تین چیزیں جو آپ کو عزرا  کی کتاب کے بارے  میں جاننی چاہئیں
24/10/2025
تین چیزیں جو آپ کو ملاکی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
30/10/2025
تین چیزیں جو آپ کو عزرا  کی کتاب کے بارے  میں جاننی چاہئیں
24/10/2025
تین چیزیں جو آپ کو ملاکی کی کتاب کے بارے میں جاننی چاہئیں
30/10/2025

تین چیزیں جو آپ کو  پطرس  کےپہلے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں

پطرس کا پہلا عام خط مسیحیوں  کے مطالعہ کے لئے اِنتہائی اہم کتاب ہے۔  مندرجہ ذیل  تین اہم باتیں ہیں جو آپ کو  پطرس کے پہلے عام کے بارے میں جاننی چاہئیں : 

  1۔ اِس خط کا مصنف پطرس ہے جسے یسوع نے  خاص طور پر چُن کر ”چٹان“  کہا  (متی 18:16)   اور وہ اِسی تشبیہاتی انداز کو اِس خط میں بھی اِستعمال کرتا ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ  اِس آیت کے بارے میں بہت بحث ہوئی  کہ یسوع مسیح  کی بات کا حقیقی مفہوم کیا تھا ،   لیکن ایک بات واضح ہے کہ  یسوع   پطرس سےمخاطب تھا  ، جس نے اِس بات کا  اِعتراف کیا کہ  ” تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے“ (متی 16:16) ۔  یہ تصوّر کرنا دِلچسپ ہے کہ شاید پطرس اُس لمحے کے بعد پتھروں اور چٹانوں کے اِستعاروں سے بہت متاثر ہوا ہو۔  یہ  حقیقت دِل چسپی سے خالی نہیں کہ اُس نے اپنے پہلے خط میں  پتھروں کا تفصیلی ذِکر کیا ہے،  خاص طورپر  1۔پطرس 4:2-8 میں۔   یہاں وہ یسعیاہ نبی کے صحیفے اورحمد و ثنا کے آخری مزامیر (زبور 113-118  جو خاص طور پر فسح کے موقع پر تلاوت کئے جاتے تھے)  میں سے تین اِقتباس پیش کرتا ہے ، جن میں خاص طور پر پتھروں اور چٹانوں کا ذِکر پایا جاتا ہے۔ 

ایک حوالہ ”کونے کے سِرے کے پتھر“ کا ذِکر کرتا ہے   ”جسے خدا صیّون میں رکھے گا“  جو یسوع کی طرف اِشارہ کرتا ہے ، جسے معماروں نے ردّ کیا  (یسعیاہ 16:28؛ زبور 22:128 )۔ ذرا  غور کریں کہ یسوع کے زمانے کے یہودیوں  نے کس طرح   اُسے ردّ کیا۔  آخری حوالہ ایک ایسے پتھر یا چٹان کا ذِکر کرتا ہے، جس سے لوگ ٹھوکر کھائیں گے (یسعیاہ 14:8-15)۔  یہ وہی  پتھر ہے جو آدمیوں کی طرف سے ردّ کیا گیا  لیکن خدا کے نزدیک برگزیدہ او ر بیش قیمت ہے اور یقیناً یہ یسوع مسیح ہے (1۔پطرس 4:2)۔ 

پطرس چاہتا ہے کہ اُس کے قارئین  اِس بات کو سمجھیں کہ مسیحی  ” زندہ پتھر “ ہیں،جنہیں بڑی حکمت اور مضبوطی سے اُس کلیسیا میں جڑا گیا ہے جسے یسوع خود تعمیر کر رہا ہے اور جس کے کونے کے سِرے کا پتھر خود مسیح ہے ۔ یہ عمارت (یعنی کلیسیا) ایک وعدے پر قائم ہے: ”عالمِ اَرواح کے دروازے اُس  پر غالب نہ آئیں گے “ (متی 18:16)۔ 

2۔ پطرس کے پہلے عام خط کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ مسیحی طرزِ حیات   کیسی ہونی چاہئے ۔

پطرس اپنے خط کا آغاز اِس بات سے کرتا ہے کہ   مسیحی وہ لوگ ہیں ”  جوخُدا باپ کے عِلمِ سابِق کے مُوافِق رُوح کے پاک کرنے سے فرماں  بردار ہونے اور یسوع مسیح کا خُون چھِڑکے جانے کے لِئے برگُزیدہ ہُوئے ہیں (1۔پطرس 2:1)۔  پطرس اِس خط کا نصف سے زائد حصہ تقدیس (پاکیزگی) کے موضوع پر صرف کرتا ہے۔  وہ پہلے باب میں احبار کی کتاب سے ماخوذ  ”مقدس ہونے کا ضابطہ “ بیان کرتا ہے: ”پاک ہو کیوں کہ مَیں پاک ہوں“ (1۔پطرس 16:1؛ احبار 44:11-45؛ 20:19؛ 7:20)۔  پھر خط کے باقی حصے میں وہ عملی زندگی کی جدوجہد میں تقدیس کے ظہور کو واضح کرتا ہے،جیسے کہ :  کام کی جگہ اور سماجی نظام میں اعلیٰ حکام کے تابع ہونا، شادی شُدہ زندگی میں رویہ اور کلیسیائی زندگی میں  اِنکساری اور ذِمے داری(1۔پطرس 13:2-25؛ 1:3-7؛ 1:5-11)۔

پاکیزگی زندگی کے تمام پہلوؤں میں نہایت عملی انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ پطرس کی کہی ہوئی بعض باتیں بظاہر عمل میں لانا مشکل معلوم ہوتی ہیں،  مگر وہ اپنے سامعین کو یاد دِلاتا ہےکہ : ” اور تُم اِسی کے لِئے بُلائے گئے ہو کِیوں کہ مسیح بھی تمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمُونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِ قدم پر چلو “ (1۔ پطرس 21:2) ۔  جب ہم اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مسیح نے اپنے خون سے فدیہ دے کر ہمیں چھڑایا ہے  تو یہ حقیقت ہمیں یہ قوت عطا کرتی ہے کہ ہم اُس کے لئے مشکل ترین حالات میں بھی صلیب اُٹھانے کو تیار رہیں۔ 

3۔ پطرس کا پہلا عام  خط سچائی پر مبنی ہے۔

پطرس اپنے خط کو جذباتی مٹھاس میں  لپیٹ کر پیش نہیں کرتا،  بلکہ اپنے  اِیمان دار ساتھیوں کو یاد دِلاتا  ہے کہ مسیحی زندگی ایک ”جنگ“ ہے جس میں مسیحی ”پردیسی اور مسافر “  ہیں (1۔پطرس 11:2)۔    مسیحی اگر غلط روِیہ اِختیار کریں تو وہ دُکھ اُٹھا سکتے ہیں، مگر بعض اوقات وہ ”راست بازی کے سبب سے“بھی دُکھوں کو برداشت کریں گے (1۔پطرس 13:3-14 ،17)۔  بعض اوقات ”نیک عمل“ اُن لوگوں کے نزدیک قابلِ اِعتراض ہوگا جو یسوع کو نجات دِہندہ اور خداوند قبول نہیں کرتے۔ ” بلکہ مسیح کو خداوند جان کر اپنے دِلوں میں مُقدّس سمجھو اور جو کوئی تم سے تمہاری اُمِید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لِئے ہر وقت مُستعِد رہو مگر حلِم اور خوف کے ساتھ “(1۔پطرس 15:3)۔ 

یاد رکھیں کہ ہم مسیح کو اپنا آقا اور مالک جان کر اُس کی خدمت کرتے ہیں   اور وہ    ہمیں جنگ کے میدان میں درُست فیصلے  کرنے اور درُست اَلفاظ کا چناؤ کرنے میں ہماری مدد  کرے گا ۔ پطرس اپنے پہلے خط کے 12:4-19 میں  اُن آزمایشوں پر زور دیتا ہے جن کا سامنا  مسیحی کرتے ہیں اور وہ اپنے قارئین کو تاکید کرتا ہے کہ ” اَے پیارو! جو مصیبت کی آگ تمہاری آزمایش کے لِئے تم میں بھڑکی ہے یہ سمجھ کر اُس سے تعجب نہ کرو کہ یہ ایک انوکھی بات ہم پر واقِع ہُوئی ہے “ (1۔پطرس12:4)۔ 

پطرس یہاں پولس رسول کا ہم آواز دِکھائی دیتا ہے،   جہاں  وہ مسیحیوں  کو مصیبت کے ایّام میں خوشی منانے کی   دعوت دیتا ہے  (1۔پطرس 13:4؛ رومیوں 3:5)۔    پطرس ایسے دُکھوں کی طرف اِشارہ کر رہا ہے جو بظاہر  ہمیں بے معنی  معلوم ہوتے ہیں،   لیکن پطرس اِس قِسم کے دُکھوں کا ذِکر کر رہا ہے جو مسیحی اُس وقت برداشت کرتے ہیں جب وہ پاکیزہ زندگی گزارتے اور   یسوع کا ذِکر عزت اور جلال کے ساتھ کرتے ہیں۔ ” لیکن اگر مسیح ہونے کے باعِث کوئی شَخص دُکھ پائے تو شرمائے نہِیں بلکہ اِس نام کے سبب سے خُدا کی تمجید کرے“ (1۔پطرس 16:4)۔  اور آخر میں پطرس یہ تاکید کرتا ہے کہ : ” پَس جو خدا کی مرضی کے مُوافِق دُکھ پاتے ہیں وہ نیکی کر کے اپنی جانوں کو وفادار خالِق کے سپُرد کریں “ (1۔پطرس 19:4)۔ 

مسیحیوں کو آرام و آسایش کی زندگی بسر کرنے کے لئے نہیں بلکہ ”فرماں برداری“ کی زندگی بسر کرنے کے لئے بلایا گیا ہے (1۔پطرس 12:1)۔  اور یہ قربانی اکثر تکلیف دہ ہوتی ہے اور اِس  کے  لئے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔  یہ آزمایشیں دراصل اِیمان کی سچائی کو پرکھنے کے لئے ہوتی ہیں” اور یہ اِس لِئے ہے کہ تمہارا آزمایا ہُوا اِیمان جو آگ سے آزمائے ہُوئے فانی سونے سے بھی بہت ہی بیش قیمت ہے یسُوع مسیح کے ظہُور کے وقت تعرِیف اور جلال اور عِزت کا باعِث ٹھہرے“(1۔پطرس 7:1)۔ 

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔