
علِم التفسیر کیا ہے ؟
29/07/2025
دُعا کیوں فضل کا وسیلہ ہے؟
05/08/2025مُکاشفاتی اَدب کو کیسے پڑھا جائے؟
مُکاشفاتی اَدب عام طور پر آخری زمانے سے متعلق تصورات اور تعلیمات کو نہایت علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ بائبل کے اَدب کی اقسام پر کام کرنے والے ادارے سوسائٹی آف بائبلیکل لٹریچر( Society of Biblical Literature ) نے اس صنف کی جو جامع تعریف پیش کی ہے، اُس کے مطابق:’’یہ مُکاشفاتی نوعیت کا اَدب ہے جس میں ایک بیانیہ خاکہ موجود ہوتا ہے اور جس میں مُکاشفہ ایک غیر حقیقی ہستی سے کسی اِنسان پر ایسی حقیقت آشکار کرتا ہے جو مادی دائرے سے ماورا اور بلند تر ہو ۔‘‘
مندرجہ ذیل اُصول ہمیں مُکاشفاتی اَدب کو اُس کے مخصوص اَدبی اور اُسلوبی خواص کی رُوشنی میں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
۱۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ مُکاشفاتی اَدب، بائبل کی نبوت کا ایک ذیلی شعبہ ہے
مُکاشفہ کی کتاب میں کئی بار اِس کی صنف کو ’’نبوت‘‘ کہا گیا ہے (مُکاشفہ۷:۲۲، 10، 18، 19)۔ پرانے عہد نامے میں نبوت کا طرز اُس زمانے میں خُدا کے لوگوں کے موجودہ حالات سے بھی خطاب کرتا ہے اور مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح، مُکاشفہ کی کتاب میں یسُوع مسیح اپنی کلیسیا کو اُس وقت کے حالات کے مُطابق پیغام دیتا ہے (مُکاشفہ 2–3 ابواب ) اور پھر اِس کتاب میں وقت کے آخر میں یسُوع کی جلالی واپسی، اُس سے پہلے اور بعد کے واقعات، حتیٰ کہ اَبدی حالت (یعنی نیا آسمان اور نئی زمین) تک کا خاکہ پیش کِیا گیا ہے۔
اسی لیے، جب ہم مُکاشفاتی اَدب کی تشریح کرتے ہیں، تو علامتی مندر جات کے باوجود، ہمیں اُس کے تاریخی پہلو کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔
۲۔ علامات اور اُن کے حقیقی مفہوم کے درمیان فرق کو سمجھیں
مُکاشفاتی اَدب میں اکثر آخری زمانے کے واقعات کی نہایت پُر زور ترسیمی ، ڈرامائی اور آخری وقت کے واقعات کے مناظر کے ذریعے عکاسی کی جاتی ہے۔ یہ مناظر اگرچہ حقیقی ہوتے ہیں اور کسی تاریخی شخصیت یا واقعے کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن انھیں علامتی انداز میں پیش کِیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم علامت اور اُس کے حقیقی یا مصدا ق مفہوم کے درمیان واضح فرق کریں—یعنی وہ شخصیت یا واقعہ جس کی نمائندگی وہ متعلقہ علامت کر رہی ہو۔
ایک سادہ مثال مُکاشفہ 12 اور 13 ابواب میں پائی جاتی ہے، جہاں دو علامتی کردار دکھائے گئے ہیں: ایک اژدہا اور ایک عورت۔ اژدہا شیطان (ابلیس) کی وحشیانہ طاقت کی علامت ہے جب کہ عورت کلیسیا کی علامت ہے ، یا وسیع تر معنوں میں خُدا کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، جو ایک فرزندِ نرنیہ یعنی مسیح کو جنم دیتی ہے۔ اژدہے کے معاملے میں ، اس کی تشریح خُود ہی متن میں موجود ہے: ’’ وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے ۔۔۔‘‘(مُکاشفہ ۹:۱۲)۔
لیکن بعض صورتوں میں متن تشریح فراہم نہیں کرتا اور ایسے میں مفسر کو خُود غور و فکر کر کے یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ دی گئی علامت سے کس شخصیت یا واقعے کی طرف اشارہ کِیا جا رہا ہے۔
۳۔ مفصل اُخروی منصوبوں اور آخری زمانے کے مناظر میں حد سے زیادہ نہ بڑھیں، بلکہ اصل مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں
ہماری فطری جستجو اور تجسس ہمیں بعض اَوقات حد سے زیادہ آگے لے جاتا ہے، لیکن جیسے یسُوع نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا:’’ اُس نے اُن سے کہا اُن وقتوں اور مِیعادوں کا جاننا جِنہیں باپ نے اپنے ہی اِختیار میں رکھّا ہے تُمہارا کام نہیں‘‘(اَعمال ۷:۱)۔
مُکاشفے کا بنیادی مقصد دراصل اثباتِ اِلٰہی عدل ہے—یعنی خُدا کی عدالت اور راست بازی کو ظاہر کرنا۔ یہ کتاب یقین دِلاتی ہے کہ خُدا مسیح پر اِیمان رکھنے والوں کو ضرور سرخرو کرے گا اور اِنکار کرنے والوں کا اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
مُکاشفاتی اَدب اِیمان داروں کو تسلی دینے کے لیے ہے کہ اگرچہ وہ موجودہ دُکھوں اور ایذا رسانیوں سے گزر رہے ہیں، لیکن خُدا تاریخ کو اس کے حتمی اَنجام تک ضرور پہنچائے گا۔ یسُوع جلال کے ساتھ واپس آئے گا، شریروں کا اِنصاف کرے گا اور اِیمان داروں کو خُدا کی حضوری میں داخل کرے گا، جہاں وہ اَبدی زِندگی بسر کریں گے۔
اسی کے ساتھ ساتھ مُکاشفہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خُدا نے اِنکار کرنے والوں کو مسیح پر اِیمان لانے کے لیے ہر ممکن موقع دیا۔ ان کا حتمی اِنصاف محض ان کی مسلسل اِنکار اور ضد کی بنیاد پر ہو گا۔
۴۔ مُکاشفاتی اَدب کی تشریح کتاب ِمُقدّس کے مجموعی تناظر اور نجات بخش تاریخی تسلسل میں کریں
مُکاشفاتی اَدب کتاب ِ مُقدّس کے مجموعی استنادمیں ایک اہم مَقام رکھتا ہے۔ یہ بائبل کی آخری کڑی کے طور پر سامنے آتا ہے—ایک ایسا اِختتام جو اِبتدا کو مکمل کرتا ہے۔ کتابِ مُقدّس کا آغاز ایک باغ سے ہوتا ہے اور اِختتام ایک شہر میں ہوتا ہے۔ شروع میں صرف ایک مرد اور ایک عورت ہوتے ہیں، مگر آخر پر ہم ایک بے شمار جماعت کو خُدا کے تخت کے گرد جمع پاتے ہیں۔
ان دونوں بیانات کے درمیان، ہم دیکھتے ہیں کہ اِنسان خالق کے خلاف بغاوت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نجات کا عظیم منصوبہ شروع ہوتا ہے—یہ منصوبہ یسُوع مسیح کی پہلی آمد پر منتج ہوتا ہے، جہاں وہ “خُدا کا برّہ” بن کر دُنیا کے گناہ اُٹھا لیتا ہے (یوحنا۲۹:۱، ۳۶)۔ اس کے بعد، اقوامِ عالم تک اِنجیل کی مُنادی کا وقت آتا ہے اور پھر مُکاشفاتی اَدب یسُوع کی جلالی اور فتح مند واپسی کو ’’یہوداہ کے قبیلے کے بَبر ” کے طور پر بیان کرتا ہے (مُکاشفہ 5:5)۔
یہ اَدب دُنیا کے خاتمے کو کسی ایٹمی تباہی یا ہولناک المیے کے رنگین مناظر کے طور پر پیش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ خُدا کے اپنی قوم کے ساتھ عہد کی تکمیل کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اسی لیے مُکاشفہ کے آخری ابواب میں ایک نہایت موزوں اِعلان ملتا ہے:’’ ۔۔۔ دیکھ خُدا کا خَیمہ آدمِیوں کے درمِیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکُونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خُدا ہو گا‘‘(مُکاشفہ ۳:۲۱)۔
یہ مضمون ’’ علم التفسیر ‘‘ کے مجموعہ سے ماخوذ ہے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


