
معاف کرنے کا کیا مطلب ہے؟
13/06/2025
کتاب ِ مُقدس کی شریعت کو کیسے پڑھیں ؟
26/06/2025ابلیس کون ہے؟

کلام ِ پاک میں شیطان (ابلیس) کی اِصطلاح کا مطلب مخالف ہے۔ہم اُسے ابلیس کے طور پر جانتے ہیں۔ وہ ایک مافوق الفطرت فرشتہ ہے، جس نےبنی نوع انسان کی تخلیق سے پہلے خدا کے خلاف بغاوت کی تھی اور بعدازاں اس نسلِ انسانی اور خداسے جنگ کی ہے۔ اسے تاریکی کا شہزادہ، جھوٹوں کا باپ، الزام لگانے والا اور فریب دینے والا سانپ (اژدھا) کہا جاتا ہے۔ اصلی تصویر سینگ والے سانڈھ، مزاحیہ مخالف کی طرح کچھ نہیں ہے جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔ وہ تصویر کم از کم جزوی طور پر قرون ِ وسطی کی کلیسیاسے نکلی تھی ۔(شیطان) ابلیس کی احمقانہ تصویر جان بوجھ کر کلیسیا نے بنائی تھی۔ تاکہ اس کا مذاق اڑایا جا سکے۔ کلیسیا کو یقین تھا کہ ابلیس کا مقابلہ کرنے کا سب سے موثر طریقہ اس کی توہین کرنا ہے۔ اس کا سب سے کمزور حصہ اس کے فخر کے طور پر دیکھا جاتا تھا اُس کے غرور پر حملہ کرنا اُسے شکست دینے کا ایک موثر طریقہ سمجھا جاتا تھا۔ ابلیس ہم سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو سکتا ہے لیکن خداوند یسوع مسیح ابلیس سے زیادہ طاقتور ہے۔
ابلیس کے بارے میں بائبل کا نظریہ کہیں زیادہ نفیس ہے۔وہ نور کے فرشتے کے طور پر ظاہر ہوتا ہےیہ تصویر ابلیس کی چالاکی (ہوشیاری) کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھائی کی شکل میں ظاہر کر سکتا ہے ابلیس لطیف، فریب دینے والا اور چالاک ہے۔ وہ فصاحت کے ساتھ بولتا ہے اس کی ظاہری شکل و صورت شاندار ہے۔ تاریکی کا شہزادہ نور کا لبادہ اوڑھتا ہے صحیفہ ابلیس کے بارے میں ایک گرجتے ہوئے شیر کے طور پر بھی بیان کرتا ہے جو چیر پھاڑ سکتا ہے۔
مسیح کو شیر یہودہ کا شیرِ ببر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک نجات دہندہ، مخالفِ شیر اور دونوں تصاویر طاقت کی بات کرتی ہیں تو ایماندار شیطان پر کیا ردِعمل ظاہر کرے۔ ایک طرف ابلیس بہت ہی خوفناک ہے ۔ ۱ـ پطرس5 باب اُس کی 8 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ تمہارا مخالف ابلیس گرجتے ہوئے شیر کی طرح۔
تاہم ایماندار کو سراسر دہشت میں جواب نہیں دیتا ہے ابلیس ہم سے زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے لیکن مسیح ابلیس سے زیادہ طاقتور ہے۔ بائبل اعلانیہ طور پر کہتی ہے جو تم میں ہے وہ دُنیا سے بڑا ہے( ۱ـ یوحنا۴: ۴ )۔ا بلیس با لآخر ایک مخلوق ہے وہ زمان و مکان کی حدود میں ہے وہ ایک سے زیادہ جگہوں پر نہیں ہو سکتا(اگرچہ اُس کی روحانی تاثیریں ہر زمان و مکان کی حدود میں نہیں ہیں) ۔ تاہم اُسے کبھی بھی خُدا کے برابر نہیں سمجھا جائے گا۔ شیطان انسانوں سے اعلیٰ درجہ کی مخلوق ہے۔وہ ایک گرِا ہوا فرشتہ ہے لیکن وہ الٰہی نہیں ہے اِس کے پاس زمینی مخلوق سے زیادہ طاقت ہے۔ لیکن خُدا کی لامحدود طاقت سے کم تر ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔