعات (486-485 قبلِ مسیح) سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ واقعات زیادہ تر اَسلافِ دین کے دَور (2100-1800 قبلِ مسیح) سے مطابقت رکھتے ہیں۔ دراصل، بہت سے محققین کا ماننا ہے کہ ایوب کے واقعات اَبرہام کےعہد سے بھی قبل کے ہیں۔ ایوب کے زمانے کو اَسلافِ دِین کے دَور سے جوڑنے کے حق میں متعدد شواہد موجود ہیں۔ اوّل، ایوب کی کتاب میں خدا کے لئے اِستعمال ہونے والوں اَسمائے اِلٰہی بالکل وہی ہیں جو اَسلافِ دِین کے دَور کی کُتب میں ملتے ہیں۔ دوم، ایوب کی دولت کی تفصیلات (جیسے کہ مویشیوں کی تعداد، غلاموں کی کثرت اور قیمتی دھاتیں) بزرگو ں کے دَور کے معاشرتی پیمانوں سے ہم آہنگ ہیں۔ سوم، ایوب کی عمر ایک سو چالیس برس بیان کی گئی ہے (ایوب 16:42) جو اََسلاف کی عمروں کے عین مطابق ہے۔ چہارم، اور سب سے زیادہ قائل کرنے والا نکتہ یہ ہے کہ ایوب اپنے خاندان کے لئے ایک کاہن کا کردار ادا کرتا ہے (5:1) جو اِس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے کہ ابھی لاوی کی کہانت کا باقاعدہ نظام قائم نہ ہوا تھا۔
2۔ ایوب کی کتاب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خدا اپنی حکمت کے مقاصد کے تحت راست بازوں کو بھی مصیبت سے گزرنے دیتا ہے۔
اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایوب کی کتاب اِنسانی دُکھوں کے راز کو بے نقاب کرتی ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ البتہ یہ ہمیں ضرور بتاتی ہے کہ ایوب کو کیوں دُکھوں سے گزرنا پڑا (اگرچہ خود ایوب کو اِس کا سبب کبھی معلوم نہ ہوا)۔ ایوب کی آزمایش کا سبب یہ تھا کہ شیطان نے خدا کے حضور یہ دعویٰ کیا کہ ایوب کی عبادت محض خدا کی برکات کے عِوض ہے۔ اگر خدا اِن برکات کو اُس سے چھین لے تو ابلیس کا کہنا یہ تھا کہ ایوب خدا کے نام کی تکفیر کرے گا (ایوب 9:1-11)۔ خدا جو اپنی حاکمیت میں کامل ہے، اور وہ اِبلیس کو اِجات دیتا ہے کہ وہ ایوب کی آزمایش کرے اور بالآخر شیطان کا دعویٰ باطل ٹھہرتا ہے۔ نتیجتاً خدا سچا ثابت ہوتا ہے اور ایوب راست باز۔ خدا کی صداقت اُس کے واجب الوجود ہونے کی بنا پر ظاہر ہوتی ہے کہ وہ پرستش کے لائق ہے اور ایوب کی راست بازی یوں ثابت ہوتی ہے کہ وہ دِیانت دار اور خالص کردار کا حامل اِنسان ہے۔
تاہم ایوب کی کہانی کے اَسباق کو محض اُس قدیم شخص تک محدود نہیں کرنا چاہیے جو سرزمین عُوص میں رہتا تھا۔ یہ واقعہ خدا کی حاکمیت، اِنسانی مصائب اور شخصی راست بازی کے درمیان پُراِسرار تعلق کو بیان کرتے ہوئے اِنسانی حالت سے جڑے عالم گیر مسائل پر روشنی ڈالتا اور عِلمِ الٰہی کے غلط تصورات کی تصحیح کرتا ہے۔ ایوب کی داستان یہ اُصول قائم کرتی ہے کہ مصیبت ہمیشہ گناہ کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ ایوب ہمیں سکھاتا ہے کہ اِس گناہ میں گری ہوئی دُنیا میں راست باز لوگ بھی دُکھ اُٹھاتے ہیں۔ جیسا کہ ایوب 1:1 ہم پر عیاں کرتی ہے کہ ایوب ایک راست باز، بے عیب اور خدا سے ڈرنے والا شخص تھا، لیکن کتاب کے باقی حصوں میں ہمیں اُس کے بڑے دُکھوں اور مصائب کا بیان ملتا ہے۔
ایوب کی کتاب ہمارے سامنے ایک ایسے راست باز اِنسان کی مثال پیش کرتی ہے جو مصیبت اُٹھاتا ہے، اور یوں ہمیں اُس غلط عقیدے کی اِصلاح فراہم کرتی ہے جسے اکثر ”اِنتقامی علمِ اِلٰہی“ کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ اِنسان اپنی بداَعمالیوں کے باعث مصیبت اُٹھاتا ہے اور اپنی راست بازی کے سبب سے اجر پاتا ہے۔ ایوب کے دوستوں نے اِسی غلط نظریے کو اپنایا اور عصرِ حاضر کے اِیمان دار بھی اکثر اِسی سوچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تاہم شکر ہے کہ ایوب کی کتاب ہم پر اِس نظریے کی کمزوری کو عیاں کرتی ہے، یہ یاد دِلاتے ہوئے کہ خدا اپنی نیک اور دانا مرضی کے تحت راست بازوں کو بھی دُکھ اُٹھانے دیتا ہے، چاہے اُن دُکھوں کے پیچھے کارفرما مقاصد اکثر اُن پر ظاہر نہ کیے جائیں جو اُن آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔
3۔ ایوب، مسیح یسوع کے نجات بخش کام پیش خیمہ ہے
ایوب کی کتاب ہمیں یسوع مسیح کے نجات بخش کام کی طرف ایک واضح اِشارہ دیتی ہے، خاص طور پر اُس وقت جب ایوب، خدا اور اپنے درمیان کسی ثالث کی تمنا کرتا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، ایوب خدا سے سوالات کرنے لگتا ہے، اور ایک مقام پر شدتِ غم میں پکار اُٹھتا ہے کہ کاش اُس کے اور خدا کے درمیان کوئی ثالثی ہو جو اُس کا معاملہ خدا کے حضور پیش کرے (ایوب 32:9-35)۔ یقیناً، عہدِ جدید ہم پر یہ اِنکشاف کرتا ہے کہ خدا نے یسوع مسیح کے تجسم میں ہمیں ایک ثالثی مہیا کیا جو خدا اور اِنسان کا درمیانی ہے (1۔تیمتھیس 5:2-6)۔
ایوب کی کتاب یسوع مسیح کے نجات بخش کام کی بنیادی پیش خبری اِس پہلو سے پیش کرتی ہے کہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک راست باز اِنسان خداکے حکمت سے بھرپور منصوبوں کو پوراکرنے کے لئے شدید مصائب اور کرب سے گزر سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، ایوب کو محض اِس لئے دُکھوں میں سے گزرنا پڑا تاکہ خدا اور خود ایوب کی راست بازی کا اِظہار ہو۔ مِن و عن یسوع مسیح جو کامل راست باز تھا، اُسے بھی خدا کی مرضی کے مطابق اُس کے غضب کو برداشت کرنا پڑا تاکہ نجات کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر اپنے لوگوں کی مخلصی کو یقینی بنائے۔ ایوب کی کہانی صلیب کی کہانی کا پیش خیمہ ہے اور یہی صلیب کی کہانی ہمیں دُکھوں کی اصل معنویت اور اُس کی اِلٰہی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


