یسُوع راہ ، حق اور زِندگی کیسے ہے ؟
27/01/2026
یسُوع دُنیا کا نُور کیسے ہے؟
03/02/2026
یسُوع راہ ، حق اور زِندگی کیسے ہے ؟
27/01/2026
یسُوع دُنیا کا نُور کیسے ہے؟
03/02/2026

یسُوع انگور کا حقیقی درخت کیسے ہے ؟ 

یہ یسوع کے ’’مَیں ہوں‘‘  کے دعوؤں میں سے ساتواں اور آخری — ’’مَیں انگور کا حقیقی درخت ہوں‘‘ (یوحنا۱:۱۵) — بلا شُبہ ان سب میں سب سے زیادہ پوشیدہ ہے (کم از کم غیر یہودی قارئین کے لیے)۔ بہت سے قارئین (اور واعظین) کے لیے آزمایش یہ ہے کہ اس زُبان کو خالصتاً  ایک استعارہ  کے طور پر دیکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، گویا یہ بیان کرتا ہو کہ ہم بہ طور مسیحی  فرد کس طرح نشوونما پائیں اور پھل دار ہوں، لیکن یسُوع کے اصل سامعین — جو سب کے سب یہودی تھے — کے لیے اس کا مطلب کچھ اور ہی تھا۔

یسُوع کے اس دعویٰ  کا ہر پہلو یہودی سامعین کے ذہنوں کو فوراً اُن کی عبرانی کتابِ مُقدس کی طرف لے جاتا، جہاں انگور کی تاک کا استعارہ خُدا نے  اِسرائیل کے ساتھ نجات کی تاریخ میں بارہا اِستعمال کِیا  ہے۔ چنانچہ جیسے ہی یسُوع کی زُبان کا بوجھ اُن پر واضح ہونے لگا، وہ اِس بات پر حیرت زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے  تھے کہ یسُوع اپنے بارے میں کس قدر جُری انداز میں اِس پیش گوئی کی تکمیل کا دعویٰ کر رہا ہے۔

زبُور کی کتاب میں زبُور نویس اس کے بارے میں بات کرتا ہے اور  اسرائیل کے ایک قوم بننے کا بیان کچھ یوں کرتا ہے:

’’تُو مصر سے ایک تاک لایا۔ تُو نے قَوموں کو خارِج کر کے اُسے لگایا‘‘ (زبُور ۸:۸۰)

 یسعیاہ نبی ، اِسرائیل کو اُن کی رُوحانی گمراہی پر خبردار کرتے ہوئے تاکستان کی زُبان اِستعمال کرتا ہے—جسے خُدا نے لگایا اور سنبھالا لیکن وہ جنگلی اور بے پھل ہو گیا (یسیعیاہ۱:۵- ۶ )۔ یرمیاہ نبی بھی یہی استعارہ اِستعمال کرتا ہے (یرمیاہ۲۱:۲)۔ یہ منظر کشی حسین تو تھی، مگر ساتھ ہی دَرد ناک بھی ہے ۔

اِسرائیل کی پوری کہانی—بطور خُدا کی منتخب قوم—خُدا کی محبت اور نگہداشت کی شہادتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اُس نے اُنھیں ازل سے چن لِیا، غلامی سے چھڑایا، بیابان میں راہ نمائی کی اور اُنھیں ایک اپنی ملکیت والی سرزمین عطا کی۔ خُدا نے اُنھیں وہ سب کچھ مہیا کِیا جو اُنھیں نہ صرف رُوحانی طور پر ایک قوم کی حیثیت سے ترقی دینے کے لیے درکار تھا، بلکہ وہ تمام قوموں کے لیے اُس کی برکت کا ذریعہ بھی بنیں (پیدایش ۳:۱۲)۔ مگر اُنھوں نے اُس کی عطا کردہ نعمتوں کو ضائع کر دیا اور اُس خُدا سے دُور ہو گئے جس کے سبب سے اُن کا وجود  مقروض ہو گیا  تھا۔

جب یسُوع نے تاکستان کی مثال اپنے ساتھ منسلک کر کے دعویٰ کِیا ، تو اُس کے شاگردوں پر یہ بات ہرگز پوشیدہ نہ رہی اور شاگردوں میں سے کوئی بھی ضائع نہیں ہوا ۔ جیسے بنی اِسرائیل کی اجتماعی شناخت اُن کے اپنے  نجات دہندہ خُدا سے   پیوست تھی  اور اُن کی رُوحانی زِندگی اور ثمر  آوری خُداوند اور نجات دہندہ کے ساتھ اُن کی وابستگی  ، اتحاد اور رفاقت  پر قائم تھی، ویسے ہی اب، اِس سے بھی زیادہ جلالی طور پر، خُدا کے وعدے مسیح میں پورے ہو رہے تھے۔

آج بہت سے مسیحیوں کی سوچ عام طور پر عقلی رُوشن خیالی کی تحریک کے بعد کے انفرادیت پسند رُجحان سے متاثر ہے، جو بنیادی طور پر اپنی ذات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اپنی کہانی کو سب سے اہم گردانتے  ہیں ۔ لیکن یہ سوچ بائبل کی تعلیمات کے بر خلاف ہے۔ کلامِ مُقدس کا زور صرف اِس بات پر نہیں کہ ہم اپنی ذات میں کیا ہیں، بلکہ اِس پر ہے کہ ہم نجات  پا کر نئی زندگی میں  مسیح میں اجتماعی طور پر کیا بن چکے  ہیں۔ یسوع نے تاک اور شاخوں کی تصویر  کو اِستعمال کر کے اپنے اور اپنے لوگوں کے درمیان رشتے کو واضح کِیا۔ اُس کے شاگرد اچھی طرح سمجھ گئے کہ وہ کیا فرما رہا ہے—خصوصاً اُس رُوحانی ثمر آوری کے حوالے  سے جو اُس کے ساتھ اتحاد کا نا گزیر نتیجہ ہے۔

اِلٰہی تدبیر کی سختیوں اور زِندگی کی جدوجہد کے ذریعے، خُدا ہمیں خُود انحصاری سے باز رکھتا ہے اور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اُس کے بیٹے میں ہر لمحہ زیادہ سے زیادہ’’ قائم‘‘ رہیں۔

یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ جب یسُوع نے خُود کو ’’حقیقی انگور ‘‘  کہا، تو اُس نے سب سے پہلے اُن لوگوں کا ذکر کِیا جو بہ ظاہر اُس کے پیروکار نظر آتے ہیں مگر در حقیقت   ہوتے نہیں ہیں : ’’ جو ڈالی مُجھ میں ہے اور پَھل نہیں لاتی اُسے وہ کاٹ ڈالتا ہے اور جو پَھل لاتی ہے اُسے چھانٹتا ہے تاکہ زِیادہ پَھل لائے‘‘(یُوحنّا ۲:۱۵)۔وہ اُن لوگوں کی بات کر رہا ہے جو بہ ظاہر کلیسیا میں شامل ہو  کر مسیحی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اُن کا اِیمان حقیقی نہیں ہوتا۔ اُن کی زِندگی میں اُس تبدیلی کا ثبوت نہیں ہوتا جسے پولُس رسُول بعد میں ’’رُوح کا پھل‘‘ کہتا ہے (گلتیوں۲۲:۵- ۲۳ )۔

یسُوع آگے چل کر یہ واضح کرتا ہے کہ کوئی شخص کس بنیاد پر اُس میں شامل ہو سکتا  ہے، جب وہ فرماتا ہے: ’’ اب تُم اُس کلام کے سبب سے جو مَیں نے تُم سے کِیا پاک ہو‘‘(یُوحنّا ۳:۱۵)۔اُس کا کلام، جو خُوش خبری میں بولا گیا ہے ، سب سے پہلے ایک اِعلان ہے—ایسا اِعلان جو اِیمان رکھنے والوں کو نہ صرف معافی کی بلکہ اُس کی راست باز بخشش کے وسیلہ سے پاکیزگی کی بھی یقین دہانی کراتا  ہے۔ یہ خُدا کے ساتھ ایک نئی حیثیت  کا اُس کا ایک بار کا، اٹل فیصلہ اور اِعلان  ہے۔

تاہم، جیسا کہ اِلٰہی ماہرین اکثر نشاندہی کرتے ہیں، ’’ہم صرف اِیمان سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں، لیکن وہ اِیمان جو راست باز ٹھہراتا ہے، کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔‘‘ ایسا اِیمان تقدیس کے فضل سے جُدا نہیں ہوتا۔ جو نئی قانونی حیثیت ہمیں خُدا کے حضور اُس کی معافی اور قبولیت کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے، اُسے لازماً ہماری زِندگی میں اُس کے بدلنے والے فضل کے آثار کے طور پر ظاہر ہونا چاہیے۔ خُدا ہمیں آہستہ آہستہ اپنے بیٹے، ہمارے نجات دہندہ یسُوع، کی شبیہ میں ڈھالتا ہے۔

لیکن جیسا کہ کلامِ مُقدس کی دیگر تعلیمات میں بھی گونجتا ہے، نئی زِندگی میں یہ بڑھو تری اور پھل لانا اکثر ایک قیمت کے ساتھ آتا ہے۔ باپ اُن شاخوں کو ’’چھانٹتا‘‘  ہے تاکہ وہ زیادہ پھل لائیں (یوحنا ۲:۱۵)۔ اِلٰہی تدبیر کی سختیوں اور زِندگی کی جدوجہد کے ذریعے، خُدا ہمیں خُود انحصاری سے باز رکھتا ہے اور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اُس کے بیٹے میں پہلے سے بڑھ کر’’ قائم‘‘  رہیں۔

یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ یسُوع خُود اُس حقیقت کی وضاحت فرماتا ہے کہ عملی طور پر اُن میں  ’’قائم رہنا‘‘  کیا معنی رکھتا ہے: ہمیں اُن میں قائم رہنا ہے اور اُن کے کلام کو اپنے اندر قائم رکھنا ہے (یوحنا ۷:۱۵)۔ اس کا ثبوت ہماری دُعا ئیہ  زِندگی میں ظاہر ہو گا، جب ہم اپنی ضروریات خُدا کے حضور رکھتے ہیں اور اُس کی طرف سے دُعاؤں کا جواب پاتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم، جو مسیح کے شاگرد  ہیں، اُس کی محبت میں قائم رہیں (یوحنا۹:۱۵)۔ یہی ایک بات پولُس رسُول کے شعور میں گہرائی سے پیوست ہو گئی، جسے اُس نے گلتیوں کے نام اپنے خط میں بڑے جذباتی انداز میں بیان کِیا:’’۔۔۔ جِس نے (مسیح نے )مُجھ سے مُحبّت رکھّی اور اپنے آپ کو میرے لیے  مَوت کے حوالہ کر دِیا ‘‘(گلتیوں ۲۰:۲)ْ۔ پولُس کے لیے مسیح کی محبت وہ مٹی تھی جس میں اُس کی مسیح سے محبت پھلی پھولی اور نشوونما پائی۔ خُدا کرے کہ ہم سب کے لیے بھی، جو مسیح سے متحد ہیں، یہی حقیقت صداقت اور تجربے کے ساتھ قائم ہو—کیونکہ وہی ہے انگور کا حقیقی درخت ہے ۔

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔