تین چیزیں جو آپ کو روم کی کلیسیا کے بارے میں جاننی چاہئیں
09/12/2025
تین چیزیں جو آپ کو مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/12/2025
تین چیزیں جو آپ کو روم کی کلیسیا کے بارے میں جاننی چاہئیں
09/12/2025
تین چیزیں جو آپ کو مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
16/12/2025

تین چیزیں جو آپ کو میکاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

میکاہ کی نبوت اَنبیائے اَصغر کی بارہ کتابوں میں سے چھٹی کتاب ہے۔ اُس کی تین نبوتیں (میکاہ 2:1-13:2؛ 1:3-15:5؛ 1:6-20:7) خداوند کی اُس عدالت کی پیشین گوئیاں ہیں جو سرکش شمالی سلطنت پر نازل ہونے والی تھی، خوش حال جنوبی سلطنت یہوداہ میں جاری ظلم و بے اِنصافی پر ملامت کرتیں اور اُس موعودہ مسیح کی آمد کی اُمید کو ظاہر کرتی ہیں۔ 

1۔ میکاہ، یسعیاہ اور ہوسیع کا ہم عصر تھا اور اُن کے ساتھ اُس پیغام میں شریک تھا جو اِسرائیل کو توبہ کی طرف مائل کرتا ہے۔ 

 میکاہ اپنی نبوتی خدمت آٹھویں صدی قبلِ مسیح کے دُوسرے نصف حصہ، یوتام، آخز اور حزقیاہ کے دَورِ سلطنت میں سراَنجام دے رہا تھا۔ یعنی عاموس اور یوناہ کے بعد کی نسل میں۔ یہ ایک پُرآشوب دَور تھا۔ شاہِ اسور سلمنسر نے سامریہ کو برباد کر دیا، اِسرائیل کے دس قبائل کو مغلوب کر لیا اور یہوداہ یعنی جنوبی سلطنت کو بھی دھمکایا۔ دولت مندوں نے غریبوں پر ظلم کئے۔ سیاسی بدعنوانی، ثقافتی اِنحطاط اور رُوحانی زوال عام ہو چکا تھا۔ دِیگر تمام اَنبیاء کی طرح، میکاہ، یسعیاہ اور ہوسیع بھی ایک ہی پیغام میں شریک تھے،یعنی خدا کے چُنے ہوئے لوگوں کو توبہ کی طرف بلانا۔ زکریا کی مانند، پیغام یہ تھا کہ خداوند کے کلام، آئین اور احکام کو بیان کیا جائے تاکہ لوگ اُن سے متاثر ہوں اور توبہ کی طرف مائل ہوں  (زکریا 6:1)۔ یوایل کی طرح، ییغام یہ تھا کہ وہ ٹاٹ اوڑھیں اور نوحہ کریں (یوایل 13:1)۔ حزقی ایل کی مانند، پیغام یہ تھا کہ وہ توبہ کریں اور اپنی خطاکاری سے باز آئیں تاکہ بدی اُن کے لئے ٹھوکر کا سبب نہ بنے (حزقی ایل 30:18)۔ تمام اَنبیاء کے پیغام میں اُمید کی یہی صدا گونجتی رہی۔  

” صیون عدالت کےسبب سے اور وہ جو اُس میں گُناہ سے باز آئے ہیں راست بازی کےباعث نجات پائیں گے“(یسعیاہ 27:1)۔ یقیناً، اگرچہ میکاہ کا پیغام توبہ کے لئے اُمید کی بلاہٹ پر مبنی تھا، تاہم وہ زیادہ قابلِ قبول نہ سمجھا گیا۔ یہ پیغام نہ تو اَنبیاء کے زمانے میں قابلِ قبول تھا اور نہ ہی آج کے دَور میں ہے۔

2۔ توبہ کے پیغام کے خلاف اِس فطری مزاحمت کے باعث، اَنبیاء کو اکثر خُدا کے ”مُدّعی وکیل“ کے کردار میں دیکھا گیا۔

 بعض اوقات اَنبیاء کا یہ ” وکیلِ اِستغاثہ“  کا کردار نہایت واضح ہوتا تھا، جیسا کہ میکاہ کی نبوت میں دِکھائی دیتا ہے (میکاہ 1:6-8)۔ آپ اِس کے اندر عدالت کا پُراثر ڈرامائی منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں، جہاں خدا اپنی برگزیدہ قوم کے خلاف اِلزام عائد کرتا ہے۔ اِس مقدمے کی سماعت آسمانی تخت کے سامنے ہوتی ہے (میکاہ 1:6) اور تمام مخلوقات، پہاڑوں اور ٹیلوں سے لے کر زمین کی بُنیادوں تک، کو گواہی کے لئے طلب کیا جاتا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کریں اور کاروائی کے گواہ ٹھہریں (میکاہ 2:6)۔ پھر مُدعی اپنا ثبوت پیش کرتا ہے (میکاہ 3:6-5) اور مُلزم صلح کی کوئی صورت تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے (میکاہ 6:6-7)۔ قوم خداوند سے آزُردہ ہو چکی تھی (میکاہ 3:6)۔ چناں چہ اُن پر لگایا گیا اِلزام نہایت سنگین تھا: یعنی عہد شِکنی۔ فردِ جرم اُن کی نجات کی تاریخ کے چار اہم واقعات پر مبنی تھی۔ پہلا واقعہ اُن کی مصر کی غلامی سے شاندار رِہائی کا تھا (میکاہ 4:6)۔ دُوسرا واقعہ یہ تھا کہ بیابانی آوارگی کے ایّام میں خدا نے ایک راست باز قیادت یعنی موسیٰ، ہارون اور مریم  کااِنتخاب کیا۔ تیسرا واقعہ یہ تھا کہ جب وہ مُلکِ موعود یعنی اُس مُلک میں داخل ہونے کو تھے جس میں دُودھ اور شہد بہتا ہے تو خدا نے بلعام کی لعنتوں کو برکت میں تبدیل کر دیا (میکاہ 5:6) اور چوتھا واقعہ طویل اِنتظار کے بعد یردن کے پار اُترنا تھا، شطّیم مشرقی کنارے کا آخری پڑاؤ تھا اور جلجال مغربی کنارے کا پہلا پڑاؤ (میکاہ 5:6)۔ 

ہر موقع پر خدا نے اپنے عہد کی وفاداری کو ظاہر کیا۔ اپنی پاک پروردگاری سے، اُس نے اپنی قوم کو ہر خطرے سے نکالا اور اُن کی ہر ضرورتوں کو پورا کیا۔ لیکن قوم خدا کی اِس محبت کا جواب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اُن کی محبت ٹھنڈی پڑ گئی تھی۔ 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ملزمان اپنی خطاؤں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اِس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اِس کا ازالہ کیسے کیا جائے؟ شاید سوختنی قربانیوں سے؟ شاید یکسالہ بچھڑے سے، یا ہزاروں مینڈھوں کی قربانی سے؟ یا دس ہزار ندیوں کے برابر تیل سے؟ یا حتیٰ کہ اپنے پہلوٹھوں کو خداوند کے حضور پیش کرنے سے؟ (میکاہ 6:6-7)۔ لیکن نہیں! بادشاہ، منصف اور شریعت دینے والا خود جواب دیتا ہے کہ اُسے اِن میں سے کوئی شَے درکار نہیں، بلکہ وہ اِن سب سے زیادہ عظیم اور قیمتی چیز چاہتا ہے۔ اُسے کوئی تحفہ نہیں چاہیے، بلکہ اُسے دینے والا چاہیے۔ ” اَے انسان اُس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے۔ خداوند تجھ سے اِس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو اِنصاف کرے اور رحم دِلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟ “(میکاہ 8:6)۔ 

توبہ کی بلاہٹ یہاں  بالکل واضح اور ناقابلِ اِنکار ہے۔ اِسی لئے تعجب کی بات نہیں کہ یسوع نے بعد میں شریعت کی ”زیادہ بھاری باتوں“ کا خلاصہ ”اِنصاف، رحم اور فروتنی“ کے ذریعے کیا (متی 23:23) جب اُس نے فقہیوں اور فریسیوں کو توبہ کی دعوت دی۔ افسوس کہ اُنہوں نے بھی اِسے اپنے باپ دادا کی طرح ردّ کر دیا۔ چناں چہ ”وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا“(یوحنا 11:1)۔ لیکن دراصل یہ فروتنی سے کی جانے والی توبہ ہی شفا اور اُمید کی طرف واپسی کی راہ ہے اور توبہ ہی کے وسیلہ سے ہم فضل کے پیغام کو سُننے کے قابل ہوتے ہیں۔ 

3۔ فضل کا پیغام اُتنا ہی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے جتنا کہ عدالت کی تنبیہ اور توبہ کی بلاہٹ کا۔ 

میکاہ کی نبوت نجات اوربحالی کی اُمید سے لبریز ہے۔ یسعیاہ اور یرمیاہ، میکاہ نبی کے کلام کا اِقتباس اِس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ اُس کے اِس نبوتی وعدے کو نمایاں کر سکیں کہ ”صیون کھیت کی طرح جوتا جائے گا اور یروشلیم کھنڈر ہو جائے گا“ تو بھی ”آخری دِنوں میں یوں ہو گا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ، پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائے گا اور ٹیلوں سے بلند ہو گا اور سب قومیں وہاں پہنچیں گی“ (یسعیاہ 2:2-4؛ یرمیاہ 17:26-19؛ میکاہ 12:3-3:4)۔ 

متی رسول، میکاہ نبی کا اِقتباس کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ مسیح بیت لحم سے آئے گا ”خداوند اپنے نام کی بزرگی “ سے  ” اپنی قوم کی گلہ بانی کرے گا“ (متی 6:2؛ میکاہ 2:5-4)۔ لوقا بھی میکاہ کے پیغام کو نقل کرتا  اور(لوقا 53:12؛ میکاہ 6:7 اور لوقا 42:11-43؛ میکاہ 8:6) یوں خوش خبری کے اِعلان کو نبی کی زبان میں پیش کرتا ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو میکاہ کا پیغام خدا کی حاکمیت کی عظمت، اُس کے عہد کی ناقابلِ اِنکار تقدس، اُس کی عدالت کے یقینی نفاذ اور اُس کےعظیم فضل کے حیرت انگیز جلال کا مؤثر خلاصہ ہے۔

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔