عبرانی شاعری کو کیسے پڑھا جائے؟
12/07/2025
صحائف الانبیا کا مطالعہ کیسے کریں؟ 
12/07/2025
عبرانی شاعری کو کیسے پڑھا جائے؟
12/07/2025
صحائف الانبیا کا مطالعہ کیسے کریں؟ 
12/07/2025

حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کیسے کریں؟

’’ خداوند کا خَوف حِکمت کا شرُوع ہے  ‘‘(اَمثال ۱۰:۹؛ نیر غور کریں ایوب ۲۸:۲۸؛ زبُور ۱۰:۱۱۱؛ اَمثال ۷:۱)۔ اگرچہ تاریخ کے مختلف اَدوار میں بہت سے غیر مسیحی اَساتذہ نے گہری بصیرت کی باتیں کی ہیں، تاہم سچی اور کامل حِکمت بالآخر اُوپر سے آتی ہے—یعنی خُدائے ثالوث کی طرف  سے (اِفسیوں ۱: ۱۷؛ کلسیوں ۲: ۳؛ یعقوب ۳: ۱۵، ۱۷)۔ حقیقی حِکمت کی کامل تعبیر صرف اُنہی لوگوں میں ممکن ہے جو زندہ و بر حق خُدا کی تعظیم  اور اُس کی پرستش کرتے ہیں۔

تاہم، بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، کیونکہ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ہر مسیحی اِیمان دار اپنی زندگی میں حِکمت کا مظاہرہ نہیں کرتا ۔در حقیقت، اِیمان دار اکثر ایسی نادانی اور غیر ذِمے دارانہ رویوں کا اِظہار کرتے ہیں جو نہ صرف اُنہیں خُود  رُسوا کرتے ہیں، بلکہ خُدا کے نام پر بھی داغ لگاتے ہیں (مثال کے طور پر دیکھیے: حزقی ایل ۳۶: ۲۰؛ رُومیوں ۲: ۲۴؛ ۱۔کُرنتھیوں ۶: ۵؛ ۱۵: ۳۴)۔مگر کتابِ مُقدّس فرماتی ہے کہ جو حِکمت مانگتے ہیں، اُنھیں حکِمت دی جاتی ہے (یعقوب ۱: ۵)۔اور اِسی مقصد کے لیے رُوحُ‌القدس نے مختلف اَقسام کی حِکمت کی کُتب—جیسے اَمثال، ایوب اور واعِظ —کو اِلہام کے ذریعے قلم بند کروایا۔  پس ایک مسیحی کو حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کیسے کرنا چاہئے کہ وہ اُس  کےلئے  رُوحانی طور  پر فائدہ مند ہو سکے؟ 

۱۔ اِس حقیقت کو تسلیم کیجیئے کہ اِنسان کے لیے اپنی ہی نظر میں دانا بن جانا کتنا آسان ہے

سب سے پہلے، جب ہم حِکمت کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو اِس بات کا اِعتراف دِل سے کریں کہ گناہ آلود فطرت رکھنے والے اِنسانوں کے لیے اپنی ہی ’’نظر میں دانا‘‘  بن جانا نہایت آسان ہے۔

اَمثال کی کتاب  اِس سنگین مسئلے کے بارے میں بات کرتی ہے (امثال ۳: ۷؛ ۱۲: ۱۵؛ ۲۶: ۵؛ ۲۸: ۱۱؛ نیز دیکھیے: یسعیاہ ۵: ۲۱)۔ بلکہ کتابِ مُقدّس فرماتی ہے کہ جو شخص اپنی ہی نظر   میں دانا  ہوتا ہے، وہ بائبل کے’’ احمق‘‘ سے بھی زیادہ خطرے میں ہے (اَمثال ۲۶: ۱۲)۔ جب کہ اِس رُوحانی بیماری کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ:

  • خُدا ترس مشیروں کے نصیحت  کو سُننے سے اِنکار کرنا شامل ہے  (اَمثال ۲۶: ۱۶)،
  • بالخصوص ماں باپ کی تربیت کو ردّ کر دینا (اَمثال ۱: ۸؛ ۴: ۱؛ ۲۳: ۲۲؛ ۳۰: ۱۷)،
  • اور ہر دلیل میں ہر قیمت پر جیتنے کا اِصرار  (واعظ ۷: ۱۵–۱۶)

ایسے رویے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے’’ دو گنا ‘‘   ہوشیار رہنا چاہیے، خاص طور پر جب رُوحانی طور پر پختہ  اِیمان دار کسی غلط سوچ یا عمل پر تنبیہ کریں—کیونکہ بعض اوقات ہمارا فوری ردِّ عمل اپنی بات پر ضد سے قائم رہنے کا ہوتا ہے۔

اِس کے برعکس، ایک حقیقی  مسیحی کو ہمیشہ ایک ’’سیکھنے کے لائق‘‘ رُوح کے ساتھ جینا چاہیے،یعنی ایسا دِل جو خُدا کے کلام، بزُرگوں کی نصیحت  اور رُوحُ‌القدس کی راہ نمائی کے لیے کھلا ہو۔

۲۔ عمومی اُصولوں پر غور کیجیئے

دوسرا اُصول یہ ہے  کہ حِکمت کی کُتب کو اِس  نقطہ نظر سے پڑھا جائے کہ ہم اُصُولی اور عمومی طریقے سیکھ سکیں، جن کے مطابق یہ دُنیا عام طور پر چلتی ہے— اور پھر ہم اپنی زِندگی کو اُن اُصُولوں کے مطابق ڈھالیں۔ عام طور پر  کہا یہ جاتا ہے  کہ جو لوگ ’’ خُداوند کے خَوف‘‘ میں چلتے ہیں اور اُس کی ہدایات  کو عمل میں لانے کی جُستُجو رکھتے ہیں، وہ زِندگی میں کسی نہ کسی درجے کی برکت، ثبات اور خُوش حالی کا تجربہ کرتے ہیں—جیسے ’’ وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔‘‘ (زبُور ۱: ۳)۔

اگرچہ دَور حاضر میں ’’رسمی  حِکمت‘‘  کی اِصطلاح کو بعض اوقات  تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن در حقیقت، کتابِ مُقدّس خُود ایسی حِکمت کا خزانہ ہمارے لیے محفوظ رکھتی ہے، تاکہ نسل در نسل خُدا کے لوگ اُس سے فیض یاب ہوں۔

قارئین  کو اِس طرح کی رسمی حِکمت پر دھیان دینا چاہیئے کہ وہ اِس آزمودہ اور مستند حِکمت کی پیروی کرے، بجائے اِس کے کہ اُسے ردّ کر کے یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اِن عمومی اُصولوں کا اِستثنا ہے۔

مثال کے طور پر، جو ایک مسیحی یہ گمان کرتا ہے کہ وہ کلیسیا کی جماعتی عبادتوں  سے الگ رہ کر بھی رُوحانی ترقی حاصل کر سکتا ہے، تو وہ نہ صرف کتابِ مُقدّس کی تنبیہات اور تاکید  کو نظر انداز کر رہا ہے، بلکہ صدیوں سے اُن بے شمار اور اَن گنت  اِیمان داروں کی تجربہ کار حِکمت کو بھی جھٹلا رہا ہوتا  ہے جنھوں نے مسیح کے نام پر جمع ہونے والی کلیسیا میں ایسی نا قابلِ تسخیر  برکات کا تجربہ کِیا ہے جن کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا (متی ۱۸: ۲۰)۔

۳۔ ’’اُصولوں‘‘ کے اِستثنائی حالات کو بھی نظر میں رکھیئے

تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ حِکمت کی کُتب کو اِس نیّت سے بھی پڑھا جائے کہ ہم اُن حیران کُن اِستثنائی اُصولوں  کو سمجھ سکیں، جہاں زِندگی کے عمومی اُصول لاگو ہوتے نظر نہیں آتے۔ یہ مستثنیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زِندگی میں محض اُصولوں پر اِنحصار کافی نہیں، بلکہ ہر لمحہ خُداوند پر مسلسل اِنحصار اور رُوحانی بصیرت کی شدید ضرورت ہے۔

ایوب کا تجربہ اور واعِظ کی کتاب کی بار بار دی جانے والی تعلیمات اس بات کی گواہی دیتی ہیں  کہ بعض اوقات زِندگی میں عمومی نمونے لاگو نہیں ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات  راست باز بھی دُکھ سہتے ہیں بجائے اس کے کہ اُن کی زِندگی پھلے پھولے— اور بعض اوقات احمق  لوگ خُوش حالی اور کامیابی  کا مزہ لیتے ہیں، بجائے اس کے کہ اُن پر مُصیبت آئے۔ یہ سب دکھاتا ہے کہ زِندگی ہمیشہ سادہ اُصولوں کے تحت نہیں چلتی۔

عہدِ جدید میں بھی ایسی مثال  موجود ہے :

مثلاً، بعض اِنتہائی دُشوار حالات میں بائبل مُقدس  مشورہ دیتی ہے کہ اِیمان دار شادی سے گریز کریں (۱۔کرنتھیوں ۷: ۲۵–۲۶)،


حالاں کہ عمومی طور پر بائبل یہ توقع رکھتی ہے کہ زیادہ تر اِیمانداروں کو ایک ’’معاون شریکِ حیات‘‘  مل جائے  گا، جس کے ساتھ وہ خاندان قائم کریں اور زمین پر خُدا کی بادشاہی کے تحت کارفرما ہوں (پیدائش ۱: ۲۶–۳۰؛ ۲: ۱۸–۲۵)۔ 

پس، جب ایماندار اِس سچائی کو تسلیم کرتا ہے کہ عمومی اُصولوں کے استثنائات بھی ہوتے ہیں، تو وہ ہر صورت حال کو اُس کے مخصوص تناظر میں، دُعا کے ساتھ، خُداوند کی حِکمت اور فہم مانگتے ہوئے پرکھتا ہے— تاکہ وہ ہر قدم پر خُدا کے جلال کے لیے بہترین راستہ اختیار کر سکے۔

۴۔ فہم و  تمییز  اور خُداوند پر اِنحصار کا سلیقہ سیکھیں

چوتھا اُصول یہ ہے کہ حِکمت کی کتابوں کو یوں پڑھا جائے کہ ہم فہم و بصیرت پیدا ہو —یعنی ہر معاملے میں یہ پرکھ سکیں کہ کون سا اِنتخاب’’ بہتر ‘‘یا’’ بہترین‘‘  ہے، نہ کہ صرف یہ دیکھنا کہ کون سا فیصلہ بالکل دُرست یا سراسر غلط ہے۔ یقیناً، کتابِ مُقدّس ہمیں کئی ایسے مطلق اَحکام  فراہم کرتی ہے جو واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ کیا دُرُست ہے اور کیا غلط، ، کیا واجب ہے اور کیا ممنوع ہے ۔

لیکن زِندگی کے بہت سے فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض صحیح یا غلط کے خانوں میں نہیں آتے بلکہ اُن میں درجہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے—یعنی اچھا، بہتر، یا بہترین۔

مثال کے طور پر، ایک مسیحی اِیمان دار اگر یہ تسلیم بھی کر لے کہ اُسے صرف ’’خُداوند میں‘‘  شادی کرنے کی شرط کو قبول کرنا ہے (۱۔کُرنتھیوں ۳۹:۷؛ نیز ۲۔کرنتھیوں ۱۴:۶)،تو بھی اُس کے پاس شریکِ حیات کے لیے کئی ممکنہ آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں صرف اُصولی اِطاعت کافی نہیں، بلکہ رُوحانی حِکمت اور بصیرت کی ضرورت بھی  ہوتی ہے تاکہ وہ جان سکے کہ کون سا رشتہ اُس کے لیے سب سے موزوں ہے۔

اسی طرح زِندگی کے دیگر بڑے فیصلے—جیسے تعلیم، پیشہ، رہایش کا اِنتخاب وغیرہ— اکثر ایسے نہیں ہوتے جن میں سیدھا سا ’’صحیح بمقابلہ غلط‘‘  کا فرق ہو، بلکہ اُن میں کئی ’’اچھے، بہتر یا بہترین‘‘ راستے ہو سکتے ہیں۔

لیکن شُکر ہے کہ خُداوند نے اپنی کتابِ مُقدس  میں اِیمان داروں کے لیے حِکمت کی تعلیم کا خزانہ مہیا کِیا ہے اور اُس نے یہ وعدہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ فروتنی کے ساتھ مانگتے ہیں  اُن کو رُوح‌القدس کی برکت عطا کی جائے گی (لوقا ۱۳:۱۱)۔

گا ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔