منادی فضل کا وسیلہ کیوں کر ہے؟
26/02/2026
مجھے چرچ کیوں جانا چاہئے؟
05/03/2026
منادی فضل کا وسیلہ کیوں کر ہے؟
26/02/2026
مجھے چرچ کیوں جانا چاہئے؟
05/03/2026

مَیں کس طرح ایک راست باز ماں بن سکتی ہوں؟

” اُن سے محبت کریں“ ہمارے ایک  دانش مند پاسبان نے مجھے یہ  نصیحت کی۔  نظم و ضبط، روز مرہ کے  اوقات اور ترقی کے مراحل کے بارے میرے تمام مطالعہ میں،  اُنہوں نے اُس  حال ہی میں بننے والی ماں کی توجہ اُس چیز کی جانب دِلائی جو سب سے زیادہ اہم تھی: یعنی  محبت (1۔کرنتھیوں  1:13)۔   برسوں کے تجربے کے بعد، مَیں نے اُن کی حکمت آمیز نصیحت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔   محبت کو مقدّم رکھتے ہوئے، مَیں ماؤں کے لیے پاکیزگی پر بارہ بائبلی اُصول پیش کرتا ہوں:

1۔ ہماری پاکیزگی خدا کی اوّلین ترجیح ہے

جیسا کہ سکاٹ لینڈ کے پادری رابرٹ مرے میک چین (۱۸۱۳–۱۸۴۳ء) کے مشہور قول میں کہا گیا:  ”میری قوم کی سب سے بڑی ضرورت میری ذاتی پاکیزگی ہے “۔  یہی بات ماؤں پر بھی صادِق آتی ہے۔  ہم عاجزی کے ساتھ اِس طرح زِندگی گزار سکتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں سے کہہ سکیں ” تم میری مانند بنو جیسا مَیں مسیح کی مانند بنتا ہوں“ (1۔کرنتھیوں 1:11) ۔  اِس راستے پر چل کر  ہمارے بچے ہم سے کہیں زیادہ سیکھیں گے جس کا ہمیں اِدراک بھی نہیں۔ 

2۔ ہماری پاکیزگی صرف مسیح میں ہے

جب ہم گناہ کرتے ہیں، جیسا کہ ہم سب کرتے ہیں (رومیوں  23:3؛  ۱۔ یوحنا 8:1)   تو ہم توبہ کی مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے بچوں کے خلاف گناہ کریں  تو اپنے بچوں سے معافی مانگیں۔  اپنے پہلے والدین کی طرح نہ  بنیں جو اپنے گناہ کو اِس طرح چھپاتے تھے کہ گویا وہ موجود ہی نہ ہوں(پیدایش  7:3-8)۔   اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنے گناہوں سے کس طرح نبردآزما ہوں، جیسا کہ آپ اپنے گناہوں سے نمٹتے ہیں۔  جب آپ اپنے گناہ کا اِقرار کرتے ہیں  تو آپ کے بچے سیکھیں گے کہ خدا نہ صرف ہماری پاکیزگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،   بلکہ وہ    اِنجیل میں مسیح پر اِیمان لانے کے ذریعے پاکیزگی کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے (۱۔ یوحنا 9:1)۔

3۔ اپنے بچوں کی خدمت ایک مقدس فریضہ ہے

اکثر اِنسان یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ روز مرہ کی چھوٹی ذِمے داریاں، جیسے بچے کا ڈائپر بدلنا، بازار کی قطار میں صبر کے ساتھ کھڑے رہنا یا اپنے ننھے اور نو عمر فرزندوں کے ساتھ کھیل میں وقت  گذارنا، شاید حقیقی قدر و قیمت سے خالی ہوں۔  والدین کی یہ معمولی دِکھائی دینے والی  ذِمے داریاں دراصل اُس وقت  جلالی صورت اِختیار کر لیتی ہیں جب وہ اِیمان کے جذبے سے سراَنجام دی جائیں۔  جب یسوع نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے،  تو اُس نے فروتنی پر مبنی خدمت کو  عظمت بخشی۔   مزید یہ کہ اُس نے فرمایا: ” مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں چُوں کہ تم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کِیا اِس لِئے میرے ہی ساتھ کِیا “(متی 40:25)۔  لہٰذا،آئیں  ہم عاجزی کے ساتھ اپنے بچوں کو اُس کے نام میں ٹھنڈے پانی کا ایک پیالہ پیش کریں (متی  42:10)۔  یہ جانتے ہوئے ایسی محبت بھری خدمت دراصل اُس  اِلٰہی نگہداشت کی عکس بندی ہے جو خدا اپنی اولاد پر ہر لمحہ کرتا ہے (متی  9:7-11)۔ 

4۔ ہمارے بچے خداوند کی میراث ہیں

وہ سب سے پہلے اُسی کے ہیں (اِفسیوں 4:1)۔  کیوں کہ   وہی اُن کا آسمانی خالق ہے۔ اُس نے اُنہیں اپنی مرضی اور اپنے مقاصد کے لیے بنایا ہے،  نہ کہ ہماری خواہشات کے مطابق۔  والدین دراصل اَمانت دار ہیں، جنہیں یہ ذِمے داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اُن کی سب سے بڑی ضرورت کی طرف راہ نمائی کریں (عبرانیوں 5:12-11)۔  اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی اَولاد کے لیے بنائے گئے ہر منصوبے کو خدا کے منصوبے کے تابع کرنا ہوگا (امثال  9:16) ۔ خدا ہی طے کرتا ہے کہ وہ کہاں رہیں گے (اعمال 26:17) ، وہ کون سے نیک کام کریں گے (اِفسیوں 10:2)   اور اُن کی زندگی کا راستہ کیسا ہوگا (زبور 16:139)۔ 

5۔ خدا دُکھ کو اپنے پاک مقصد کے لیے اِستعمال کرتا ہے

اکثر اوقات خدا  ہماری اولاد کے لئے  دُکھوں کا اِنتخاب کرتا ہے۔ وہ ایک مہربان باپ ہے، جو کسی آزمایش کو بھی اُس کے ساتھ تسلی اور سہارا  عطاکیے بغیر آنے نہیں دیتا (یسعیاہ 10:41؛ 1۔کرنتھیوں 13:10؛ 1۔پطرس 19:4؛ مکاشفہ 4:21)۔  فطری طور پر جب ہم اپنی اَولاد کو دُکھ سہتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دِل ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر اپنی پاک اور دانش مندانہ  تدبیر میں،  خدا اُنہیں ایسی آزمائشوں میں  گرنے دیتا ہے تاکہ وہ (اور ہم بھی)  اُس کے  بیٹے یسوع مسیح کے کردار کے مطابق ڈھلتے جائیں  (رومیوں 29:8)۔    اِسی نیک مقصد کے پیشِ نظر ہمیں دُکھ میں بھی  شادمان رہنے کے لیے بُلایا گیا ہے،  تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی اَولاد کو بھی یہی سکھا سکیں (یعقوب 2:1-4)۔

 6۔ پاکیزگی نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے

خدا اُن کی تربیت کرتا ہے جن سے وہ محبت رکھتا ہے، لہٰذا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے (عبرانیوں 6:12؛ اَمثال 24:13؛ 13:23)۔  بلاشبہ کوئی بھی، حتیٰ کہ مائیں بھی،  اُس لمحے میں تربیت کو پسند نہیں کرتیں، لیکن یہی تربیت راست بازی اور سلامتی کی ایسی فصل  پیدا کرتی  ہے جو اُن کے لئے ہے اور اُسی کے وسیلے سے  وہ تربیت پذیر کئے  جاتے ہیں (عبرانیوں 11:12)۔  اپنی اَولاد کی تربیت حکمت کے ساتھ کرنے کے لیے دُعا کریں  اور پورے اِیمان کے ساتھ یہ توقع رکھیں کہ خدا آپ  کو یہ حکمت ضرور عطا کرے گا (یعقوب 5:1؛ 1۔یوحنا 14:5-15)۔

7۔ پاکیزگی اِلٰہی رُؤیا کی  متقاضی ہے

 اِنسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے، لیکن خدا دِل پر نظر کرتا ہے (ا۔سموئیل 7:16)۔  جب ہماری اَولاد نافرمانی کرتی ہے تو ہمیں یہ وسوسہ ہو سکتا ہے کہ ہم ظاہری حالت کے مطابق فیصلہ کریں ۔  لیکن بائبل ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ” پَس ہر آدمِی سُننے میں تیز اور بولنے میں دِھیرا اور قہر میں دھِیما ہو۔  کیوں کہ  اِنسان کا قہر خُدا کی راست بازی کا کام نہِیں کرتا “ (یعقوب 19:1)۔  اور یہ بھی تعلیم دیتی ہے کہ ” ہوشیار کا دِل علم حاصل کرتا ہے اور دانا کے کان علم کے طالب ہیں“(اَمثال 15:18)۔  بعض اوقات ہمیں فوری تربیت  کرنے سے رُک جانا چاہیے،  اور بعض حالات میں پہلے زیادہ فہم و فراست حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ہم دِل کی حالت کو صحیح طور پر پہچان سکیں (امثال   29:14)۔

8۔  پاکیزگی خدا کی طرف سے تحفہ ہے 

بعض اوقات ہمارے پاس اِس لیے نہیں ہوتا  کیوں کہ ہم خدا سے مانگتے ہی نہیں (یعقوب 2:4-3)۔  اپنی اَولاد کے لیے پاکیزگی کے ساتھ ہر اُس نیک اور کامل بخشش کی دُعا کریں جو اُس کی طرف سے آتی ہے :  اُس کے کلام سے محبت، سیکھنے  والادِل،  حکمت، صحت، دوست اور بہت کچھ (یعقوب 17:1)۔   اپنی محدود بخششوں سے آگے بڑھ کر دیکھیں  اور یہ یقین رکھیں  کہ خدا اپنی بے پایاں دولت سے وہ سب  کچھ عطا کرسکتا ہے جو تم نہیں کرسکتے (متی  13:14-21)۔ 

9۔خدا   اولاد کو پاکیزہ وعدے سے نوازتا ہے

” اپنے باپ کی اور ماں کی عِزت کر۔۔۔تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عُمر زمِین پر دراز ہو“(اِفسیوں 1:6-4)۔  اپنے بچوں کے سامنے اپنے باپ  اور دِیگر تمام اِختیار رکھنے والوں کی عزت کرنے کی مثال قائم کریں۔  کوشش کریں کہ اِختلافات کو نجی طور پر حل کریں اور اپنی اَولاد کی پرورِش میں خداوند کی تربیت اور نصیحت کے ساتھ متحد رہیں (کلسیوں 18:3-25)۔  اگر کبھی بچوں کے سامنے اِختلاف ظاہر کرنا ناگزیر ہو، تو بھی اَدب اور احترام کے ساتھ کریں  (اِفسیوں 33:6)۔ 

10۔ خدا ہمیشہ اپنے  نیک  کام میں مصروف رہتا ہے  (یوحنا 17:5)

اپنی اَولاد کی زندگی میں خدا کے کام کو دیکھنے کے لیے دُعا کریں،  اُس کی شکر گزاری کریں  اور اُنہیں اُس کی طرف متوجہ بھی کریں۔  دانا عورت  اپنا گھر بناتی ہے (اَمثال 1:14)۔   خداوند کی حمد و ثنا اور تعریف کرنے کے لئے کاملیت کا اِنتظار نہ کریں، کیوں کہ خدا بھی اپنی تعریف کے لئے کاملیت کا اِنتظار نہیں کرتا۔   اُس نے بائبل میں کئی نا مکمل اور کمزور اِنسانوں کی تعریف کی ہے۔بات یہ ہے کہ   اپنی اَولاد کو اُن کی زندگی میں خدا کے وفادار کام کی طرف متوجہ کریں۔

11۔  یسوع ہی ہمارا مقدس اِطمینان ہے

یسوع ہمیں یقین دِلاتا ہے: ” مَیں نے تم سے یہ باتیں اِس لِئے کِہیں کہ تُم مجھ میں اِطمینان پاؤ۔ دُنیا میں مُصیبت اُٹھاتے ہو لیکِن خاطِر جمع رکھّو مَیں دُنیا پر غالِب آیا ہوں (یوحنا 33:16)۔  بحیثیت ماں، ہمیں بہت سے مشکلات کی توقع رکھنی چاہئے،  لیکن مایوس نہ ہوں،  کیوں کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔  مضبوط ہوں اور حوصلہ رکھیں   اور اُس عہد کے وعدوں کو تھام کر رکھیں جو خدا نے تمہاری اَولاد کے ساتھ کئے ہیں،  محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ اُن کے سامنے ہمیشہ خدا کے کلام کو رکھیں اور خدا کے لوگوں کے ساتھ خُداوند کے دِن کی عبادت کو قائم رکھیں (یشوع 9:1)۔  

12۔  خدا کا مقدس کلام  کفایت  بخش ہے(2۔ تیمتھیس 14:3-15)

کلامِ  مقدس میں قائم رہیں اور دُعا کرتے رہیں، آپ کو اَور بہت سی ایسی سچائیاں ملیں گی جو  آپ کو خدا ترس ماں بننے میں مدد دیں گی (یوحنا 17:17)۔  جب آپ  خدا کو جاننے اور اُس کے کاموں کو سمجھنے  کے لئے توجہ مبذوُل  کرتی ہیں تو رُوح القدس  آپ کو  وہی کچھ دِکھائے گا جس کی  آپ کو  ماں ہونے کے ناتے ضرورت ہے، تاکہ آپ  پولُس کی طرح کہہ سکیں :  ” جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں “ (فلپیوں 13:4)۔ 

*یہ مضمون ’’مسیحی شاگردیت کی بُنیادی تعلیمات‘‘ کے مجموعہ کا حصّہ

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔