صحائف الانبیا کا مطالعہ کیسے کریں؟ 
12/07/2025
تاریخی  بیانیے کو کیسے پڑھیں ؟ 
17/07/2025
صحائف الانبیا کا مطالعہ کیسے کریں؟ 
12/07/2025
تاریخی  بیانیے کو کیسے پڑھیں ؟ 
17/07/2025

یاد رکھنا اور بائبل پر عمل کرنا

بائبل مُقدس  کو سیکھنا ایک زُبان سیکھنے کی مانند ہے۔ جیسا کہ کوئی بھی زُبان سیکھنے کا بہترین طریقہ اُس میں مکمل ڈوب جانا ہے،  ویسا ہی معاملہ خُدا کے کلام کے ساتھ ہے۔ جب ہمارے بچے بولنا، پڑھنا اور لکھنا سیکھتے ہیں، تو وہ تکرار، مشق اور اِستعمال کے ذریعے انگریزی سیکھتے ہیں۔ اسی طرح، جب ہم خُدا کے کلام کو پڑھتے ہیں، تو اُسے یاد رکھنے کے بہترین طریقوں میں سے کچھ یہ ہیں کہ ہم اُسے باقاعدگی سے پڑھیں، دِلوں  میں  دُعا  کریں ، خاندانی  زِندگی میں اُسے بُن لیں اور اُسے مُنادی کے ذریعے سنیں۔ دوسرے اَلفاظ میں، جتنا زیادہ ہم روزمرہ کی زِندگی میں پاک کلام کو شامل کریں گے اور اُس پر عمل کریں گے تو  اُتنا ہی زیادہ ہم اُسے یاد رکھیں گے اور اُس کی قدر و  قیمت کو پہچانیں گے۔

۱۔ پوری بائبل مُقدس  کو باقاعدگی سے پڑھنا

سب سے پہلے، ہمیں پوری بائبل کو باقاعدگی سے پڑھنا چاہیے۔ جس طرح کسی زُبان کو سیکھنے کے لیے بنیادی چیزیں اَلفاظ، قواعد اور مواد ہوتی  ہے، اُسی طرح خُدا کے کلام کو سمجھنے کے لیے بھی یہی چیزیں ضروری ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زبُور پہلے  میں  اِیمان دار کو خُدا کی شریعت  پر دِن رات غور و فکر کرنے کی نصیحت نہیں کی گئی — بلکہ یہ فرض کر لِیا گیا ہے کہ اِیمان دار ایسا کرتے ہیں (زبور۲:۱)۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اِیمان دار نہیں جانتے کہ بائبل مُقدس  پر غور و فکر کیسے کِیا جائے ۔ تو اُنھیں کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟ سب سے پہلا اور واضح قدم یہی ہے: بائبل مُقدس  کو پڑھنا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے مسیحی پوری بائبل نہیں پڑھتے۔ اگر ہم جائزہ لیں کہ ہم نے کتنی بائبل پڑھی ہے، تو کیا ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم مخصوص اور پسندیدہ  تحریروں ، جیسے کہ اناجیل یا رُومیوں  باب ۸، کی طرف ہی زیادہ مائل ہوتے ہیں؟ لیکن  پھر بھی ہمیں خُدا کے کلام کے ہر حصے کو قیمتی جاننا چاہیے — اگر کسی اور وجہ سے نہیں تو کم از کم اس لیے کہ یہ خُدا کا کلام ہے۔ زبور ۱۱۹ میں خُداوند کی شریعت کے لیے مکمل محبت کا اِظہار اس لیے کِیا گیا، کیوں کہ زبُور نویس  کا مقصد خُداوند، جو اُس شریعت  کا دینے والا ہے ،اُس  سے پورے دِل سے محبت رکھنا  تھا۔ ہمیں خُدا کی ہستی اور اُس کی صفات کا مکمل فہم حاصل کرنے کے لیے کلامِ مُقدس کے ہر حصے کی مکمل تصویر حاصل کرنے کی پوری ترتیب کی   ضرورت ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم بائبل  مُقدس کو پڑھنے کا ایک منظم منصوبہ بنائیں۔

اگرچہ بائبل پڑھنے کے کئی منصوبے موجود ہیں، لیکن اگر ہم روزانہ تین سے چار ابواب پڑھیں تو تقریباً ایک سال میں پوری بائبل مکمل ہو سکتی ہے۔ جتنا زیادہ ہم باقاعدگی سے کلامِ مُقدس کے ہر حصے کو پڑھیں گے، اُتنا ہی زیادہ وہ حصے ایک دوسرے کی وضاحت کرنے لگیں گے، کیونکہ ہم بائبل کی اَلفاظ ، اُسلوب اور طرزِ فکر کو اپنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ ذاتی عبادت کے لیے وقت مختص  نہ کریں ،  خُدا کی کتاب کو باقاعدگی سے نہ پڑھیں اور خُدا کے کلام کے ذریعے لگاتار کھیتی نہیں کریں گے ، تو ہم  کیسے اپلوس کی مانند  ’’ کتاب ِ مُقدس کے ماہر‘‘ بنیں گے (اَعمال ۲۴:۱۸)؟ 

۲۔ اپنی بائبل کو پڑھنے  کے دوران دُعا کرنا

کلامِ مُقدس کا مُطالعہ محض ایک نجی ’’عبادت‘‘  کا مظہر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ در حقیقت ایک عبادت کا عمل ہے، جس کے ذریعے ہم خُدا کو  ڈھونڈتے ہیں اور اُس کا اِظہار بنیادی طور پر دُعا کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف یہ دُعا کرنی چاہیے کہ خُدا ہماری آنکھیں کھولے تاکہ ہم اُس کی شریعت سے عجیب باتیں دیکھ سکیں (زبور ۱۸:۱۱۹)، بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم بائبل کے اَلفاظ اور تعبیرات کو اپنی دُعاؤں میں شامل کریں۔ اگر ہم ہر بار مُطالعہ کرتے وقت یہ سوال کریں کہ’’ یہ عبارت مجھے خُدا کے بارے میں کیا دکھاتی  ہے؟‘‘ ، تو یہ آسان ہو یا مُشکل، ہر طرح کا متن ہمارے لیے فائدہ مند اور با معنی بن جائے گا۔

مثال کے طور پر، زبور  ۱:۹۰- ۲میں لکھا ہے کہ ’’یا رب! پُشت در پُشت تُو ہی ہماری پناہ گاہ رہا ہے ۔۔۔ ازل سے ابد تک تُو ہی خُدا ہے۔ ‘‘ تو کیا ہم یوں دُعا نہیں کر سکتے: ’’ اے خُداوند! مَیں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ مَیں اور میری اولاد تیرے ساتھ رہتے  ہیں  اور تُو ہمارے ساتھ۔ اور چُونکہ تُو ازلی و اَبدی ہے، تُو ہمارے خاندان  کے ساتھ اپنے وعدوں کو ہمیشہ پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔‘‘  

جب ہم دُعا کے ذریعے خُدا کے جلال کے طالب بنتے ہیں، تو یہی دُعا ہمیں عبادت کی طرف کھینچ لاتی ہے—حتیٰ کہ پہلی  تواریخ کی نو ابواب پر مشتمل نسب‌ناموں میں بھی— کیوں کہ ہم صرف اُن ناموں کی فہرست کے پیچھے  خُدا کی اپنے لوگوں کے ساتھ وفا داری کو دیکھتے ہیں ، نہ کہ محض ایک فہرست کو دیکھتے ہیں۔ 

۳۔ روزمرّہ خاندانی معمولات میں کلامِ مُقدّس کو شامل کرنا

ہم جانتے ہیں کہ خُداوند سے محبت کرنا اُس کے کلام کو اپنی اولاد سے بیان کرنے سے  ظاہر ہوتا ہے—جب ہم بیٹھتے ہیں، اُٹھتے ہیں  اور راہ  چلتے ہیں (استثنا ۶:۶–۷)۔ اس کا سب سے نمایاں اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی عبادت کو خاندانی عبادت میں وسعت دیں: خُدا کے کلام کو مل کر پڑھنا، دُعا کرنا  اور اُس کے کلام پر مبنی حمد و ثنا کریں ۔ اگرچہ خاندانی عبادت کو مختصر اور سادہ رکھنا چاہیے، پھر بھی یہ لمحات نہایت فائدہ مند اور بہتر  ہوتے ہیں۔

جب ہم خُدا کے کلام کو انفرادی طور پر اور اپنے گھروں میں باقاعدگی سے پڑھتے اور اُس کے مُطابق دُعا کرتے ہیں تو یہ عمل فطری طور پر دِن بھر کے دوران کلامِ مُقدّس پر گفتگو کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جب میاں بیوی خُود کو خُدا کے کلام میں شامل  کرتے ہیں — اور اگر اُن کے بچے  ہیں  تو اُنہیں بھی شامل کرتے ہیں — تو وہ ایسے رُوحانی معمولات اِختیار کرتے ہیں جو نہ صرف اُنہیں کلام کو جاننے اور یاد رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ یہ معمولات اُن کی  فطری طور پر روز مرّہ گفتگو میں بھی جھلکنے لگتے ہیں۔ جتنا زیادہ کلام ہم اپنے دِل میں رکھتے ہیں، اُتنا ہی زیادہ ہمارے لب  دِل کی فراوانی سے بولنے لگتے ہیں۔

۴۔ بائبل مُقدس کی مُنادی کو کثرت سے سننا 

جب ہم خُدا کے کلام پر وفا داری سے کی گئی مُنادی سنتے ہیں تو ہم در حقیقت مسیح کی آواز سنتے ہیں (رُومیوں۱۴:۱۰- ۱۷؛ افسیوں۱۷:۲)۔  رُوحُ‌القدس کی قدرت اُن مُنادوں کے ساتھ ہوتی ہے جو خُدا کی گواہی کو اُس کے بیٹے کے ذریعے بیان کرتے ہیں (1 ۔کُرنتھیوں۱:۲- ۵)۔ اگرچہ آن لائن بائبل لیکچرز اور واعظ سننا مفید ہے، لیکن خُداوند یسوع مسیح اور اُس کے لوگوں کے ساتھ اجتماعی عبادت میں شریک ہونا اُس سے کہیں بہتر ہے۔ خُوش قسمتی سے، خُداوند نے ہمیں ہفتہ وار سبت کا دِن عطا کِیا ہے تاکہ ہمارے دِلوں کو آسمان کی طرف موڑ دے—جہاں جی اُٹھا اور صعود فرما چُکا مسیح جلوہ ‌فرما ہے۔ انفرادی اور خاندانی عبادات ہمیں زِندگی بھر خُدا کے کلام میں مشغول  رکھتی ہیں، لیکن اجتماعی عبادت اس عمل کا نقطۂ عروج  اور بنیاد ہے، جہاں رُوح‌القدس کلام کو ہمارے دِلوں میں گہرائی سے اُتارتا ہے  اور ہمیں خُدا کے کلام پر عمل کرنے اور عمل کے ذریعے اُسے یاد رکھنے کے قابل بناتا ہے۔

جیسا کہ آگستین نے اپنی کتاب’’مسیحی تعلیم کی بابت‘‘  (On Christian Doctrine)میں نصیحت کی، بائبل کو پڑھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کے ذریعے خُدا کو تلاش کریں اور اُس سے لُطف اندوز ہوں۔ کاغذ پر لکھی ہوئی باتیں محض ’’نشانات‘‘ ہیں جو خُدا کی طرف اشارہ کرتے  ہیں، لیکن خدائے ثالوث  وہ ’’اصل حقیقت‘‘ ہے جس کی ہمیں خواہش اور جستجو ہونی چاہیے جب ہم اُس کا کلام پڑھتے یا سنتے ہیں۔

کلامِ مُقدس کو سیکھنے میں  پوری جان اور وجود کا مشغول ہونا شامل  ہے۔ کیا ہم دُعا کرتے ہیں کہ رُوح‌القدس بیٹے کو جلال دے جب ہم اُس کا کلام پڑھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بدن اور جان کے ساتھ خُدا کو جلال دینے کا ہدف رکھتے ہیں جو  اُس کے پیارے فرزندوں کو زیب دیتا ہے؟ کیا ہم کلام کو یاد رکھنے کے لیے اُن ذرائع کا استعمال کرتے ہیں جو ہمیں اُس کی گہرائی میں لے جائیں اور کیا ہم اُسے دُعا کے ذریعے  زِندگی میں اُسےعملی   جامہ پہنانےکی کوشش کرتے ہیں؟

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔