
مَیں کس طرح راست باز باپ بن سکتا ہوں؟
10/03/2026
مشکلات اور آزمایشوں کے ذریعے بچوں کی پرورِش کرنا
17/03/2026کیا مسیحیوں کے لیے غم کرنا روا ہے؟
یہ ایک بےترتیب تسلسل کے ساتھ یوں وقوع پذیر ہوتا ہے کہ دُکھ ہمارے بظاہر پُرسکون اَیّام میں داخل ہو کر ایک بار پھر اُنہیں منتشر کر دیتا ہے۔ رنج و اَلم کے تجربات کا یہی ناپسندیدہ شیوہ ہے کہ وہ بلا اِجازت یلغار کرتے اور جو اُن کی زدّ میں آتا ہےاُسے ماتم زدّہ، غمگین اور شکستہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ کربناک واقعات حقیقی نقصان اور محرومی کو جنم دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ کبھی بھی کسی موزُوں وقت پر نہیں آتے، کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ مصائب کا سامنا کرنے کے لیے کوئی وقت بھی خوشگوار یا پسندیدہ نہیں ہوتا۔
تاہم کلیسیا کے اندر کبھی کبھی ایک ایسا ذہنی رویہ پایا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے غم کو چھپانا چاہیے، خوشی کا لبادہ اوڑھ کر یوں زِندگی گزارنی چاہیے، جیسے یہ مشکلات جو ہم سہہ رہے ہیں بالکل ’’ٹھیک‘‘ ہیں۔ ہم عام طور پر دُعا و سلام کے جواب میں کہتے ہیں: ’’مَیں خیریت سے ہوں، شکریہ‘‘ حالاں کہ دِل کی گہرائی میں ہم بالکل خیریت سے نہیں ہوتے۔ ہم عبادت کے لئے آتے ہیں اور وہ گیت گاتے ہیں جو ہماری موجودہ حالت کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی پُرجوش محسوس ہوتے ہیں۔
یوں دِکھائی دیتا ہے کہ گویا ایک خیال یہ ہے کہ مسیحی، جو خداوند کی قدرت سے تقویت پاتے ہیں، غم کو تسلیم کرنے کے ضرورت مند نہیں (بلکہ شاید اُن کے لئے ایسا کرنا مناسب بھی نہیں)، اور یہ کہ زِندگی کی مشکلات کو کم تر سمجھنے میں ہی اصل قوت مضمر ہے۔ آخرکار ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ” جب ہم طرح طرح کی آزمایشوں میں پڑیں تو اِس کو کمال خوشی کی بات سمجھیں (یعقوب 2:1)۔ لیکن اِس نقطۂ نظر کے تحت اِیمان دار اِس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اگر سب کچھ محض خوشی ہی شمار کیا جائے تو پھر ماتم اور سوگواری کے لیے گنجائش کہاں باقی رہتی ہے۔
ہمارے روز مرہ کے اِلٰہیاتی فہم میں واعظ 2:7-4 کو نمایاں طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے:
” ماتم کے گھر جانا ضیافت کے گھر میں داخل ہونے سے بہتر ہے کیوں کہ سب لوگوں کا اَنجام یہی ہے اور جو زِندہ ہے اپنے دِل میں اِس پر سوچے گا۔غمگینی ہنسی سے بہتر ہے کیوں کہ چہرے کی اُداسی سے دِل سُدھر جاتا ہے۔دانا کا دِل ماتم کے گھر میں ہے لیکن احمق کا جی عشرت خانہ سے لگا ہے “۔
یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ دُنیا غم نہیں کرنا چاہتی، کیوں کہ وہ ایسے ماتم کرتے ہیں جیسے اُن کے پاس کوئی اُمید باقی نہیں(1۔تھسلُنیکیوں 13:4)۔ مصیبت کو یوں معمولی جاننا دُنیا کی روِش کے مطابق تو معقول دِکھائی دیتا ہے، لیکن کلیسیا کا کیا؟ ہم کیوں اُس وہم کا شکار ہوتے ہیں کہ مصیبت کو معمولی اور بےاَثر سمجھنا چاہیے؟ اور ہم کیوں ماتم کی جگہ سے دُور بھاگتے ہوئے جلدبازی میں عشرت، قہقہوں اور مسرت کے گھر کو تلاش کرتے ہیں؟ شاید ہم نے دُنیا کے طرزِ عمل کو اپنے اندر واعظ بنا کر دُہرانا شروع کر دیا ہے کہ ’’کھاؤ، پیو اور خوش رہو ‘‘(واعظ 15:8)۔ ’’کیوں کہ کل ہم مر جائیں گے‘‘ (یسعیاہ 13:22)۔ ہم نے درحقیقت اُس چیز کو، جو نہایت مکروہ اورخدا کی اصل تخلیق اور منصوبے کے خلاف ایک غیر فطری حقیقت ہے، اُس میں داخل ہو گئی ہے ، جسے اُس نے ”بہت اچھا“ کہا تھا اور اُس زِندگی، برکت اور فیاضی کو آلودہ کر کے اُسے کچھ اَور بنا دیا ہےجو وہ اصل میں ہے ہی نہیں۔ ہم نے اُس دُشمن یعنی دُکھ کے بارے میں، جو خدا کے نیک منصوبے کے خلاف رکاوٹ ڈالنے والا ، حملہ آور کرنے والا اور ہمارے گناہ میں گرنے کے نتیجے میں آیا، یوں کہہ دیا ہے کہ ’’ تُو کچھ زیادہ بُرا نہیں۔ لیکن خدا کی سچائی محض اِس بےحس طرز پر غم کا سامنا کرنے سے کہیں زیادہ جلالی ہے۔ ‘‘
خدا کے اِنتظام میں اِیمان دار بجا طور پر اَذّیت کو اُس کے اصل نام سے پکار سکتا ہے: ہولناک اور ناگوار۔ ہم ماتم والے گھر جا سکتے ہیں، اِن غموں کو بجا طور پر خداوند کے حضور لے جا سکتے ہیں(1۔پطرس 7:5) اور بجا طور پر اِن کو اپنے دِل پر بھی لے سکتے ہیں (واعظ 2:7) ۔ آخرکار، زبور کی کتاب میں نوحوں کے اِلٰہیاتی اِظہار کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بائبل کی ایک پوری کتاب اِسی کے لیے وقف ہے (نوحہ ) ۔
اِس کے ساتھ ہم اُس پُراُمید سچائی کو بھی تھامے رکھتے ہیں کہ خدا نے یسوع مسیح میں لعنت پر غلبہ پایا ہے۔ اُس نے گناہ اور رنج و الم کی اِس دُنیا پر فتح حاصل کی اور ہمیں تمام دُکھوں سے رِہائی بخشی، یہاں تک کہ مشکلات کو بھی ہماری زِندگیوں میں اپنے نیک مقاصد کے تابع کر دیا۔ پس ہم اُن کی مانند غم نہیں کرتے جو نا اُمیدی کی حالت میں آنسو بہاتے ہیں۔ ہم بجا طور پر غم سہتے ہیں، لیکن اُس غم کی حالت میں بھی خدا کی نیک تدبیر پر مکمل بھروسا کرتے ہیں۔ یہ حقائق اِلٰہی ہم آہنگی میں قائم ہیں، نہ کہ باہمی کشمکش یا متصادم تضاد میں۔
پس اے عزیز مسیحیو! ’آئیں ہم مناسب انداز میں سوگ منائیں۔ آ ئیں ہم آنسو بہائیں اور غم کریں، لیکن مایوس نہ ہوں۔ آئیں ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو ماتم کرنے دیں اور اُن کے غم پر کوئی پابندی نہ لگائیں۔ محض اِتنی مدت تک جو مسیحی روایات کے مطابق قابلِ قبول ہو، اِس سے پہلے کہ وہ دوبارہ خوشی کا اِظہار کریں۔ اور ہم سب دِل کو مضبوط رکھیں، کیوں کہ اگرچہ ہم اِس دُنیا میں دُکھ اُٹھاتے ہیں لیکن مسیح اِس دُنیا پر غالب آیا ہے (یوحنا 33:16)۔ کیوں کہ ایک دِن ” وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا “(مکاشفہ 4:21) ۔ لیکن یہ وہ دِن نہیں ہے۔ تب تک ہم یہی کہتے ہیں: ”خداوند یسوع جلد آ“۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


