اَناجیل کا کیسے مُطالعہ کریں ؟
24/07/2025
مُکاشفاتی اَدب کو کیسے پڑھا جائے؟
31/07/2025
اَناجیل کا کیسے مُطالعہ کریں ؟
24/07/2025
مُکاشفاتی اَدب کو کیسے پڑھا جائے؟
31/07/2025

علِم التفسیر کیا ہے ؟

’’ اپنے آپ کو خُدا کے سامنے مقبُول اور اَیسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشِش کر جِس کو شرمِندہ ہونا نہ پڑے اور جو حق کے کلام کو درُستی سے کام میں لاتا ہو‘‘( ۲۔تِیمُتھِیُس ۱۵:۲)۔ 

پولُس  رسُول کے اپنے شاگرد تیِمُتھِیُس کو لکھے گئے یہ اَلفاظ ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ ہمیں خُدا کے کلام کی درست تشریح  اور تفہیم کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ چونکہ خُدا ہم سے اپنے کلام کے ذریعے ہمارا ساتھ بولتا  ہے، اس لیے یہ نہایت اہم ہے کہ ہم اس کے پیغام کو صحیح طریقے سے سمجھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دُرست اور صحت مند علِم  التفسیر   کی ضرورت ہے۔

علِم تفسیر   خُدا کے کلام کی تشریح  کا ایک علم  اور فن ہے ۔ یہ علم اس لیے کہ کتاب ِ مُقدس کی تشریح  کے اپنے اُصول اور ضابطے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے  گاڑی چلانے کے لیے اُصول  ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ اُصول معلوم نہ ہوں، تو نہ آپ گاڑی صحیح چلا سکتے ہیں اور نہ ہی آپ کلامِ مُقدّس کو دُرست طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ مگر محض اُصول جاننا کافی نہیں ہوتا۔ ضروری یہ بھی ہے کہ جانا جائے کہ کب اور کہاں کون سا اُصول لاگو کرنا ہے۔ اسی وجہ سے علِم التفسیر  کو فن بھی کہا جاتا ہے۔

کلامِ مقدّس کوئی یکساں اور یک نوعی تحریر نہیں، بلکہ اس میں متعدد اُسلوب شامل ہیں۔ یہ طویل زمانے میں مختلف مصنّفین کے ہاتھوں اور  مختلف زُبانوں میں لکھی گئی ہے ۔  اس لیے یہ جاننے کے لیے تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے کہ کسی خاص متن  کے لیے کون سے اُصولِ تفسیر اَپنائے جائیں تاکہ اس کا اَصل اور مطلوب مفہوم واضح ہو۔ یعنی، یہ بالآخر ،  علِم تفسیر  کا حتمی مقصد یہ ہے: کسی متن کی دُرست تشریح  کے ذریعے اُس کے حقیقی اور مطلوبہ معنی تک پہنچنا۔

جب ہم کتابِ مقدّس کی تفسیر کرتے ہیں، تو ہماری سب سے پہلی اور بنیادی توجّہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ مصنّف اَصل میں کیا کہنا چاہتا ہے۔ بائبل مُقدس کا مُطالعہ کرنے کا  ایک عام مگر غلط طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص متن  کو پڑھ کر فوراً یہ سوال کرے:’’یہ متن میرے لیے کیا مطلب رکھتا  ہے؟‘‘  اگرچہ کلام کو زندگی پر لاگو کرنا نہایت اہم ہے، مگر یہ پہلا سوال ہرگز نہیں ہونا چاہیے جو ہم کلامِ پاک کے بارے پوچھتے ہیں ۔ اس کی بجائے ،  ہمیں سب سے پہلے پوچھنا چاہیے: ’’ مصنّف نے کیا بات پہنچانا چاہی ہے ؟‘‘  اگر ہم اس سوال کو نظر انداز کر دیں، تو ہم متن کو غلط سمجھنے اور اس کا غلط اِطلاق کرنے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ذیل میں چند بنیادی علِم تفسیر کے   اُصول پیش کیے جا رہے ہیں، جو ہمیں کتابِ مُقدّس کے کسی بھی حصّے میں مصنّف کے مُراد کردہ مفہوم تک پہنچنے میں مدد فراہم کر  تے  ہیں۔

تاریخی و قواعدی طریقۂ تفسیر

تاریخی طور پر بہت سے راسخ ‌العقیدہ مسیحیوں، خصوصاً اِصلاحی روایت سے تعلق رکھنے والوں نے کتابِ مُقدّس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے جس طریقۂ تفسیر کو اَپنایا ہے، اُسے ’’تاریخی وصرفی  طریقۂ تفسیر‘‘  کہا جاتا ہے۔

یہ طریقہ قدیم اِنطاکیہ مکتبہ  تفسیر سے ماخوذ ہے، جو اِصلاحِ کلیسیا کے دَور میں بھر پور طریقے سے اِختیار کِیا گیا اور آج بھی کلیسیا میں وسیع طور پر مستعمل ہے۔

اس طریقہ   کار میں دو اہم پہلو پیشِ نظر رکھے جاتے ہیں:

  1. تاریخی سیاق و سباق — یعنی جس وقت اور ماحول میں عبارت لکھی گئی، اُس وقت کے حالات، ثقافت  اور مخاطبین کی کیفیت۔
  2. صرف و  نحو (گرامر) — یعنی عبارت میں اِستعمال ہونے والے اَلفاظ، اُن کی ساخت، جملوں کی بناوٹ  اور زُبان کے قواعد۔

یہ طریقہ ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم کتابِ مُقدّس کی اَصل عبارت کو اُس کے مصنّف کے ارادے اور اُس دَور کے معنوی سیاق کے مُطابق درست طور پر سمجھ سکیں۔

تاریخی سیاق و سباق 

تاریخی سیاق و سباق کے بارے ، جب قاری کتابِ مُقدس کی   تاریخی تفسیر کے  تناظر میں چند بنیادی سوالات کرتا ہے تو اُن سوالات پر غور کرنا چاہیے، جیسے: مصنّف کون ہے؟اِبتدائی سامعین  کون تھے؟کیامتن  میں کوئی ثقافتی حوالہ یا اشارہ موجود ہے جس کی مزید تحقیق ضروری ہے؟

اسی طرح، صرف و نحو (گرامر) پر توجہ دینے کا مطلب ہے:اَلفاظ کے مفاہیم کا مُطالعہ کرنا؛ جملوں نحوی اَلفاظ کی باہمی ترتیب اور تعلق (syntax) کو سمجھنا اور متن میں موجود ادبی ساختوں کو پہچاننا شامل ہے ۔

جب ہم ان تمام پہلوؤں کا گہرا مُطالعہ کرتے ہیں، تو نہ صرف ہم مخصوص آیت یا عبارت کو بہتر سمجھ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہ عبارت اپنے سیاق میں — یعنی اُس سے پہلے یا بعد میں آنے والے متن سے — کس طرح مربوط ہے۔ متن کو اُس کے درست تاریخی اور صرفی (گرامری) تناظر میں دیکھنے کی اہمیت کو اگر اختصار کے ساتھ بیان کِیا جائے، تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی  ہم بائبل کی تفسیر کریں، تو تین نہایت بنیادی اَلفاظ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے: سیاق، سیاق  اور سیاق۔

علِم التفسیر بائبلی تفسیر کا ایک فن اور ایک علم ہے

 تاریخی-قواعدی طریقۂ تفسیراس بات پر زور دیتا ہے کہ صحیفے کی تشریح  اس کے لفظی مفہوم کے مُطابق کی جائے۔ یہ تشریح  اُس وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب ہم ’’لغوی‘‘  کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ ہم متن کی ادبی نوعیت کو مسخ کر دیں۔ چونکہ کتابِ مُقدّس بذاتِ خُود ایک ادبی مجموعہ ہے، اس لیے اس میں اکثر استعارہ، علامت، تمثیل اور دیگر اَدبی اسالیب استعمال کیے گئے ہیں۔

لہٰذا، بائبلی عبارت کی لفظی تشریح کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان اَدبی اسالیب کو درست طریقے سے پہچانیں اور ان کی تفہیم اُس صنفِ ادب کے عام اُصولوں کے مُطابق کریں، جس سے وہ تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ جب کتابِ مُقدّس میں شاعری یا نبوّتی صحیفوں میں علامتی زُبان استعمال ہو، تو ہمیں اس کو علامتی طور پر ہی سمجھنا ہو  گا اور اس کی علامتی تشریح کرنی ہو گی ۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم مصنّف کے ارادے اور پیغام کے ساتھ ظلم کے مرتکب ہوں گے۔

اِیمان کے اُصول سے تشبیہ

چونکہ کتابِ مُقدّس کا ایک ہی اصل  مصنّف  خُود خُدا ہے، جیسا کہ اُس کے اِنسانی مصنّفین بھی ہیں، لہٰذا تفسیر کے دوران اِلٰہی مصنّف کی نیت کو بھی ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ اسی تناظر میں ایک بنیادی اُصول جو علِم التفسیر  میں بیان کِیا جاتا ہے، وہ ہے اُصولِ اِیمان یا ضابطہ اِیمان ، جس کا مطلب یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کی تفسیر، کتابِ مُقدّس ہی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔

ویسٹ منسٹر اقرارِ الایمان کے پہلے باب میں یہ اُصول واضح کِیا گیا ہے:

’’کتابِ مُقدّس کی نا قابلِ خطا تفسیر کا معیار خُود کتابِ مقدّس ہے؛ چنانچہ جب کسی آیت کے صحیح اور کامل مطالب کے بارے میں سوال پیدا ہو—جو کہ کئی مَفاہیم والا نہیں بلکہ ایک ہی مفہوم رکھتا ہے—تو اُسے اُن مَقامات کی رُوشنی میں سمجھنا اور جاننا ضروری ہے جو زیادہ وضاحت سے بات کرتے ہیں‘‘  (باب ۱ جُز ۹)۔

یہ اقرار   نہ صرف یہ کہتا ہے کہ صحیفے کا صرف ایک ہی مفہوم ہوتا ہے (جیسا کہ ’’لفظی مفہوم‘‘  جو مندرجہ بالا  بیان کِیا گیا)، بلکہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے—جیسا کہ خُود بائبل مُقدس  (2 ۔پطرس ۱۶:۳) میں  کرتی ہے—کہ کتابِ مُقدّس کے بعض مَقامات سمجھنے میں دشوار ہوتے ہیں۔ چُوں کہ خُدا خُود متضادم سے پاک ہے، اِس لیے اُس کا کلام بھی کسی تضاد پر مشتمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جب کوئی عبارت مشکل ہو، تو اُس کی تشریح اُن صحیفائی مَقامات کی مدد سے کی جائے جو زیادہ واضح اور صاف گو  ہیں۔

مسیح تمام صحائف میں

کتابِ مُقدّس کے اِلٰہی مصنّف ہونے کا ایک دوسرا اہم علِم التفسیر  (تفسیری) تقاضا یہ ہے کہ اگرچہ خُدا کی نیت کبھی اِنسانی مصنّف کی نیت سے متصادم نہیں  ہوتی، لیکن وہ اِنسانی مصنّف کی مکمل فہم سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتی ہے۔ چنانچہ جب ویسٹ منسٹر إقرار الایمان’’ صحیفہ کے حقیقی  اور مکمل مفہوم‘‘  کی بات کرتا ہے، تو یہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ خُدا کا  بعد کا مُکاشفہ اُس کے پہلے مُکاشفہ پر مزید رُوشنی ڈالتا  ہے۔

لوقا کی اِنجیل اِس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے جب وہ یسُوعِ مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد دو شاگردوں کے ساتھ اماؤس  کے راستے پر ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتی ہے۔ لوقا لکھتا ہے: ’’ پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیں‘‘(لُوقا ۲۷:۲۴)۔

کچھ ہی آیات بعد، جب یسوع اُن باقی گیارہ رسُولوں کے سامنے ظاہر ہوا، تو اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ وہ صحائف کو سمجھ سکیں، جن میں شامل تھا:’’ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں‘‘(لوقا ۴۴:۲۴)۔

یہ تین حصوں کی واضح تقسیم—موسیٰ، نبی  اور زبُور—در حقیقت یہ  عبرانی بائبل کے تین بڑے حصوں کی نمائندگی کرتا  ہے اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسُوع خُود کو پورے پرانے  عہد کی گواہی کا مرکز قرار دیتا ہے۔

لہٰذا، جب ہم ذمہ دارانہ طرز پرمثالیاتی اور پیش بین واقعات کا جائزہ لیتے ہیں—اور خاص طور پر جب ہم اُن موضوعات اور نمونوں کا سراغ لگاتے ہیں جو اِلٰہی مصنّف نے اپنے کلام میں بُنے ہیں—تو ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ بائبل کی ہر راہ مسیح کی طرف لے کر  جاتی ہے۔

یہ مضمون ’’ علم التفسیر  (Hermeneutics) ‘‘ کے مجموعہ سے   ماخوذ ہے ۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔