تین چیزیں جو آپ کو  پطرس  کےپہلے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
28/10/2025
تین چیزیں جو  آپ کو حجی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
04/11/2025
تین چیزیں جو آپ کو  پطرس  کےپہلے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
28/10/2025
تین چیزیں جو  آپ کو حجی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
04/11/2025

تین چیزیں جو آپ کو ملاکی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں

خداوند ، ملاکی نبی کے وسیلہ سے اسیری سے واپس آنے والی قوم  سے سخت ترین کلام کرتا  ہے۔ ملاکی کی کتاب سات نبوتی مناظر   پر مشتمل ہے جس میں سے ہر ایک کا آغاز قوم کی  شکایت اور تلخ کلمات سے ہوتا ہے، جن کا خداوند خود جواب  دیتا ہے۔ اِن میں سے بیشتر  نبوتی پیغامات ملاکی کے ہم عصر لوگوں کے رویّوں اور اَعمال پر گہری ملامتیں ہیں۔   تاہم اِس ملامتی کلام سے قبل  خداوند ایک اہم بات فرماتا ہے۔ وہ اپنی  چنیدہ محبت کا آغاز  اِس اعلان کے ساتھ کرتا ہے  جو اِس بات کی دلیل ہے کہ اسیری کی عدالت  کے بعد بھی قوم اِسرائیل اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔   اِس سے پہلے کہ وہ فرمائے کہ ”مجھے تجھ سے شکایت ہے“ وہ پہلے یہ اِعلان کرتا ہے کہ ”مَیں نے تم سے محبت رکھی“ (ملاکی 2:1)۔ 

1۔ملاکی اِس بات کو واضح کرتا ہے کہ خدا کی  اِنتخابی محبت  ہی ہر آغاز کی بنیاد ہوتی ہے ۔

اِدھر قوم تلخ لہجے میں جواب دیتی ہے کہ ” تُو نے کس بات میں ہم سے محبت ظاہر کی؟“(ملاکی 2:1)۔ یہ ایک ایسا سوال تھا  جس کے جواب میں خدا  ایک حیران کُن بات کرتا ہے ۔ ہم  اِس بات کی توقع کر سکتے تھے کہ خدا  اُنہیں خروجِ مصر  یا پھر مُلکِ موعود یعنی سرزمینِ کنعان کی فتوحات یاد دِلائے گا جہاں اُس نے بڑے بڑے معجزات دِکھا کر اپنی قوم کی حفاظت کی  اور اُنہیں میراث عطا کی۔  لیکن اِس کے برعکس،  خدا اُنہیں اَور بھی پیچھے لے جاتا ہے ،  اُن کے ابا و اَجدادیعنی یعقوب کے چناؤ اور اُس کے بھائی عیسو کے ردّ کئے جانے تک (ملاکی 3:1)۔ یہ بے حد اور ناحق محبت ہی وہ سبب ہے کہ یروشلیم کی بابل کے ہاتھوں تباہی اور اسیری کے باوجود آج بھی اِسرائیل باقی ہے۔ بلاشبہ اِسرائیل نے اپنے گناہوں کی سزا پائی، مگر خداوند کی عظیم محبت کے باعث وہ پھر سے بحال بھی ہوا۔ عیسو کی نسل ، یعنی ادُوم  نے بابل کے ساتھ تعاون کر کے اُس دَور کی تباہی سے خود کو بڑی حد تک محفوظ رکھا (عبدیاہ 10:1-14)۔ مگر اُس کا یہ وقتی آرام جلد نیست و نابود ہو جائے گااور اُس کا زوال مکمل اور دائمی ہو گا (ملاکی 4:1-5)۔ خُدا کی برگزیدہ قوم گناہوں کے سبب لغزش تو کھا سکتی ہے، مگر وہ کبھی مکمل طور پر گِر نہیں سکتی، کیوں کہ  خداوند اپنی محبت سے اُسے تھامے رکھتا ہے (دیکھیں: زبور 23:37-24)۔ 

2۔ ملاکی ظاہر کرتا ہے کہ جب حالات کٹھن  ہو جائیں تو لوگ مایوسی اور بدگمانی کی آزمایش میں پڑ جاتے ہیں۔

ملاکی کی کتا ب میں قوم کا خداوند کے ساتھ ردِعمل پوری کتاب میں گہرے شک و شبہ اور تلخ مزاجی کا مظہر ہے۔ اِبتدائی مرحلے میں  وہ خدا کی محبت کے اِعلان کو ردّ کرتے ہیں (ملاکی 2:1)۔ اور آخر میں  کہتے ہیں کہ  خداوند کی فرماں برداری بے فائدہ ہے کیوں کہ بدرکار ترقی کرتے ہیں اور مغرور  نیک  بخت ہوتے ہیں (ملاکی 15:3)۔ خدا کی عدالت کہاں ہے؟ (ملاکی 17:2)۔  یہ تلخ مزاجی اُس کے لوگوں کی کچ دِل عبادت،  اِسرائیلی  شادی شُدہ عورتوں سے بے وفائی (ملاکی 14:2-16)  اور اُن کے تنگ نظری سے دیئے گئے ہدیے میں ظاہر ہوتی ہے (ملاکی 8:3-9)۔ یہاں تک کہ کاہن بھی اِسی رویے سے متاثر ہو چکے  تھے  (ملاکی 1:2-9)۔ وہ لوگوں  کو  ناقص  قربانیاں پیش کرنے دیتے اور رِشوت لے کر نااِنصافی پر مبنی فیصلے کرتے تھے (ملاکی 9:2)۔  مشکل حالات اکثر  دِلوں کو خدا کے ساتھ تعلق میں سرد کر دیتے ہیں،  چاہے زمانہِ ماضی کی بات ہو یا عصرِ حاضر کی۔ 

3۔ ملاکی کی کتاب ظاہر کرتی ہے  کہ  خدا  اُن کی عزت کرتا ہے جو اُس کی عزت کرتے  ہیں۔ 

ملاکی کے دَور میں ہر شخص خداوند کے خلاف اِس شکی اور تلخ رویے میں شریک نہ تھا۔  بعض لوگ اب بھی خدا کے خوف کو مانتے تھے، اور خداوند نے اُن کے اُس رویے کو دیکھا اور اُنہیں اپنی ”خاص ملکیت “ ٹھہرایا (عبرانی : سیگولہ ؛ ملاکی 17:3)  وہی لفظ جو خروج 6:19 میں اِسرائیل کے لئے اِستعمال ہوا تھا ۔  خداوند ناگہاں اپنی مقدس ہیکل میں آ  موجود  ہوگا  تاکہ وہ عدل و انصاف کو قائم کرے  جس کے لئے لوگ بظاہر ترس رہے تھے (ملاکی 1:3-2)۔ وہ راست بازوں کو شریروں سے ہمیشہ کے لئے جدا کرے گااور جو لوگ خداوند سے ڈرتے ہیں اُنہیں اُس کی حقیقی قوم کے طور پر سچّا ٹھہرایا جائے گا، جب کہ شریر عدالت کا نشانہ بن کر ہلاک ہوں گے (ملاکی 1:4-3)۔ اُس وقت،  قوم کا وفادار بقیہ  موسیٰ کی شریعت کو یاد رکھے  گا،  یعنی پاکیزہ زندگی کے لئے خدا کے معیار اور اُس نئے ایلیاہ کی آمد کا منتظر ہو گا ، جو نبیوں  کا نمائندہ ہو گا،  تاکہ خدا کے لوگوں  کو توبہ کے لئے بلائے (4:4-6)۔  اور جو لوگ اُس کے پیغام کو قبول نہ کریں گے، وہ ہلاکت کی لعنت (عبرانی: حیرم)  کا سامنا کریں گے (ملاکی 6:4)۔ 

لیکن اگر ہم سب گنہگار ہیں اور موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے میں بُری طرح ناکام ٹھہرتے ہیں، جیسا کہ پولس رسول رومیوں 3 باب میں واضح کرتاہے تو پھر خدا  روزِ عدالت راست بازوں اور ناراستوں میں کیونکر اِمتیاز  کرے گا،  بغیر اِس کے ہم سب کو مجرم ٹھہرائے؟ وہ یعقوب جیسے ناراست شخص کو،  جس سے وہ محبت رکھتا ہے اور جسے اُس نے چُن لیا ہے ،  کیسے بچا سکتا ہے؟ اِس سوال کا جواب عہدِ جدید میں پایا جاتا ہے اور ملاکی کی نبوت ہمیں اُسی کے لئے پوری طرح تیار کرتی ہے۔ لوقا  17:1 میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کو اُس کی پیدایش سے پہلے ہی اُس ”ایلیاہ “ کے طور پر پہچانا جاتا ہے جو یسوع مسیح کی پہلی آمد سے پہلے ظاہر ہونا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ فرشتے کا پیغام ملاکی کی نبوت کے صرف مثبت پہلو پر زور دیتا ہے: ” اور وہ ایلِیاہ کی رُوح اور قُوت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیار کرے“(لوقا 17:1)۔  یہاں ملاکی کی نبوت میں مذکور ”عدالت کی لعنت “ (حیرم)  کا کوئی ذِکر نہیں، کیوں کہ مسیح اپنی پہلی آمد میں کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے  آیا تھا (متی 21:1)  نہ کہ ہلاکرنے  کے لئے۔ 

تبدیلی   کے پہاڑ پر، یسوع موسیٰ اور ایلیاہ دونوں سے مِلا،  اور یروشلیم سے اپنے خروج (یونانی ایگزودون) کے بارے میں بات کی، جس کے ذریعہ وہ اپنے لوگوں کو نجات بخشے گا (لوقا 31:9)۔  لیکن جو لوگ اب بھی  مسیح کو قبول کرنے سے اِنکار کرتے ہیں،  اُن کے لئے اُس کی ایک آمد ابھی باقی ہے، جب مسیح سفید گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آئے گا  تاکہ توبہ نہ کرنے والوں کو ہلاک کرے  (مکاشفہ  11:19-21)۔  مگر وہ لوگ جن کے دِلوں میں خداوند کا خوف مسیح پر اِیمان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اُن کے لئے وہ دِن ایسے ہوگا جیسے بہار کی پہلی صبح کی دھوپ، جو خوشگوار طور پر جسم کو گرماتی ہے،  نہ کہ ایسا دہکتا تنور جو ہر چیز کو بھسم کر دیتا ہے (ملاکی1:4-2)۔ 

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔