
تین چیزیں جو آپ کو میکاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/12/2025
تین چیزیں جو آپ کو آستر کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/12/2025تین چیزیں جو آپ کو مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
پُراِسرار۔ تنازع خیز۔ بے چین کر دینے والی اور ہولناک۔ اگر مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں سُن کر اِن خیالات کا ہجوم ذہن میں اُبھر آئے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں، کیوں کہ آپ اکیلے ہی نہیں بلکہ بہت سے لوگ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، خدا کا مقصد اِس کتاب کے وسیلہ سے پوشیدگی نہیں بلکہ اِنکشاف ہے، ہراساں کرنا نہیں بلکہ تسلی دینا ہے ، کیوں کہ یہ کتاب اِنسان کو پریشان کرنے کے لئے نہیں بلکہ تقویت دینے کے لئے بخشی گئی ہے۔ مکاشفہ کی کتاب اُن سب سے برکت کا وعدہ کرتی ہے جو اِسے پڑھتے، اِسے سُنتے اور جو کچھ اِس میں لکھا ہے اُس پر عمل کرتے ہیں (مکاشفہ 3:1)۔ غور طلب بات یہ ہے کہ برکت صرف سُننے یا پڑھنے پر نہیں بلکہ عمل کرنے پر مشروط ہے۔ ذرا پہلی صدی کے اُن کلیسیائی مناظر کو تصوّر میں لائیے جہاں مکاشفہ کی کتاب پہلی بار بھیجی گئی: جماعت کے سامنے ایک راہ نما کھڑا ہو کر طومار کو با آوازِ بلند پڑھتا ہے اور مجمع خاموشی سے، سنجیدگی کے ساتھ، کان لگا کر سُن رہا ہوتا ہے۔ وہ اُس پیغام کو سمجھ سکتے ہیں جو مکاشفہ کی کتاب میں پوشیدہ نہیں بلکہ روزِ روشن کی عیاں کیا گیا ہے، اور اُس برکت کے وارث بن سکتے ہیں جس کا وعدہ اِس کتاب میں کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ اِس کی سچائیوں کو دِل سے قبول کریں۔ یہی راہ آج ہمارے لئےبھی کھلی ہے۔ اگر ہم بھی یہ برکت پانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم کلامِ مقدس کی اِس فیصلہ کُن اور اِختتامی کتاب کے بارے میں تین بنیادی حقائق کو جانیں۔
1۔ مکاشفہ کی کتاب ایک ایسی دُنیا میں، جو بگاڑ کا شکار ہو چکی ہے، برّہ کی فتح کو بےنقاب کرتی ہے۔
مکاشفہ کی پہلی آیت درحقیقت اِس کتاب کا عنوان ہے: ”یسوع مسیح کا مکاشفہ“ (مکاشفہ 1:1)۔ اِس آیت میں ”مکاشفہ “ کے لئے جو یونانی اِصطلاح "apocalypsis” اِستعمال ہوئی ہے، وہ اِس بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے کہ ایک ”پردہ ہٹانے “ کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی روزمرّہ زِندگی اور تاریخِ عالَم کی ظاہری صورتوں کے پار دیکھ سکیں اور اُن کے پیچھے کارفرما اصل حقیقت تک رِسائی حاصل کر سکیں، جو نہ صرف اُن کا سرچشمہ ہے بلکہ اُن کی توضیح بھی فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم صرف ظاہری علامات کو دیکھیں، جیسے کہ جنگوں کے تباہ کُن مظالم، ماحولیاتی تباہ کاریاں، معاشی بدحالی، قحط و افلاس، غذائی قِلت، بیماری اور موت، تو ہم کبھی یہ نہیں سمجھ سکیں گے کہ ہماری دُنیا اِس قدر بگاڑ کا شکار کیوں ہے۔ پردے کی پوشیدہ حقیقت کا ایک ہلکا سا منظر، جہاں رُوحانی عالم میں وہ خدا جو ہر چیز پر کامل اِختیار رکھتا ہے، اُس بڑے اَژدہا، یعنی پرانے سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے(مکاشفہ 9:12؛ 2:20) کے خلاف جنگ کر رہا ہے، ہی اُن مصیبتوں اور پوشیدہ باتوں کو بامعنی بناتا ہے جو ہمیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔
یہ کتاب ”یسوع مسیح کا مکاشفہ“دو پہلوؤں میں تقسیم ہے: یسوع نہ صرف اِس مکاشفہ کا وسیلہ ہے بلکہ اِس کا مرکزی مضمون بھی، یعنی جو ہستی پردے کو ہٹا کر ظاہر کی جاتی ہے، وہ خود یسوع مسیح ہے۔ سب سے پہلے ”خدا نے یہ مکاشفہ یسوع مسیح کو دیا تاکہ وہ اپنے بندوں پر اُن باتوں کو ظاہر کرے جن کا جلد ہونا ضرور ہے“(مکاشفہ 1:1)۔ باپ سے مجسم ہونے والے بیٹے کو اِس مکاشفہ کو سونپے جانے کا عمل ڈرامائی انداز میں 4-5 ابواب میں نہایت پُرجلال انداز میں نمایاں کیا گیا ہے: برّہ تخت پر براجمان ہستی سے ایک طومار کو حاصل کرتا ہے، اور پھر اُس کی مُہریں ایک ایک کر کے کھولتا ہے تاکہ تاریخ میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کا آغاز کرے اور اُن پر اِختیار رکھے۔ صرف برّہ ہی اِن مہروں کو کھولنے، خدا کے منصوبے کو ظاہر کرنے اور اُسے عملی جامہ پہنانے کے لائق ہے، کیوں کہ برّہ نے اپنی جان دے کر فتح حاصل کی ہے، کیوں کہ اُس نے ذِبح ہو کر اپنے خون سے ہر ایک قبیلہ اور اہلِ زبان اور اُمت اور قوم میں سے خدا کے واسطے لوگوں کو خرید لیا (مکاشفہ 5:5-10)۔
ثانیاً، مکاشفہ کی کتاب نہ صرف برّہ کو ظاہر کرتی ہے جو نجات بخش دُکھوں کو برداشت کر کے فتح مند ہوا، بلکہ یسوع مسیح کی ذات کو بھی پردۂ غیب سے نمایاں کرتی ہے۔ وہ صرف برّہ ہی نہیں جو فدیہ دے کر غالب آیا، بلکہ وہ ”اِبنِ آدم کی مانند ایک ہستی“ بھی ہے جو زمینی کلیسیاؤں کے درمیان چلتا پھرتا ہے (مکاشفہ 10:1-20) اُن کی رُوحانی حالت کو پرکھتا اور اُنہیں برکت دیتا ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں (باب 2–3)۔ یہ یسوع وہی ”عورت کی نسل “ ہے جس کا وعدہ تاریخ کے آغاز پر کیا گیا تھا (پیدایش 15:3)۔ وہ جو اپنی پیدایش کے وقت سے ہی اُس پرانے سانپ کی دُشمنی کا شکار ہوا مگر پھر خُدا کے تخت تک سرفراز کیا گیا (مکاشفہ 1:12-6)۔ اُسی کے لہو نے دِن رات ہم پر اِلزام لگانے والے کو زمین پر پٹک دیا اور ہمارے خلاف لگائے گئے اِلزامات کو ہمیشہ کے لئے خارج کر دیا (مکاشفہ 7:12-17)۔ یسوع آسمانی لشکر کا سردار ہے، جو واپس آ کر اُس اَژدہا، اُس حیوان اور اُن کی پرستش کرنے والوں کو آگ اور گندھک کی جھیل میں ڈال دے گا(مکاشفہ 15:19-21)۔ یسوع، باپ اور رُوح القدس کے ساتھ، چوبیس بزرگوں اور چار جانداروں، فرشتوں اور زمین پر کی تمام مخلوقات کی پرستش اور عبادت کا مرکز ہے (مکاشفہ 9:5-14؛ 15:11-18؛ 2:14-5؛ 1:19-8؛ 2:21-4؛ 24:22؛ 3:22-5)۔
چونکہ مکاشفہ کی رُؤیّائیں اُس ہولناک حقیقت کو منکشف کرتی ہیں جو گناہ کے تباہ کُن اَثرات کی صورت میں اِس بِگڑی ہوئی دُنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اِسی لئے وہ خوفناک مناظر ہماری توجہ کو اپنی جانب مبذُول کر لیتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے شاہراہ پر ہونے والے حادثات اِنسانی نظر کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی نگاہیں صرف اُن درختوں پر جما لیں (یعنی اِنسانی شرارت اور اُس پر نازل ہونے والے اِلٰہی غضب کے مناظر پر) تو پھر ہم مکاشفہ کے اُس جنگل کو کھو دیں گے جس کی حقیقت یسوع مسیح کا جلال اور رحم ہے۔
2۔ مکاشفہ کی کتاب ایک تصویری ”لغت“ کے ساتھ ہم کلام ہوتی ہے، جس کی جڑیں عہدِ عتیق میں پیوست ہیں۔
مکاشفہ کی کتاب اپنے پیغام کو اُس اسلوب میں بیان کرتی ہے جو سُننے والوں کے لئے موزُوں ہو، یعنی ایسے جیتے جاگتے مناظر کے ذریعے جو سامع کے ذہن پر نقش ہو جائیں اور اُسے جھنجھوڑ دیں۔ پوری کتابِ مقدس میں خدا (جو کامل پیغام رِساں ہے) تصویری خاکے کھینچتا ہے، یعنی چرواہا، چٹان، قلعہ، آگ اور شوہر وغیرہ۔ خوابوں کے اِن ہی علامتی مناظر کے وسیلہ سے خدا نے یوسف اور دانی ایل پر اپنے منصوبے ظاہر کیے اور اُن کے وسیلہ سے دُنیا پر (پیدایش 41:37؛ دانی ایل 7:2)۔ یسعیاہ، حزقی ایل اور زکریاہ جیسے نبیوں کو خُداوند نے آسمانی مناظر دِکھائے، تاکہ وہ اُس کی حضوری کا وہ منظر دیکھ سکیں جہاں سے اُس کا فرمان صادِر ہوتا ہے۔ خُدا نے نہ صرف اُن پر اپنے کلام کو ظاہر کیا بلکہ اُنہیں ایسی روِشن اور پُرمعنی علامتوں کے ذریعے اپنے منصوبے دِکھائے، جن کی جڑیں آسمانی بھید میں پیوست تھیں ”اور وہ اُس پیغام کو سُن بھی سکے “جو خُدا اپنی قوم کو دینا چاہتا تھا۔ مکاشفہ کی علامتی زبان میں، خُدا وہی کام کر رہا ہے جو وہ ہمیشہ سے کرتا آیا ہے۔
مکاشفہ کی کتاب میں مندرج علامتوں کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے ہمیں ایک ایسی لغت درکار ہے جو ہمیں اِس کی تصویری زبان سے روشناس کرا سکے۔ یہ لغت خُدا نے صدیوں پر محیط عرصے میں خود ترتیب دی ہے، اور وہ ہے عہدِ عتیق۔ عہدِ عتیق کی تاریخ میں پیش آنے والے اَشخاص اور واقعات یعنی تخلیق، سانپ، خروج، موسیٰ اور ایلیاہ وغیرہ۔ نیز بنی اِسرائیل کے اَنبیاء پر ظاہر کی جانے والی رُؤیّائیں، یہ سب وہ کلیدی کردار ہیں جن کے ذریعے مکاشفہ کی علامتوں کے بند دروازے کھلتے ہیں۔ چونکہ مسیح نہ صرف پہلی صدی کی کلیسیاؤں سے مخاطب ہے بلکہ اِکیسویں صدی کی کلیسیا سے بھی ہم کلام ہے، اِس لئے وہ ایک ایسی علامتی زبان اِستعمال کرتا ہے جو ہر زمانے میں اُس کی قوم کے لئے قابلِ فہم ہو، یعنی عہدِ عتیق کے نجات بخش واقعات اور نبوت پر مبنی علامتی زبان۔
3۔ مکاشفہ کی کتاب کے ذریعے، مسیح کا مقصد اُن اِیمان داروں کو تقوِیت دینا ہے، جو اپنے غیر متزلزل اِیمان اور وفاداری کی پاداش میں شیطان کے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں ، جن میں ایذارِسانی، ظلم و ستم، دھوکا دِہی اور خودساختہ دُنیاداری شامل ہیں، اور جو اِن سب کے باعث دُکھوں کو برداشت کر رہے ہیں۔
مکاشفہ کی کتاب کو اکثر متنازع مباحث کو جنم دینے والی کتاب سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یسوع نے اِس کا تاریخی تعیّن کرنے کے خلاف واضح تنبیہ کی تھی، گویا ہم اُن اِلٰہی بھیدوں کو اپنی تحقیق سے جان سکتے ہیں جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں (مرقس 32:13-35؛ اعمال 17:1)۔ لیکن پھر بھی مسیحیوں کے مختلف گروہ آج بھی اِس بات پر باہم سخت اِختلاف کرتے ہیں کہ یوحنا کی رؤیائیں اُس کے اپنے زمانے کے حالات و واقعات سے کس طرح میل کھاتی ہیں۔ یسوع نے مکاشفہ کی کتاب ہمیں اِس لئے نہیں دی کہ ہم اُسے قیامت سے متعلق باہمی جھگڑوں میں نظرِ آتش کر دیں، بلکہ اُس نے یہ مکاشفہ کہیں زیادہ فوری اور ایک عملی مقصد کے تحت عطا کیا ہے: یعنی مسیح اپنی کلیسیا کو، جو بدی کی قوتوں کے حملوں کی زد میں ہے، تیار کر رہا ہے، تاکہ وہ ثابت قدم رہ سکے۔
مکاشفہ کی کتاب ہمیں شیطان کی چالاکیوں سے آگاہ کرتی اور دُشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مضبوط بناتی ہے۔ خدا کے لوگوں کو شدید ظلم و ستم اور معاشرتی طور پر ردّ کیے جانے کی صورت میں یہ وسوسہ لاحق ہو سکتا ہے کہ وہ مسیح سے اپنی وفاداری ترک کر دیں۔ کلیسیا جھوٹے اُستادوں کے فریب میں آ سکتی ہے، یا دُنیاوی خوش حالی کے باعث رُوحانی غفلت اور سمجھوتے کی راہ پر چل سکتی ہے (مکاشفہ 2-3)۔ یوحنا کی رُؤیّائیں اُن حملہ آور ہتھیاروں کو مجسم صورت یعنی حیوان، جھوٹا نبی اور فاحشہ کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں۔
ایشیا کی سات کلیسیائیں دراصل ہر دَور کی کلیسیا کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھیں۔ شیطان کی موذی طاقتیں وقت کے ساتھ اپنی صورتیں بدلتیں اور ہر زمانے میں نیا رُوپ دھارتی ہیں۔ لیکن اُس کے حملے جس بھی صورت میں ہوں، ایک حقیقت ناقابلِ تردِید ہے کہ شیطان پہلے ہی شکست کھا چکا ہے (مکاشفہ 7:12-13؛ 1:20-3)۔ چناں چہ فتح مند برّہ نے ہمیں یہ کتاب اِس لئے عطا کی ہے تاکہ ہم اُس کے کلام پر قائم رہیں اور نئے آسمان اور نئی زمین میں اُس کی حضوری کی برکت کے منتظر ہوں (مکاشفہ 3:1؛ 7:22، 14)۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


