تاریخی  بیانیے کو کیسے پڑھیں ؟ 
17/07/2025
اَناجیل کا کیسے مُطالعہ کریں ؟
24/07/2025
تاریخی  بیانیے کو کیسے پڑھیں ؟ 
17/07/2025
اَناجیل کا کیسے مُطالعہ کریں ؟
24/07/2025

علم التشریح کیا ہے؟

آج کل ہم اکثر اوقات سنتے ہیں کہ کسی بھی شخص کے نقطۂ نظر کو کسی دوسرے نقطۂ نظر پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ کسی بھی شخص کی حق پر اجارہ داری نہیں بلکہ ہر ایک نقطۂ نظر آپ کی ذاتی سوچ ہوسکتی ہے۔اکثر یہ نقطۂ نظر صحائف پر بھی لاگو کیا جاتا ہے حتیٰ کہ بائبل کے معنیٰ کی اس قدر کھینچ تان کی جاسکتی ہے کہ اس سے کثیر التعداد معنیٰ اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ اِصلاحی روایت نے مستقل طور پر اس نقطۂ نظر کو صرف اِس سادہ وجہ کی بنا پر رد کیا ہے کہ صحائف خدا کا کلام ہیں اور خدا اس بارے میں نہایت فکر مند ہے کہ اس کا کلام کس طرح پڑھا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر صحائف کو خدا کی ہدایات کے مطابق پڑھنا چاہئیں۔

بائبلی متن کی تفہیم اور تفسیر علم التشریح کا خاصہ ہے۔ علم التشریح کا علم التفسیر سے گہرا تعلق ہے جس میں وہ تمام تر اُصولات شامل ہیں جن کے ذریعے صحائف کی تشریح اور تفہیم حاصل کی جاتی ہے۔لہذا ، علم التشریح ، علم التفسیر کا وہ اطلاق ہے جو کسی خاص متن پر کیا جاتا ہے۔اصلاحی روایت کے مطابق بائبل کی تفسیر کرنے کے چند اصولات درج ذیل ہیں۔

۱۔ہمیں بائبل کی تفسیر عاجزی سے کرنی چاہیے 

بائبل مقدس کوئی معمولی کتاب نہیں ہے۔ یہ لاثانی کتاب ہے خدا کا اپنا کلام ، ایمان و عمل کا واحد لاخطا قانون اور جب ہم اسے پڑھتے ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم جان سکیں کہ زندہ خدا ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔باقی تمام اختیارات حتیٰ کہ وہ بھی جو ہمیں بتاتے ہیں کہ صحائف کی تشریح کیسے کرنی چاہیے بذاتِ خود صحائف کے ماتحت ہیں۔ تاہم، جب کہ ہم انسانی مصنفین کے معنی کو جاننے کو کوشش کرتے ہیں تو بنیادی طور پر ہم الٰہی مصنف کے معنیٰ کو جاننے کی کوشش ہی اس کا مطلب ہے کہ ہم بائبل کے محکوم ہیں ناکہ ہم اس کے حاکم جب ہم کسی متن کی تفسیر کرتے ہیں جس کا معنیٰ ہمیں ناگوار گزرے تو ہمیں اسے کمتر سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ مثلاً یوحنا باب ٦ میں یسوع، خدا کے برگزیدہ کرنے والے فضل کی فوقیت کو بیان کرتا ہے جو بہتوں کو ایمان میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ بہت سے لوگ اس تعلیم کو دشوار جان کر اس سے انحراف کرتے ہیں (یوحنا ٦: ٦٦) اسی طرح آج بھی لوگ برگزیدگی پر کتابِ مقدس کی تعلیم کی وضاحت کرنے کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ صحائف کی تعلیمات جیسے کہ وہ ہیں نا کہ جیسے ہم چاہتے ہیں انہیں سمجھیں اور ان کے ماتحت بھی ہوں۔

۲۔ہمیں بائبل کی تفسیر دیانتداری سے کرنی چاہیے 

دیانتداری سے بائبل کی تفسیر کرنے کا مطلب ہے کہ کسی متن کو ویسے ہی پڑھنا چاہئیے جیسا وہ ہے۔  جب ہم اس طریقے سے پڑھتے ہیں تو ہمیں اس متن کی ادبی صنف ، صعنتِ کلام اور تاریخی و ادبی سیاق و سباق کا لحاظ رکھنا چاہیے اور ان الفاظ کی تحقیق کرنے چاہیے کہ جب یہ متن لکھا گیا تو اِس دور میں ان کے کیا معنیٰ مستعمل تھے۔ کی رو سے تشریح کرنا کہلاتا ہے۔  اکثر  تاریخی-قواعدی (Historical-Grammatical) طریقۂ تفسیر کی مدد سے کوشش کی جاتی ہے کہ اس بات سے پردہ اُٹھایا جائے کہ مصنف متن میں مستعمل خاص الفاظ پر زور دے کر ان کے سیاق و سباق میں کیا کہنا چاہتا ہےدیانتداری سے بائبل کی تفسیر کرنے کا عمل متن سے متعلق چند بنیادی سوالات سے شروع ہوتا ہے مثلاً: اِس کا مصنف کون ہے؟ اس کی تحریر کا سیاق و سباق کیا ہے ؟ اس تحریر کے پیچھے اس کا مقصد کیا ہے ؟  ؟۔متن کی ادبی صنف کیا ہے۔

اکثر ان سوالات کے جواب  متن سے ہی مل سکتے ہیں لیکن بعض اوقات خارجی ذرائع جیساکہ بائبلی ۔تفاسیر اور لغات اس کام میں کار آمد ہوسکتی ہیں۔الفاظ کے عام طور پر ایک سے زیادہ معنیٰ یا مفہوم ہوتے ہیں، اور سیاق و سباق یہ تعین کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ کون سا کسی لفظ کا خاص معنیٰ اس کے تمام ممکنہ معانی میں سے مقصود ہے – اس کی معنوی حد (مثال کے طور پر دیکھیں کہ نئے عہد نامے میں لفظ ’’دنیا‘‘کو مختلف معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے: متی ۸:۴، ۲۲:۱۳، ۳۴:۲۵، (۲:۲ مرقس ۱۹:۱۴، لوقا ۱:۲، یوحنا ۲۹:۱، ۱٦:۳، اعمال ٦:۱۷، رومیوں ٦:۳، گلتیوں ۱۴:٦، افسیوں کلیدی الفاظ جیساکہ تاہم، بلکہ، لیکن، اس کے بجائے، اور اس طرح ،  مصنف کی سوچ میں تسلسل کو ظاہر کرتے  (۵:۱۲۔(مثلاً : لوقا ۔ ہیں، اور کسی حوالے کی گرامر اس متن موجود اہم بات پر زور کی نشاندہی کرسکتی ہے۔

بائبل کے متن کی تفسیر و تفہیم حاصل کرنا علم التشریح کا خاصہ ہے۔

کسی متن کی ادبی صنف کا تعین کرنا یہ سمجھنے میں ہمارا مددگار ہوتا ہے کہ مصنف کیا کہنا چاہتا ہے۔ بائبل میں شاعری ، نبوت ، مکاشفاتی ادب ، ہدایات اور بہت سے حصہ پائے جاتے ہیں جوکہ ہر ایک اپنی طرز سے ہمیں آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ متن کیسے سمجھا جانا چاہئیے۔ مثال کے طور پر ، اگر ایک متن شاعری ہے۔ تو یہ ایسے اجزا اور تصاویر پر مبنی ہوسکتا ہے جن کے معنیٰ لغوی نہیں ہوں گے۔ یہی طریقہ مکاشفاتی ادب کے لئے استعمال کیا جائے گا۔اگر یہ ایک کہانی ہے تو اس کا مطلب مسلسل واقعات کی نشاندہی کرنا ہے لیکن یہ واقعات مستقبل میں ظاہر ہونے والی باتوں کی طرف بھی اشارہ کرسکتے ہیں یا مخلصی کی تاریخ میں ایک گراں قدر اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔

متن کے ان تمام پہلو کی تحقیق کرنے سے ہم جان سکتے ہیں کہ جب یہ احاطۂ تحریر میں آیا  تب اس کا مطلب کیا تھا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ متن ہمارے لئے کیا معنیٰ رکھتا ہے۔ یہ عمل مسیح کی آمد اول کی روشنی میں اس متن کے معنیٰ کا تعین کرتا ہے۔ اب جب مسیح آگیا ہے تو ہم کسی حکم یا کہانی کو کیسے سمجھنا چاہئے؟ ہمیں نئے عہد نامے کی کلیسیا کے فرد ہوتے ہوئے مندرجہ بالا کہانی کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ ایک وعدے کی طور پر جس پر ایمان لانا ہے یا ایک حکم کے طور پر جو اطاعت کا متقاضی ہے؟ ایک تنبیہہ کے طور پر جس پر توجہ کرنی چاہیے یا ایک سچائی جس کی تفہیم حاصل کرنی چاہئے ؟یا مرہم کی طرح استعمال کرنی چاہئے؟۔

۳۔ہمیں بائبل کی تفسیر ذمہ داری سے کرنی چاہیے۔

چونکہ خدا صحائف کا حقیقی مصنف ہے اس لئے صرف وہی اس کی حتمی تفسیر مہیا کرتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ کلام کی تفسیر کلام خود کرتا ہے۔ ویسٹ منسٹر کا اقرارالایمان بیان کرتا ہے کہ :’’کلامِ پاک کی تفسیر کا بنیادی اصول بذاتِ خود کلام ہے۔ اس لیے جب کبھی کسی آیت کے درست اور پورے مطالب جاننے کی ضرورت ہو (جو کثیر الامعنیٰ نہیں بلکہ یک معنیٰ ہے) تو کسی اور مقام پر اُس مضمون کی کسی زیادہ واضح آیت کی روشنی میں دیکھنا چاہئیے ” ہمیں اکثر بائبل میں ایسی واضح آیات کی تلاش کرنی چاہئیے جو مبہم آیات کی وضاحت کرسکیں۔صحائف کی حتمی تفسیر صحائف خود کرتے ہیں یہ کسی دوسرے اختیارات جیساکہ روایات ، کلیسیائی رہنماؤں یا دیگر آرا پر منحصر نہیں ہے۔ ویسٹ منسٹر کا اقرارالایمان مزید بیان کرتا ہے کہ : ’’عمومی ذرائع کے استعمال سے‘‘ (۱۔۷) صحائف کے معنیٰ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ صحائف کا مطالعہ کسی بھی عام کتاب کی طرح جو علم التشریح کے قواعد کے مطابق پڑھی جاتی ہیں کرنا چاہیے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو خام خیالی کا گڑھ بنا لیں تاکہ ہم مجازی تفسیر کو فروغ دے سکیں۔صحائف کا مطالعہ معمولی ذرائع کے استعمال کے ساتھ سنجیدگی سے کرنا چاہیے۔ کسی بھی شخص کو بائبل کے ساتھ معمولی برتاؤ کرکے اسے ناقابلِ تفہیم نہیں کہنا چاہئیے۔ بنیادی طور پر ، ہمیں جاننا چاہئے کہ بائبل ہم سے کیا کہتی ہے کہ خدا کون ہے ؟ اِس نے مسیح میں ہمارے لئے کیا کِیا ہے؟ ہر متن معنیٰ سے بھرپور ہے جس کا اطلاق ہم اپنی زندگیوں میں کرسکتے ہیں۔تاہم یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے نتائج کو دیکھیں کہ اِن کا اطلاق ہم پر ایمان میں مسیح کے ساتھ ہماری پیوستگی میں کس طرح ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ خوشحال زندگی کا وعدہ غیر مشروط طور پر نہیں کیا گیا۔مثال کے طور پر ، یرمیاہ ۱۱:۲۹ میں خدا کے ان وعدہ کا اطلاق بابل میں اسرائیلی اسیروں کے ساتھ برکت کی اُمید کے طور پر کیا گیا تھا۔لیکن مسیح بطور خدا کا فرماں بردار بیٹا اور حقیقی اسرائیل ہونے کی جہت سے خدا کے تمام وعدوں کا وارث اور خدا کے تمام انعامات کا حقدار ہے۔ ہم مسیح کے ساتھ پیوستگی کے وسیلہ سے اس کی ناقابلِ بیان برکت کو حاصل کرتے ہیں(افسیوں ۱: ۳-۱۱)۔یہ خوشی کی خبر ہے جو صحائف کے ہر صفحہ پر منکشف ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔