
یسُوع انگور کا حقیقی درخت کیسے ہے ؟
29/01/2026
مَیں اپنے اِیمان میں کس طرح بڑھ سکتا ہوں؟
05/02/2026یسُوع دُنیا کا نُور کیسے ہے؟
چند ہفتے قبل، مَیں اپنے گھر کے ساتھ واقع چھوٹے سے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ میری نظر اس بات پر گئی کہ درخت سُورَج کی طرف کیسے بڑھتے ہیں: بیچ کے درخت زیادہ لمبے ہو جاتے ہیں اور کناروں پر موجود شاخیں زِندگی بخش رُوشنی کی طرف کھنچتی ہیں۔ اُسی لمحے مجھے یاد آیا کہ یسعیاہ نبی نے مسیح کی مُنادی کے اثرات کی پیشین گوئی کیسے کی تھی:
’’ خُداوند خُدا کی رُوح مُجھ پر ہے کیونکہ اُس نے مُجھے مَسح کِیا تاکہ حلِیموں کو خُوش خبری سُناؤُں۔۔۔ تاکہ وہ صداقت کے درخت اور خُداوند کے لگائے ہُوئے کہلائیں کہ اُس کا جلال ظاہِر ہو۔ ‘‘(یسعیاہ ۱:۶۱، ۳)۔
خُدا نے رُوشنی کو وجود بخشا—یہ کہہ کر: ’’رُوشنی ہو جا!‘‘ اور رُوشنی ہو گئی—یہ ایک ایسا عنصر جو نہ خالص توانائی ہے اور نہ مادہ ہے ، بلکہ آج بھی ہمارے لیے ایک بھید ہے (پیدایش ۴:۱)۔ خُدا نے رُوشنی کو پیدا کرنے والے اجرام بھی بنائے: ’’سو خُدا نے دو بڑے نیّر بنائے۔ ایک نیّرِ اکبر کہ دِن پر حُکم کرے اور ایک نیّرِ اصغر کہ رات پر حُکم کرے اور اُس نے سِتاروں کو بھی بنایا‘‘(پیدایش ۱۶:۱)۔
وہ بڑی رُوشنی—سُورج—ایک عظیم الشان جوہری توانائی پیدا کرنے والا مرکز ہے، جو نا قابلِ تصور حد تک طاقت اور رُوشنی سے زمین کو منور کرتا ہے۔ ہم یہ حقیقت آسانی سے بھول جاتے ہیں—اپنی مصروفیات اور کم جلال یا بے جلال چیزوں میں اُلجھے رہ کر—جب تک کہ ہم کسی تاریک رات میں بھٹکنے نہ لگیں، یا جب تک کہ ہم طویل سردیوں کی اندھیری راتوں کے بعد بہار کی زِندگی اور لمبی تابناک گرمیوں کے دِنوں کے لیے ترسنے نہ لگیں۔ رُوشنی ہی زِندگی ہے۔
لیکن رُوشنی نجات کی تصویر کے طور پر بھی بنائی گئی تھی۔ آگ کا ستون اِسرائیل کے لیے نجات کا نشان تھا، جب کہ مصر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا (خروج ۲۰:۱۴)۔ شمع دان بارہ روٹیوں پر چمکتا تھا اور یہ منظر اُس وقت مکمل ہوتا ہے جب خُداوند بنی اِسرائیل کے قبائل پر اپنی برکت یوں ظاہر کرتا ہے: ’’ خُداوند اپنا چہرہ تجھ پر جلوہ گرئے فرمائے ‘‘ (گنتی۲۴:۶- ۲۷ )۔ زبُور نویس پُکار اُٹھتا ہے:’’ خُداوند میری رُوشنی اور میری نجات ہے‘‘(زبُور ۱:۲۷)۔ اس کے برعکس، یہ دُنیا گناہ کی تاریکی میں ہے۔ نافرمانی کے سبب قدرتی اِنسان ’’ اور جَیسے اندھا اندھیرے میں ٹٹولتا ہے وَیسے ہی تُو دوپہر دِن کو ٹٹولتا پِھرے گا‘‘ (استثنا۲۹:۲۸)۔ مگر نجات کی راہ خُدا کے کلام سے رُوشن ہے، جو ہمارے قدموں کے لیے چراغ اور راہ کے لیے رُوشنی ہے (زبُور ۱۰۵:۱۱۹)۔
تاریکی سے رُوشنی کی طرف نقل و حرکت کرنا نجات ہے اور اسی لیے جب یسوع نے کہا ، ’’مَیں دُنیا کا نُور ہوں‘‘ (یوحنا۱۲:۸)، تو اُنھوں نے جلال اور نجات کی قدرت کا زبردست دعویٰ کِیا۔
اس متن میں یسوع نے اپنی الوہیت کا اِعلان کِیا۔ وہ اِزلی اور واجب الوجود ’’مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں‘‘ ہے، جو سُورج، چاند اور ستاروں کا خالق ہے (خروج ۱۴:۳)۔ وہ رُوشنی کے جلال کا سر چشمہ اور نمونہ ہے۔ وہ خُداوند ہے جو نُور ہے—جیسا کہ یوحنا نے لکھا: ’’ خُدا نُور ہے اور اُس میں ذرا بھی تارِیکی نہیں ‘‘ (1۔ یوحنا ۵:۱)۔ وہ اِلٰہی زِندگی کا وسیلہ ہے جو باپ کی طرف سے چمکتی ہے، جو نُور میں سکونت کرتا ہے اور نا قابلِ رسائی جلال میں رکھتا ہے۔ یوحنا۴:۱- ۵ میں یسوع کے بارے میں لکھا ہے: ’’اُس میں زِندگی تھی اور وہ زِندگی آدمِیوں کا نُور تھی۔ اور نُور تارِیکی میں چمکتا ہے اور تارِیکی نے اُسے قبُول نہ کِیا۔‘‘
یہ بیانات صرف اُسی وقت قابلِ فہم سمجھے جا سکتے ہیں جب ہم پہلے قدرتی رُوشنی کے جلال (خاص طور پر سُورج) کے جلال پر غور کریں اور پھر اپنے دِلوں کو باپ، بیٹے اور رُوحُ القدس کی عظمت کی طرف بلند کریں۔ سب سے رُوشن ستارہ—در حقیقت تمام ستارے—ہمارے خُدا کے اِزلی جلال کے صرف معمولی اشارے ہیں۔
یسُوع ہی گناہ سے بھری ہوئی تاریک دُنیا میں رُوحانی زِندگی کا واحد سر چشمہ ہے۔
لیکن یسُوع اپنی نجات بخش خدمت کے بارے میں بھی فرما رہا تھا ۔ وہ رُوحانی زِندگی کا واحد ماخذ ہے اُس دُنیا کے لیے جو گناہ کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ملاکی نے مسیحا کی آمد کی پیشن گوئی یوں کی: ’’ آفتابِ صداقت طالع ہو گا اور اُس کی کِرنوں میں شِفا ہو گی ‘‘ (ملاکی۲:۴)۔ یسُوع کا رُوپ بدلنے پر اُس کا چہرہ سُورَج کی مانند چمکنے لگا (متی۲:۱۷)۔ پولُس نے یسُوع مسیح کے جلال کی نجات بخش رؤیت کو سُورَج سے بھی زیادہ رُوشن قرار دیا (اَعمال ۱۳:۲۶)۔ یوحنا نے مسیح کے جلال کو ’’ایسے سُورَج کی مانند دیکھا جو اپنی پوری توانائی سے چمک رہا ہو‘‘ (مُکاشفہ۱۶:۱- ۲۰)۔ جب ہم مسیحی بنتے ہیں، تو یہ اِس لیے ہوتا ہے کہ ’’ خُدا ہی ہے جِس نے فرمایا کہ تارِیکی میں سے نُور چمکے اور وُہی ہمارے دِلوں میں چمکا تاکہ خُدا کے جلال کی پہچان کا نُور یِسُوع مسِیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو‘‘ (۲۔کُرِنتھِیوں ۶:۴)۔
یہ عظیم تر نُور—یعنی بیٹا—اپنی بھسم کر دینے والی پاکیزگی سے ہمارے گناہوں کو بے نقاب کرتا ہے اور پھر ہمارے دِلوں کے گہرے گوشوں کو پاک کرنے والی اور زِندگی بخشنے والی قدرت سے چمکتا ہے۔ یسُوع صلیب پر نُور چمکا ، خالی قبر پر اور زیادہ رُوشن ہوا اور اپنے جلالی عروج میں سب سے زیادہ رُوشن ہوا۔ اُس کی واپسی آسمان پر چمکتی ہوئی ایک بجلی کی مانند ہو گی جو پوری دُنیا کو منور کر دے گی۔ یہ سارا نُور اِنجیل کے وسیلہ سے دُنیا میں پیش کِیا گیا ہے اور وہ اِیمان کے سادہ بھروسے سے حاصل کِیا جاتا ہے۔
جب ہم یسُوع پر بھروسا کرتے ہیں تو ایک دائمی تبدیلی واقع ہوتی ہے: ’’ جو میری پیرَوی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زِندگی کا نُور پائے گا۔ ‘‘ (یوحنا ۱۲:۸)۔ جیسے پولُس کہتا ہے، ’’کیونکہ تُم پہلے تارِیکی تھے مگر اب خُداوند میں نُور ہو۔ پس نُور کے فرزندوں کی طرح چلو ‘‘(اِفِسیوں ۸:۵)۔مسیح سے اپنی وابستگی کے باعث، جہاں ہم جاتے ہیں، اُس کا نُور ہمارے ساتھ چمکتا ہے۔
یہ سچائی ہمیں تسلی دیتی ہے، خاص طور پر جب دُنیا ہماری مخالفت کرے ۔ یہ سچائی ہمیں حوصلہ بھی دیتی ہے کہ ہم دُعا کریں کہ لوگ ہمارے نیک اَعمال دیکھ کر ہمارے آسمانی باپ کی تمجید کریں اور خُود بھی اُس نُور کی طرف آ جائیں۔
بلکہ یوحنا یہاں تک کہتا ہے کہ مسیح کی زِندگی آدمیوں کا نُور ہے (یوحنا۴:۱)۔ ہم محض نُور کے پاس آ کر اپنی راہ نہیں لیتے، بلکہ ہم آسمانی جلال کی طلب میں اُس کی رُوشنی کی طرف اور بھی مزید چمکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسا جلال دیکھا ہے جو آفتابِ سحر کے شعلہ زن طلوع سے بھی برتر ہے—اُس کے چہرے میں جو سُورَج کو قائم رکھتا ہے—اور اب ہماری بھوک و پیاس اُس عظیم اور لا محدود جلال کی ہے جو خُدا کا ہے۔
اور جب ہمارا چھوٹا سا سُورَج تاریکی میں بدل جائے گا اور چاند خُون کی مانند ہو جائے گا، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ہم اُس زِندگی کی دہلیز پر ہیں جوخدائے ثالوث کے خالص اور بے حجاب غیر محدود جلال میں بسر ہو گی۔ تب ہمارے بلوط کے درختوں کے پتے نُورِ حیات کو سمیٹنے کی طرف پلٹیں گے، وہ نُور جو اُس تخت سے ہمیشہ کے لیے جاری رہے گا جو اُس شہر کے قلب میں ہے جسے سُورَج یا چاند کی ضرورت نہیں، کیونکہ خُدا کا جلال اُسے روشن کرتا ہے (مُکاشفہ۲۳:۲۱)۔ خُداوند ہمارا نُور ہوگا، اور وہ اَبد تک بادشاہی کرے گا۔
یہی سب کچھ وہی ہے جو یسُوع نے مراد لِیا جب اُس نے فرمایا: ’’مَیں دُنیا کا نُور ہوں‘‘ (یوحنا ۱۲:۸)۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


