
بائبل مقدس کی پانچ چیزیں جو آپ کو فیصلہ سازی کے بارے میں جاننی چاہئیں
02/09/2025
تین چیزیں جو آپ کو پطرس کے دوسرے عام خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
09/09/2025تین چیزیں جو ہمیں کلسیوں کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
جس طرح کسی ای میل یا پیغام کو سمجھنے کے لئے اُس کا پس منظر، سیاق و سباق اور مقصد کو جاننا ضروری ہوتا ہے، اُسی طرح ہم پولس کے کلسیوں کے نام لکھے جانے والے خط کو بھی تب ہی دُرُست طور پر سمجھ سکتے ہیں جب ہم اُس کے پس منظر، سیاق و سبا ق اور مقصد پر غور کریں۔
پولُس رسول کے کلسیوں کے نام خط کے پس پشت اُس کی یہ فکری تشویش کارفرما تھی کہ جھوٹی تعلیمات کلسیوں کے اِیمان داروں کے عقیدہ و عمل کو متزلزل کر رہی تھیں۔ اُن گمراہ کُن معلمین کو”غناسطیت“ (یعنی ”صاحبِ فہم “ یا ”ہر بات کو جاننے والے“) کہا جاتا تھا۔ کیوں کہ اُن کا ماننا تھا کہ نجات کا علم کسی خاص او ر اِضافی علم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جو رُوحانی برگزیدوں کو مادی دُنیا سے نکال کر اِلٰہی دُنیا میں داخل کر دیتا ہے۔ اور یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ کلسیوں کے نام خط کے تین بنیادی موضوعات دراصل غناسطیت عقائد کے ردِ عمل میں سامنے آتے ہیں۔
1۔ مسیح کی حاکمیت بلند و برتر ہے۔
غناسطیت معلمین یہ سکھاتے تھے کہ اِلٰہی رُوحانی ہستیوں کی ایک پیچیدہ درجہ بندی ہے اور اُن میں سب سے ادنیٰ ہستی نے مادی دُنیا کو تخلیق کیا۔ لہٰذا ہر جسمانی چیز کو کم قدر و قیمت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ اِس کے برعکس ، پولس مسیح کے اِلٰہی رُتبے کو واضح کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ ”وہ اندیکھے خدا کی صورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مولود ہے۔ کیوں کہ اُسی میں سب چیزیں پیدا کی گئیں۔ آسمان کی ہوں یا زمین کی۔ دیکھی ہوں یا اَن دیکھی“ (کلسیوں 15:1-16)۔ وہ محض مادی دُنیا کو تخلیق کرکے الگ نہیں ہو گیا، بلکہ وہی اسے سنبھالتا، قائم رکھتا اور پوری کائنات کا اِنتظام و انصرام بھی چلاتا ہے (کلسیوں 17:1)۔ مزید برآں، کلیسیا پر بھی اُس کی مطلق حاکمیت ہے، کیوں کہ مجسم ہونے کے وسیلہ سے اُس نے اُلوہیت کی تمام معموری کو اِنسانی بدن میں ظاہر کیا، دُکھ اُٹھایا، صلیب پر جان دی اور مُردوں میں سے جی اُٹھا تاکہ گنہگاروں کو باپ کی حضوری میں داخل کرے (کلسیوں 18:1-20)۔
پولس کلُسے کی کلیسیا سے کہہ رہا تھا کہ ”غناسطیت کے معلمین کی باتوں پر کان نہ لگاؤ! اَعلیٰ ترین اِلٰہی ہستی کوئی اور رُوحانی مخلوق نہیں، بلکہ خود مسیح ہے۔ اِس مادی دُنیا کو کسی کم تر رُوحانی ہستی نے نہیں بلکہ اِسی اِلٰہی ہستی نے خلق کیا ہے۔ یہی مسیح جو سب سے بلند و برتر ہے، مجسم ہو کر اِس دُنیا میں آیا۔ اور مسیح نے یہ سب کچھ اِس لئے کیا تاکہ وہ اِس مادی دُنیا کا باپ کے ساتھ میل کروا سکے۔ تو کیا تم اِس بات کو دیکھتے ہو کہ یہ مادی دُنیا خدا کے نزدیک کس قدر بیش قیمت ہے؟۔ جسم یا اِس مادی دُنیا کو حقیر نہ سمجھو بلکہ اِسے خدا کی وہ تخلیق سمجھو جسے وہ نجات دینا چاہتا ہے “۔
2۔ مسیح ہی کافی ہے
غناسطیت معلمین کا عقیدہ تھا کہ ایک خاص اور پوشیدہ علم جسے (گنوسس کہا جاتا تھا) کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، جس تک صرف چنیدہ اَفراد ہی نایاب بصیرتوں اور رُوحانی تجربات کے ذریعے پہنچ سکتے تھے (کلسیوں 1:2-3)۔ اُن کا ماننا تھا کہ وہ اپنی نجات خود حاصل کر سکتے ہیں۔
چناں چہ پولُس رسول نے کلسے کے اِیمان داروں کو مسیح پر کامل اِیمان کی طرف متوجہ کیا، کیوں کہ نجات بخش اور حقیقی حکمت کا واحد سرچشمہ وہی ہے۔ اُس نے اُنہیں خبردار کیا کہ کوئی شخص تم کو اُس فیلسوفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کر لے جو اِنسانوں کی روایت اور دُنیوی اِبتدائی باتوں کے موافق ہیں نہ کہ مسیح کے موافق (کلسیوں 4:2-9)۔ مسیح میں کامل معموری ہے اور اِسی لئے اِیمان دار بھی اُس میں معمور ہیں (کلسیوں 10:2)۔ نجات اور تقدیس کے لیے مسیح مصلوب پر ایمان کے سوا کچھ اور درکار نہیں (کلسیوں 11:2-15)۔ نہ کوئی اِضافی علم، ریاضت، نہ کوئی رُوحانی تجربہ، نہ ہی کوئی فرشتہ ، مسیح کی کاملیت میں کوئی کچھ بھی شامل نہیں کر سکتا۔ وہ کامل ہے اور ہم بھی اُسی میں کامل ہوتے ہیں (کلسیوں 16:2-23)۔
پولس کلُسے کی کلیسیا کو کہہ رہا تھا کہ ”اگر تمہارے پاس مسیح ہے تو تہارے پاس سب کچھ ہے۔ جو کچھ تم اُس میں شامل کرنے کی کوشش کرو گے، وہ درحقیقت اُس کی کاملیت کو کم کرے گا۔ پس کامل مسیح میں مکمل آرام پاؤ“۔
3۔ مسیح ہماری پہچان ہے
چونکہ غناسطیت کے عُلما ء اِس مادی ُنیا کو حقیر جانتے تھے، اِس لئے اُس دُنیا میں اِخلاقیات کی بھی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اُن کے نزدیک نجات کا مطلب صرف اِس مادی دُنیا سے چھٹکارا پا کر رُوحانی دُنیا میں داخل ہونا تھا۔ اُن کے خیال میں جسمانی دُنیا میں کیے گئے اَعمال کی کوئی وقعت نہیں تھی۔
اِس کے برعکس، پولُس رسول نے سکھایا کہ چونکہ اِیمان دار مسیح کے ساتھ دفن ہوئے اور مسیح کے ساتھ زندہ کیے گئے ہیں، اِس لئے اُن کی اِس دُنیا میں ایک نئی پہچان ہے (کلسیوں 1:3-4)۔ اِس نئی پہچان کے ساتھ ایک نیا طرزِ زندگی آتا ہے، دُنیا اور اپنی زندگی کی طرف دیکھنے کا ایک نیا انداز پیدا ہوتا ہے۔ پرانی اِنسانیت کو ترک کرنا اور نئی اِنسانیت کو پہننا اِنتہائی لازم ہے (کلسیوں 5:3-17)۔
اِس نئی شناخت کے عملی خدوخال کو پولُس رسول نے مخصوص ہدایات کے ذریعے واضح کیا، جو بیویوں، شوہروں، بچوں، ملازمین اور مالکان کے لئے دی گئیں (کلسیوں 18:3-6:4)۔
پولُس رسول کی کلُسے کے اِیمان داروں کو دی گئی نصیحت کا یوں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ” غناسطیت معلمین کی صرف رُوحانی دُنیا پر مرکوز گمراہ کن تعلیمات کا شکار نہ بنو۔ مسیح کی مادی دُنیا پر برتری کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنے جسمانی وجود کے ساتھ اِس مادی دُنیا میں اُس کی حاکمیت کے تابع رہنا چاہیے۔ اور مسیح کی کفایت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اُس میں ایک مکمل اور تسلی بخش نئی شناخت رکھتے ہو، جس کا اِظہار تمہارے باہمی تعلقات میں ہونا چاہیے“۔
تو پھر ہم کس طرح مسیح کی اعلیٰ حاکمیت کے تابع زندگی گزار سکتے ہیں، کامل مسیح میں اپنی تکمیل پا سکتے ہیں، اور اپنی نئی شناخت کو ایک نئے طرزِ زندگی میں ظاہر کر سکتے ہیں؟ پولس رسول کے کلسیوں کے نام لکھے جانے والے خط کے اِبتدائی اور اِختتامی اَلفاظ پر غور کریں: ”ہمارے باپ خدا کی طرف سے تمہیں فضل اور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔ تم پر فضل ہو“ (کلسیوں 2:1؛ 18:4)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


