بادشاہی کا بادشاہ اور شریعت
21/01/2025
دُنیاوی برکات
28/01/2025
بادشاہی کا بادشاہ اور شریعت
21/01/2025
دُنیاوی برکات
28/01/2025

بادشاہی کی شخصی دِین داری

ٹیبل ٹالک میگزین سے اپنے تین ماہ کے مفت ٹرائل کی درخواست بھیجیں۔ آپ کو پرنٹ کی صورت میں ماہانہ شمارہ موصول ہو گا اور آپ کو کئی دہائیوں کے آرکائیوز تک فوری ڈیجیٹل رسائی حاصل ہو گی۔ اِس کے لئے کریڈت کارڈ کی ضرورت نہیں۔ 

لفظ دِین داری ایک طرح سے گلے میں چپک جاتا ہے۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ بعض  لوگوں کے لئے متقی ہونے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میرا رویہ آپ سے زیادہ پاکیزہ ہے جو نفرت انگیز، بہترین اور بدترین طور پر رُوحانی فخر سے بھرا ہوا ہے۔ دُوسروں کے لئے، متقی ہونے کی گہری جڑیں موراویوں کی بشارتی رِیاکاری کی تاریخ میں پیوست ہیں، جس نے جان ویزلی، اِسی طرح اٹھارھویں صدی کی بشارتی بیداری  اور عصرِ حاضر کو متاثر کیا۔ زیادہ تر لوگ دین داری کو اِنفرادی طور پر شاید کچھ عملی ”رُوحانی قواعد و ضوابط“ سمجھتے ہیں۔ 

متی کی اِنجیل کا 6 باب، پہاڑی وعظ کا مشہور ترین اور مرکزی حصہ ہے، پھر یہ ہمارے مفروضوں کے لئے سبق آموز ہےکہ دِین داری کا کیا مطلب ہے اور ہم اِسے کیسے متعدد دلچسپ طریقوں سے اپنی عملی زندگی میں داخل کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اُن موضوعات کی فہرست پر غور کریں جس کا اِنتخاب ہمارا خداوند کرتا ہے۔ اِس لحاظ سے خدا کو دینا، دُعا اور روزہ اب تک کی عام اِصطلاحات ہیں کہ دِن داری کے موضوع کے تحت ہم کیا توقع کریں گے، ایک بار پھر پیسہ، اِس بار ایک مختلف زاویے سے، جو شاید زیادہ تر اِنسانوں کے لئے پیسے اور جائیداد رکھتے ہوئے اِس قدر حیران کن، مشکل اور اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ لیکن پھر یسوع نے اِس طویل حصے کو بے چینی اور پریشانی پر ختم کیا جو کہ بالکل بھی ”رُوحانی قواعد و ضوابط“نہیں ہیں اور اِس کے درمیان میں پہاڑی وعط کے مشہور ترین بیانات پائے جاتے ہیں جو پہلے خدا کی بادشاہی کو تلاش کرنے کے بارے میں ہیں۔

ثانیاً، لیکن اِس سے زیادہ اہم بات اب بھی یہ ہے کہ اُس تضاد پر غور کیا جائے جو اِس پورے باب میں جاری ہے۔ یسوع بار بار اپنے پیروکاروں سے کہہ رہا کہ ”اُن کی مانند“ نہ بنو جو دین داری کا دِکھاوا کرتے ہیں، لیکن اِس کی بجائے ”اُن کی مانند“ بنو جو پیروکاروں کے طور خدا کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آپ اِس تضاد کو متی 1:6-2 میں دیکھ سکتے ہیں جہاں یسوع اُس وقت دینے والوں کے غیر معمولی اور ظاہری رویے کو  بیان کرتا ہے اور پھر اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے ” پَس جب تُو خیرات کرے تو اپنے آگے نرسِنگا نہ بجوا جَیسا رِیاکار عِبادت خانوں اور کُوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی بڑائی کریں۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا  چُکے“۔ لہٰذا اُن کی مانند نہ بنو۔ اِس کی بجائے اِس طرح بنو کہ ” جب تُو خیرات کرے تو جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے“ (متی 3:6)۔ 

اِسی تضاد کو ہم اُس وقت بھی دیکھ سکتے ہیں جب وہ دُعا کے بارے میں سکھاتا ہے:” بلکہ جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشِیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا“ (متی 6:6)۔ 

ہم روزے کے بارے میں بھی یسوع کی تعلیم میں پائے جانے والے اِسی تضاد کو دیکھ سکتے ہیں: ” اور جب تم روزہ رکھّو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کیوں کہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اَجر پا چُکے“ (متی 16:6)۔ اِس کی بجائے ”بلکہ جب تُو روزہ رکھّے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو“۔”اُن کی مانند“ بننے کی بجائے ”اِن کی مانند“ بنو۔ حقیقی، خدا پرست اور بائبلی دین داری خدا کو جاننا اور خدا کو خوش کرنا دونوں ہیں۔ 

اِس ساری ترتیب میں واحد توقف آسمان پر خزانہ جمع کرنے کے بارے میں یسوع کی تعلیم کے ساتھ پایا جاتا  ہے۔ وہ واضح طور پر ایک ہی قِسم کے اَلفاظ کی پیروی نہیں کرتا، لیکن تضاد مضمر ہے:”اپنے واسطے زمِین پر مال جمع نہ کرو ۔۔۔“(متی 19:6) اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اِس قِسم کی چیز ہے کہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ ہمیں اُن کی مانند نہیں بننا۔ اِس کے بجائے ” بلکہ اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو۔۔۔“ (متی 20:6)۔ 

فکر کرنے اور پریشانی کے بارے میں باب کے اِختتام پر یسوع کی تعلیم میں ایک بار پھر وہی تضاد ہے۔ اُن تمام پریشانیوں کو بیان کرنے کے بعد جو اِس دُنیا کی چیزوں کے پیچھے بھاگنے سے پیدا ہوتی ہیں، وہ کہتا ہے ” کیوں کہ  اِن سب چِیزوں کی تلاش میں غَیر قَومیں رہتی ہیں۔۔۔ “ (متی 32:6)۔  پس اُن کی مانند نہ بنو۔ بلکہ اِن کی مانند بنو ” بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو۔۔۔“ (متی 33:6)۔ 

یہ سمجھنے کے لئے کہ یہاں پر یسوع دِین داری کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے، ہمیں لازمی طور پر اُس کی تعلیم میں پائے جانے والے دو مخالف گروہوں کو سمجھنا چاہئے۔ یہاں وہ لوگ ہیں جنہیں یسوع ”رِیاکار“ کہتا ہے (متی 7:6-32)۔ جب خدا کو دینے، دُعا کرنے اور روزے کی بات آتی ہے تو ہمیں رِیاکاروں کی مثال سے بچنا ہے۔ جب غیر اَقوام کی مثالوں سے پرہیز کرنے کی بات آتی ہے تو لازمی طور پر ہمیں اُن کی دُعائیہ مثال سے بھی خبردار رہنے کی ضرورت ہے، لیکن صرف اِنفرادی طور پر اُن کی مثال جب پریشانی کی بات آتی ہے۔ غالباً رِیاکاروں اور غیر اَقوام دونوں کو ایک ہی مسئلہ درپیش ہے کہ وہ زمین پر خزانہ جمع کرتے ہیں۔ 

یہ دیکھتے ہوئے کہ ”غیر اقوام“  کو قدیم دُنیا کی غیریہودی مذہبیت کا حوالہ دینا چاہیے، بالخصوص اُس وقت کی یونانی اور رومی ثقافت کا،یہ اِس کی پیروی کرتا ہے کہ یسوع جس مذہب کے لئے ”رِیاکاری “ کی اِصطلاح اِستعمال کر رہا ہے اُس کا تعلق اُس کے اپنے زمانے کے کچھ  اہلِ یہود کے طرزِ عمل سے  ہے۔ درحقیقت، وہ آیت 2 اور 5 میں یہودی عبادت خانوں  کا نام لے کر اِتحاد (ایسوسی ایشن) کو ناقابلِ تردید بنا دیتا ہے۔ ہم یہ نتیجہ اَخذ نہیں کر سکتے کہ متی کا مطلب یہ ہے کہ یہودی طرزِ زندگی کے تمام پیروکار اپنے زمانے کے رِیاکار تھے۔ درحقیقت اُس نے پہلے ہی بڑی گرم جوشی سے یوسف ور مریم کی راست بازی کا ذکر کیا ہے، اُس نے اِس بات کا ذِکر نہیں کیا کہ وہ خود بھی ایک یہودی تھا۔ بات یہ ہے کہ یسوع کے زمانے کے مذہبی رہنما رِیاکار تھے جو مذہبی رواداری اور دِین داری کا دِکھاوا کرتے تھے لیکن اُن کے پاس اصل چیز نہیں تھی۔ اِسی طرح یسوع کے زمانے کی بت پرست اور غیر اَقوم نے بھی دِین داری کی بات کرتے ہوئے اِسے غلط تصور کیا۔ 

رِیاکار بظاہر خدا کے بارے میں وسیع پیمانے پر درُست نطریہ رکھتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر اُن کے اندر اُسے خوش کرنے کی دلچسپی کا فقدان پایا جاتا ہے، برعکس اِس کے اُنہیں دُوسرے لوگوں کی نظروں میں اچھا لگنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ دُوسری جانب، غیر اَقوام کے پاس خدا کا غلط تصور اور دین داری کے بارے میں غلط نظریہ پایا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنےکے سبب سے ہماری سنی جائے گی (متی 7:6) مطلب یہ کہ اُن کے پاس دُعا کے بارے میں ایک قِسم کا جادوئی نظریہ ہے جو خدا کے بارے میں بت پرستوں سے پیدا ہوتا ہے۔ یا وہ پریشان ہیں کیوں کہ وہ اِس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہمارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ ہمیں کن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے (متی 32:6)۔  برعکس اِس کے رِیاکار عملی طور پر خدا کے خیالات سے زیادہ اِس بات میں دِلچسپی رکھتے ہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ وہ آدمیوں کو دِکھانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی خیرات کا اِعلان نرسنگے کے ساتھ کرتے ہیں، ظاہر ہے تاکہ وہ لوگوں کو متاثر کر سکیں (متی 2:6)۔ یا پھر، رِیاکار باہر دُعا کرتے ہیں تاکہ ہر کوئی اُن کی دین داری کو دیکھ سکے (متی 5:6)۔ اور اگر وہ روزہ رکھتےہیں تو وہ اپنی صورت کو اُداس بناتے ہیں تاکہ ہر کوئی اُنہیں روزہ دار جان سکے (متی 16:6)۔ 

پھر اِس کی کلید یہ ہے کہ حقیقی، خدا پرست اور بائبلی دین داری خدا کو جاننا اور خدا کو خوش کرنا دونوں ہیں۔ ہمیں غیر اَقوام کی غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ خدا ایک قِسم کی اِلٰہی سلاٹ مشین کی طرح ہے اور اگر ہم اُس سے بڑے اِلٰہیاتی اور خوش اسلوب اَلفاظ میں لمبی لمبی دُعائیں کریں تو وہ ہماری دُعا سننے اور جو کچھ ہم چاہتے ہیں وہ سب دینے کا پابند ہے۔ اِس کے علاوہ ہمیں یہ کبھی نہیں سوچنا چاہئے کہ خدا اِس دُنیا سے اِس قدر دُور ہے کہ اُسے اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے، لہٰذا ہم اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم اپنا خیال خود رکھیں۔ ”خدا اُن کی دیکھ بھال کرتا ہے جو اپنا خیال خود رکھتے ہیں“ یہ ایک معروف جملہ تو ہو سکتا ہے لیکن یہ بائبل کا خیال نہیں ہے۔

لیکن ہمیں مذہبی اِعتبار سے پرورش پانے والے اُن لوگوں کی غلطی سے بچنے کی بھی ضرورت ہے جو نظریاتی لحاظ سے تو یہ جانتے ہوں کہ خدا کون ہے لیکن عملی طور پر مذہبی رویے کا دکھاوا کرتے اورلوگوں کو متاثر کرنے کے لئے بنیادی عہد کو دھوکہ دیتے ہیں۔  ایسا بننا کتنا آسان ہے، دِن داری کے معیار پر جیسے کہ دُعا سے لے کر کتابیں اور مضامین لکھنے تک ہر چیز میں لوگوں کی تعریف کے لئے عمل کرنا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں دانستہ طور پر غیر مہذب اور غیر دانش مندانہ  طور پر لوگوں کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ (دوسرے مضمون کا عنوان  اپنے ہم جنس اِنسانوں کے ساتھ خدا جیسی مہربانی کے ساتھ پیش آنا ہے)۔ لیکن اِس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا یسوع نے کہا کہ ہمیں پہلے اُس کی بادشاہی اور راست بازی کو تلاش کرنا چاہئے، یہ بھروسا کرتے ہوئے کہ یہ سب چیزیں بھی ہمیں مل جائیں گی، جیسا کہ ہمیں اُن کی ضرورت ہے اور ہمارے باپ کی حکمت کی مطابق۔ 

سب سے زیادہ بااَثر وعظوں میں سے ایک وعظ جس کو میں نے پڑھا، وہ پہلے خدا کی بادشاہی کو تلاش کرنے کے بارے میں تھا جس متن پر جوناتھن ایڈروڈز نے منادی کی تھی۔ اُس نے اِس پر کچھ طویل نکتہ پیش کیا کہ ہمارے سامنے یہ بہترین ممکنہ معاملہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اِس کا تصور کر سکتا ہے۔ اگر ہم خدا کی بادشاہی، اُس کے معاملات اور اُس کے کام  کو اپنے ذہن میں رکھنے کا عہد کریں گے تو پھر خدا ہمارے لئے ہمارے معاملات کو اپنے ذہن میں رکھنے کا عہد کرے گا۔ کون ہے جو خدا کے ساتھ اپنا حصہ نہیں ڈالے گا اور خدا کو اُس کی خبرگیری کرنے دے گا؟ یہ دِین داری بادشاہی کا دِل ہے۔  

اِس کا کیا مطلب ہے اِس کی تمام تفصیلات روز بروز ترتیب دی جائیں گی کیوں کہ ہم نہ صرف یہ جانتے ہیں کہ خدا کون ہے بلکہ حقیقت میں سب سے پہلے اُس کی بادشاہی کو تلاش کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ پھر ہم حقیقی معنوں میں خدا کو دیں گے، دُعا کریں گے اور روزہ رکھیں گےاور اپنی پریشانی کے دَور میں شاید ہمارے لئے سب سے اہم بات یہ ہو کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔

This article was first published on the Legionnaire Ministries blog.