
تین چیزیں جو آپ کو زکریاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
25/11/2025
تین چیزیں جو آپ کویوحنا کی اِنجیل کے بارے میں جاننی چاہئیں
02/12/2025تین چیزیں جو آپ کولوقا کی اِنجیل کے بارے میں جاننی چاہئیں
لوقا کی اِنجیل، نئے عہد نامے کی سب سے طویل کتاب ہے اور جو سب سے زیادہ نفیس کُتب میں سے ایک ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مسیحی باب ۲ میں مسیح یسوع کی پیدائش سے واقف ہیں، لیکن بہت سے لوگ تیسری اِنجیل کی بعض ایسی باریکیوں سے واقف نہیں ہیں جو مسیح کی بشریت کے بارے میں ہماری تفہیم کو بہتر بناتی ہیں۔ ذیل میں ہم تین ایسے پہلوؤں کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں اکثر نظر انداز کر دِیا جاتا ہے: کتاب کا مقصد، فروتن کی سربلندی اور مغرور کی پستی، اور پرانے عہد نامے کے ساتھ یسوع مسیح کا تعلق۔
۱۔ لوقا کی اِنجیل کا مقصد
نئے عہد نامے کے مصنفین اکثر قارئین کو یہ نہیں بتاتے کہ وہ کیوں خط یا اِنجیل قلم بند کر رہے ہیں۔لیکن چار اناجیل میں سے دو اپنے مقصد کو بیان کرتی ہیں۔ لوقا رسول، تھیُفلُس کو وضاحت کرتا ہے کہ وہ اِسے اِس لئے لکھ رہا ہے ’’تاکہ جن باتوں کی تُو نے تعلیم پائی ہے اُن کی پختگی تجھے معلوم ہو جائے‘‘ (لوقا ۱: ۴)۔ اگرچہ ہم تھیُفلُس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں، لیکن علماء کا خیال ہے کہ وہ ممکنہ طور پر غیر قوم سے تھا جس کا تبدل پہلے یہودیت میں ہوا اور پھر بعد میں اُس نے مسیحیت قبول کی۔ تھیفلُس نے لوقا کی اِنجیل اور اعمال کی کتاب کو بھی مالی اعانت فراہم کی ہوگی، کیوں کہ پہلی صدی میں اِشاعت ایک مہنگی کوشش تھی۔ بہرحال، یہاں نقطہ یہ ہے کہ لوقارسول، تھیُفلُس کو اِس بات کی تصدیق کرنے کے لئے لکھتا ہے کہ وہ پہلے ہی مسیح یسوع کے متعلق کیا جانتا ہے۔ پھر ایسا لگتا ہے کہ تھیُفلُس، یسوع مسیح کی زِندگی، موت اور قیامت کے وسیع اثرات سے واقف ہے، اور لوقا اپنے اِیمان کو محفوظ رکھنے کے مقصد سے ،تھیُفلُس کے علم کے خلا کو پُر کرنے کے لئے اپنی انجیل کو قلم بند کرتا ہے ۔ یہ ایک ناقابل ِ یقین حد تک اہم اصول ہے، ایک ایسا اصول جس کی اکیسویں صدی میں کلیسیا کو قدر کرنی چاہئے۔ مسیح کی خدمت کے بارے میں کسی بھی شخص کا علم براہِ راست، اُس کے شخصی اِیمان سے مُنسلک ہوتا ہے۔ جب بے یقینی یا شک ہمارے دِلوں میں سرایت کرجاتا ہے ، جیسا کہ یہ ایک ناگزیر عمل ہے، تو ایسی صورتِ حال میں لازِم ہے کہ ہم اِنجیل کی طرف رجوع کریں اور مسیح خداوند کی پیدائش، اُس کی حیات ، موت اور قیامت کی سچائی کے ساتھ اپنے ذہنوں یا ادراک کو دوبارہ سے تازہ کریں۔
۲۔ فروتن کی سربلندی اور مغرور کی پستی
بائبل مقدس میں حمد کے گیت اکثر مرکزی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں، ایسے موضوعات جو ساری کتاب میں ترتیب دئیے گئے ہیں (مثال کے طور پر، دانی ایل ۲: ۲۰- ۲۳؛ ۴: ۱- ۳، ۳۴- ۳۵؛ ۶: ۲۵- ۲۷ )۔ لوقا کی اِنجیل میں بھی حمد کے چار گیت شامل ہیں جو اِس کتاب کے علمِ الٰہی کا خلاصہ پیش کرتے ہیں: لوقا ۱: ۴۶- ۵۵ ( مریم کا گیت)، لوقا ۱: ۶۸- ۷۹ ( زکریاہ کی برکت )، لوقا ۲: ۱۴ (عالمِ بالا پر حمد)، اور لوقا ۲: ۲۹- ۳۲ (شمعون کی دُعا)۔ مندرجہ ذیل آیات، حمد کے پہلے گیت یعنی مریم کے گیت میں سے ہیں ، جو اِن چاروں گیتوں میں سب سے زیادہ معروف ہے:
اُس نے اپنے بازو سے زور دِکھایا؛
اور جو اپنے تئیں بڑا سمجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا؛
اُس نے اختیار والوں کو تخت سے گِرا دیا
اور پست حالوں کو بلند کِیا؛
اُس نے بھوکوں کو اچھی چیزوں سے سیر کر دِیا
اور دَولت مندوں کو خالی ہاتھ لوٹا دِیا ۔ ( لوقا۱: ۵۱- ۵۳، زور دِیا گیا )۔
حمد کا یہ گیت، حیرت انگیز طور پر ۱- سموئیل ۲: ۱- ۱۰ میں حنّہ کی معروف دُعا سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں حنّہ خداوند کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ اُس نے اُسے سموئیل دِیا – جو اسرائیل کی تاریخ کے سب سے قابلِ ذکر نبیوں میں سے ایک تھا – اورجس نے داؤد بادشاہ کے خاندان کے قیام میں اہم کردار ادا کِیاتھا۔ داؤد بادشاہ کی طرح، یسوع بادشاہ کے ذریعے سے بھی خدا فروتن کو سربلند اور مغرور کو پست کرے گا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ لوقا رسول کیوں اکثر مخالف پہلو کی نشان دہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، بیابان میں مسیح کی وفادار فرماں برداری ( لوقا ۴ باب) اُسے شیطان اور اُس کی بدروحوں کو احکامات سے بے دخل کرنے کی قوت دیتی ہے۔ لوقا۱۰: ۱۸ میں یسوع مسیح نے، یسعیاہ ۱۴: ۱۲کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’ مَیں شیطان کو بجلی کی طرح آسمان سے گِرا ہوا دیکھ رہا تھا۔‘‘ یہاں نقطہ یہ ہے کہ ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے – شیطان اپنی طاقت کا مقام کھو چکا ہے ( لوقا ۱۱: ۲۰- ۲۳) اور اُس کی بادشاہی گِرا دی گئی ہے ( رومیوں ۱۶: ۲۰)۔ اِس کے برعکس، یسوع مسیح اپنی ساری زمینی زندگی میں ایک فروتن کردار کا مظہر ہے: وہ اِنتہائی عاجز حالات میں پیدا ہوا (لوقا ۲: ۷)،اُس نے ناصرت کے نا قابلِ ذکر شہر میں پرورش پائی ( لوقا ۴: ۱۶)، اور پھر وہ اپنے لوگوں کے لئے مر گیا ( لوقا ۲۲: ۱- ۲۳: ۵۶)۔ لیکن، یسوع مسیح کی وفاداری کی وجہ سے، خداوند خدا نے اپنے بیٹے کی تائید کی یا اُسے ثابت کِیا اور اُسے باپ کے ابدی تخت پر
سر بلند کِیا ( لوقا ۲۴: ۵۰- ۵۳)۔ اِیمان داروں کو مسیح خداوند کے اِس نمونے پر غورکرنا چاہئے، کیوں کہ خدا باپ وعدہ کرتا ہے کہ ہم بھی مشکل حالات سے گزریں گے۔ ہم اُس وقت تک عوامی طور پر ثابت نہیں ہوں گے جب تک کہ ہماری جسمانی قیامت کا اختتام نہ ہو جائے۔ اور فقط ابدی حالت میں ہی خدا کے لوگ ایک عظیم وجود سے لطف اندوز ہوں گے۔
۳۔ یسوع مسیح اور پرانا عہدنامہ
لوقا اپنی اِنجیل کا آغاز اُن باتوں کو بیان کرتے ہوئے کرتا ہے، جو مسیح یسوع کی خدمت میں’’ واقع ہوئیں‘‘ ( لوقا ۱: ۱)۔ ایک محتاط قاری ایسا سوال پوچھے گا کہ ’’لوقا کے ذہن میں پرانے عہد نامے کے کون سے اقتباسات ہیں؟‘‘ مختصر جواب: سارے اقتباس۔ تیسری اِنجیل میں پرانے عہد نامے کے تیس سے زائد واضح اقتباسات اور پرانے عہد نامے کے سینکڑوں تلمیحات موجود ہیں، لہٰذا ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ لوقا رسول، پرانے عہد نامہ میں کھڑا تھا اور وہ اِن حوالہ جات کی تفسیر کرنے کےطریقے کے بارے میں زبردست بصیرت رکھتا تھا۔ یسوع مسیح کی خدمت کے کسی بھی واقعے کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے، لوقا رسول پرانے عہد نامے سے حوالہ دیتا ہے۔ اِنجیل کے آخر میں، یسوع مسیح نے معروف طور پر دو شاگردوں کو اماؤس کی راہ پر ملامت کِیا ، پھر، ’’موسیٰ سے اور سب نبیوں سے شروع کر کے سب نوشتوں میں جتنی باتیں اُس کے حق میں لکھی ہوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دیں‘‘ ( لوقا ۲۴: ۲۷ )۔ یسوع مسیح محض پرانے عہد نامے کےچند اقتباسات کی تکمیل نہیں کرتا۔ بلکہ وہ سارے حوالہ جات یا پیشین گوئیوں کو پورا کرتا ہے۔ آج موجودہ دَور میں، یہاں تک کہ بشارتی حلقوں میں بھی، بہت سے لوگ پرانے عہد نامے کے اُن مجموعی حوالہ جات کو پڑھنے سے کتراتے ہیں، جس میں مسیح یسوع توجہ کا مرکز ہے۔ اِس نظریے کے ساتھ ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ یہ یسوع مسیح کے پرانے عہد نامہ کے اپنے مطالعے کو بیان کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اگر ہمیں مسیح یسوع کی مانند زِندگی بسر کرنی ہے، تو کیا ہمیں اُس کی طرح کتابِ مقدس کا مطالعہ نہیں کرنا چاہئے۔ لوقا کی اِنجیل، بعض اوقات طویل کثیف ہونے کے باوجود، علم کا ایک خزانہ ہے جو مسیح کے بدن کی تعمیر کرتا ہے اور خدا کے لوگوں کے اِیمان کو تقویت بخشتی ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


