
دُعا کیوں فضل کا وسیلہ ہے؟
05/08/2025
پاسبانی خطوط کو کیسے پڑھیں؟
14/08/2025نوجوانوں کو اِلٰہیات سکھانے کے تین طریقے

اگر آپ نوجوانوں یا کالج کے طالبعلموں کی خدمات کے کام میں مصروف ہیں، تو آپ جانتے ہیں کہ ’’ضیافت اور عقائد‘‘ (Dinner and Doctrine) یا ’’ اِلٰہیات کی شام‘‘ (Theology Tonight) جیسے عنوانات کا اشتہار دینا شاید سب کو متوجہ کرنے کا مؤثر ذریعہ نہ ہو۔ نو عمروں اور نوجوان بالغوں کو گہرے اِلٰہیاتی مُطالعے میں مشغول کرنا مُشکل ہو سکتا ہے—خاص طور پر کیونکہ وہ اکثر تفریح اور سوشل میڈیا کی اُس ثقافت سے شدید متاثر ہوتے ہیں جو دو منٹ کی ویڈیوز کلپس اور گانوں کے مختصر ٹکڑے پر مبنی ہوتی ہے، جو طویل اور ارتکاز سے بھر پور اِلٰہیاتی غور و فکر کی رغبت کو رُوک سکتی ہے۔
اس کے باوجود، مَقامی کلیسیا میں وفا دار اِیمان داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اِلٰہیاتی انداز میں سوچنے اور خُدا کے کلام کی راہ نمائی میں اپنی اِلٰہیاتی سمجھ بوجھ کو بڑھانے کی دعوت دیں اور اُن کی تربیت کریں۔
مَیں شکر گزار ہوں کہ ہماری کلیسیا کے تناظر میں، ہمارے نوجوانوں اور کالج کے لیے مقرر پادری ہمارے طالبعلموں کو بائبلی سچائی کی مضبوط تعلیم دیتے ہیں اور اُنھیں گہری اِلٰہیاتی تفہیم کی طرف بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارے کالج کے طالب علم عظیم پیوریٹن(Puritan) مصنفین کی کتابوں پر بحث کے لیے ملاقات کرتے رہے ہیں اور اتوار کی شاموں کو گہرے اِلٰہیاتی موضوعات پر غور و فکر کے لیے اکٹھے ہوتے رہے ہیں۔ ہمارے ہائی اسکول اور مڈل اسکول کے طالبعلموں نے ویسٹ منسٹر مختصر کیٹیکیزم کا مُطالعہ کِیا ہے، جس میں اُنھوں نے نہ صرف سوالات کو حفظ کِیا بلکہ اُن کی اِلٰہیاتی تعلیمات کے معنی اور اِطلاق کو بھی سیکھا ۔
ذیل میں، مَیں فروتنی سے تین حوصلہ افزا ترغیبات پیش کرنا چاہتا ہوں جو نوجوانوں اور نو عمر بالغوں کو اِلٰہیاتی فکر میں مشغول کرنے کے لیے ہماری کلیسیا اپنے گرجا گھر کے سیاق و سباق میں لاگو کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
۱۔ اُنھیں قائل کریں کہ اِلٰہیات عملی ہے
سب سے پہلے ’’ معذرت خواہ ‘‘ نوجوانوں کو اِلٰہیاتی مُطالعے اور تفہیم کے لیے آمادہ کرنے کی یہ پہلی دلیل ہے کہ اُن کے ذہن میں موجود اس عام جذباتی خیال کا جواب دیا جائے کہ علِم اِلٰہیات غیر عملی ہے—کہ یہ صرف کسی پرانی مسیحی درس گاہ کے کتب خانے کے لیے موزوں ہے، اس کا تعلق مَقامی ہائی اسکول کی راہ داریوں کی بجائے بھرے ہوئے کُتب خانوں سے ہے۔
نوجوانوں کو یہ یاد دِلانا مفید ہے کہ اُن کا عقیدہ اُن کی زِندگی کے ہر پہلو کو تشکیل دے گا : اُن کی سوچ کے انداز، فیصلہ سازی، یقین، ثقافتی تعامل، ترغیب اور تعلقات۔ ہم خُدا کے بارے میں کیا اِیمان رکھتے ہیں—یہی ہمارے بارے میں سب سے زیادہ عملی بات ہے۔
شاید بائبل مُقدس میں عقیدے کی عملی نوعیت کی سب سے نمایاں (منفی) مثال رومیوں۱۸:۱- ۳۲میں بیان کی گئی ہے۔ جو کچھ ایک گناہ آلود فیصلے سے شروع ہوتا ہے—یعنی خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی صورتوں کی پرستش کرنا—وہ گناہ آلود رویوں اور اَعمال میں ہر قسم کے پھل لاتا ہے۔ واقعی، جو ہم اِیمان رکھتے ہیں وہ ہمارے طرزِ زِندگی میں پھل لاتا ہے۔
اس نکتے پر نوجوانوں کو یہ یاد دِلانا بھی فائدہ مند ہے کہ وہ پہلے ہی مسلسل اِلٰہیاتی فکر میں مصروف ہوں ۔ وہ گانوں کے بول، ٹویٹس، ٹک ٹاک ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر اثر و انداز ہونے والے افراد کے ذریعے وہ اِلٰہیاتی فکر میں تعلیم پا کر ’’ شاگرد‘‘ بن رہے ہیں۔
اگر وہ مسیحی اِلٰہیاتی مُطالعہ میں شعوری طور پر مشغول نہیں ہوں گے، تو وہ کسی ’’غیر جانبدار‘‘ مَقام پر نہیں رہیں گے بلکہ غلط اور غیر بائبلی نظریات کے اثر میں آنے کے خطرے میں ہوں گے۔
۲۔ اُنھیں دکھائیں کہ اِلٰہیات ہیجان خیز ہے
اپنے دینی مدرسے کے زمانے میں، ڈاکٹر ڈی۔ اے۔ کارسن (Dr. D.A. Carson) اکثر یہ بات دُہراتے تھے کہ اگرچہ اُن کے شاگردوں کو ہر بات یاد نہیں رہتی تھی جو اُنھوں نے اُنھیں سکھائی ہوتی تھی ، لیکن وہ اُن باتوں کو ضرور یاد رکھتے تھے جن کے بارے میں وہ سب سے زیادہ پُر جوش ہوتے تھے۔ مَیں یہ تجویز دینا چاہتا ہوں کہ کلیسیا میں وہ پادری اور خُدام جو نوجوانوں کے ساتھ خدمت کرتے ہیں، اُن کے لیے اِلٰہیات سے نوجوانوں کی محبت پیدا کرنے کا پہلا قدم شاید یہی ہے کہ وہ خُدا، اُس کے کلام اور مسیحی تعلیمات کے حسن کے بارے میں اپنے اندر موجود پُر جوش اور متعدی ولولے کو اُن تک منتقل کریں۔
کالج اور ہائی اسکول کے طلبہ کو ہماری اس اِلٰہیاتی گہرائی کے لیے جوش، خُوش خبری کے جمال اور مسیحی صحائف کی دولت کے لیے محبت محسوس ہونی چاہیے — شاید اس سے پہلے بھی کہ وہ خُود ان خزانوں کی سمجھ بوجھ میں ترقی کریں۔ کیا ہم مسیحی عقائد کے بارے میں اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوان محسوس کر سکیں کہ ہم اُن کے ساتھ کائنات کی سب سے اہم اور جلال سے بھر پور حقیقتوں کا تبادلہ کر رہے ہیں؟
۳۔ اُنھیں یاد دلائیں کہ اِلٰہیات کو عبادت سے بھر پور ہونا چاہیے
پولُس رسُول کی افسیوں کے اِیمان داروں کے لیے جو خُوب صورت دُعا ہے، جسے وہ افسیوں۱۵:۱- ۲۱میں بیان کرتا ہے، وہ یقیناً اُس چیز کے لیے دُعا ہے جسے ہم ’’اِلٰہیاتی علم ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اُس کی یہ دُعا عبادت کی طرف صاف جھکاؤ رکھتی ہے۔ پولُس چاہتا ہے کہ یہ مسیحی لوگ اپنے جلالی نجات دہندہ میں زیادہ پُر جوش انداز سے خُوشی منانے کے لیے گہری اِلٰہیاتی سوجھ بوجھ میں ترقی کریں۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ ’’اور تُمہارے دِل کی آنکھیں رَوشن ہو جائیں تاکہ تُم کو معلُوم ہو کہ اُس کے بُلانے سے کَیسی کُچھ اُمّید ہے اور اُس کی مِیراث کے جلال کی دَولت مُقدّسوں میں کَیسی کُچھ ہے۔ اور ہم اِیمان لانے والوں کے لِئے اُس کی بڑی قُدرت کیا ہی بے حد ہے۔ اُس کی بڑی قُوّت کی تاثِیر کے مُوافِق‘‘ (افسیوں 1:18–19)۔
پولُس رسُول محض علمی اِلٰہیات کے پیچھے نہیں ہے۔ اُس کے لیے، اِلٰہیاتی فہم میں ترقی کا مطلب ہے کہ ہمارے دِل خُدا کی عبادت میں زیادہ سے زیادہ بڑھتے جائیں اور ہم اُس کے جلالی نجات بخش کاموں کے لیے اُسے زیادہ سے زیادہ جلال دیں۔
اِلٰہیاتی تعلیم اور مُطالعہ کو کبھی بھی اُس جلالی خُدا سے الگ نہیں کِیا جا سکتا جس نے اپنے آپ کو اپنے کلام میں ظاہر کِیا ہے۔ جب ہم اُس کے بارے میں زیادہ سمجھتے ہیں، تو ہمارا مقصد اُس کی زیادہ عبادت کرنا اور زیادہ سے زیادہ لُطف کے ساتھ جاننا اور جینا چاہیے۔
یہ مضمون ’مسیحی شاگردی کی بنیادیں‘‘ کے مجموعہ سے ماخوذ ہے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔