
یسُوع دُنیا کا نُور کیسے ہے؟
03/02/2026
خاندان میں شاگردیت
12/02/2026مَیں اپنے اِیمان میں کس طرح بڑھ سکتا ہوں؟
آپ تصور کریں کہ طوفانی سمندر میں ڈوبتا ہوا ایک آدمی ، جس کی طرف جان بچانے والی ایک پٹی پھینکی جاتی ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں اُسے پکڑ لیتا ہے، اُس سے چمٹ جاتا ہے اور اُس کے اندر سمیٹ لیا جاتا ہے۔ آخرکار وہ ہولناک موجوں پر تیرنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر بھی دہشت اور شکوک سے بھرا ہوا، وہ اِس فکر میں گھرا رہتا ہے کہ کہیں یہ جان بچانے والی پٹی اُس کا ساتھ نہ چھوڑ دے اور وہ سمندر کی گہرائیوں میں نگل لیا جائے۔ تصور کریں کہ وہ غور کرتا ہے کہ جان بچانے والی پٹی کے ساتھ چھوٹا سا ایک کتابچہ بندھا ہوا ہے جس میں سے پانی نہیں گذر سکتا ۔ وہ پریشان حال آدمی،اِن حالات کے باوجود،اُس کو پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ یہ کتابچہ اُس کی جان بچانے والی پٹی کی خوبیوں کو بیان کرتا ہے۔ وہ اُس مواد کے بارے میں پڑھتا ہے جن سے یہ بنی ہے، اُس کے ڈیزائن کی خصوصیات کے بارے میں اور اُس کی غیر معمولی اُبھرتی ہوئی طاقت اور بھروسا مندی کے اوصاف کے بارے میں۔ وہ پڑھتا ہے کہ اُسے کس قدر کسوٹی پر پرکھا گیا ہے، کس طرح اُس نے شدید سے شدید سمندروں میں بھاری سے بھاری بوجھ اُٹھایا ہے اور یہ کہ جس نے بھی اُسے تھاما ہے وہ کبھی غرق نہیں ہوا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا ہے، اُس کا اِعتماد بڑھتا جاتا ہے۔
کیا وہ اب بھی سمندر کے طوفانوں کے بیچ میں ہے؟ جی ہاں۔ کیا بعض اوقات بڑی بڑی موجیں اُسے گہری تشویش میں ڈال سکتی ہیں؟ جی ہاں۔ کیا وہ پہلے سے زیادہ محفوظ یا سلامت ہے؟ جی نہیں۔ وہ اُتنا ہی محفوظ اور سلامت ہے جتنا کہ اُس وقت تھا، جب اُس نے پہلی بار اُس جان بچانے والی پٹی کو تھاما تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اُسے اُس کی اُس صلاحیت پر زیادہ اور مسلسل بڑھتا ہوا اِعتماد ہے کہ وہ اُس کو ہر خطرے اور ہر مصیبت میں سہارا دیتی رہے گی، جب تک کہ آخرکار وہ پانیوں میں سے نکال لیا جائے اور سلامتی کے ساتھ خشکی پر پہنچا دیا جائے۔
اِس تمثیل کی حدود کو تسلیم کرتے ہوئے، آئیے مَیں اِیمان میں بڑھوتری کے لیے کچھ متوازی پہلو تجویز کروں۔ جب کوئی گنہگار پہلی بار یسوع پر بھروسا کرتا ہے، تو وہ گنہگار نجات پاتا اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ کوئی شخص اور کوئی چیز اُسے یسوع کے ہاتھوں سے چھین نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے جتنا کہ وہ کبھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ وہ اپنی اُس محافظت کو پوری طرح نہ سمجھتا ہو۔ تاہم وہ اِتنا ضرور جانتا ہے کہ مسیح کے پاس آنا ہے، مگر اُسے اُس مسیح کو جس کے پاس وہ آیا ہے، اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے وہ اُس نجات دِہندہ کو، جس پر اُس نے بھروسا کیا ہے، گہرائی سے پہچانتا جاتا ہے، اُس کا اِعتماد بھی بڑھتا اور مستحکم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جو نہ صرف اِنسان کو مسیح پر اِیمان کے ذریعے نجات کے لیے حکمت مند بناتی ہے بلکہ مردِ خداکو کامل بھی کرتی ہے۔
سب سے بڑھ کر، رُوحانی بڑھوتری کلامِ مقدس کے وسیلہ سے آتی ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جو نہ صرف اِنسان کو مسیح پر اِیمان کے ذریعے نجات کے لیے حکمت مند بناتی ہے بلکہ مردِ خداکو کامل بھی کرتی ہے۔ مسیحیوں کو خوش خبری کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ ہمیں اپنے سردار کاہن اور اُس رسول پر نظریں جمائے رکھنے کی ضرورت ہے جس کا ہم اِقرار کرتے ہیں(عبرانیوں 1:3)۔ غور کیجیے کہ مسیحی زندگی کے تمام گمراہی کے بچھائے گئے پھندے اور غموں، اور جھوٹی تعلیمات کی تمام فریب کاریوں اور توجہ ہٹانے والی تدبیروں کے مقابلے میں ،رسولوں نے ہمیشہ مسیح اور اُس کے مصلوب ہونے کو خدا کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رکھا تاکہ اُن کے اِیمان میں اِضافہ ہو۔ جب ہم کتابِ مقدس میں مسیح کا مطالعہ کرتے ہیں تو درحقیت ہم اپنے اِیمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کی طرف دیکھتے ہیں اور یوں ہمارا اِیمان ترقی پاتا ہے۔
اِیمان میں بڑھنے کا دُوسرا وسیلہ یہ ہے کہ ہم خُدا سے دُعا کریں کہ اُس کا رُوح ہمارے اِیمان کو مزید مضبوط کرے۔ اِیمان دینے والا وہی ہے، اِس لیے اُس کی تقویت بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ شاگردوں نے اِلتجا کی کہ: ’’ہمارے اِیمان کو بڑھا‘‘ (لوقا 5:17)۔ اور ایک غم زدہ باپ پکار اُٹھا: ” مَیں اِعتقاد رکھتا ہوں۔ تُو میری بے اِعتقادی کا علاج کر “ (مرقس 24:9)۔ ایسی دُعائیں ہمیں یاد دِلاتی ہیں کہ اِیمان کی اصل حالت کبھی کمزور اور کبھی قوی ہو سکتی ہے، اور یہ حقیقت بھی آشکار کرتی ہیں کہ اِیمان میں بڑھنے کا ایک بنیادی وسیلہ یہ ہے کہ ہم اُسے خُدا سے طلب کریں۔ جواب میں مسیح ہم پر اپنے آپ کو زیادہ منکشف کرتا ہے۔ شاید ہمارے پاس اِس لئے نہیں کیوں کہ ہم نے خدا سے اِسے مانگا ہی نہیں (یعقوب 2:4)۔
اِیمان میں بڑھنے کا ایک اور خوشگوار وسیلہ مُقدسوں کی رفاقت ہے ۔ دُنیا ہمارے اِیمان کو کمزور کر دیتی ہے اور شیطان اُس پر حملہ آور ہوتا ہے، ہمیں مسیح سے ہٹا کر سچائی سے غافل کرتا ہے اور ہماری توجہ دُوسری باتوں میں اُلجھا دیتا ہے۔ اِس کے مقابلے کا ایک نہایت خوشگوار طریقہ یہ ہے کہ ہم خدا کے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اُس بادشاہی کی باتیں کریں جو اَزل سے اُن کی ہے (ملاکی 16:3-18)۔ مقدسوں کے ساتھ ایسی رفاقت میں آسمانی حقائق کا احساس تازہ اور بحال ہوتا ہے اور دِلوں کو تسلی اور تقویت ملتی ہے (1تھسلنیکیوں 18:4؛11:5)۔
یہ ہمیں اِس تجربے میں شامل کرتا ہے ، خواہ وہ ہمارا اپنا ہو یا دُوسروں کا۔ بائبل مقدس کا مطالعہ ہمارے سامنے یہ حقیقت رکھتا ہے کہ خدا کے لوگوں کا اِیمان آزمائشوں کے وسیلے کیسے بڑھتا ہے۔ اِیمان داروں کے باپ اَبرہام نے بھی اپنے اِیمان میں آزمایشوں اور فتح مندی دونوں کا سامنا کیا (رومیوں 20:4)۔ زبور نویسوں نے خدا کے گذشتہ کاموں کو یاد کر کے اپنے آپ کو مضبوط کیا۔ یہ نہایت قیمتی بات ہے کہ ہم دِیگر اِیمان داروں، خواہ وہ ماضی کے ہوں یا حال کے، اُن کی گواہی کو پڑھیں اور سنیں کہ خداوند نے کس طرح اُنہیں سنبھالا اور اُن کی مدد کی ۔ غور کریں کہ ہر وہ موج جو ہمیں غرق نہیں کرتی، دوبارہ اِس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ ہم جس چٹان پر قائم ہیں وہ ناقابلِ شکست ہے، اور ہمارا عظیم نجات دِہندہ کس قدر کارگر اور قابلِ بھروسا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ محض ہمارا اِیمان ہمیں نجات نہیں دیتا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم محض اِیمان کی قوت پر بھروسا کریں، بجائے اِس کے کہ خداوند ہی پر بھروسا کریں۔ نجات اِیمان کے وسیلے سے ضرور ہے، مگر نجات دِہندہ مسیح ہی ہے۔ اِیمان اُس قادر اور زورآورشخص سے جُڑا ہے جو مسیح ہے، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، اور وہی ہمیں بچاتا ہے۔ جیسے جیسے ہماری نظریں اُس پر مرکوز رہتی ہیں، ہمارا اِیمان بڑھتا جاتا ہے۔ اِسی لیے آئزک واٹس کے اَلفاظ کچھ یوں ہیں:
”اگر موت کے تمام لشکر اور جہنم کی اَنجانی طاقتیں، اپنے شدید ترین قہر اور عداوت کا رُوپ دھار لیں، تو بھی مَیں سلامت رہوں گا، کیوں کہ مسیح اپنی قادرِ مطلق قدرت اور محافظ فضل کو ظاہر کرتا ہے “۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


