مَیں کس طرح ایک راست باز ماں بن سکتی ہوں؟
03/03/2026
مَیں کس طرح راست باز  باپ بن سکتا ہوں؟
10/03/2026
مَیں کس طرح ایک راست باز ماں بن سکتی ہوں؟
03/03/2026
مَیں کس طرح راست باز  باپ بن سکتا ہوں؟
10/03/2026

مجھے چرچ کیوں جانا چاہئے؟

1۔کیوں کہ بائبل اِس کا حکم دیتی ہے

اِس سوال کا پہلا نہایت سادہ اور بنیادی جواب یہ  ہے:  کیوں کہ بائبل ہمیں یہ حکم دیتی ہے!  عبرانیوں  10 میں مصنف اپنے قارئین کو اُس بڑے اِعزاز کی یاد دِہانی کراتا ہے جو اُنہیں بخشا گیا ہے۔  مسیح کے کام کی بدولت — وہ — اور ہم بھی ، اِس بے مثال اِعزاز   کے شریک ہیں کہ خدا کے پاک مکان  میں دلیری کے ساتھ داخل ہو سکیں ۔   وہ عہدِ عتیق کی طرف اِشارہ کرتا ہے  جہاں صرف سردار کاہن کو خدا کے پاک ترین مقام  میں داخل ہونے کی  اِجازت تھی ، اور وہ بھی سال میں صرف ایک بار۔  حیرت انگیز سچائی یہ ہے کہ ہم، جو مسیح پر اِیمان رکھتے ہیں، یسوع کی موت کے سبب سے اُس  قدوس خدا کے حضور حاضر ہو  سکتے ہیں۔ پردہ پھٹ گیا ہے، اور ہمارے سب سے بڑے سردار کاہن نے ہمارے لیے اُس کے حضور  داخل ہونےکا راستہ کھول دیا ہے۔ 

عبرانیوں کے خط کا مصنف پھر تین عملی پہلو بیان کرتا ہے،  جن  میں سے ہر ایک  کی اِبتدا اِن اَلفاظ سے ہوتی ہے:  ”آؤ ہم۔۔۔“۔ غور کریں کہ  یہ نصیحتیں خدا کے لوگوں کو اِجتماعی طور پر مخاطب کرتی ہیں: 

  • ”آؤ ہم سچے دِل اور پورے اِیمان کے ساتھ خدا کے  پاس چلیں“ (عبرانیوں 22:10)  مسیح کے وسیلہ سے پاک صاف ہو کر معافی  پائیں۔ 
  • ”آؤ ہم  اپنی اُمید کے اِقرار کو مضبوطی سے تھامے رہیں “(عبرانیوں 23:10) ثابت قدم رہیں، ہمت نہ ہاریں اور اِس اُمید کے پیغام پر اِیمان رکھیں۔
  • ”آؤ ہم  محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دُوسرے کا لحاظ رکھیں“(عبرانیوں 24:10)    آپ اپنی مسیحی زندگی اکیلے نہیں گزار سکتے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔  کلیسیا میں آئیں اور  اُس کے درمیان رہ کر اُس کا مرکزی حصہ بنیں۔ 

پھر مصنف یہ حکم دیتا ہے: ” اور ایک دُوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جَیسا بعض لوگوں کا دستُور ہے بلکہ ایک دُوسرے کو نصیحت کریں اور جِس قدر اُس دِن کو نزدِیک ہوتے ہُوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زِیادہ کِیا کرو “(عبرانیوں 25:10)۔  عبرانیوں کے خط کا مصنف  چرچ جانے کو    مسیحی زندگی کے تناظر کا مرکز بیان کرتا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو مسیحی کرتے ہیں۔ ہمیں کیوں چرچ جانا چاہئے؟ کیوں کہ اِس میں ہماری  اپنی اور دُوسروں کی بھلائی ہے۔   جمع ہونا ہی وہ طریقہ ہے جس کے وسیلہ سے ہم ایک ایسے جہان میں، جو آسانی سے ہماری اُمید چھین سکتا ہے، مسیحی ہونے کے ناطے ثابت قدم رہتے ہیں۔   عبرانیوں کے لئے اور ہمارے لئے بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ ہم مسیح کے بدن سے اپنی شناخت اور اپنی شراکت کو نظرانداز کر دیں۔  عہدِ جدید کے زمانے میں یہ  ناقابلِ تصور تھا کہ کوئی مسیحی چرچ نہ جائے۔ 

2۔ کیوں کہ ہم خدا کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں

تاہم چرچ جانے کا ایک اور گہرا سبب بھی ہے جو محض بائبل کے حکم تک محدود نہیں۔  ہم اِس لئے بھی چرچ جاتے ہیں کیوں کہ  یہ خدا کی ذات کی حقیقت سے تعلق رکھتا ہے۔  وہ ہماری عبادت اور ہماری پرستش کے لائق ہے۔   ہمارے وجود کی وجہ یہی ہے کہ ”ہم اُسے جلال دیں اور اُس سے شادمانی پائیں“ کیوں کہ  خدا ہمارا خالق، سنبھالنے والا اور فدیہ دینے والا ہے۔  ویسٹ منسٹر مختصر کیٹی کیزم کے مطابق خدا اپنی ہستی، حکمت، قدرت، پاکیزگی، عدل، نیکی اور سچائی میں لامحدود، اَزلی اور  لاتبدیل ہے (سوال و جوابات 4)۔  جو لوگ اِس خدا کے ساتھ رِشتے میں لائے گئے ہیں، وہ دُوسروں کے ساتھ مِل کر اُس کی حمد و ثنا کرنے کی خواہش کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کیوں کہ ہم اُس کی عبادت کے خاص مقصد کے تحت خلق کئے گئے ہیں۔  

ہم  چرچ محض اِس لئے نہیں جاتے کہ خدا کون ہے،  بلکہ اِس لیے بھی کہ اُس نے ہمارے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ پطرس رسول ہم سے مخاطب ہو کر بیان کرتا ہے: ” پہلے تُم کوئی اُمّت نہ تھے مگر اَب خُدا کی اُمّت ہو۔ تُم پر رحمت نہ ہُوئی تھی مگر اَب تُم پر رحمت ہُوئی “(1۔پطرس 10:2)۔  خدا  ایک ایسی قوم کو بُلا رہا ہے جو ” ہر ایک قَوم اور قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زبان کی ایک اَیسی بڑی بھِیڑ جِسے کوئی شُمار نہِیں کر سکتا “(مکاشفہ 9:7)۔  تاریخ  کے تمام اَدوار میں خدا کی قوم کی یہ نشانی رہی ہے کہ وہ اُس کے نام کو پکارنے اور اِکٹھے ہو کر عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتی رہی ہے۔  ہمیں پہلی بار اِس کا ذِکر پیدایش 4 کے آخر میں ملتا ہے: ” اُس وقت سے لوگ یہوّاہ کا نام لے کر دُعا کرنے لگے “(پیدایش 26:4)۔     بائبل کے بالکل آخر میں اَنجام اِس صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی اُمت عبادت کے لیے اِکٹھی ہے۔ مکاشفہ 21 ہمیں دُلہن کی مانند اُس شہر کی تصویر دیتا ہے جس کےچاروں طرف  دروازے ہیں۔  یہ حیرت انگیز منظر ہمیں خدا کی اُس ساری قوم کو دِکھاتا ہے جو ہر جگہ سے اور ہر زمانے میں جمع ہو کر اُس خدا کی عبادت کرتی ہے جو اپنے لوگوں کے درمیان ہے۔  جب ہم خداوند کے دِن اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تو یہ اُس عظیم دِن کی ایک  جھلک ہے جو آنے والا ہے۔ 

جب ہم خدا کے لوگ ہونے کی حیثیت سے جمع ہوتے ہیں  تو ہمیں اِس حقیقت کو پہچاننے کی ضرورت ہے کہ ہم نہ صرف اپنی مقامی کلیسیا میں بلکہ تمام دُنیا میں اور ساتھ ہی آسمان پر فاتح کلیسیا اور فرشتوں کی جماعت کے ساتھ بھی شریک ہوتے ہیں۔   زمین پر ہر اِتوار ہمارے جمع ہونے کا حقیقی مقصد اُس اَبدی سبت کی آرزُو کو پروان چڑھانا ہے۔   عہدِ عتیق میں سبت کا دن خاص طور پر آرام کے لیے مقرر تھا۔  یہی پہلو آج خداوند کے دِن کے لئے بھی برقرار ہے۔، اور ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اُس اَبدی آرام کے منتظر رہیں۔  لیکن عہدِ جدید میں   خداوند کے دن میں ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ دن زیادہ سے زیادہ عبادت کے ساتھ منسلک ہے۔ 

3۔ کیوں کہ یہ ایک منفرد مقام اور برکت ہے

مَیں آپ کو اُس منفرد مقام کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو ہمیں کلیسیا کے طور پر جمع ہونے کے لئےحاصل ہے۔ یہ قطعی بیوقوفی  ہے کہ ہم  خدا کے لوگوں کے ساتھ مِل کر اُس کی عبادت کو نظر انداز کر تے ہوئے دُوسری چیزوں کو ترجیح دیں۔  اگر آپ خدا کے لوگوں کے ساتھ جمع نہیں ہوں گے تو آپ چوتھا حکم کیسے پورا کریں گے؟ بات یہ نہیں کہ ہمیں چرچ جانا پڑتا ہے،  بلکہ شاندار حقیقت یہ ہے کہ ہمیں چرچ جانے کا موقع ملتا ہے۔ 

’آپ کلیسیا کے ساتھ جمع ہونے کے لیے آ سکتے ہیں،  چاہے آپ پر کتنا ہی گناہ، خوف اور اِضطراب کیوں نہ ہو۔    اپنے بوجھ اور مسائل کے ساتھ آئیں۔   اِبلیس اکثر اِنہی چیزوں کا اِستعمال لوگوں کو کلیسیا سے دُور رکھنے کے لیے کرتا ہے،  لیکن یہ بالکل وہ جگہ ہے جہاں آپ کو ہونا چاہیے۔   اپنی کلیسیا میں یسوع گنہگاروں کو خوش آمدید کہتا ہے، ہمیں آرام دہ جگہ فراہم کرتا ہے، اور اپنی  پاک  رسومات اور کلام کی  منادی کے ذریعے ہمیں تازگی بخشتا ہے۔ وہ ہمیں  پکار رہا ہے:  ” اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تُم کو آرام دُوں گا۔میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سِیکھو۔کیوں کہ مَیں حلیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ کیوں کہ میرا جُوا ملائِم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔ “(متی 28:11-30)۔ 

خدا کی عبادت کے لیے اُس کی پکار سنو۔  اُس کی حمد و ثنا گاؤ۔ اپنے گناہ کا اقرار کرو اور مسیح کی معافی کی یقین دہانی سنو۔ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مِل کردُعا کرو۔  اُن مقدسین کے ساتھ اپنے اِیمان کا اِقرار کرو جو زمانۂ قدیم سے آج تک  چلے آ رہے  ہیں۔  خدا کے کلام کی منادی کو سنو اور  خوش خبری کو  پاک رسومات یعنی بپتسمہ اور  عشائے ربانی میں دیکھو۔  یہ سب کام تم اکیلے نہیں کر سکتے۔ خدا کے لوگ جمع ہونے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔  وہ ہمیشہ جمع ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ جمع ہوتے رہیں گے۔  جب تم کلیسیا میں جمع ہونے کے لئے آتے ہو تو تم  خداوند کی اُن برکات کو حاصل کرتے ہوئے جو کہیں اَور سے نہیں مِلتیں۔ 

خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ جب اُس کی کلیسیا اکٹھی ہوتی ہے تو وہ اُنہیں ایسی برکت دے گا جو اکیلے ہونے کی صورت میں ممکن نہیں ۔ یسوع نے وعدہ کیا ہے کہ جب دو یا تین اُس کے نام سے جمع ہوں گے  تو وہ اُن کے درمیان ہو گا (19:18-20)۔   پولس رسول  ، جب کلیسیا میں کسی بے ایمان یا ناواقف شخص کی آمد کے بارے میں بات کرتا ہے ، تو وہ کہتا ہے کہ ہماری دُعا  یہ ہونی چاہیے کہ وہ اُس حقیقت کو سمجھے جو ہمیشہ دُرُست ہے: یعنی  ’’خدا واقعی تمہارے درمیان ہے‘‘(1۔کرنتھیوں 25:14) ۔ مکاشفہ کی کتاب میں ، یسوع ہمیں بتاتا ہے کہ وہ چراغ دانوں کے بیچ میں  چلتا ہے،  جو اُس کی کلیسیائیں ہیں (مکاشفہ 1:2)۔  وہ اب بھی ہر اِتوار  ایسا ہی کرتا ہے،  جب اُس کی کلیسیا جمع ہوتی ہے۔ اِس دُنیا میں مسیح کی کلیسیا کا حصہ ہونے سے زیادہ شاندار کوئی چیز نہیں۔

*یہ مضمون ’’مسیحی شاگردیت کی بُنیادی تعلیمات‘‘ کے مجموعہ کا حصّہ

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔