
تین چیزیں جو آپ کو دانی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
13/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو یعقوب کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
20/11/2025تین چیزیں جو آپ کو یرمیاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
یرمیاہ نبی کا صحیفہ کتابِ مُقدّس کی سب سے حوصلہ شِکن اور مشکل کتابوں میں سے ایک ہے۔ اَلفاظ کی تعداد کے لحاظ سے یہ پوری بائبل کی سب سے طویل کتاب ہے۔ اِس میں شاعرانہ مناظر اور کہانیوں کے درمیان اچانک اور بے ترتیب انداز میں ردّ و بدل ہوتا ہےاور اِس کی ترتیب واقعات کے تسلسل کے مطابق نہیں ہے۔ اِس کا بیشتر مواد خوف ناک عدالت اور اور ہولناک گناہوں پر مشتمل ہے، جبکہ اُمید کی جھلکیاں بہت کم دِکھائی دیتی ہیں۔ اکثر لوگ جب اِسے پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو حیرانی اور اُلجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن خدا نے یہ کتاب ہمیں ہماری تسلی کے لئے عطا کی ہے (رومیوں 4:15)۔ اگر ہم دورانِ مطالعہ تین باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں تو اِس مشکل اور پیچیدہ کتاب کو عطا کرنے میں ہم خدا کی حکمت اور محبت کو سمجھنے لگیں گے۔
1۔ اِس کتاب کا مرکزی پیغام ہے: عدالت جو بحالی کی طرف لے جاتی ہے۔
اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود،یرمیاہ کی پوری کتاب دو بنیادی موضوعات کو واضح کرتی ہے: ”عدالت اور بحالی“۔ یہ دونوں موضوعات کتاب کی مرکزی آیت میں نمایاں ہیں، جہاں خداوند نے یرمیاہ کو ” قوموں اور سلطنتوں پر مقرر کیا کہ اُکھاڑے اور ڈھائے اور ہلاک کرے اور گرائے اور تعمیر کرے اور لگائے“(یرمیاہ 10:1)۔ پہلے چار افعال ”اُکھاڑنا، ڈھانا، ہلاک کرنا اور گرانا“ عدالت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ آخری دو افعال ”تعمیر کرنا اور لگانا“بحالی کی علامت ہیں۔
عدالت سے متعلق متون کا تعلق بنیادی طور پر 586 قبلِ مسیح میں بابل کے ہاتھوں یروشلیم کی تباہی سے ہے۔ خداوند پوری تاکید کے ساتھ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ یہوداہ کے سنگین گناہوں کا منصفانہ نتیجہ تھا۔ اِستثنا 28 میں مذکور عہد کی لعنتوں کے متعدد حوالہ جات سے یہ بات اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ خداوند اپنے کلام کے ساتھ وفادار رہا اورجو کچھ اُس نے فرمایا تھا کہ اگر اُس کے لوگ اُس سے دغا کریں گے تو وہ یہی کرے گا، اور اُس نے اپنے کلام کو پورا کیا۔ درحقیقت، اُس نے اِس سے پہلے بے حد صبر کا مظاہرہ کیا۔
یرمیاہ کی خدمت کے دوران یہوداہ کی تباہی ایک ناگزیر حقیقت بن چکی تھی۔ نہ کوئی توبہ اور نہ ہی کوئی دُعا اُسے روک سکتی تھی۔ یہی سبب تھا کہ خُداوند نے یرمیاہ کو لوگوں کے لئےدُعا کرنے سے منع فرما دیا (یرمیاہ 16:7؛14:11)۔ چناں چہ، یہوداہ کے لئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہی تھا کہ وہ عدالت کو قبول کرے، جس میں وعدے کی سرزمین سے جلاوطنی بھی شامل تھی (یرمیاہ 8:21-10)۔
لیکن یرمیاہ کے پیغام کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہی خداوند، جس نے اُن پر سخت عدالت نازل کی، اب اُسی لعنت کو پلٹنے کا اِرادہ رکھتا ہے (یرمیاہ 28:31) اور اپنی قوم کو شفا دینے والا ہے (یرمیاہ 12:30-27 نیز اِستثنا 39:32)۔ خداوند محض یہوداہ کو جلاوطنی سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں لائے گا، بلکہ اِس سے بڑھ کر ایک نیا تحفہ عطا کرے گا، یعنی ”نیا عہد “۔ یہ نیا عہد گناہ کی اُس فطرت سے نمٹنے کے لئے ہوگا جس کے باعث جلاوطنی واقع ہوئی تھی۔ خداوند اپنی شریعت اپنے لوگوں کے دِلوں پر لکھے گا (یرمیاہ 31:31-34) اور اُنہیں اِیمان میں ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے گا (یرمیاہ 40:32) اور پھر گناہ اُن پر غالب نہ آئے گا۔
چناں چہ، یرمیاہ کی کتاب یہوداہ کو اِس ہولناک اور فیصلہ کُن اَنجام سے گزرنے میں راہ نمائی فراہم کرنے کے لئے دی گئی تھی۔ گو کہ اُن کی قوم اپنی شناخت کے ہر درجے پر (بادشاہت، ہیکل، سرزمین اور عہد) سے محروم ہو رہی تھی، لیکن یرمیاہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِن سب باتوں کے پسِ پُشت خداوند کا ایک نجات بخش منصوبہ کارفرما ہے۔ خداوند نے اِن عارضی اور نامکمل نعمتوں کو ہٹا دیا تاکہ اِن کی جگہ حقیقی، اَبدی اور دائمی برکات کا راستہ ہموار کر سکے، یعنی ایسی برکات جو کبھی زائل نہ ہوں گی۔ یوں اِسرائیل کی کہانی کا حقیقی اَنجام خدا کا غضب نہیں بلکہ فضل اور جلال ہے۔
2۔ یرمیاہ کی کتاب میں بعض اوقات بات کرنے والا بغیر کسی تمہیدی اِشارے کے بدل جاتا ہے۔
اکثر لوگ یرمیاہ نبی کے صحیفے میں شاعرانہ انداز میں لکھی جانے والی عبارتوں کو سمجھنے میں دُشواری محسوس کرتے ہیں۔ یہ گہری تحریریں تب سمجھ میں آنے لگتی ہیں جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یرمیاہ اِن میں ” خداوند، یرمیاہ اور قوم “کے درمیان ہونے والی گفتگو کو پیش کر رہا ہے۔ بعض اوقات وہ قوم کی نمائندگی ایک تمثیلی کردار ”خاتونِ صیون“ کے ذریعے کرتا ہے (یرمیاہ 19:10-20) جہاں یروشلیم کو ایک عورت کے رُوپ میں دِکھایا گیا ہے۔
اِن ڈرامائی مکالمات میں بعض اوقات بات کرنے والے کی تبدیلی بغیر کسی تمہیدی اِشارے کے ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، یرمیاہ 18:8-3:9 میں کلام کرنے والا پانچ مرتبہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ متن میں موجود اِشاروں کی مدد سے آواز کی تبدیلی کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ ”اِس آیت میں کون بات کر رہا ہے؟“ اور یہ توقع رکھیں کہ بات کرنے والا اکثر بدل سکتا ہے، تو آپ اِن مشکل عبارتوں کو بہتر طور پر سمجھنے لگیں گے۔ ظاہر ہے کہ اِس سلسلے میں تفسیری کُتب ہمارے لئے بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
3۔ یہ کتاب یسوع مسیح اور کلیسیا کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔
خداوند یسوع مسیح، جو یرمیاہ کی کتاب کا حقیقی مصنف ہے (1۔پطرس 11:1) ہمیں خود بتاتا ہے کہ یہ کتاب درحقیقت اُس کے بارے میں ہے (لوقا 25:24-27)۔ اگر یرمیاہ کی کتاب یسوع مسیح کے بارے میں ہے تو پھر یہ اُس کی کلیسیا کے بارے میں بھی ہے، جو اُس کے ساتھ ایک ہے۔
جب ہم یرمیاہ کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یسوع مسیح کے ساتھ ایک زِندگی بخش ملاقات کی توقع رکھنی چاہئے۔ لیکن ہمیں اپنے بارے میں بھی زِندگی بخش کلام کی توقع رکھنی چاہئے۔ خداوند یسوع مسیح داؤد کی نسل سے وہ راست باز شاخ ہے، جسے اِس نام سے پکارا جائے گا ”خداوند ہماری صداقت“ (یرمیاہ 5:23-6)۔ لیکن یہی نام کلیسیا کے لئے بھی اِستعمال ہوا ہے (یرمیاہ 16:33)۔خدا کی راست بازی اُس کے اَبدی بادشاہ پر ہی نہیں، بلکہ اُس کی قوم پر بھی پوری طرح چھا جائے گی۔
یسوع مسیح کی آمد کے بارے میں یہ براہِ راست پیش گوئیاں محض آغاز ہیں۔ یہوداہ اور قوموں پر آنے والی عدالت ، جسے اَنبیا ”خداوند کا دِن“ کہتے ہیں، درحقیقت اُس آخری عدالت کے دِن کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، جس کی طرف یسوع مسیح کی صلیبی موت اِشارہ کرتی ہے (غور کریں کہ جب صلیب پر یسوع نے اپنی جان دی تو زمین لرز اُٹھی اور آسمان تاریک ہو گیا۔ یہ سب خداوند کے دِن کی علامتیں ہیں۔متی 45:27-51)۔ پس، جب یرمیاہ نبی یہوداہ اور قوموں پر خداوند کی عدالت کی بات کرتا ہےتو ہم مسیح کی صلیب کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اور اِسی طرح،یرمیاہ جب بحالی کی شان دار تصویر کشی کرتا ہے(یرمیاہ 30-33) تو یہ اُس اَبدی بادشاہی کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد سے شروع ہو چکی ہے ، اگرچہ ابھی پوری اور حتمی طور پر ظہور پذیر نہیں ہوئی۔
چناں چہ، یرمیاہ کی کتاب ہماری کہانی کی بھی گواہی دیتی ہے۔ مسیح کی آمدِثانی پر، وہ عدالت جس کے بارے میں یرمیاہ نے خبر دی، اپنی حتمی اور مکمل تکمیل کو پہنچے گی۔ اور پُرانی تخلیق پر آنے والی یہ عدالت ہمیں اُس اَبدی بحالی کی طرف لے جائے گی جس کی پیشین گوئی یرمیاہ نے بھی کی تھی۔ لہٰذا یرمیاہ کی کتاب ہر دَور کے قاری کے لئے فائدہ مند اور بصیرت افروز ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


