
تین چیزیں جو آپ کو حزقی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو یرمیاہ کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
18/11/2025تین چیزیں جو آپ کو دانی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
دانی ایل نبی کا صحیفہ عہدِعتیق میں اپنے مواد اور اُس کلیدی کردار کے باعث ایک منفرد کتاب ہے جو اِسرائیل کی بحالی سے متعلق پیشین گوئیوں اور اُن کی تکمیل کے درمیان ادا کرتی ہے،جو عہدِ جدید میں یسوع المسیح کی زِندگی، موت، قیامت اور آسمان پر اُٹھائے جانے میں پوری ہوئیں۔ یہ کتاب اِنتہائی پیچیدہ اور معنوی گہرائی سے لبریز ہے، ایسی گہرائی جو اِسے مختصر طور پر بیان کرنے میں دُشواری پیدا کرتی ہے۔ تاہم، اِس کتاب کے تین پہلو ایسے ہیں جو موجودہ دَور کے قاری پر اِس کے مفہوم کو روشن کرتے ہیں۔
1۔ اِبتدائی واقعات (باب 1 تا 6) کتاب کے آخری ابواب (باب 7 تا 12) میں بیان کردہ پیشین گوئیوں کی صداقت کو تقویت دیتے ہیں۔
دانی ایل کے اِبتدائی ابواب میں درج کہانیاں، جو زیادہ تر آرامی زبان میں لکھی گئی ہیں، ایک ایسی نسل کی تصویر کشی کرتی ہیں جو 605 قبلِ مسیح میں یہوداہ کی سرزمین سے اسیر ہو کر بابل منتقل کر دی گئی۔ وہاں اُنہیں اپنے دُشمنوں کے ہاتھوں سخت اِیذارِسانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے خدا پر توکل کرتے ہوئے اُس کے ہاتھوں حیرت انگیز کامیابیاں بھی حاصل کرتے ہیں۔ دانی ایل اور اُس کے دوستوں سدرک، میسک اور عبدنجوکی کہانی اَدبی اور لسانی دونوں پہلوؤں سے یوسف کی مصر میں پیش آنے والی داستان سے واضح طور پر جڑی ہوئی ہے۔مثلاً، دونوں کو خوب صورت بیان کیا گیا ہے (پیدایش 6:39؛ دانی ایل 4:1) دونوں ہی بادشاہ کے خوابوں کی تعبیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایسے خواب جو بادشاہ کو بے چین کر دیتے اور خدا کے مستقبل میں بحالی سے متعلق منصوبے کو آشکارا کرتے ہیں۔ اِن دونوں کہانیوں میں متعدد عبرانی اَلفاظ مشترک طور پر اِستعمال ہوئے ہیں جو اِن کو ایک دُوسرے سے مربوط کرتے ہیں۔ یوسف کی طرح، دانی ایل اور اُس کے دوست بھی غیر قوم بادشاہ کے دربار میں خدمت اَنجام دیتے ہوئے خدا کی بلاہٹ کے ساتھ وفاداری سے قائم رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ غیر معمولی عزت اور مرتبہ حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ یوسف کو سونے کی انگشتری اور دانی ایل کے گلے میں زرّین طوق پہنایا گیا (پیدایش 42:41؛ دانی ایل 29:5)۔
اِیذارِسانی کے باوجود اُن کی وفاداری دانی ایل کے نبوتی پیغام کو تقویت بخشتی ہے، یہ پیغام اُن اِسرائیلیوں کے لئے تھا جوبابل میں جلاوطن تھے اور اُن کے لئے بھی جو 536 قبلِ مسیح میں بابل کی حکومت کے اِختتام اور مادیوں اور فارسیوں کی متحدہ حکومت میں یروشلیم واپس آ چکے تھے۔ یہ بات خاص طور پر اُس وقت اہمیت اِختیار کر جاتی ہے جب دانی ایل کے مرکزی پیغام کی روشنی میں جلاوطنی سے بحالی کا عمل ستر ہفتوں تک ملتوی کر دیا جاتا ہے (دانی ایل 24:9)۔
2۔دانی ایل کے صحیفے میں ستر ہفتوں کی رُؤیّا کا بیان، عہدِ عتیق کے واقعات اور یسوع مسیح کی زمینی خدمت کے دوران پیش آنے والے واقعات کے درمیان ایک پُل قائم کرتا ہے۔
موسیٰ کے دَور سے ہی اِسرائیل کے سامنے ایک قومی جلاوطنی اور کسی نہ کسی صورت میں بحالی کا تصور رکھا گیا تھا (اِستثنا 64:28-68؛1:30-10)۔ احبار 26 کے پورے باب میں خدا موسیٰ سے فرماتاہے کہ اگر بنی اِسرائیل جلاوطنی میں بھی توبہ نہ کرے تو وہ اُن کی سزا کو سات گناہ بڑھانے کا حق رکھتا ہے (احبار 18:26، 21، 24، 28)۔ یرمیاہ نبی کے دَور تک جلاوطنی کا خطرہ ایک ممکنہ اَنجام سے بڑھ کر ایک یقینی اور قریب الوقوع تباہی کی شکل اِختیار کر چکا تھا۔توبہ کا وقت گزر چکا تھا (یرمیاہ19) اور نبی نے اِعلان کیا کہ نہ صرف جلاوطنی آنے والی ہے بلکہ یہ ستر برس تک قائم رہے گی (یرمیاہ 11:25؛ 10:29)۔ دانی ایل اُن صحائف کے مطالعہ میں مصروف تھا جو اُسے توبہ سے متعلق دُعائیہ تحریک دیتے ہیں اور یہ دُعا دانی ایل 9 باب میں پائی جاتی ہے۔ وہ اِس بات سے بخوبی واقف تھا کہ جب تک اِسرائیل کے لوگ اپنے گناہوں سے سچی توبہ نہ کریں اور اپنے نجات دینے والے خداوند کی طرف پوری دِلجمعی سے رُجوع نہ کریں، جلاوطنی کا خاتمہ نہ ہوگا۔ دانی ایل کی راست بازی سے کی گئی دُعا کے باعث خداوند نے ایک پیامبر(جبرائیل) کو اُس کے پاس بھیجا تاکہ اُسے یہ خبر سنائے کہ جلاوطنی کی مدت ستر ہفتوں سے بڑھا دی گئی ہے۔ یروشلیم کی خطاری کاری اور گناہ کا خاتمہ محض ستر برس میں نہیں بلکہ ستر گنا ستر یعنی 490 سال بعد ہوگا۔ کتاب کا بقیہ حصہ ایک سلسلہ وار رُؤیّاؤں پر مشتمل ہےجو اُن واقعات کی منظرکشی کرتی ہیں جو دانی ایل کے زمانے سے لے کر خدا کی بادشاہی کے ظہور تک پیش آنے والے ہیں۔
3۔ باب 7 تا 12 میں مندرج رُؤیائیں خدا کے لوگوں کی حوصلہ اَفزائی کرتی ہیں کہ وہ بین العہدین کے زمانے میں عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات کے دوران بھی بحالی سے متعلق خدا کے منصوبوں پر بھروسا رکھیں۔
دانی ایل کی کتاب کے دُوسرے حصے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اُس میں مسیح کی آمد اور بحالی سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے بارے میں رُؤیائیں نہایت واضح اور تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ نبی نے آئندہ پیش آنے والے حالات کی اِتنی باریک بینی سے منظر کشی کیوں کی؟ دِیگر اَنبیاء مستقبل کے بارے میں کہیں زیادہ مبہم، رمزی اور تاثر انگیز انداز میں کلام کرتے ہیں، مگر دانی ایل حیرت انگیز طور پر صراحت کے ساتھ بات کرتا ہے۔ اِس کا جواب غالباً اُس پیغام میں پوشیدہ ہے جو پوری کتاب کے مرکز میں ہے، یعنی ستر ہفتوں کی رُؤیّا، جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ جلاوطنی کے خاتمے کی مُدت ستر گنا سات، یعنی 490 برس تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ سب کچھ تفصیل سے بیان کر کے نبی عہد کے لوگوں کی حوصلہ اَفزائی کرتا ہے کہ وہ تارِیخِ عالم کے تسلسل میں یکے بعد دِیگرے برپا ہونے والی سلطنت اور اُن کے زوال کے باوجود خداوند پر بھروسا قائم رکھیں۔ کیوں کہ خدا اب بھی پوری اِنسانی تاریخ پر حاکمِ کُل ہے۔ لہٰذا اُس کے لوگ اپنی ذِمے داریاں وفاداری سے نبھائیں اور اُن برکتوں سے لطف اندوز ہوں جو بطور عہد کے لوگ اُنہیں عطا کی گئی ہیں۔ اِن تمام حالات میں وہ اپنے نجات دینے والے خداوند پر توکّل رکھیں اور یہ جان لیں کہ ایک دِن وہ ضرور اُنہیں بحال کرے گا۔
جس طرح اِسرائیل کی راست باز باقی ماندہ قوم کو تارِیخ کے نشیب و فرازکے باوجود ثابت قدم رہنا تھا، اُسی طرح آج مسیح کے پیروکاروں کو بھی دانی ایل کی نبوتوں میں اُمید کا سرچشمہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بھی خُدا کے لوگ ہونے کے ناتے اپنے فرائض اور برکتوں کے حامل ہیں اور اُس بادشاہ کی واپسی کے منتظر ہیں جس نے دو ہزار برس پہلے بحالی کے جس منصوبے کا آغاز کیا تھا، وہ اُسے پورا کرے گا (2۔ پطرس1:3-13)۔ ہم بھی جلاوطن تصور کئے جاتے ہیں، ایسے لوگ جنہوں نے مسیح بادشاہ کو دیکھا اور اب اُس کی خدمت اُن عالمی واقعات کے بیچوں بیچ کرتے ہیں جو تاریخ کے پردے پر مسلسل ظہور پذیر ہو رہے ہیں (1۔ پطرس 1:1؛ یعقوب 1:1 ملاحظہ ہو)۔ دانی ایل اور اُس کے دوستوں کی طرح، ہم بھی جغرافیائی اور سیاسی طاقتوں کے پہیوں تلے پسنے کے لئے چھوڑ نہیں دیئے گئے، کیوں کہ ہم ایک ایسے عظیم بادشاہ کی خدمت کرتے ہیں جس کے اندر ہر کام کرنے کی آزادی اور لاتبدیل ہونے جیسی صفات پائی جاتی ہیں، جو مقرر کر دیا گیا اور جلد آنے والا ہے (ویسٹ منسٹر اقرار الایمان ۳ باب ۱ سیکشن)۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


