
پانچ باتیں جو آپ کو بحیثیت والدین معلوم ہونی چاہئیں
22/08/2025
پانچ اہم باتیں جو آپ کو عہد کے علمِ الٰہی کے بارے میں جاننی چاہئیں
26/08/2025پانچ چیزیں جو آپ کو شادی کے بارے میں جاننی چاہئیں
جب شادی کے متعلق اِس قدر زیادہ گفتگو کی جاچکی ہو، تو ایسے میں اُس کی بنیادی حقیقتوں کو یاد رکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ خواہ کوئی شادی شدہ ہو یا غیر شادی شُدہ، شادی کے بارے میں پانچ اہم نکات ہیں جنہیں مشہور پانچ سوالیہ نکات ” کون؟“ ”کیا؟ “ ”کب؟ “ ”کہاں؟ “اور ”کیوں؟“ کی صورت میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
1۔ کون؟
شادی خدا کی طرف سے مقرر کردہ ایک پاک بندھن ہے، جو ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان قائم ہوتا ہے، تاکہ دونوں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ یکجا ہوں (پیدایش 24:2؛ متی 4:19-5)۔
شادی خدا کی تخلیق ہے،اور اگر ہم اِس میں اُس کی برکت چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اُس کے مقرر کردہ اُصولوں کی پاسداری کریں۔ مسیحی زِندگی میں سب سے اہم اُصول یہ ہے کہ شادی کے رِشتے میں شامل دونوں اَفراد ایک ہی اِیمان میں شریک ہوں (2-کرنتھیوں 14:6)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسیحی اِیمان دارکسی غیر اِیمان دار سے شادی کا فیصلہ کرلیتا ہے، یا تواِس لئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کسی ایک کو اِیمان کی روشنی عطا ہوتی ہے، یا پھر اِس لئے کہ ایک فریق کا اِیمان سرے سے سچا اور حقیقی تھا ہی نہیں۔ اگرچہ خدا ایسے غیر ہم اِیمان بندھنوں کو خود مقرر نہیں کرتا، تاہم وہ بعض اوقات اُنہیں برداشت کرتا اور اپنی حکمت سے اُن کے ذریعے بھی اپنے مقاصد کو پورا کرتا ہے، لیکن اُس کا واضح حکم ہے کہ کوئی مسیحی اپنی مرضی سے ایسے بندھن میں داخل نہ ہو۔ کسی غیر اِیمان دار سے شادی کا اِنتخاب کرنا مسیح کی طرف بڑھنے کے بجائے اُس سے منحرف ہونے کے مترادف ہے اور رُوح کے ساتھ قدم ملانے کے بجائے اُس سے پیچھے ہٹنے کے برابر ہے (گلتیوں 16:5-19)۔
2۔ کیا؟
شادی ایک عمر بھر قائم رہنے والا بندھن ہے جو شوہر اور بیوی کے درمیان باندھا جاتا ہے اور یہ مسیح اور کلیسیا کے درمیان پائے جانے والے رِشتے کی تصویر پیش کرتا ہے۔
شادی اِس حقیقت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے کہ دو اَفراد اپنے پیدایشی خاندان سے جُدا ہو کر ایک نیا گھرانا قائم کریں۔ مسیحی شادی، مسیح اور اُس کی دُلہن یعنی کلیسیا کے درمیان عہدِ محبت اور وفاداری کی جیتی جاگتی تصویر ہے (اِفسیوں 32:5؛ 2۔ کرنتھیوں 2:11)۔ اِسی نسبت سے شوہر کو وہ ذِمے داریاں سونپی گئی ہیں جو کلیسیا کے لئے مسیح کی سربراہی اور قربانی سے مشابہ ہیں۔ شوہر کی بلاہٹ ایسی قیادت کرنا ہے جو قربانی کے جذبے سے لبریز ہو۔ ایسی قیادت جو محبت میں اپنی جان تک نثار کرنے کو آمادہ ہو، جیسا کہ مسیح نے کلیسیا کے لئے اپنی جان دے دی (اِفسیوں 25:5)۔
اِسی طرح بیویوں کو بھی وہی احکام دیئے گئے ہیں جو کلیسیا کو مسیح کا بدن ہونے کی حیثیت سے عطا کئے گئے ہیں۔ بیویوں کی بلاہٹ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے تابع ہوں، جس طرح کلیسیا مسیح کے تابع ہے (اِفسیوں 24:5)۔ دونوں کردار یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ کیا ہی عزت و احترام اور مقدس ذِمے داری ہے کہ ایک جوڑا اپنے اِزدِواجی تعلق کے ذریعے مسیح اور کلیسیا کے درمیان قائم اُس پاک رِشتےکو دُنیا کے سامنے آشکار اکرے۔
3۔ کب؟
شادی عمر بھر کا بندھن ہے، مگر یہ اَبدیّت کے لئے نہیں (متی 30:22)
شادی اِس موجودہ زمینی زندگی کی حقیقت سے وابستہ ایک عہد ہے، جیسا کہ نکاح کے وقت متعدد وعدوں میں کہا جاتا ہے: ” خوشی میں، غمی میں، امیری میں، غریبی میں، صحت اور بیماری میں اور جب تک کہ تم دونوں زندہ ہو “۔ یہ تعلق محض اُن لمحات تک محدود نہیں جن میں محبت محسوس ہو یا محبت کرنے کو دِل چاہے، بلکہ یہ زِندگی بھر کا ساتھ ہے۔ اگرچہ خدا نے بعض مخصوص حالات میں طلاق کی اِجازت دی ہے، لیکن یہ ہر ناگوار، اچانک سے پیش آنے والی یا غیر منصفانہ صورتِ حال کے ردِ عمل کے طور پر اِختیار نہیں کی جا سکتی۔ اِزدِواجی آزمائشوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عقل مند جوڑے خدا سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ اُن کی باہمی محبت کو تازہ کرے، اُس میں اِضافہ کرے، بلکہ اُسے کئی گنا بڑھا دے (متی 7:7) اِس یقین کے ساتھ کہ خدا ایسی دُعاؤں کے جواب دینا پسند کرتا ہے (1-یوحنا 14:5-15)۔
جوڑوں کو ایسی دُعاؤں کی ضرورت اِس لئے بھی ہے کیوں کہ ہم تاحال گناہ آلود فطرت رکھتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اُمید چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مسیح کے قائم کردہ نمونے کی پیروی کرتے ہوئے، پاک رُوح ہمیں توفیق بخشتا ہے کہ ہم ایک دُوسرے سے قربانی دینے والی محبت کریں۔ گناہ کی موجودگی شادی کے لئے رکاوٹ نہیں، البتہ اُس کے ماحول اور رویّے کا تعیّن ضرور کرتی ہے۔ خُدا اپنے فضل سے شوہروں اور بیویوں کو بلاتا ہے کہ وہ محبت میں ایک دُوسرے کو برداشت کریں (اِفسیوں 2:4)۔ دانش مند جوڑے خدا پر بھروسا رکھتے ہیں کہ وہ اُنہیں ایک ایسی شادی میں بھی برکت دے سکتا ہے جو کامل نہ ہو، اور وہ خدا کی اُن بے شمار نعمتوں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو اِسی رِشتے میں پوشیدہ ہوتی ہیں، اور خداوند کی شکرگزاری کرتے ہیں (1-تھسلنیکیوں 18:5)۔
چاہے کوئی اِس زندگی میں شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، تمام اِیمان دار اُس برّہ کی شادی کی ضیافت میں لازماً اور مکمل طور پر شریک ہوں گے، وہ واحد اَبدی اور کامل شادی جو مسیح اور اُس کی کلیسیا کے درمیان آسمان پر ہمیشہ کے لئے قائم ہے (مکاشفہ 6:19-9)۔
4۔ کہاں؟
شادی ایک نیا خاندان اور نیا گھر قائم کرتی ہے
جیسا کہ انگریزی بائبل کا ترجمہ کنگ جیمز ورژن شاعرانہ انداز میں بیان کرتا ہے کہ خدا شوہر اور بیوی کو بلاتا ہے کہ ”مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے ملا رہے گا“ (پیدایش 24:2)۔ اپنی اوّلین وفاداری کو والدین سے شریکِ حیات کی طرف منتقل کرنا ایک کٹھن عمل ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات میاں بیوی اور اُن کے والدین کے درمیان کچھ جسمانی فاصلہ اِس تبدیلی کو آسان بنا دیتا ہے۔ خدا شادی شدہ جوڑوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ والدین کی عزت کریں، لیکن یہ لازمی نہیں کہ ہر حال میں اُن کی فرماں برداری بھی کریں (خروج 12:2؛ اِفسیوں 2:6-3)۔ جوڑوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عزت اور فرماں برداری کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ وہ والدین کی نصیحت کو سن سکتے ہیں، اُن کی دانائی کو خوش آمدید کہہ سکتے ہیں، لیکن بطور ایک خودمختار خاندان، اُنہیں اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں، کیوں کہ خدا بھی اُنہیں ایک الگ خاندان کے طور پر دیکھتا ہے (پیدایش 24:2)۔
کیوں؟
خُدا نے شادی کے چار مقاصد مقرر کیے ہیں۔ شادی شُدہ جوڑے خدا کی عزت تب کرتے ہیں جب وہ فراہم کردہ مواقع کے مطابق اِن تمام مقاصد کی تکمیل کی جستجو کرتے ہیں۔
1۔ اولاد کی پرورش
اگرچہ بعض شادی شدہ جوڑے خدا کی حکمت میں اولاد سے محروم رہ سکتے ہیں، لیکن کتابِ مقدس اولاد کو ایک برکت کے طور پر پیش کرتی ہے جس کی آرزُو ہونی چاہیے (زبور 3:127-5؛ ملاکی 15:2)۔ اور والدین کی یہ اوّلین ذِمے داری ہے کہ وہ اولاد کو خداوند کی تربیت اور نصیحت میں پروان چڑھائیں (اِفسیوں 4:6)۔
2۔جنسی تسکین
خدا شادی سے باہر جنسی تسکین کی اِجازت ہرگز نہیں دیتا (1۔کرنتھیوں 2:7) نکاح کے دائرہ کار میں، اِسے خدا کی دی ہوئی کسی اَور نعمت کی طرح خوشی سے اپنانا اور اِس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
3۔ دُنیا اور کلیسیا کے لئے برکت کا وسیلہ بننا
اکثر اوقات ایک جوڑا اپنی اِنفرادی حیثیتوں کے مجموعے سے بڑھ کر اَثر رکھتا ہے۔ دو اَفراد مِل کر اُس خدمت کو بہتر طور پر اَنجام دے سکتے ہیں جو اکیلا شخص نہیں دے سکتا (واعظ 9:4-12؛ متی 28:20)۔
4۔ رفاقت
جب خدا نے تخلیق کے وقت سب کچھ بنایا تو اُس نے ہر چیز کو ”اچھا“ قرار دیا (پیدایش 31:1)۔ اور یہی بات شادی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، لیکن ایک بات جس کے بارے میں خدا نے کہا کہ وہ اچھی نہیں ہے، وہ یہ تھی کہ ”آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں“ (پیدایش 18:2)۔
اگر صرف ایک نقطہ یاد رکھنے کے قابل ہو، تو وہ یہ ہے کہ ”شادی ایک مبارک اور پاکیزہ بندھن ہے“۔یہ اُن اہم وسائل میں سے ایک ہے جن کے ذریعے خدا اِنسان کے لئے رفاقت مہیا کرتا ہے، اور جب ہم اِس رِشتے میں اُس کی تعظیم کرتے ہیں تو ہمیں اُس کی بھرپور برکت کی توقع بجا طور پر رکھنی چاہیے۔یہ مضمون ”وہ پانچ باتیں جو آپ کو جاننی چاہییں “ کے مجموعے کا حصہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


