مُکاشفاتی اَدب کو کیسے پڑھا جائے؟
31/07/2025
نوجوانوں کو اِلٰہیات سکھانے کے تین  طریقے
12/08/2025
مُکاشفاتی اَدب کو کیسے پڑھا جائے؟
31/07/2025
نوجوانوں کو اِلٰہیات سکھانے کے تین  طریقے
12/08/2025

دُعا کیوں فضل کا وسیلہ ہے؟

دُعا کیوں فضل کا وسیلہ ہے؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے  ، جیسے کہ ویسٹ منسٹر  مختصر کیٹیکیزم  بیان کرتا ہے کہ دُعا فضل کا وسیلہ ہے:سوال: ’’وہ عام اور ظاہری وسائل کونسے ہیں جن سے مسیح اپنے فدیہ کی برکات کو ہم تک پہنچاتا ہے ؟جواب :وہ عام اور ظاہری وسائل جن سے مسیح اپنے فدیہ کی برکات ہمیں بہم پہنچاتا ہے اُس کے سارے فرمان ہیں، خاص کر اُس کا کلام، ساکرامنٹ اور دُعا ہے۔ یہ سب وسائل  برگزیدوں کے دِلوں میں نجات کے لیے موثر کیے جاتے ہیں(سوال و جواب نمبر ۸۸)۔تاہم کیوں؟ اس سوال کا صحیح جواب دینے کے لیے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ’’ فضل  کے وسیلے‘‘سے کیا مراد ہے۔

ماہر ِعلم ِ الٰہی ’’ میڈیا گراٹیا‘‘(media gratia) یا فضل کے وسیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ  وہ ذرائع ہیں جن کے وسیلے  خُدا اپنے فضل کا کام  ہمارے دلوں میں کرتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے  مقامی ذخائر سے آپ کے گھر کے نل میں پائپ کے ذریعے  پانی پہنچایا جاتا ہے، خُدا اِن ’’ظاہری اور عام ذرائع‘‘ کو استعمال کر کے ہمیں نجات کی برکات عطا کرتا ہے جیسا کہ کیٹیکزم بیان کرتا ہے۔ شاید ہم خدا کے وسائل  کے استعمال کو سب سے زیادہ واضح طور پر  سوال کے جواب میں مدد سے دیکھتے ہیں۔ یعنی  پہلے دو وسائل  جن کا تذکرہ کیٹیکزم  میں کیا گیا ہے جن میں  خدا کا کلام اور پاک رسومات شامل ہیں۔

کلام کی منادی سے، خُداوند گنہگاروں کو نجات بخشتا ہے کیونکہ اُس کا رُوح اُنہیں سننے اور یقین کرنے کے لیے ایمان عطا کرتا ہے (رومیوں ۱۰: ۱۷)۔ اِس کے بعد وہ اپنے لوگوں کی تقدیس کرنے کے لیے کلام  کا مزید استعمال کرتا ہے۔ جیسا کہ پولُس  رسول نے افسیوں کے بزرگوں سے کہا:’’ اب مَیں تُمہیں خُدا اور اُس کے فضل کے کلام کے سپُرد کرتا ہُوں جو تُمہاری ترقّی کر سکتا ہے اور تمام مُقدّسوں میں شرِیک کر کے مِیراث دے سکتا ہے ‘‘ (اعمال ۲۰: ۳۲)۔

دُعا  خود خُدا کے کلام پر منحصر ہے۔ اِسی طرح، بپتسمہ اور عشائے ربانی کی پاک رسومات وہ وسیلے  ہیں جنہیں خُداوند اپنے لوگوں کو نجات کے مکمل فوائد پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بے شک ، ہم پاک رسومات  کے عمل  میں حصہ لینے کے ذریعے نجات حاصل کرنے کی بات نہیں کر رہے ہیں، جیسا کہ رومن کیتھولک کلیسیا سکھاتی ہے۔ بلکہ، ایمان کے وسیلے  پہلے سے راستباز ٹھہرائے جانے   کی بدولت ، خُداوند ہمیں پاک رسومات  میں ہماری نجات کے مکمل فوائد فراہم کرتا ہے۔ہمارا بپتسمہ ہمارے گناہوں کی معافی کا نشان  اور مہر ہے (اعمال۲: ۳۸)۔ عشائے ربانی ایک’’برکت کا پیالہ‘‘ہے جو ہمیں ’’مسیح کے خون میں شرکت‘‘ اور’’روٹی جسے ہم توڑتے ہیں‘‘’’مسیح کے بدن  میں شرکت‘‘ہے (۱۔ کرنتھیوں ۱۰: ۱۶)۔ پاک رسومات میں ہم  تقدیس اور فضل کی تقویت کا تجربہ کرتے ہیں۔خُدا کے پاس دُعا میں آنے سے ہمارا آسمانی باپ ہمیں برکت دیتا ہے۔ زبور نویس یُوں کہتا  ہے: 

اَے خُداوند! میری دُعا پر کان لگا۔

اور میری مِنّت کی آواز پر توجُّہ فرما (زبور ۸۶: ۶)

اِس  سادہ لیکن گہری فریاد میں ، جیسا کہ اُوپر دیے گئے کیٹیکزم کے جواب کی طرح زبور نویس سکھاتا ہے کہ  ، دُعا فضل حاصل کرنے کا ایک وسیلہ  ہے۔ پھر بھی اپنے سوال کی طرف واپس آتے ہیں کہ  دُعا فضل کا وسیلہ کیوں ہے؟مسیحی ہونے کے ناطے، ہمیں اعتماد کے ساتھ فضل کے تخت کے قریب جانا ہے جہاں مسیح ہمارا ہمدرد اور اعلیٰ سردار کاہن بیٹھا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ جب ہم اُس سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ضرورت کے وقت فضل عطا کرے گا (عبرانیوں ۴: ۱۵ – ۱۶ )۔ پولُس رسول  نے دُعا کی کہ افسس کی کلیسیا کو خُدا کی بے پناہ محبت کو جاننے کے لیے تقویت  ملے (افسیوں ۳: ۱۴ – ۱۹ )۔ دُعا مقدسوں  کو ایک روحانی شرکت میں فروغ کا سبب بنتی ہے (اعمال ۲: ۴۲)۔ غیر ایمان داروں کے لئے بھی  دُعا کی جاتی ہے  تاکہ اُنہیں بھی خُدا کی نجات کا فضل حاصل ہو (رومیوں ۱۰: ۱) 

دُعا خود خدا کے کلام پر منحصر ہے۔ خُدا کے کلام کو سننے یا اُس کی حیرت انگیز سچائیوں کو پڑھنے کے ذریعے سے، ہم خُدا کے روح سے معمور ہو رہے ہیں۔ پھر، جب ہم دُعا کرتے ہیں، ہم روح کے کلام  اور خُدا کی مرضی کو خُداوند کی طرف لوٹاتے ہیں۔ دُعا فضل کا تجربہ کرنے کا کتنا شاندار ذریعہ ہو سکتا ہے۔

یہ مضمون مسیحی تربیت کی بنیادوں کے مجموعہ سے ماخوذ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔