مجھے چرچ کیوں جانا چاہئے؟
05/03/2026
کیا مسیحیوں کے لیے غم کرنا روا ہے؟
12/03/2026
مجھے چرچ کیوں جانا چاہئے؟
05/03/2026
کیا مسیحیوں کے لیے غم کرنا روا ہے؟
12/03/2026

مَیں کس طرح راست باز  باپ بن سکتا ہوں؟

یہ حال ہی میں خریدا گیا ایک فرنیچر کا ٹکڑا تھا جس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی شامل تھا، جس میں جوڑنے کے تمام مراحل درج تھے، اور اُن کے ساتھ یہ تصاویر بھی دی گئی تھیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔   ’’ کیا نہیں کرنا‘‘والے خاکے اُن عام غلطیوں کی نشان دِہی کرتے تھے جو اکثر  چھے کونوں والے رینچ  اِستعمال کرنے والے کارِیگروں کو لکڑی کے ذرّات سے بنے فرنیچر کو دُرُست طریقے سے جوڑنے میں ناکام بنا دیتی تھیں۔   تاہم ’’ کیا نہیں کرنا‘‘ والی ہدایات میرے لئے خاص طور پر زیادہ مددگار ثابت ہوئیں،  جنہوں نے مجھے شدید اِضطراب اور پریشانی سے بچا لیا۔   اِسی طرح خداوند اپنے کلام کے وسیلہ سے والدوں کو ایسی ہدایات عطا کرتا ہے جو ہماری جان کو  نقصان دہ ٹھوکروں سے محفوظ رکھتی ہیں،  وہ ٹھوکریں جو نہ صرف ہماری اپنی بربادی کا سبب بن سکتی ہیں،  بلکہ ہماری اولاد کی تباہی کا بھی باعث بن سکتی ہیں۔ 

 کتابِ مقدّس  والدوں کے لیے نہ صرف یہ ہدایات فراہم کرتی  ہےکہ کیا کرنا ہے ،بلکہ یہ بھی کہ کیا نہیں کرنا،  جیسا کہ پولس رسُول کی دوہری نصیحت میں ظاہر ہے : ” اور اَے اَولاد والو! تُم اپنے فرزندوں کو غُصّہ نہ دِلاؤ بلکہ خُداوند کی طرف سے تربِیت اور نصیحت دے دے کر اُن کی پرورِش کرو “(اِفسیوں 4:6)۔  ہدایات کے ساتھ ساتھ  کتابِ مقدّس  باپ  ہونے کی مثبت اور منفی مثالوں سے بھی بھری پڑی ہے۔  منفی مثالیں خاص طور پر دِل کو چھو لینے والی اور سبق آموز ہیں،  خصوصاً جب ہم ایسے راست باز مردوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جن کے فرزند اپنے باپ کے راستے پر نہ چلے یا سنگین ناکامیوں کا شکار ہوئے۔   یہ بے شمار مثالیں اِس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایک ایسا نمونہ موجود ہے جسے والدوں کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔  اکثر ایسا ہوا کہ کسی  بیٹے میں ایک غالب اور مہلک گناہ، اگر شاید باپ کی طرف سے بروقت روکا جاتا تو وہ  اُس اَنجام تک نہ پہنچتا جو اُس کے ساتھ  پیش آیا۔  

یہ پرانے عہد نامے کی کہانیاں خُدا کی طرف سے صرف والدین کے لئے ہدایات فراہم کرنے  کے مقصد سے نہیں دی گئیں،  تاہم ساتھ ہی یہ اُس مقصد سے کم بھی نہیں ہیں۔  لہٰذا یہ ہمیں تنبیہات بھی فراہم کرتی ہیں اور مواقع بھی دیتی ہیں کہ ہم سیکھ سکیں کہ اپنی اولاد (اور اپنے آپ) کو کس طرح راست بازی کی طرف بہتر طور پر لے کر جائیں۔ نہیں! ہم اپنی اولاد کے نجات دِہندہ نہیں بن سکتے۔  لیکن خُدا کے فضل  کی بدولت  ہم بطور باپ اُنہیں   پیشتر  ہی سے یسوع مسیح کی   طرف راہ نمائی کر سکتے ہیں،  جو نہ صرف ہمیں  ہمارے مرتکب گناہوں سے  بچاتا ہے ، بلکہ اُن بڑے گناہوں اور اُن کے نتائج سے بھی  جن سے بچاؤ ممکن ہے ۔  آیئے پیدایش کی کتاب سے چند مناظر پر غور کرتے ہیں: 

آدم: قائن کا قہر 

پیدایش کی کتاب کے تیسرے باب میں آدم اور حوّا کے گناہ کے اَثرات جلد ہی اُن کی خاندانی زندگی میں  ظاہر  ہو جاتے ہیں۔ ابھی اُن کے بیٹے قائن اور ہابل کا ذِکر ہی ہوتا ہے کہ گھریلو کشمکش سر اُٹھا لیتی ہے۔  قائن کو اُس وقت غضب آیا جب خدا نے اُس کے ہدیے کے مقابلے میں اُس کے بھائی کے ہدیے کو قبول کیا۔  اگرچہ خدا نے قائن کو براہِ راست ڈانٹا (پیدایش 6:4)  لیکن یہ اُس کے غضب کو روکنے کے لئے کافی نہ تھا، اور اُس کا یہ غضب اپنے کمال کو پہنچ کر اُس کے بھائی ہابل کے قتل میں ظاہر ہوا۔   قائن اپنی باقی ماندہ زندگی ایک بھاگنے والے اور آوارہ گرد کی حیثیت سے بسر کرنے کے لئے ٹھہرایا گیا۔  کیا قائن میں ایسے غصّے اور قہر کی علامات موجود تھیں جنہیں بروقت روکا جا سکتا تھا؟  کیا آدم نے دَخل اندازی کی، یا وہ بالکل  اُسی طرح خاموش تماشائی بنا رہا جس طرح اُس وقت بنا تھا جب حوّا کو سانپ نے فریب دیا؟ 

اِضحاق: عیسو کی جلدبازی اور یعقوب کی  دھوکا دِہی

کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ عیسو بالوں سے بھرا ہوا  ”ماہر شکار اور جنگل میں رہنے والا“ آدمی تھا  (پیدایش 27:25)  لیکن وہ اُتنا ہی جلدباز دِکھائی دیتا ہے جتنا کہ وہ جانور جنہیں وہ شکار کرتا تھا۔  اُس نے تھکن اور ماندگی کے باعث محض ایک پیالہ دال کے عوض اپنے پہلوٹھے کے حق کو اپنے بھائی کے ہاتھ بیچ ڈالا جو کسی طور پر بھی  دانش مندانہ فیصلہ نہیں  تھا  (پیدایش 30:25-34)۔   کیا اُس نے شرائط ماننے سے پہلے اپنے فیصلے کے نتائج پر غور نہ کیا؟  برسوں بعد، عیسو ایک غیر قوم بیوی کو بیاہ لایا ،  حالانکہ اُس کے باپ اِضحاق  نے اُسے  یہ تاکید کی تھی کہ ”  تُو کنعانی لڑکیوں میں سے کِسی سے بیاہ نہ کرنا “ (پیدایش 6:28)۔  شاید اُس نے یہ سب کچھ اپنے  باپ  سے کینہ رکھتے ہوئے اور اپنے بھائی کے ہاتھوں سہنے والے دھوکے اور برداشت کیے گئے درد کے اَثر میں کیا۔  تاہم  اُسے بہرحال اُس اَنجام کے ساتھ جینا پڑا کہ وہ ایک غیرقوم  بیوی کے ساتھ رہنے لگا اور خدا کے عہد کے لوگوں سے باہر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوا۔  اگر اُس کا  باپ  اِضحاق،  عیسو کو شروع ہی میں اُس کے ناقص فیصلوں کے نتائج سمجھانے پر آمادہ کر لیتا، تو کیا بعد کے نتائج بھی یہی ہوتے؟  

یعقوب کے بارے میں یہ کہانی کہ اُس نے اپنے عمر رسیدہ اور بینائی سے محروم  باپ کو دھوکہ دینے کے لیے بکری کے بال پہنے اور اپنے بھائی کے لباس اوڑھ لیے، نہایت مشہور ہے۔ لیکن کیا یعقوب کی دھوکا دِہی کی اِبتدا پہلے سے نہیں نظر آ رہی تھی، جب اُس نے اپنے بھائی سے پہلوٹھے کا حقّ دھیرے دِھیرے حاصل کیا تھا؟ کیا وہ اپنے والدین کے دیئے  گئے نام کے مطابق زندگی گزار نہیں رہا تھا، جس کے دو معنی تھے:  ”ایڑی پکڑنے والا “ اور ”دھوکا دینے والا “؟۔  جب اُس کے جڑواں بھائی عیسو نے  جان لیا  کہ اُسے دھوکا دیا گیا ہے، تو اُس نے کہا: ” کیا اُس کا نام یعؔقوب ٹھیک نہیں رکھّا گیا ؟کیوں کہ اُس نے دوبارہ مُجھے اڑنگا مارا۔ اُس نے میرا پہلوٹھے کا حق تو لے ہی لِیا تھا اور دیکھ ! اب وہ میری برکت بھی لے گیا “ (پیدایش 36:27) ۔  اِس کہانی کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ اِضحاق خود بھی اِسی طرح دھوکا کھا گیا اور جھوٹ سن کر متاثر ہوا، جس طرح اُس نے پہلے ابی ملک کو دھوکا دیا اور اُسے جھوٹ بتایا تھا  (پیدایش 7:26)۔  اگر اِضحاق نے اپنے ہی دھوکے کو سمجھا اور اُس کی حقیقت کو تسلیم کیا ہوتا، تو وہ اپنے بیٹے کو اِس سے سبق سکھانے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟ ۔ 

دِینہ کی بے ضبطی اور یوسف کا غرور

بائبل میں یعقوب کی صرف ایک ہی بیٹی دینہ کا ذکر ملتا ہے۔  پیدایش  کی کتاب میں ذِکر ہے کہ  دِینہ ” اُس ملک کی لڑکیوں کو دیکھنے کو باہر گئی “(پیدایش 1:34)۔    یہاں  مُلک سے مراد سکم کا  بے دین  اور غیر ملکی شہر ہے۔  دِینہ کو اپنا گھر چھوڑ کر اگلے شہر کی عورتوں سے کیا دِلچسپی کھینچ لائی؟  سِکم  میں اُس نے اُس   زمین  کی حقیقی شرارت دیکھی، جب ایک مرد نے اُس کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اور اُس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا۔ کیا یعقوب اپنی ذاتی زِندگی میں اِتنا مصروف تھاکہ وہ اپنی بیٹی کی بھٹکتی نظروں پر دھیان نہیں دے سکا، جس کی وجہ سے وہ گھر سے دُور ہو گئی  جس کا  اِنجام یہ ہوا کہ وہ  اُس ظالمانہ واقعے کا شکار ہوئی؟ 

 نوجوان یوسف نے دو خواب دیکھے:  ایک خواب اُس کی سر بلندی کا اور دُوسرا  خواب  اُس کے بھائیوں کا  اُس کے قدموں میں جھکنے کا ۔   یہ خواب یوسف کے بھائیوں کے دِل میں اُس کے خلاف غصہ بھڑکانے کا سبب بنے۔ آخر وہ اِن خوابوں کے بارے میں کیسے جان گئے؟  صرف اِس لیے کہ یوسف نے خود اُنہیں بتایا تھا۔   کیا یہ جوانی کا نابا لغ پن تھا یا  پھر غرور سے بھرا ہوا دِل؟   وہ غرور جو شاید یعقوب کی یوسف سے غیرمعمولی محبت کی وجہ سے پروان چڑھا تھا؟   (پیدایش 3:37)۔   کیا یعقوب نے اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ اپنے تجربے سے ایسی محبت کی حد بندی اور اُس کے نتائج نہیں سیکھے تھے؟ 

باپ ہونے کی بلاہٹ 

اگر وقت ہمیں اِجازت دے تو ہم  اپنی تحقیق کو منوحہ  اور سمسون ،  عیلی اور اُس کے بیٹے،  سموئیل اور اُس کے بیٹے یا داؤد اور ابی سلوم  تک بڑھا سکتے  تھے۔  میرا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ مَیں والدوں کی عدالت کروں،  نہ صرف مفروضاتی کھیل کھیلوں کہ  ”اگر ایسا ہوتا تو کیا ہوتا “۔  خدا نے  اِن والدوں اور اُن کے بچوں  کی گناہ آلود فطرت  اور  حالات کو اپنے نجات کے منصوبے کے لئے اِستعمال کیا،  جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُس کا فضل واقعی ہمارے تمام گناہوں سے بلند اور عظیم ہے۔  

  خدا کی سب اَعمال پر مکمل حکمرانی ہونے کے باوجود، یہ اُن اَفراد کے برداشت کئےہوئے دُکھ اور اُن کے نتائج کی شدت کو کم نہیں کرتی،  نہ ہی اُن گناہوں کے بھیانک اَثرات کو، جو ہم اپنے خاندان میں برداشت کرتے ہیں۔  جن گناہوں کا ذِکر  کیا گیا ہے، اگرچہ اُن کی فہرست مکمل نہیں، یہ صرف ماضی کے گناہ نہیں  بلکہ ہمارے اپنے بچوں میں بھی ہمیشہ سے موجود ہیں (اور ہم  میں سے اکثر والدوں میں بھی پائے جاتے ہیں) ۔   جب ہم اپنے بچوں میں  اِس طرح کے گناہوں کے رُجحانات دیکھیں تو والدوں  کو چپ چاپ بیٹھ کر یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے بچوں   کے ساتھ کوئی بُرا واقعہ پیش  نہیں  آئے گا۔  مندرجہ بالا کہانیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ چُپ چاپ  بیٹھ کر اُمید رکھنا ممکن نہیں، بلکہ ہمیں اپنے بچوں کے دِل و دِماغ کو سچائی کے ساتھ مشغول کرنا چاہیے،  اور جب وہ گناہ کریں  تو محبت اور راہ نمائی کے ساتھ اُنہیں معافی اور توبہ کے ذریعے راست بازی کی راہ پر واپس لانا چاہیے۔ بحیثیتِ باپ  ہم  ہماری  یہ ذِمےداری ہے کہ  ہم اپنے بچوں کے لیے اِیمان کے سفر میں چرواہے اور رہنما بنیں۔ خدا  کرے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے اُس آواز کی مانند ہوں جس کا ذکر یسعیاہ نے کیا: ” اور جب تو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اِس پر چل “(یسعیاہ 21:30)۔ 

تاہم، بائبل میں باپ بیٹے کے تمام تعلقات کی مثالوں کے باوجود،  ہمیں اُس ایک کامل باپ، بیٹے کے تعلق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو کبھی   گِر نہ سکا،  نہ کبھی لغزش کھائی اور نہ کبھی ناکام ہوگا۔   باپ ہونے کے کام کرنے اور نہ کرنے کے احکام سے آگے بڑھ کر،   ہمیں ہمیشہ اُس میں آرام پانا چاہیے جو مسیح میں مکمل اور پایہ تکمیل تک پہنچا،  جس نے  اپنی  موت تک باپ کی مکمل فرماں برداری کی ۔  اُسی باپ اوربیٹے کے تعلق سے وہ تمام فضل، رحمت اور طاقت ہمارے لیے حاصل ہوتی ہے تاکہ ہم باپ ہونے کی حیثیت سے خدا پرست زندگی میں آگے بڑھیں اور اپنے  خاندانوں کے لیے بھی یہی آرزُو رکھیں۔ 

*یہ مضمون ’’مسیحی شاگردیت کی بُنیادی تعلیمات‘‘ کے مجموعہ کا حصّہ

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔