علم التشریح کیا ہے؟
22/07/2025
علِم التفسیر کیا ہے ؟
29/07/2025
علم التشریح کیا ہے؟
22/07/2025
علِم التفسیر کیا ہے ؟
29/07/2025

اَناجیل کا کیسے مُطالعہ کریں ؟

اَناجیل  کے بیانات دراصل چار عظیم بیانیے ہیں جو ’’اِنْجِیل‘‘  یعنی مسیح کی زِندگی، مَوت اور قیامت کی خبر کو بیان کرتے ہیں۔ مگر افسوس! اکثر اَوقات یہ یا تو غلط سمجھے جاتے ہیں  یا نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں ۔ ذیل میں چار عمومی مگر عملی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، جو ہمیں اِنجیلوں کے مُطالعہ میں بصیرت عطا کر تے  ہیں۔

۱۔ ہر آیت اور ہر واقعہ کو یسوع  کی شناخت اور پیغام کی رُوشنی میں پڑھیں

ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ثانوی کرداروں پر توجہ مرکوز کر دیتے ہیں—مثلاً شاگرد، برتمائی ، یا مریم مگدلینی—لیکن یسوع خُود ہماری توجہ سے اُوجھل ہو  جاتا ہے ۔

یسوع کی زمینی خدمت غالباً تین سال کے لگ بھگ جاری رہی، جس میں اُنھوں نے تعلیم دی، شفا بخشی  اور سینکڑوں نہیں بلکہ  ہزاروں افراد کے ساتھ رفاقت قائم کی۔ یوحنا۲۵:۲۱  میں لکھا ہے:’’ اَور بھی بُہت سے کام ہیں جو یِسُوعؔ نے کِئے۔ اگر وہ جُدا جُدا لِکھے جاتے تو مَیں سمجھتا ہُوں کہ جو کِتابیں لِکھی جاتِیں اُن کے لِئے دُنیا میں گُنجایش نہ ہوتی۔‘‘ یہی اَصل نکتہ ہے: ہر اِنجیل کا بیان ہمیں یسوع کی خدمت کی محض ایک جھلک پیش کرتا ہے—ایک نمائندہ جھلک  ، یقیناً—لیکن مکمل تصویر نہیں۔

مثال کے طور پر، لوقا اپنی اِنجیل میں اکیس معجزات کو شامل کرتا ہے، جب کہ یوحنا صرف آٹھ کو۔ یہ چاروں اِنجیلیں بڑی مہارت سے مسیح کی زندگی کا حال سُناتی ہیں اور اُن اہم ترین واقعات کو بیان کرتی ہیں جو نجات کی کہانی کا مرکز ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اِس بات پر غور کریں کہ مبشر کس طرح یسوع  کی کہانی کو بیانیہ، کرداروں، خاکے ،  جغرافیہ اور عہدِ عتیق سے تعلق کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔

۲۔ نہ صرف یہ کہ ہمیں اَناجیل کو مسیح کے مُطابق پڑھنا چاہیے، بلکہ ہمیں ان چار بیانات کو عہدِ عتیق  کے تعلق سے سمجھنا چاہیئے 

ایسا ایک بھی حوالہ نہیں جسے نجات کی کہانی سے ہٹ کر پڑھا جا سکے۔ متی اپنی اِنجیل کی اِبتدا (متی ۱:۱) ایک شجرہ نسب  سے کرتا ہے، جو پیدایش ۴:۲ کی طرف اشارہ ہے۔ یوحنا ۱:۱–۵ میں یسوع کا  تخلیقِ کائنات کے تناظر سے آغاز کرتا ہے ، جس میں  پیدایش ۱–۲ ابواب کے سیاق کو سامنے  رکھا گیا ہے۔

مزید برآں، یہ چاروں اَناجیل ہزاروں بار عہدِ عتیق کا حوالہ دیتی ہیں—کبھی براہِ راست اقتباسات کے ذریعے، کبھی اشاروں ،  استعاروں سے اور کبھی فکری مماثلتوں کے ذریعے۔ یہ اَناجیل دراصل ایک عظیم کارنامہ اَنجام دے رہی ہیں: یہ مسیح کی خدمت کے وسیلے کائنات کی تاریخ اور بنی اِسرائیل کے بیانیہ  کو رقم کر رہی ہیں۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اَناجیل کو پڑھتے وقت عہدِ عتیق کی حوالہ جات کی   گہرائی کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر ہم اَناجیل کی تعلیم دیتے ہوئے مسیح کے تعلق کو  عہدِ عتیق سے بیان ہی نہ کریں، تو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کا جوہر ہی باقی نہیں رہتا۔

ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مبشر ِ اَناجیل نویس کس طرح یسوع کی کہانی کو بیانیہ، کرداروں، خاکہ ، جغرافیہ اور عہدِ عتیق سے اُس کے گہرے ربط کے ذریعے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔

۳۔ اَناجیل کو باہم ملا کر پڑھیں—ہمارے پاس چار اَناجیل ایک مقصد کے تحت ہیں 

اَناجیل، مسیح کی چار تصویری جھلکیاں ہیں اور ہر جھلک کسی نہ کسی پہلو سے منفرد ہے۔  ان کی انفرادیت کو سمجھنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اَناجیل کا ایک تقابلی خاکہ بنایا جائے، یہ  وہی اقتباسات ہیں جن کو   متی، مرقس اور لوقا   پہلو بہ پہلو رکھ کر پیش کرتے ہیں ۔ ان تینوں اَناجیل کو
’’انا جیل ِ متوافقہ‘‘ (Synoptics Gospels)کہا جاتا ہے کیوں کہ ان میں ایک دوسرے سے بہت مُشابہ مواد پایا جاتا ہے۔

جب آپ کسی ایک واقعہ کو ان تینوں متفقہ  اَناجیل میں دیکھیں، تو اُن باتوں پر نشان لگائیں جو مشترکہ   ہیں  اور اُن پہلوؤں کو بھی نوٹ کریں جو ہر اِنجیل میں منفرد انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہر مبشر وہی واقعہ کیسے اور کیوں لیکن  ذرا مختلف انداز میں بیان کرتا ہے، تو ہم اُن کے مخصوص زور، مقصد  اور اِلٰہیاتی پیغام کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اَفسوس کہ اکثر مسیحی کبھی اِس انداز سے اَناجیل کو اکٹھا پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے، حالاں کہ اگر وہ ایسا کریں تو بےحد قیمتی رُوحانی اجر کے وارث ہوں گے ۔

۴۔ جو کچھ سِکھا ہے، اُسے اپنی زندگی پر لاگو کریں 

لوقا اپنے دوست تھیُفلس، جو ایک مسیحی تھا، کو مُطلع کرتا ہے کہ اُس نے یہ اِنجیل اس لیے قلم بند کی ’’تاکہ جِن باتوں کی تُو نے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائے ‘‘ (لوقا ۴:۱؛ ملاحظہ ہو: یوحنا ۳۱:۲۰)۔ 

یہ ’’جن باتوں کی  تُو نے تعلیم پائی ہے ‘‘  غالباً یسوع کی زِندگی، مصلوب ہونے اور قیامت سے متعلق وہ بنیادی حقائق ہیں جو اِبتدائی کلیسیا میں سکھائے جاتے تھے۔

لوقا اپنی انجیل کو  اس نیت سے لکھتا ہے کہ تھیُفلس اور کلیسیا کے  اِیمان کو  مضبوط  کرنے کے بیانیے کو پیش کِیا جائے ۔ دیگر اَلفاظ میں، لوقا کی اِنجیل اِیمانداروں کو اِیمان میں ترقی کرنے  کو   پیش کرتی ہے ۔  جب ہم مسیح کے بیانیہ  کے نشیب و فراز کو جانتے ہیں، تو ہمارا مسیح پر بھروسا گہرا ہوتا ہے اور خُدا کے ساتھ ہماری وابستگی میں ترقی ہوتی ہے۔

مزید برآں، ہم جو اکیسویں صدی میں زِندہ ہیں، اُس واحد عہد کی جماعت کا حصہ ہیں، جو عدن سے لے کر نئے یروشلیم تک پھیلی ہوئی ہے— اِیمانداروں کی ایک مسلسل اور غیر منقطع برادری۔

ہمیں یہ اَناجیل اپنی امانت سمجھ کر پڑھنی چاہیں۔ اگرچہ ہم اُن اِبتدائی سامعین سے دو ہزار برس کا فاصلہ  رکھتے ہیں ، مگر خُدا آج بھی ان چار قیمتی دستاویزات  کے ذریعے ہم سے ہمکلام ہوتا ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمیں اَناجیل کو پڑھنا چاہیئے  کیوں 

  • مسیح کی رُوشنی میں،
  • عہدِ عتیق سے اُن کے تعلق کی وجہ سے ،
  • چوہری  داستان کے طور پر،
  • اور ان سچائیوں کو اپنی عملی زِندگی پر نافذ کرتے ہوئے پڑھنا چاہیے۔

جب ہم ایسا کریں گے، تو ہم مسیح کو اور زیادہ پہچانیں گے—اور اُس کے لیے اپنی زِندگی اور بھی زیادہ وقف کر سکیں گے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔