
تین چیزیں جو آپ کو حبقُوق کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
14/10/2025
تین چیزیں جو آپ کو یوناہ کے بارے میں جاننی چاہئیں
24/10/2025تین چیزیں جو آپ کو یہوداہ کے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
موجودہ دَور میں بہت سے لوگ اِس آزمایش میں مبتلا ہیں کہ وہ کامل سچائی کو ترک کر دیں، اِس اِیمان کو چھوڑ دیں کہ آسمان پر جانے والی راہ صرف یسوع ہی ہے اور دُنیا کے مختلف عقائد کو نجات کے جائز ذرائع کے طور پر قبول کر لیں۔ اَفسوس کی بات تو یہ ہے کہ کلیسیائیں بھی اِس طرح کی جھوٹی تعلیمات سے محفوظ نہ رہیں، بلکہ بعض نے تو اِس دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور سچائی سے منہ موڑ کر گمراہی کو گلے لگا لیا۔ یہوداہ کا عام خط، جو اِن واضح مسائل پر روشنی ڈالتا ہے، اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ خط مختصر ہے، تاہم اِس میں متعدد پیچیدہ حوالہ جات شامل ہیں جو بعض اوقات قاری کو اُلجھن میں ڈال سکتے ہیں۔ البتہ یہوداہ کا پیغام عصرِ حاضر کے لئے نہایت اہم ہے، کیوں کہ یہ اُنہیں جوخدا باپ کے عزیز اور اور یسوع مسیح میں محفوظ ہیں (یہودا :1) یاد دِلاتاہے کہ وہ اُس اِیمان کے واسطے جاں فشانی کریں جو مقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا۔
یہوداہ، جس کے نام سے یہ خط منسُوب ہے، یسوع مسیح اور یعقوب کا چھوٹا بھائی تھا، یعقوب اِبتدائی کلیسیا کا ایک اہم پیشوا اور اُس خط کا مصنف بھی تھا جو اُس کے نام سے منسُوب ہے (مرقس 1:6-6؛ اعمال 13:15-21؛ گلتیوں 9:2؛ یعقوب 1:1)۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہوداہ یسوع کی زمینی زِندگی اور خدمت کے دوران اُس کا پیروکار نہ تھا (یوحنا 5:7) بلکہ وہ مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس پر نجات بخش اِیمان لایا (اَعمال 12:1-14)۔ اپنے تحریری متن کی مشابہت کے باعث، اِمکانِ غالب ہے کہ یہوداہ کا خط پطرس کے دُوسرے عام خط کے دَور میں لکھا گیا، یعنی پہلی صدی کے وسط میں، غالباً 60عیسوی کی دِہائی میں۔
یہوداہ کے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی مخصوص کلیسیا یا کلیسیاؤں کے ایک مجموعے کو مخاطب کر رہا تھا، کیوں کہ اُن میں بعض لوگ ایسے چپکے سے آ مِلے تھے جو خدا کے فضل کو شہوت پرستی سے بدلتے اور ہمارے واحد مالک اور خداوند یسوع مسیح کا اِنکار کرتے ہیں (یہوداہ 4)۔ چونکہ اِس خط میں عہدِ عتیق اور یہودی اَدبیات کے متعدد اِشارے موجود ہیں، اِس لئے غالب گمان ہے کہ یہوداہ کے سامعین یہودی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مسیحی تھے، تاہم بعض عُلماء کا خیال ہے کہ یہ حوالے دراصل یہوداہ کے ذاتی پس منظر پر زیادہ روشنی ڈالتے ہیں، بہ نسبت اُس جماعت کے جسے وہ مخاطب کر رہا تھا۔
یہوداہ اپنی بلاہٹ کو خدا کی عہد شناس محبت کی بنیاد پر استوار کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اِیمان داروں کو یاد دِلاتا ہے کہ خدا کے جلال کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُن کی اصل شناخت کیا ہے۔ پھر وہ اُنہیں اِیمان کے لئے جاں فشانی کرنے اور اُس میں قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہوداہ اپنے سامعین کی توجہ خدائے ثالوث کے جلال، عظمت، اِقتدار اور اِختیار پر مرکوز کرتا ہے، تاکہ وہ اِیمان کی جنگ لڑنے کے لیے تقویت پائیں اور اُس میں ثابت قدم رہیں۔
1۔ اِیمان دار خدا کی طرف سے بلائے گئے ہیں
یہوداہ اپنے خط کے آغاز میں اُن لوگوں کو مخاطب کرتا ہے جو بلائے ہوئے ہیں (یہوداہ :1)۔ جب خدا لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے تو اُن کی آنکھیں کھُل جاتی ہیں، تاکہ وہ اندھیرے سے روشنی کی طرف اور اور شیطان کے اِختیار سے خدا کی طرف رجوع لائیں (اَعمال 18:26)۔ اِیمان کے وسیلہ سے مسیح کے ساتھ جُڑے ہوئے اِیمان دار ”خدا باپ میں عزیز“ کہلاتے ہیں (یہوداہ :1) جو بنائے عالم سے پیشتر اُس میں چُن لئے گئے (اِفسیوں 4:1) اور یسوع مسیح کے لئے محفوظ کئے گئے ہیں (یہوداہ :1)۔ جو خدا کی طرف سے بلائے گئے ہیں اُنہیں راست باز ٹھہرایا اور جلال بھی بخشا (رومیوں 30:8)۔ اِس لئے، خدا ہی ہے جو ”تم کو ٹھوکر کھانے سے بچا سکتا اور اپنے پُرجلال حضور میں کمال خوشی کے ساتھ بے عیب کر کے کھڑا کر سکتا ہے“ (یہوداہ 24)۔
2۔ اِیمان دار اُس اِیمان کے واسطے جاں فشانی کریں جو مقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا
یہوداہ نے اِیمان داروں کو مخاطب کرتےہوئے یہ لکھنا ضروری سمجھا کہ ”وہ اُس اِیمان کے واسطے جاں فشانی کریں جو مقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا“(یہوداہ 3)۔ وہ اِیمان داروں کو یاد دِلاتا ہے کہ اُس اِیمان کے واسطے جنگ کرنا ضروری ہے جو اُن کے لئے نہایت بیش قیمت ہے، بالخصوص اُن گمراہ کُن تعلیمات کے مقابلے میں جو چپکے سے اُن میں آ ملی ہیں اور خدا کے فضل کو شہوت پرستی سے بدل ڈالتی ہیں۔ اپنے اِیمان پر ثابت قدم رہنے کے لئے یہوداہ اُن کی حوصلہ اَفزائی کرتا اور اپنے قارئین کو یاد دِلاتا ہے کہ خدا مستقبل میں بے دِینوں کی عدالت کرے گا (یہوداہ 5-16)۔
3۔ اِیمان داروں کے لئے لازم ہے کہ وہ اِیمان میں قائم رہیں۔
چونکہ اِیمان دار بعض اوقات سچائی کے بارے میں سُست ہو سکتے ہیں ، آسانی سے گمراہ کُن تعلیمات کو قبول کر سکتے ہیں، خدا کے حقیقی فضل کو بگاڑ سکتے اور مسیح خداوند کو اپنا مالک اور خداوند قبول کرنے سے اِنکارکر سکتے ہیں، اِسی لئے یہوداہ اُنہیں پکار کر کہتاہے کہ ” مگر تم اَے پیارو! اپنے پاک ترین اِیمان میں اپنی ترقی کر کے اور رُوح القدس میں دُعا کر کے اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے ہمارے خداوند یسوع مسیح کی رحمت کے منتظر رہو“ (یہوداہ 20-21)۔
شاید آج آپ نے اِیمان کے لئے جاں فشانی کرنا بند کر دی ہے، اور نرمی سے ہماری معاشرتی ثقافت کے اِس پیغام کو قبول کر لیا ہے کہ تمام نظریات کو یکساں مان لینا چاہیے۔ یا پھر شاید آپ اِیمان کے بنیادی نظریات سے رُوپوش ہو گئے ہوں اور کسی اَور راہ پر چلنا شروع کر دیا ہو ۔ شاید زِ ندگی کے کسی مشکل دَور کی وجہ سے آپ نے بائبل کی تعلیمات کا مطالعہ چھوڑ دیا ہو اور اب دوبارہ سے مضبوطی کے ساتھ کلامِ مقدس کے مطالعے کا عہد کرنے کی ضرورت ہو۔ شاید آپ کو یازہ یاد دِہانی کی ضرورت ہو کہ غلط تعلیمات آج بھی کلیسیاؤں میں خاموشی سے سرایت کر جاتی ہیں۔ شاید آپ کو اِس بات کی یاد دِہانی کی بھی ضرورت ہو کہ اِس کثیر المذاہب معاشرے میں خدائے ثالوث قادرِ مطلق اور عظیم خدا ہے۔ چاہے صورتِ حال جیسی بھی ہو، یہوداہ وقت کی نزاکت کے مطابق ہمیں ایک اہم پیغام دیتا ہے۔ وہ ہمیں اِیمان کے لئے جاں فشانی کرنے اور اُس پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے، ساتھ ہی ہمیں ہماری نجات کی یقین دِ ہانی اور خدا کے جلال، عظمت ، ابدی سلطنت اور اِختیار میں مضبوط کرتا ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


