
تین چیزیں جو آپ کو یعقوب کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
20/11/2025
تین چیزیں جو آپ کولوقا کی اِنجیل کے بارے میں جاننی چاہئیں
27/11/2025تین چیزیں جو آپ کو زکریاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
1۔ زکریاہ کے بارے میں جاننے والی پہلی بات اُس شخص کی شناخت ہے۔
عہدِ عتیق کے زمانے میں زکریاہ ایک عام نام تھا، لیکن اِس کتاب کی پہلی آیت میں اُسے”برکیاہ کا بیٹا اور عِدُّو نبی کا پوتا“ کہہ کر بیان کیا گیا ہے۔ نحمیاہ 1:12-4 کے مطابق عِدُّو اُن کاہنوں میں شامل تھا جو بابل کی اسیری کے بعد زُربابل کے ہمراہ سرزمینِ فلسطین کو واپس لوٹے تھے۔ اسیری کے بعد جو لوگ یہوداہ واپس آئے، اُن کے لئے سب سے پہلا اور بنیادی کام اُس ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا جو بابلیوں کے ہاتھوں مسمار ہو چکی تھی۔ زُربابل کی قیادت کے زیرِ سایہ، اِبتدائی ایّام میں یہ کام تیزی سے آگے بڑھا، لیکن جلد ہی بیرونی مخالفت اور اندرونی بے حِسی اور غفلت کے باعث اِلتوا کا شکار ہو گیا (عزرا 4، 5)۔ عِدُّو جو زکریاہ کا دادا تھا ، غالباً ہیکل کی اِس اِبتدائی تعمیر میں شریکِ کار رہا ہوگا۔ زکریاہ نے اُس ہیکل کے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حیرت انگیز طور پر، اور جیسا کہ یسوع نے بیان کیا (متی 35:23-37) زکریاہ کو اُسی ہیکل مین قتل کر دیا گیا ، جس کی تعمیرِ نو میں وہ نہایت سرگرم رہا تھا۔
تاہم اپنی شہادت سے قبل، زکریاہ نے ایک طویل مُدت تک نبوت کی خدمت اَنجام دی۔ اُس کے اِبتدائی پیغامات (زکریاہ 1-6) دارا بادشاہ کے دُوسرے سال سے تعلق رکھتے ہیں جو تاریخی اِعتبار سے 520 قبلِ مسیح کا زمانہ تھا۔ اُس کے دُوسرے سلسلہِ پیغامات (زکریاہ 7-8) کی تارِیخ کا تعین دارا بادشاہ کے چوتھے سال یعنی 518 قبلِ مسیح سے کیا گیا ہے۔ زکریا 9 تا 14 ابواب کی کوئی واضح تاریخ موجود نہیں، لیکن زکریاہ 13:9 میں درج ” یونان“ کا حوالہ اِس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے کہ یہ ابواب بعد کے زمانے میں لکھے گئے تھے، غالباً 480-470 قبلِ مسیح کے درمیانی عرصہ میں۔ مجموعی طور پر، زکریا نے تقریباً پچاس برس تک نبوت کی خدمت اَنجام دی۔
2۔ زکریاہ کے بارے میں جاننے والی دُوسری اہم بات اُس کے پیغام سے متعلق ہے۔
اگرچہ بابلی اسیری کا دَور ختم ہو چکا تھا، لیکن قوم کو وہ برکت یا خوش حالی حاصل نہ ہوئی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ اُنہیں سامریوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا تھا، مُلک میں ویرانی چھائی ہوئی تھی، محنت شدید تھی اور حالات سخت۔ صورتِ حال نااُمیدی کا منظر پیش کر رہی تھی، یوں لگتا تھا جیسے خداوند نے اُنہیں فراموش کر دیا ہو۔ زکریاہ کے نام کا مطلب ہے ”یہوّاہ یاد رکھتا ہے“اور محض اُس کا نام سُننا بھی قوم کے لئے اِس حقیقت کی یاد دِہانی تھا کہ خداوند نے اُنہیں فراموش نہیں کیا۔
زکریا ہ کی منادی کا مرکزی مضمون خدا کے اٹل اِرادے پر اُمید رکھنا تھا۔ اُمید، اِیمان کا وہ نکتہ نظر ہے جو مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ ہر سچے اِیمان کی طرح، اُمید بھی حقیقت پر قائم ہوتی ہے، یعنی اِس کی اصل قدرومنزلت اُس ہستی پر منحصر ہے جس پر یہ قائم ہوتی ہے۔ اُمید کوئی لرزتی ، ہچکچاتی اور بےیقینی پر مبنی آرزُو نہیں ہوتی، بلکہ یہ خدا کے وعدوں پر پُراِعتماد یقین ہے کہ وہ کبھی جھوٹے ثابت نہیں ہو سکتے۔ اُمید کا راز اِسی خدا کی طرف نظریں جمائے رکھنے میں ہے۔ چناں چہ زکریاہ قوم کی توجہ خدا کی طرف مبذُول کراتا ہے، یعنی اُس کی قدرت، اُس کی حاکمیت، اُس کے عہد کی وفاداری اور اُس کے مسیح کی طرف۔
اُمید پر مرکوز یہ پیغام کوئی حیرت کی بات نہیں کہ زکریا کی کتاب پورے عہدِ عتیق میں سب سے زیادہ واضح اور وضاحت کے ساتھ مسیح کے بارے میں نبوت کرنے والی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اُس وقت کی قوم جس نے مایوسیوں اور ناخوشگوار حالات کے باعث اُمید کا دامن چھوڑ دیا تھا، اُن کے دِلوں میں اُمید کو پھر سے زِندہ کرنے کے لئے یہ نہایت اہم قدم تھا کہ اُن کی توجہ خدا کے اُس نجات بخش منصوبے کی طرف مبذول کرائی جائے جو مسیح کے وسیلہ سے لعنت کو مٹا کر بحالی لاتا ہے۔ مسیح کو دیکھنا گویا خدا کے وعدے کی قلبی حقیقت کا مشاہدہ کرنا تھا، اور کلامِ اِلٰہی کے دُوسرے حصوں پر یقین کرنے کا ذریعہ بھی، کیوں کہ خدا کے جتنے وعدے ہیں وہ سب اُس میں ہاں کے ساتھ ہیں (2۔کرنتھیوں 20:1)۔
جب زکریاہ آنے والے مسیح کی جانب گہری توجہ مبذول کرتا ہے تو سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ وہ مسیح کے ثالثی ہونے کی حیثیت پر روشنی ڈالتا ہے ، یعنی اُسے ایک کامل نبی، سردار کاہن اور بادشاہ کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اُس کی نبوتی خدمت ، بحیثیتِ خدا کا نمائندہ ، زکریاہ 7:13 میں واضح طور پر دِکھائی دیتی ہے، جہاں رب الافواج مسیح کی طرف اِشارہ کرتا اور اُسے ”میرا چروہا“ اور قادرِ مطلق کہہ کر اپنے برابر بیان کرتا ہے ، جسے وہ خود مارنے کا حکم دیتا ہے۔ متی 31:26 اِس بات کو براہِ راست مسیح اور صلیب سے جوڑتی ہے اور یہ اُس حوالے سے ہم آہنگ ہے جہاں مسیح اچھے چرواہے کی وضاحت کرتے ہوئے اِعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے اور یہ کہ وہ اور باپ ایک ہیں (یوحنا 30:10)۔ سردار کاہن کی خدمت کا پہلو خاص طور پر اُس نمایاں مسیحی لقب ”شاخ“ میں ظاہر ہوتا ہے جو زکریا 8:3اور 12:6 میں یشوع سردار کاہن کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ مزید برآں، رؤیا میں یشوع کا آسمانی عدالت کے سامنے کھڑا ہونا نجات اور راست بازی کا ایک نہایت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے، جو یہ دِکھاتا ہے کہ خدا گنہگاروں کو کس طرح معاف کرتا اور اُنہیں راست باز ٹھہراتا ہے۔ راست بازی کی ضرورت شدید ہے، اُس کا عمل محض فضل پر مبنی ہے، اُس کی بنیاد یعنی ”شاخ “ مکمل طور پر مستحکم ہے اور راست بازی کا تقاضا منطقی اور برحق ہے۔ مسیح کی بادشاہی زکریاہ 14:10 میں نظر آتی ہے، جہاں وہ کونے کا پتھر، کھُونٹی، جنگی کمان اور حاکم کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور زکریاہ 9:9 میں وہ نبوت بیان ہوئی ہے جو کھجوروں کے اِتوار کے موقع پر نہایت مخصوص طور پر پوری ہوئی۔ مسیح کی بادشاہی کے وہ پہلو جو اُس کی دُوسری آمد سے وابستہ اور ہماری اُمید کا حصہ بھی ہیں (زکریاہ 14)۔ لہٰذا ، اِس نبوت کو ”زکریاہ کی اِنجیل “ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہو گا۔
3۔ تیسری بات جو زکریا کے بارے میں جاننا اہم ہے، وہ اُس کا اسلوبِ بیان یا طریقۂ کار ہے۔
زکریاہ 1:1 میں بیان ہے کہ خداوند کا کلام زکریاہ پر نازل ہوا۔ یہ کلام بعض اوقات رؤیاؤں کے ذریعے آیا۔ پہلے چھ ابواب میں متواتر رؤیاؤں کا ایک سلسلہ درج ہے جو خدا کا اپنے لوگوں کے لئے مقصد، اُس کے منصوبے اور اِرادے کو ایک جامع اور وُسعت اَفروز منظر میں پیش کرتا ہے ، اُس دَور کے فوری حالات سے لے کر حتمی تکمیل تک۔
پیغام کے اِنکشاف کرنے کے علاوہ، زکریاہ کی کتاب ایک نمونہ ہے کہ خدا نے کس طرح اپنا کلام رؤیاؤں کے ذریعے ظاہر فرمایا۔ اوّل، رؤیّا ذاتی اور باطنی ہوتی تھیں، اُنہیں صرف نبی ہی دیکھ سکتا تھا۔ دوم، رُؤیّا کو حاصل کرنے والا شخص اُس میں فعالِ شریک ہوتا تھا، زکریاہ رُؤیّا کی تفسیر کرنے والے فرشتے سے گفتگو کرتا ہے جو اُسے رُؤیا کا مطلب سمجھانے کے لئے راہ نمائی دیتا ہے۔ سوم، رُؤیا نہایت علامتی نوعیت کی حامل ہوتی تھیں، مختلف رنگوں کے گھوڑے، گھُڑ سوار، شمع دان اور زیتون کے درخت، اُڑتا ہوا طومار اور جنگی گھوڑوں کے رتھ، یہ سب کے سب کسی نہ کسی رُوحانی حقیقت کی طرف اِشارہ کرتے تھے۔
زکریاہ کے طرزِ بیان کی ایک اور خصوصیت اُس کا مکاشفاتی انداز تھا۔ ایسا نبوتی کلام جو آخری ایّام، حتیٰ کہ حتمی اَنجام تک کو مخاطب کرتا ہے۔ اِسی لئے زکریاہ کا پیغام محض اسیری کے بعد کے اِسرائیلیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اُس سے آگے نکل کر کلیسیا کو یہ یقین دِلاتا ہے کہ سب کچھ خدا کے اِختیار میں ہے اور ہر بات اُسی کے اَبدی منصوبے اور مقصد کی تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


