
تین چیزیں جو آپ کو ملاکی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
30/10/2025
تین چیزوں جو آپ کو ہوسیع کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
06/11/2025تین چیزیں جو آپ کو حجی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
1۔اب وقت آ پہنچا ہے کہ اپنی ترجیحات میں خداوند کی فرماں برداری کو اوّلیت دی جائے۔
حجی کی کتاب اُن لوگوں کے نام ایک پیغام ہے جو گہری مایوسی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو بابل کی اسیری سے یہوداہ کی سرزمین پر واپس لوٹے تھے، مگر اپنے وطن کی خاک آلود گلیوں میں زِندگی ازسرنو بسانا اُن کے لئے نہایت کٹھن ثابت ہو رہا تھا۔ چاروں طرف دُشمنوں کے نرغے میں گھرے ہوئے، وہ اپنی سرزمین اور سابقہ زندگی کی بحالی کی جدوجہد میں مشغول تھے، مگر یہ کوششیں اُن کی توقعات سے کہیں زیادہ دُشوار تھیں۔یسعیاہ کی کتاب کے باب 40 تا 66 میں جو جلالی وعدے کیے گئے تھے، وہ اُن کی موجودہ حالت سے کوسوں دُور محسوس ہو رہے تھے۔ چناں چہ اُنہوں نے خدا کے گھر کی تعمیرِ نو کا منصوبہ موقوف کر دیا، یہ سوچ کر کہ جب حالات بہتر ہو جائیں گے تو اِس کام کی طرف لوٹ آئیں گے۔ اُن کے نزدیک یہ بات بالکل واضح تھی کہ فی الحال ایسے بلند و بالا منصوبوں کے لئے وقت مناسب نہیں (حجی 2:1)۔
تاہم خُداوند کا نظریہ بالکل مختلف تھا۔اُس نے اُن پر یہ حقیقت آشکارا کی کہ جب اُنہوں نے اپنے سجے ہوئے دِیودار کی لکڑی سے آراستہ گھروں کی تعمیر کا قصد کیا، تو تب وسائل مہیا تھے (حجی 4:1؛ مزید دیکھیں1۔سلاطین 9:6؛ 3:7-7)۔ دریں اثنا، اُن کی دِیگر سرگرمیاں خُدا کی لعنت کے نیچے آ چکی تھیں، کیوں کہ وہ اُس کے حکم سے تجاوز کر کے نافرمانی پر اُترے ہوئے تھے (حجی 5:1-6)۔ خداوند نے اُنہیں تاکید کی کہ وہ اپنے رویّوں پر غور کریں، بہانوں کو ترک کریں اور اپنی ترجیحات میں خداوند کی فرماں برداری کو اوّلیت دیں (حجی 8:1)۔ پھر یوں ہوا کہ صوبے کے گورنر زُربابل اور سردار کاہن یشوع کی قیادت میں قوم نے حجی نبی کی آواز پر کان لگایا اور کام کا آغاز کیا(حجی 12:1)۔ خداوند اُن کے ساتھ تھا اور اُس نے اُن کی رُوحوں کو بیدار کیا تاکہ وہ یکجا ہو کر اُس کے مقدس گھر یعنی ہیکل کی تعمیرِ نو کے لئےسرفروشی سے جُت جائیں (حجی 14:1)۔ یہی ہیکل خداوند کی اپنی قوم کے درمیان حضوری کی نمایاں علامت تھی۔
2۔ ابھی تو پہلے گھر کی رونق کا آنا باقی ہے ۔
جب قوم یروشلیم میں ہیکل کی تعمیرِ نو میں مشغول تھی تو حوصلہ شکنی کا ایک اور پہلو سامنے آیا۔ تعمیر ہونے والی نئی ہیکل میں اُس سابقہ جلال کی جھلک بھی نہ تھی جو اُس سے پہلی ہیکل کے ساتھ وابستہ تھا (حجی 2:2-3)۔ اگرچہ سائز میں یہ سلیمان کی ہیکل کے برابر تھی، لیکن اُس میں نہ تو چاندی اور نہ سونے کی وہ اَفراط تھی، اور نہ ہی یہ ہیکل کسی سلطنت اور بادشاہی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جیسا کہ سلیمان کے دَورِ سلطنت میں تھی۔ اور اُس سے بھی بڑھ کر دُکھ کی بات یہ تھی کہ خداوند کا جلال تو اُس عمارت سے بہت پہلے رُخصت ہو چکا تھا، قبل اِس سے کہ بابلی اُسے مسمار کرتے (حزقی ایل 10 باب)۔ اگر خدا کی حضوری، جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا (حزقی ایل 43 باب) دوبارہ جلوہ گر نہ ہوتی تو یہ ہیکل محض ایک خالی اور بےوُقعت ڈھانچہ بنی رہتی، جس میں نہ تو تقدّس ہوتا اور نہ پہلی رونق۔ تاہم نبی کے وسیلہ سے خدا کے کلام نےلوگوں کو حوصلہ دیا اور اُنہیں یہ حقیقت دِکھائی کہ خدا حقیقت میں اُن کے درمیان موجود ہے ، گو اُس کی واپسی کے ظاہری ثمرات ابھی نمودار نہیں ہوئے تھے(حجی 4:2-5)۔ پس اُنہیں چاہئے تھا کہ وہ مضبوط بنیں اور متحرک ہو جائیں، وہی احکام جو یشوع کے زمانے میں دیئے گئے تھے اور وہی فرمان جو سلیمان کو اُس کی سلطنت کے آغاز میں ملے تھے (یشوع 6:1؛ 1۔سلاطین 2:2)۔ وہی خُدا جو اُس وقت اِسرائیل کے ساتھ تھا جب وہ مصر سے نکلے، اب بھی اُن کے درمیان تھا اور وہ اُن کی محنت کو بے پھل ہونے نہ دے گا (حجی 13:1)۔ مگر جو کچھ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، وہ خداوند کےکام کی آخری حد نہ تھی ۔ وہ ماضی میں خدا کے عظیم کاموں کو یاد کر کے تسلّی پا سکتے تھے، لیکن اُنہیں یہ بھی فراموش کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ خُداوند آئندہ ایّام میں کیا کچھ کرنے والا ہے(حجی 6:2-9)۔ ایسا دِن آنے والا تھا جب خدا اِس موجودہ دُنیا وی نظام کوتبدیل کر دے گا، وہ دُنیا کے نظام کو تہ و بالا کر دے گا اور قوموں کو اُن کے مقرر کردہ مقام پر لا کھڑا کرے گا اور اپنے لوگوں کے لئے برکت و فضل مہیا کرے گا اور اُس کی مقدس ہیکل سے سلامتی (شالوم) کی ندیاں جاری ہوں گی۔
3۔ خدا کے وعدوں کو زمانہ ِ حاضر اور دَورِ مستقبل کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔
خداوند کا اپنی قوم کے ساتھ ہونے کا وعدہ جو یروشلیم کی ہیکل میں ظاہر ہوا اور مسیح کے آنے کا وعدہ جو داؤد کی نسل میں پوشیدہ تھا، یہ دونوں وعدے حجی کی نبوت میں یوں رواں دواں ہیں جیسے رگوں میں خون (دیکھیں: 2۔سموئیل 7 باب)۔ نبی کی خدمت کے آغاز پر یہ دونوں وعدے گویا سوالیہ نشان بنے ہوئے تھے، یروشلیم کی ہیکل ابھی تک کھنڈرات کا ڈھیر بنی پڑی اورخداوند کے جلالی سے خالی تھی اور داؤد کی نسل کا سلسلہ گویا منقطع ہو چکا تھا ، جیسے خداوند نے اُسے اُتاری اور ردّ کی ہوئی مہر کی انگوٹھی کی مانند قرار دیا ہو (یرمیاہ 24:22-26)۔ تاہم کتاب کے اِختتام تک بحالی کی کچھ نمایاں نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں، ہیکل اَزسرِنو تعمیر ہو چکی تھی اور زُربابل جو داؤد کی نسل سے تھا، خدا کی طرف سے منتخب شُدہ مہر کی انگوٹھی کے طور پر تسلیم کیا گیا (حجی 23:2)۔ مگر اِس کے باوجود ہیکل تاحال اُس جلال سے خالی تھی اور زُربابل بادشاہ نہ تھا اور نہ ہی وہ مسیح تھا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پس قوم کو اِیمان کے ساتھ زندگی بسر کرنی تھی ، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ خداوند جو نیک کام اُن کے درمیان شروع کر چکا ہے، اُسے اُس دِن مکمل کرے گا جو آخرکار ظہور پذیر ہوگا۔
دونوں وعدے یسوع مسیح کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ وہ خدا کی حقیقی ہیکل ہے (یوحنا 19:2) جس میں خدا کا جلال ہمارے درمیان ٹھہر گیا (یوحنا 14:1)۔ عمانوایل کے طور پر ”خدا ہمارے ساتھ “ کے معنوں میں، یسوع مسیح نے مجسم ہو کر خدا کی کامل حضوری کو اپنے لوگوں کے درمیان ظاہر کیا۔ اب جبکہ مسیح آسمان پر صعود فرما چکا اور اپنے اور اپنی رُوح کو کلیسیا پر نازل کر چکا ہے تو خدا کی حضوری دُنیا میں ہم، یعنی اُس کے لوگوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔مسیح کے بدن کی حیثیت سے اب کلیسیا نئی ہیکل ہے ، یہودیوں اور غیر اقوام کے درمیان اور یہ سب مِل کر خدا کے لئے ایک مقدس مسکن کے طور پر تعمیر کی گئی ہے (اِفسیوں 16:2-22؛ 2۔کرنتھیوں 16:6-1:7)۔
ہم بھی زُربابل کے عظیم بیٹے کی طرف دیکھتے ہیں، وہی جس میں ہماری اُمید مضمر ہے،یعنی یسوع مسیح (متی 13:1)۔ وہ بھی کسی جسمانی صورت یا جلال کاحامل نہیں تھا کہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے بلکہ ” اُس نے خادِم کی صورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مشابہ ہوگیا اور یہاں تک فرماں بردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی ۔ اِسی واسطے خدا نے بھی اُسے بہت سر بلند کیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے (فلپیوں 9:2-11)۔ اب جبکہ کے دَورِ حاضر میں ہم آسمان اور زمین کی شدید لرزِش کے منتظر ہیں، ہماری بلاہٹ یہ ہے کہ ہم وفادار رہیں، یہ جانتے ہوئے کہ مسیح کی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی روشنی میں، ہماری محنت جو ہم خداوند میں کرتے ہیں رائیگاں نہیں جائے گی (1۔کرنتھیوں 58:15)۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


