تین چیزیں جو  آپ کو حجی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
04/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو حزقی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/11/2025
تین چیزیں جو  آپ کو حجی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
04/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو حزقی ایل کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/11/2025

تین چیزوں جو آپ کو ہوسیع کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

1۔ہوسیع ,جس کے نام کا مطلب ”نجات“ ہے، یہ نوشتہ اَنبیائے اصغر میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ اِسرائیل کی شمالی سلطنت  کا باشندہ تھا اور اُس نے اپنی نبوت بھی شمالی قبائل کے لئے پیش کی تھی۔

ہوسیع 1:1 کے مطابق ہوسیع کی نبوتی خدمت کا زمانہ شمالی سلطنت کے بادشاہ یُربعام دوم اور جنوبی سلطنت کے بادشاہوں عُزّیاہ، یوتام، آخز اور حِزقیاہ  کے عہدِ حکومت سے منسلک ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ہوسیع نبی، یُوناہ نبی کا ہم عصر تھا (2۔سلاطین 25:14) جو کہ شمالی سلطنت سے تعلق رکھنے والا ایک اَور نبی تھا جس کی نبوتی خدمت یُربعام دوم کے دَورِحکومت میں اَنجام پائی، البتہ، یُوناہ کی تحریریں اُس کے نینوہ کے ساتھ ذاتی تجربے پر مرکوز تھیں۔ 

ہوسیع، عاموس نبی کا بھی ہم عصر تھا جو جنوبی سلطنت سے تعلق رکھنے والا ایک مبلغ تھا اور شمالی سلطنت میں خدمت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ وہ یسعیاہ اور میکاہ کے دَورِ نبوت کا بھی ہم عصر تھا جو جنوبی سلطنت کے اَنبیاء تھے۔ اگرچہ بادشاہوں کی حکومت کے سالوں کا مجموعہ سو برس سے زائد بنتا ہے، لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ ہوسیع کی نبوت کا آغاز یُربعام دوم کے آخری ایّام (تقریباً 753 ق م) میں ہوا اور اُس کی خدمت حِزقیاہ بادشاہ کے اِبتدائی برسوں (تقریباً 725 ق م)  تک جاری رہی، یعنی اُس وقت سے قبل جب 722 قبلِ مسیح میں سامریہ، اسُوریوں کے ہاتھوں تباہ ہوا۔ یہ سیاسی بحران اور دِینی  اَفراتفری  کا دَور تھااور ہوسیع نے ایک ایسی قوم  کے درمیان جو قومی بربادی کے دہانے پر کھڑی تھی، نہایت سنجیدگی اور اِضطراب کی حالت میں کلام کیا۔ 

2۔ ہوسیع کی ذاتی زِندگی خود اُس پیغام کا آئینہ بن گئی جو اُسے قوم تک پہنچانا تھا۔

ہوسیع کی شادی جمر سے دراصل اُس پیغام کی ایک زِندہ اور قابلِ دِید تمثیل تھی جو وہ قوم کو سُنا رہا تھا۔ ہوسیع 1:3 میں واضح طور پر ہوسیع کی جمر سے شادی کو اُس عہد کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو خدا نے اِسرائیل کے ساتھ باندھا تھا۔ ہوسیع اور جمر کے باہمی تعلق اور خدا اور اِسرائیل کے درمیان رفاقت ،  دونوں کا آغاز محبت (یعنی اِلٰہی فضل) سے ہوا، پھر وہ گناہ کے سبب سے ٹھکرائے گئے (یعنی اِلٰہی خفگی) اِس کے باوجود وفاداری (یعنی اِلٰہی اِستقامت) کے باعث قائم رکھے گئے۔ ہوسیع کی جانب سے جمر کے لئے مسلسل محبت اور وفاداری، خدا کی اِسرائیل کے ساتھ غیرمتزلزل محبت اور اَبدی وفاداری کا ایک نہایت خوبصورت عکس تھی۔ اِس کے برعکس، جمر کی بےوفائی، ہوسیع کے ساتھ اُس کے عہد کی صریح خلاف ورزی، اِسرائیل کی خدا کے ساتھ دغابازی اور عہد شکنی کی ایک الم ناک مگر واضح تصویر تھی۔ پورے عہدِ عتیق میں شادی کو خدا اور اُس کی قوم کے درمیان تعلق کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ علامتی انداز  ہوسیع کی کتاب سے کسی اَور جگہ زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔ اگرچہ ہوسیع کی اِزدِواجی زندگی اُس کے پیغام کا مرکزی حصہ ہے، مگر یہی عنصر اِس کتاب کی تفسیر میں ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے۔ اِس مشکل کی جڑ خدا کے اُس اِبتدائی حکم سے جُڑی ہے جس میں ہوسیع کو ”ایک زِناکار عورت “ سے شادی کرنے کا حکم دیا گیا  (ہوسیع 2:1)۔ ظاہری طور پر، یہ صورتِ حال ایک اَخلاقی اور شرعی اُلجھن پیدا کرتی ہے، کیوں کہ یہ خدا کی اُن واضح ہدایات کے برعکس معلوم ہوتی ہے جو اُس نے کاہنوں کو دی تھیں کہ ”وہ کسی فاحشہ یا ناپاک عورت سے بیاہ نہ کریں“ (احبار 7:21-13)۔ اگر کسی کاہن کا زِناکار عورت سے شادی کرنا باعثِ ندامت ہےتو ایک نبی کے لئے ایسا کرنا کیونکر قابلِ قبول ہو سکتاہے؟ مزید برآں، اِستثنا 13:22-21:20 کے مطابق، اگر کوئی شادی کے وقت ناپاک ثابت ہو تو اُسے سنگسار کر کے مار ڈالنے کا حکم تھا۔ اِن آیات کی روشنی میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ ہوسیع کو شادی کی رسم کے بجائے کسی جنازے سے اپنی خدمت کا آغاز کرنا چاہئے تھا۔ اِس اُلجھن کا حل عموماً دو بڑے نظریات میں پیش کیا گیا ہے: ایک وہ جو اِس شادی کو تمثیلی یا علامتی (فرضی) سمجھتے ہیں، اور دُوسرا وہ جو اِسے حقیقی اور تارِیخی واقعہ مانتے ہیں۔

تمثیلی یا فرضی نقطۂ نظر اِس اِزدِواجی تصویر کو محض ایک علامتی وسیلہ سمجھتا ہے، جس کے ذریعے خدا اور اِسرائیل کے باہمی تعلق اور اِسرائیل کی رُوحانی بےوفائی کو پیش کیا گیا ہے۔اِس نظریے کی خوبی یہ ہے کہ یہ اَخلاقی اور شرعی پیچیدگیوں سے گریز کرتا ہے، جبکہ اِس کے باوجود شادی کی تمثیل کے ذریعے اِس اِلٰہی نکتے کو واضح کرتا ہے کہ خدا کس طرح ایک نالائق اور بےوفا قوم سے بھی محبت کرتا ہے۔ تاہم اِس موقف کی کمزوری یہ ہے کہ یہ اِلٰہیاتی مصلحت پر مبنی ہے، نہ کہ صحیفے کے واضح متن یا تارِیخی شواہد پر۔

حقیقی شادی کے قائلین کے درمیان بھی مختلف تشریحات پائی جاتی ہیں،اگرچہ وہ اِس بات پر رضامند ہیں کہ ہوسیع اور جمر کے درمیان شادی کا واقعہ حقیقت پر مبنی تھا، تاہم وہ اِس بات پر اِختلافِ رائے رکھتے ہیں کہ جمر کی زِناکاری کی نوعیت کیا تھی اور وہ کس وقت رونما ہوئی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ جمر شادی کے وقت ہی زِناکار تھی اور وہ دلائل پیش کرتے ہیں کہ خُدا نے اپنے پہلے سے بیان کردہ اُصولوں کو اِس لئے معطل کر دیا تاکہ اپنی اُس مہربان اور فضل پر مبنی محبت کو نمایاں کر سکے جو وہ نالائق اور گناہ آلود اِنسانوں سے کرتا ہے۔ دِیگر مفسرین کا اِستدلال یہ  ہے کہ یہاں ”زِناکاری“ سے مراد جسمانی بدکاری نہیں بلکہ رُوحانی بُت پرستی ہے۔ یہ موقف اگرچہ جنسی طور پر ناپاک عورت سے شادی کے مسئلے کو حل کر دیتا ہے، لیکن ایک اور نہایت سنگین مسئلہ پیدا کر دیتا ہے کہ کیا واقعی خدا نے نبی کو حکم دیا کہ وہ ایک بُت پرست عورت سے نکاح کرے۔ جبکہ خدا اپنے کلام میں واضح طور پر مخلوط الایمان شادیوں کی  ممانعت کرتا ہے (اِستثنا 3:7-4)۔ 

حقیقی شادی سے متعلق ایک تشریح جسے ” نظریۂ پیش قیاسی“کہا جاتا ہے، یہ بیان کرتا ہے کہ جمر شادی کے وقت پاک دامن تھی لیکن بعد میں اُس نے زِناکاری کی راہ اِختیار کی۔ تاہم متن اِس بات کو بیان کرتا ہے کہ جمر اُس وقت کیا تھی، نہ کہ وہ بعد میں کیا بنے گی۔ ایک اور ممکنہ حل یہ ہے کہ  ”زِناکاری“ کے لفظ کو بیرونی عمل کے بجائے ایک باطنی خصلت کے طور پر سمجھا جائے۔ غالب اِمکان یہ ہے کہ یہ لفظ جمر کی اُس چھپی ہوئی بداَخلاقی  کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو شادی کے کچھ ہی عرصے بعد آشکار اہو گئی۔

ہوسیع 1:3کے مطابق، جمر حقیقت میں ایک زِناکار عورت بن چکی تھی جو اِس بات کی علامت ہے کہ اُس کے رُجحانات نے عملی بدکاری کی صورت اِختیار کر لی تھی۔ اِس نظریے کے مطابق، اصل نکتہ یہ ہے کہ خدا نے ہوسیع پر اِبتداہی میں جمر کی باطنی حالت کو ظاہر کر دیا تھا، ایک ایسی حقیقت جو اُن کی اِزدِواجی زِندگی کی تقدیس کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ یہ کہ ہوسیع نے اِبتدا ہی سے اُس عورت کی  تکلیف دہ صلاحیت کو جانتے ہوئے بھی اُس سے محبت کی، جو اُس کی بے غرض  محبت کی نوعیت کو نمایاں کرتا ہے۔ یہی بات رُوحانی موازنے میں اِیمان داروں کے لئے ایک کلیدی نکتہ ہے کہ خدا ہمیں اُس سب کے باوجود محبت کرتا ہے جو وہ ہمارے بارے میں پہلے ہی جانتا ہے۔

3۔ ہوسیع کا پیغام مسیح میں خدا کے فضل کی پیش گوئی کرتا ہے

ہوسیع کی تنبیہات اور توبہ کی دعوتیں قوم نے نظرانداز کر دیں اور اُس کا نتیجہ قومی سطح پر عدالتی فیصلے کی صورت میں یقینی تھا۔ تاہم، اِسرائیل کی جہالت اور نادانی سے نبی کے پیغام کو ٹھکرانے کے نتائج بھی اِنجیل کے فضل کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ 2۔سلاطین 29:15 کے مطابق، نفتالی کا علاقہ وہ پہلا خطہ تھا جس نے خُدا کے عدالتی قہر کا سامنا کیا، لیکن متی 12:4-16 کے مطابق یہی علاقہ وہ پہلا مقام تھا جہاں سے یسوع کی خدمت کا آغاز ہوا۔ہوسیع کے دَور کی تاریکی، مسیح کے نُور کے سامنے چھٹنے والی تھی۔ وہ تاریک وقت دراصل اُس ”مقررہ وقت“ کی طرف ایک پیش قدمی تھی، جس میں نُور ظاہر ہونا تھا  جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے مقاصد اور منصوبے ہمیشہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اَنجام پاتے ہیں۔   

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

مائیکل پی ۔وی ۔بیرٹ
مائیکل پی ۔وی ۔بیرٹ
ڈاکٹر مائیکل پی۔وی ۔بیرٹ نائب صدر تعلیمی اُمور ، تعلیمی ڈین اور پیوریٹن ریفامڈ تھیولوجیکل سیمنری گرینڈ ریپِڈز ، میشیگن میں پرانے عہد نامے کے پروفیسر ہیں ۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں، جس میں مسیح کے ساتھ آغاز :پرانے عہد مانے میں مسیح کو تلاش کرنے کے لئے رہنمائی اور زندگی کے لئے حکمت شامل ہیں ۔