
پانچ چیزیں جو آپ کو جہنم کے بارے میں جاننی چاہئیں
28/08/2025
تین چیزیں جو ہمیں کلسیوں کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
08/09/2025بائبل مقدس کی پانچ چیزیں جو آپ کو فیصلہ سازی کے بارے میں جاننی چاہئیں
فیصلے، فیصلے اور مزید فیصلے
ہم ہر روز بے شمارفیصلے کرتے ہیں۔ بعض فیصلے بظاہر معمولی ہوتے ہیں (جیسے: عام کافی یا کیفین سے پاک؟) جبکہ بعض فیصلے زندگی پر گہرے اَثرات مرتب کرتے ہیں۔( جیسے: مَیں کس کالج کا اِنتخاب کروں؟ کیا مَیں یہ ملازمت قبول کروں؟ شادی کے لئے مَیں کس کا اِنتخاب کروں؟)۔ اِن سب میں، ایک اِیمان دار کو خدا کی مدد اور راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی مکمل فہرست نہیں، لیکن بائبلی بنیادوں پر دُرُست فیصلہ سازی کے لئے ہر مسیحی کو یہ پانچ اہم نکات ضرور مدِنظر رکھنے چاہئیں۔
1۔ بائبلی فیصلہ سازی کی بنیاد بائبل پر ہی منحصر ہے۔
یہ بالکل واضح حقیقت ہے کہ بائبل محض کئی متبادل آوازوں میں سے ایک نہیں، جس کا ہم اپنی مرضی کے مطابق اِنتخاب کر لیں۔ بلکہ یہ واحد ذریعہ ہے جو لاخطا حکمت، نصیحت، راہ نمائی اور مشورت فراہم کرتا ہے۔ بائبل مقدس محض ایک معلوماتی کتاب نہیں، بلکہ یہ خود خدا کی آواز ہے، جیسے کہ وہ اپنی سانس کے ذریعے ہم سے مخاطب ہو رہا ہو (2۔تیمتھیس 16:3) یا دُوسرے اَلفاظ میں، بائبل صرف ہمیں معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ ہمارے ساتھ ایک تعلق بھی قائم کرتی ہے۔ یہ ہمارے محبت کرنے والے آسمانی باپ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہے جو ہماری فیصلے سازی میں ہماری راہ نمائی کرتی ہے۔ چناں چہ اگر کوئی فیصلہ واضح طور پر بائبل مقدس کے خلاف ہے تو اِسے بائبل ہی ردّ نہیں کرتی بلکہ خود آسمانی باپ بھی اِسے ردّ کر دیتا ہے اور اِس کے ناگزیر نتائج برآمد ہوں گے۔
2۔ بائبلی فیصلہ سازی دُعا پر مبنی ہوتی ہے۔
بائبلی فیصلہ سازی ایک تعلق پر مبنی ہوتی ہے۔ خدا ہماری سُنتا، ہمارا خیال رکھتا اور ہمیں جواب دیتا ہے۔ ہم محض کسی غیر شخصی راہ نما کتاب کے بارے میں تحقیق نہیں کر رہے، بلکہ خود راہ نما سے راہ نمائی مانگ رہے ہیں۔ ہمارا اِس کتاب کے مصنف کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہی اُس کی حکمت ہے، یہی اُس کی نصیحت ہے اور یہ اُس کے سب بچوں کے لئے لکھی گئی ہے، اُن کے لئے جن کے لئے یسوع نے اپنی جان دی، جنہیں اُس نے خدا کے لے پالک بیٹے بنایا اور اُن سے محبت کی۔ جب ہم اُس سے فریاد کرتے ہیں تو وہ ہمیں عطا کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ ”تم میں ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اُس کا بیٹا اُس سے روٹی مانگے تو وہ اُسے پتھر دے۔ اگر مچھلی مانگے تو وہ اُسے سانپ دے۔ پس جبکہ تم بُرے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا؟“(متی 9:7-11)۔
3۔ بائبلی فیصلہ سازی مشاورت پر مبنی ہوتی ہے۔
بائبل اکثر حکمت بھری نصیحتوں کی روشنی میں دانش مندانہ فیصلے کرنے کی تاکید کرتی ہے۔ ”ہر ایک کام مشورے سے ٹھیک ہوتا ہے“ (اَمثال 18:20)۔ ”۔۔۔ مشورت پسند کے ساتھ حکمت ہے“ (اَمثال 10:13)۔ لیکن یہاں یہ بات لازم ہے کہ وہ ”دِیگر اَفراد“ جن سے مشورت لی جائے وہ نیک، دانش مند اور بائبل کے علم میں راسخ اِیمان دار ہوں۔ ایسے اہلِ دانش کی راہ نمائی ہمارے فیصلے کی توثیق کر سکتی ہے یا اُن ممکنہ خطرات، چیلنجز اور کمزوریوں کی نشان دِہی کر سکتی ہے جنہیں ہم نے نظر انداز کر دیا ہو۔ بد قسمتی سے اِس اُصول کی خلاف ورزی اُس وقت ہوتی ہے جب ہم غیر مسیحی یا ناپختہ دوستوں سے مشورہ لیتے ہیں، جو اکثر وہی کچھ کہتے ہیں جو کچھ ہم سُننا چاہتے ہیں۔ اِسی لئے بائبلی بصیرت رکھنے والوں سے مشورت لینا ضروری ہے، کیوں کہ ”شریروں کی مشورت مکر ہے “ (اَمثال 5:12)۔
4۔ بائبلی فیصلہ سازی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔
بائبلی فیصلہ سازی اِس بات پر غور کرتی ہے کہ خدا اپنی حاکمِ اعلیٰ پروردِگاری میں کس طرح کام کر رہا ہے، کیوں کہ وہی خدا ہے جو تمام مخلوقات کی حفاظت اور اُن کے اَعمال کو حکمت کے ساتھ سنبھال رہا ہے (ویسٹ منسٹر کیٹی کیزم 11)۔ اگرچہ یہ خدا کی مرضی کو جاننے کا واحد معیار نہیں، تاہم خدا ہماری دُعا کے جواب میں ہمیں موقع فراہم کر سکتا ہے یا اپنی حکمتِ عملی سے ہمیں ایسی راہ پر ڈال سکتا ہے جس پر ہم نے پہلے غور نہیں کیا تھا۔ خدا کے لوگ اِیمان کے ساتھ اُس کی طرف رجوع کریں تو وہ اپنی اِلٰہی دیکھ بھال کے ذریعے اُن کی راہ نمائی کرتا ہے اور ہم اُس پر بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں دُرُست سمت میں لے چلے گا۔
5۔ بائبلی فیصلہ سازی خدا کی عطا کردہ اور بائبل سے مصدقہ اُن اُصولوں (اور دِیگر) کا مجموعہ ہے، جنہیں یکجا کرکے اپنانا ضروری ہے۔
نیک اِرادہ رکھنے والے بعض مسیحی بسا اوقات غیر متوازن فیصلے اِس طرح کرتے ہیں کہ بائبلی راہ نمائی کے اُصولوں کو مدِ نظر رکھنے کی بجائے محض کسی ایک پہلو پر اِنحصار کر لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ اِستعمال ہونے والے دو ”واحد ذرائع“ جن پر لوگ غلطی سے خدا کی مرضی جاننے کے لئے بھروسا کرتے ہیں:
1۔ یہ سوچنا کہ ہم خدا کی عاقبت اندیشی کی لاخطا تشریح کر سکتے ہیں، جیسے کہ ”مَیں نے یہ نشان دیکھا ہے“ یا ”مَیں نے یہ خواب دیکھا ہے“۔
2۔ اپنے احساسات پر اِنحصار کرنا، جیسے کہ ”مجھے بس یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہی خدا کی مرضی ہے“۔
جب اِن میں سے کسی ایک کو باقی تمام اُصولوں سے الگ کر کے اپنایا جائے تو فیصلہ غیرمتوازن ہو جاتا ہے۔ خدا نے ہمیں اپنا مکمل کلام بخشا ہے تاکہ ہم اُس کی کامل راہ نمائی میں اپنی فیصلہ سازی میں دُرُست روِش اپنا سکیں۔
ہمارے فیصلوں میں جو اِطمینان اور یقین ہوتا ہے، وہ اِس حقیقت پر مبنی ہے کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے ہر فیصلے میں اپنی برتر مصلحت کو پورا کرتا ہے۔ اور اگر ہم کسی موقع پر غلطی کا اِرتکاب بھی کر لیں، جبکہ اُس کے ممکنہ منفی نتائج کی مکمل ذِمے داری ہم پر ہی ہوتی ہے، تب بھی خدا ہماری زندگی کو ہماری خطاؤں اور گناہوں سمیت سنبھالے رکھے گا، تاکہ آخرکار سب کچھ ہماری بھلائی اور اُس کے جلال کے لئے ہو۔ وہ اِطمینان اورتسلی جو ہمیں پریشانی اور بے یقینی کے طوفانوں سے محفوظ رکھتی ہے ، یہی ہے کہ ہمارا خدا وہی قادرِ مطلق خدا ہے جو اپنی حاکمِ اعلیٰ مرضی سے ہر چیز کو اُس کی بھلائی کے لئے ترتیب دیتا ہے، خاص طور پر اُن کے لئے جو اُس سے محبت رکھتے اور اُس کے مقصد کے تحت بلائے گئے ہیں (رومیوں 28:8)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


