تین چیزوں جو آپ کو ہوسیع کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
06/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو دانی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
13/11/2025
تین چیزوں جو آپ کو ہوسیع کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
06/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو دانی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
13/11/2025

تین چیزیں جو آپ کو حزقی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

حزقی ایل، مختلف  قِسم کی اُلجھنوں سے بھری ہوئی کتاب ہے: خُدا کے لوگ دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے، بعض بابل میں جلاوطنی کی حالت میں، اور کچھ یروشلیم میں محصور ہو کر رہ گئے  تھے۔ خود نبی ایک گہرے باطنی تناؤ سے گزرتا ہے، وہ کہانت کے سلسلے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن 390 دِن تک اپنے بائیں پہلو پر لیٹا رہتا ہے اور جب اُس کی بیوی فوت ہو جاتی ہے تو اُسے ماتم کرنے سے بھی منع کیا جاتا ہے ۔ اُس کی رُؤیائیں گہرے علامتی معانی سے بھرپور ہیں اور اُس کے پیغامات اکثر نہایت ہولناک اور پریشان کُن مناظر پر مشتمل ہوتے ہیں(حزقی ایل 4:4-8؛ 15:24-24)۔ شاید حزقی ایل کی کتاب میں سب سے بڑی کشمکش خدا کے کردار کے اِنکشاف میں ہے: واجب الوجود اور اِدراک سے بالاتر، وہ نہایت پاک ذات ہے لیکن گناہ سے بیزار ہونے والا، تاہم معاف کرنے والا بھی ہے، اُس کی عدالت خوف ناک،لیکن اُس کی رحمت حیرت انگیز ہے۔ اگرچہ یہ تضادات قاری کو پریشانی یا اُلجھن میں ڈال سکتے ہیں، لیکن حزقی ایل کی کتاب خداوند کے نام اور اُس کے جلال کو ایک منفرد اور سبق آموز انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ یہ تین پہلو آپ کی مدد کریں گے کہ آپ اِس کشمکش کو سُلجھا سکیں اور حزقی ایل کی پیش گوئیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

1۔حزقی ایل کی حیرت انگیز رُؤیّائیں اور نبوتی کلام ایک ایسے خدا کو پیش کرتے ہیں جو جلال سے معمور ہے، لیکن وہ قابلِ اِدراک بھی ہے۔ 

 حزقی ایل کی کتاب  کا مطالعہ شروع کرتے ہی اِنسان پر حیرت طاری ہونے لگتی ہے۔ اُس کی اِبتدائی رُؤیّا اور اُس کابلایا جانا خود ہی حیران کن مناظر سے بھرا ہوا ہے: چار جاندار (جنہیں بعد میں کروبیم کہا گیا) جو ہولناک صفات کےحامل ہیں، اور پھر ’’خداوند کے جلال کی شبیہ‘‘ کا ایک تجلیاتی ظہور،  جو اِنسانی حواس کو لرزا دیتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُس کی نبوتی خدمت کی اِبتدا کئی عجیب اَعمال پر مشتمل ہے، جیسے کہ ایک طومار کو نگلنا اور گویائی سے محرومی (حزقی ایل 1:1؛ 27:3؛ 20:10)۔ یہ تو محض کتاب کا آغاز ہے۔ علامتی اَعمال، تشبیہات، نبوتوں کے اِعلانات اور جلال سے بھرپور خداوند کا  اپنےفرشتوں کے  ساتھ ظہور، یہ تمام عناصر پوری کتاب میں بار بار ظاہر ہوتے ہیں (دیکھئے! حزقی ایل 1:10-22؛ 1:40-4)۔ 

لیکن اِس بات کو  ضرور جان لیں کہ: اِس تجربے سےآپ کے  دِل میں حیرت اور خوف  کا پیدا ہونا لازم ہے۔ فہم و اِدراک سےبالاتر خدا کے جلال سے سامنا، اِنسان سے حیرت اور فروتنی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب حزقی ایل پریہ جلال ظاہر ہوا تو وہ منہ کے بَل گِر پڑا (حزقی ایل 28:1)۔ اُس کی رُوح سے معمور خدمت کی اِس پوری دستاویز کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے اندر بھی ایسا ہی جلالی ڈر اور خوف پیدا ہو۔ حزقی ایل کی طرح، بابلی جلاوطنوں کی مانند اور ہماری طرح کے اِنسان، خدا کو اپنے اَلفاظ یا اپنی  اِصطلاحات میں نہیں جان سکتے، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ غلط فہمی ہرگز نہ رہے، کیوں کہ حزقی ایل اِس بات کو منکشف کرتا ہے کہ ہمارا حاکمِ کُل خدا نہ صرف ہماری اِس دُنیا میں متحرک اور موجود ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو پوری دُنیا میں ظاہر بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جملہ ”تب تم جانو گے کہ مَیں ہی خداوند ہوں“ اُس کی نبوتوں میں بارہا مرتبہ دُوہرایا گیا ہے، نہ صرف اِسرائیل کے لئے بلکہ غیر اَقوام کے لئے بھی(حزقی ایل 4:7، 9؛ 10:11؛ 9:13 وغیرہ)۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اِنسانی گناہ اور بغاوت اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاک خدا سب سے پہلے اپنے آپ کو عدالت کے ذریعے ظاہر کرے اور یہ اگلے نکتے کی طرف ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔ 

  2۔ حزقی ایل کا کہانتی نسب نامہ خدا کی قدُوسیت کے زور دار بیان میں نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے

حزقی ایل،  کتاب کے آغاز میں اپنے آپ  کو  ایک کاہن کے طور پر متعارف کرواتا ہے، تاہم غالباً اُسے یروشلیم میں اِس منصب پر عملی خدمت کا موقع کبھی نہ ملا  (حزقی ایل3:1)۔  اِس کے بجائے، خدا نے اُسے نبی کی خدمت کے لئے چُن لیا، سب سے پہلے اُس نے اپنی باغی قوم کے خلاف عدالت کی نبوتیں کیں اور اُس کے بعد شریر قوموں کے خلاف (حزقی ایل 1:1-27:24؛ 1:25-32:32)۔ اِس پیشہ وارانہ تبدیلی کے باوجود، حزقی ایل اپنی کہانت کے علم سے گہرا فائدہ اُٹھاتا ہے، خصوصاً جب وہ عدالت کے تناظر میں خدا کی قدوسیت کو نمایاں کرتا ہے۔

رُوح سے معمور اور اور قوم پر اِلزام لگانے والے منصب پر فائز حزقی ایل، پرانے عہد کی کلیسیا کی اِلٰہی عہد کے احکام کے خلاف سرکشی اور بُت پرستی کے سبب اُن کی نجاست کو بے نقاب کرنے میں کوئی مصلحت نہیں برتتا (حزقی ایل 6:5؛59:16)۔ اُن کے یہ اَعمال خود خداوند کے نام کو بے حرمت کرنے کے خطرے سے بھرے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں خدا نے اپنے نام کی تقدیس کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی پُرجلال حضوری کو (جو اُس کے آسمانی اور متحرک تخت کی علامت تھی) یروشلیم سے واپس لے لیا اور اُس کے لئے ہلاکت کا دِن مقرر کیا (حزقی ایل 9:20، 14)۔ حزقی ایل اِسرائیل کی بغاوت کی سنگینی کو مختلف اَدبی انداز میں نمایاں کرتا ہے، جن میں سب سے زیادہ ہلا دینے والی تصویر شاید دو بے وفا بہنوں کی تمثیل ہے (حزقی ایل 1:23-49) تاکہ قومیں یروشلیم کے زوال پر خوشی نہ منائیں اور خود کو ناقابلِ شکست نہ سمجھ بیٹھیں، حزقی ایل  آس پاس کی  سات بادشاہیوں کوجو دُنیا کی تمام قوموں کی نمائندگی کرتی  ہیں، اِسی طرح کی عدالتی نبوتوں کا ہدف بناتا ہے۔ وہ بھی، اپنے شر اور پاک خدا کے خلاف بغاوت کا جواب دیں گی اور دُنیا اُن کی عدالت کے ذریعے خدا کے جلال کو پہچانیں گی، تاکہ اِسرائیل کی اُمید باقی رہے، حزقی ایل کہانت سے وابستہ ایک اور تصوّریعنی ہیکل کو پیش کرتا ہے تاکہ وہ قوم کی بحالی کی اُمید کو زِندہ رکھ سکے۔ 

3۔ یسوع، بحیثیتِ  خدا کی ہیکل  حزقی ایل کی بحالی  سےمتعلق پیشین گوئیوں کو پورا کرتا ہے۔

یہاں تک کہ خدا کی عدالت کے دوران بھی، مقدس خدا بحالی کی پیشین گوئی کرتا ہے۔ وہ اپنی اُس قوم کو جس کے ساتھ اُس کا عہد ہے ویسے ہی دوبارہ زندہ کرے گا جیسے حزقی ایل نے سُوکھی ہڈیوں میں جان آتے دیکھا تھی (1:37-14)۔ تاہم، خدا اُنہیں صرف اُن کی گزشتہ حالت میں واپس نہیں لائے گا، بلکہ وہ اُنہیں پاک کرے گا اور اُنہیں ایک نیا دِل بخشے گا، اُن کے آبا  و اَجداد کے مُلک میں دوبارہ بسائے گا، اُن پر ایک راست باز بادشاہ جو داؤدکی نسل سے ہو گا حکمرانی کے لئے مقرر کرے گا اور ہمیشہ اُن کے درمیان سکونت کرے گا (حزقی 22:36-28:37)۔ حزقی ایل اِس تبدیل شُدہ حالت کوجو عہد کے تحت پُرامن تعلق کی علامت ہے، سب سے بڑھ کر نئی ہیکل کی رُؤیّا کے ذریعے بیان کرتا ہے، جیسا کہ اُس شہر کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ”خدا وہاں موجود ہے“ (حزقی ایل 40-48 باب)۔ 

حزقی ایل کی پیشین گوئی کی تکمیل محض ہیکلِ ثانی کی تعمیرِ نو تک محدود نہیں، بلکہ یہ یسوع مسیح میں عروج پاتی ہے۔  یوحنا رسول کے رُوح سے اِلہام شُدہ صحائف اِس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ خدا کے جلال کی کامل تجلّی  خدا کے بیٹے کے تجسم میں ظاہر ہوئی، جو اپنے لوگوں کے درمیان سکونت کرتا ہے اور خدا کو اُن پر ظاہر کرتا ہے (یوحنا 14:1-18)۔ یسوع اپنے آپ کو ہیکل سے تشبیہ دیتا ہے، وہ ہیکل کی بربادی کے دُکھ کو اپنی مصلوبیت کے ساتھ اور اُس کی بحالی کے جلال کو اپنی قیامت کے ساتھ مربوط کرتا ہے (یوحنا 18:2-22)۔ مزیدبرآں، جیسے حزقی ایل اپنی رُؤیّا میں اُس دریا کو دیکھتا ہے جو ہیکل سے جاری ہو کر ساری دُنیا  کو زندگی بخشتا ہے، ویسے ہی یسوع اپنے آپ کو  آبِ حیات کا سرچشمہ قرار دیتا ہے (یوحنا 1:4-43؛ 37:7-39)۔ اپنی آخری رُؤیّا میں یوحنا بھی بالکل اِسی دریا کی گواہی دیتا ہے جو خدا کے تخت سے جاری ہوتا ہے، وہی دریا جس نے قوموں میں بکھری ہوئی خدا کی قوم کے لئے  پاکیزگی اور شفا کا سامان فراہم کیا (مکاشفہ 22)۔

حزقی ایل کی کتاب میں پائی جانے والی سب سے بڑی اُلجھن، اب ایک عظیم ترین وعدے میں تبدیل ہو چکی ہے: یعنی خدا اور برّہ کی ہمیشہ قائم رہنے والی حضوری۔ 

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

جسٹن ای۔ ایسٹراڈا
جسٹن ای۔ ایسٹراڈا
ریڈِیمر پریسبیٹرین چرچ آف کِنگز ویل ،Mdکے سینئر پاسٹر ہیں