
اِصلاحی علم ِ النجات کیوں اہم ہے ؟
30/07/2026پہلا تنازعہ : آگسٹین بمقابلہ پلاجیس
ابتدائی کلیسیا میں نجات کے عقیدہ کے متعلق انتہائی اہم تنازعہ ، پلاجین تنازعہ تھا ۔پانچویں صدی کے اِس تنازعے کے نتیجہ نے اِس موضوع پر ہونے والی ہر بعد کی بحث کو تشکیل دیا ، یہاں تک کہ اِس میں سولہویں صدی کی اِصلاح کلیسیا کی علم النجات کے متعلق بحث بھی شامل ہے ۔پلاجین تنازعہ کے ایک طرف تو ہمیں پلاجیس(Pelagius)، کائیلیسٹس(Caelestius) اور جولین آف ایکلینم (Julian of Eclanum)جیسے اشخاص ملتے ہیں ، جب کہ دوسری طرف آگسٹین اور جیروم جیسے لوگ نظر آتے ہیں ۔آگے چل کر اِس تنازعہ میں جان کیسیان(John Cassian) نے ایک ایسا موقف اختیار کیا جو بعد میں نیم پلاجین ازم کے نام سے جانا گیا ،تاہم ، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہم اصل اہم شخصیات کی بنیادی تعلیمات پر توجہ مرکُوز کریں گے ۔
پلاجیس کون تھا ؟
پلاجیس ایک برطانوی راہب تھا اور پلاجین تنازعہ کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے رہبانیت کے بارے میں کچھ جاننا ضروری ہے ۔تیسری صدی میں ،ایک مسیحی سنیاسی تحریک شروع ہوئی جس کا اظہار رہبانیت کے فروغ کی صورت میں ہوا ۔راہب ، خواہ انفرادی طور پر ہوں یا جماعت کی شکل میں ، سخت زاہدانہ طرزِزندگی اِختیار کرتے تھے تاکہ وُہ نجات حاصل کر سکیں ۔زُہد میں مختلف قسم کی مشقیں شامل تھیں جن کا مقصد راہب کو جسمانی خواہشات پر قابو پانے میں مدد دینا تھا تاکہ وُہ خُدا کے ساتھ رفاقت حاصل کر سکے ۔
آگسٹین نے راہبانہ طریقوں کو مکمل طور پر رَد نہیں کیا ، لیکن اپنے اقرارالایمان کی کتاب ۱۰ میں اُس نے ایک معرُوف دُعا تحریر کی :”جو تُو حُکم دیتا ہے وُہ عطا کر ، اور جو تُو چاہے حُکم دے ۔” یہ خُدا سے ایک درخواست تھی کہ وُہ آگسٹین کو اپنے احکام کو پُورا کرنے کی قدرت عطا کرے ۔پلاجیس کا خیال تھا کہ ایسی دُعا سُست راہبوں کو خُدا کے احکام کی فرمانبرداری نہ کرنے کا بہانہ فراہم کر کے سخت شخصی ضبط پر مبنی راہبانہ طرز ِزندگی کو کمزور کرتی ہے : "یہ خُدا کا قصُور ہے ۔ اُس نے مجھے وُہ فضل عطا نہیں کیا کہ مَیں اُس کی فرمانبرداری کر سکوں ۔اِس لیے پلاجیس نے آگسٹین کے نظریے کو رَد کیا ۔
پلاجیس کا اصل گُناہ کے عقیدہ کا اِنکار
اِس تنازعہ کی جڑ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پلاجیس اور کائیلیسٹس کی چند بنیادی تعلیمات کو بھی سمجھیں ۔اوّلین اور اہم ترین بات یہ ہے کہ پلاجیس نے اصل گُناہ کے ہر تصور کو رَد کیا ۔اُس نے طویل عرصہ تک مانونیت کے حامیوں سے بحث کی ، جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے بُرے ہیں کیونکہ اُن کے جسم مادی ہیں ۔اِس کے جواب میں ، پلاجیس نے کہا کہ انسان فطرت کے اعتبار سے اچھے ہیں کیونکہ وُہ خُدا کی تخلیق ہیں ۔
جب پلاجیس نے آگسٹین جیسے اسُتادوں کو یہ کہتے سُنا کہ انسان فطرتاً اچھے پیدا کیے گئے تھے لیکن آدم کے گُناہ کے باعث بگڑ گئے ، تو اُسے یہ بات مانونیت سے بہت ملتی جلتی لگی ۔اِس کے جواب میں پلاجیس نے کہا کہ آدم کے گُناہ کا اثر صرف آدم پر ہی ہوا ۔اُس نے کہا کہ ہم گُناہ آدم کی تقلید میں کرتے ہیں نہ کہ اِس لیے کہ ہم فطرتاً گُناہ آلُود ہیں ۔بلکہ آدم کی اولاد ہونے کے ناطے ، ہم گُناہ کی عادت کو تقلید کے ذریعے سے سیکھتے ہیں جس طرح بچے فطری طور پر اپنے والدین کی عادات اور بول چال اپنا لیتے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گُناہ کی عادت ایک لہجے کی طرح پختہ ہو جاتی ہے ۔
پلاجیس کا فضل کے بارے میں منفرد نظریہ
پلاجیس نے اِس بات کا اِنکار کیا کہ اُس کے نظریہ میں نجات کے لیے خُدا کے فضل کی کوئی جگہ نہیں ، لیکن اُس کا فضل کے بارے میں یہ تصور سمجھنا مشکل ہے کیونکہ وُہ ہر دوسرے نظریہ ِفضل ، خواہ وُہ رومن کیتھولک ہو یا پروٹسٹنٹ، سے بہت مختلف ہے ۔
سب سے پہلے تو ، پلاجیس کے مطابق ، کلام مُقدس میں خُدا کی طرف سے مکاشفہ کا تحفہ ایک پُر فضل تحفہ ہے ۔یہ بات خُدا کے لیے لازم نہ تھی کہ وُہ ہمیں اپنی شریعت عطا کرتا ۔دوم، مسیح یسوع بطور تحفہ بھی پُر فضل ہے ۔اب ہمارے پاس تقلید کرنے کے لیے ایک نیا آدم موجود ہے ۔اگر ہم مسیح یسوع کی تقلید کریں تو ہم آہستہ آہستہ فرمانبرداری کی نئی عادت اپناتے ہیں ،اور چونکہ مسیح یسوع بے گُناہ تھا ، تو ہم بھی اگر درُست انتخاب کریں تو بے گُناہی حاصل کر سکتے ہیں ۔سوم ، اور سب سے بڑھ کر ، ہماری انسانی فطرت خود ایک پُر فضل تحفہ ہے ۔ہم نے پیدا کیے جانے کی درخواست نہیں کی تھی ۔نیکی اور بدی میں سے کسی ایک چیز کو چُننا ، ہماری فطری صلاحیت کا حصہ ہے ۔یہ صلاحیت ، خُدا کی طرف سے ایک ایسا تحفہ ہے جسے نہ تو ہم نے خود کمایا ہے اور نہ ہی ہم اِس کے مستحق ہیں ۔دوسرے لفظوں میں ، خُدا نے فضل سے ہمیں آزاد مرضی عطا کی ہے تاکہ ہم آدم کی بجائے یسوع مسیح کی تقلید کا انتخاب کر سکیں ۔پس ، پلاجیس خود بھی اِس بات کو ماننے کا دعویٰ کرے گا کہ نجات فضل سے ہے ۔
آگسیٹن کا جواب
آگسٹین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پلاجیس ، انسانیت کے مسئلہ کی اصل فطرت کو سمجھنے میں بالکل ناکام رہا ، اور نتیجاً وُہ اِس مسئلہ کے حل کو بھی نہ سمجھ سکا ۔موروثی گُناہ اور آدم کی گِراوٹ کے نتیجہ میں انسانی فطرت کے بِگاڑ کو رَد کرتے ہوئے ، پلاجیس نے فضل کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو کہ درحقیقت فضل نہیں ہے ۔آگسٹین نے اِس بات پر زور دیا کہ آدم کی گُناہ میں گِراوٹ سے پہلے اور بعد کی انسانیت میں بہت بڑا فرق ہے ۔اُس نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ آدم کی بِگڑی ہوئی فطرت اُس کی تما م نسل میں منتقل ہوتی ہے ۔ آگسٹین کے نزدیک ، فضل اُن گنہگاروں کو دیا جانے والا تحفہ ہے جو اِس کے مستحق نہیں ہوتے ۔
یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ آگسٹین نے فضل کے عقیدہ کو اِس طرح فروغ دینا شروع کیا جو بعد میں قرون ِ وسطیٰ کے علم النجات کے کلیسیائی کہانتی نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوا ، جو کہ آج کے دَور میں رومن کیتھولک ازم کی پہچان ہے ۔لیکن ہمارے موجودہ مقصد کے لیے ، پلاجیس تنازعے کا مرکزی نقطہ مورُوثی گُناہ کے عقیدہ کی بائبلی سچائی پر زور دینا تھا ۔اِس کی تفصیل ۵۲۹ ء میں کونسل آف اورینج کے قوانین میں بیان کی گئی ۔اگر مسئلےکی درست تشخیص نہ کی جائے تو حل ( یعنی نجات کے عقیدہ) کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں ۔
اگلے مضمون میں ہم اِس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح سے روم نے ، موروثی گُناہ کے عقیدہ کے ہوتے ہوئے بھی ، انسان کے مسئلہ کے ایک اور پہلو کو غلط سمجھتے ہوئے ایک مسخ شُدہ علم النجات کو فروغ دیا ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


