
بادشاہی کے شہریوں کا چال چلن
20/01/2025
بادشاہی کی شخصی دِین داری
23/01/2025بادشاہی کا بادشاہ اور شریعت
متی کی اِنجیل ایک ایسے بیان کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس میں فعل کی کمی پائی جاتی ہے، اِس لئے یہ کتاب کے عنوان کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ” یسوع مسیح اِبنِ داؤد اِبنِ ابرہام کا نسب نامہ “ یہاں مختصر طور یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ کتاب کس بارے میں ہے۔ یہ یسوع مسیح کی کہانی ہے۔ یہ ہمیں اَبرہام اور داؤد کی نسل سے اُس کی پیدایش سے لے کر (متی۔1) اُس وقت تک لے جاتی ہے جب وہ گلیل کے پہاڑ پر کھڑا ہوتا ہے، جب آسمان اور زمین کا کُل اِختیار اُسے دیا گیا (متی 16:28-20)۔ شروع سے آخر تک، یسوع مسیح کو بحیثیتِ بادشاہ پیش کیا گیا ہے۔ اوّل اَبرہام اور داؤد کے موعودہ فرزند کے طور پر ”یہودیوں کابادشاہ جو پیدا ہوا ہے“ (متی 2:2)۔ ”جو میری اُمت اِسرائیل کی گلہ بانی کرے گا“ (متی 6:2) اور پھر ایک ایسے بادشاہ کے طور پر جس نے گناہ اور موت پر فتح پائی اور اب وہ حکم دیتا ہے کہ سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو اُن سب باتوں کی تعلیم دی جائے جس کا اُس نے حکم دیا ہے (متی 19:28-20)۔ متی کی اِنجیل میں پائے جانے والے پانچ بڑے تدریسی مجموعوں میں سے پہلا (متی 5-7؛ 13:10؛ 23:18-25) اُس کی بادشاہی کی شریعت کے منشور اور فقہیوں اور فریسیوں کی طرف سے دی گئی تعلیم کو زبردست طریقے سے مسترد کرنے کےطور پر کام کرتا ہے۔ خدا کی شریعت میں مروّجہ تحریف کے باعث جس کو فقہیوں نے فریسیوں نے پروان چڑھایا تھا، یسوع کے لئے یہ لازم تھا کہ وہ اِس بات کو واضح کرے کہ کیسے اُس کی تعلیم کتابِ مقدس سے مطابقت رکھتی ہے۔ وہ واضح طور پر اِعلان کرتا ہے کہ مَیں نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں (متی 17:5)۔ درحقیقت، وہ اِن کو منسوخ کرنے سے اِس حد تک دُور ہے کہ وہ اپنے سچائی پر مبنی پہلے بیانات میں اِس نقطے پر خاص زور دیتا ہے (متی میں تیس سے زائد ایسے بیانات پائے جاتے ہیں)۔ ” کیوں کہ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے“ (متی 18:5)۔
یسوع کی تعلیم فقہیوں اور فریسیوں کی تعلیم کے بالکل برعکس ہے اور یہ ایک ایسی راست بازی کا تقاضا کرتی ہے جو اُن کی راست بازی سے کہیں بڑھ کر ہو (متی 20:5)۔ ہم بالکل اِسی مرکزیت کو مسیح کی تعلیم کے آخری حصے متی 23-25 میں دیکھتے ہیں، ایک قسم کا متوازی کالم جو پہلے سے ملتا جلتااور ہماری درُست تفہیم میں مدد کرتا ہے کہ ہم دُوسروں کے ساتھ اِس کا تقابلی جائزہ لے سکیں۔ وہاں ردّ کئے جانے کے سات ”افسوس“ میں (جو پہلے حصے کے آغاز کی برکات کے بالکل برعکس ہیں) یسوع پھر فقہیوں اور فریسیوں کی غلطیوں کو بے نقاب کرتا ہے، جنہیں وہ بار بار ”رِیاکار“ کہتا ہے جو اَیسے بھاری بوجھ جِن کو اُٹھانا مُشکِل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ اُن کو اپنی اُنگلی سے بھی ہِلانا نہِیں چاہتے (متی 4:23)۔
متی 17:5-48 میں یسوع شریعت کو مسخ کرنے اور غلط بیانی کرنے کی ایسی چھے مثالیں اُٹھاتا ہے جو فقہیوں اور فریسیوں نے سکھائی تھیں۔ اُن میں سے ہر ایک کا تعارف لوگوں کی سُنی ہوئی باتوں کے ساتھ ہوتا ہے، اِس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو یسوع نے کہی (متی 21:5، 27، 31، 33، 38، 43)۔ یہاں پر یسوع کتابِ مقدس کے مسئلے کو بیان نہیں کر رہا، جو لکھی جا چکی ہے۔ نہیں! مسئلہ اُس چیز میں ہے جو فقہی اور فریسی بیان کر رہے ہیں۔ یسوع یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اُس پر قائم ہے جو لکھا گیا ہے (متی 4:4، 7، 10، متی 10:11؛ 13:21؛ متی 24:26-31)۔ یسوع کی تعلیم فقہیوں اور فریسیوں کی تعلیم کے بالکل برعکس ہے اور ایک ایسی راست بازی کا تقاضا کرتی ہے جو اُن کی راست بازی سے بڑھ کر ہو۔
اِشتراک
ہم شاید زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اگر ہم اِس سلسلے کو آخر سے شروع کریں (متی 43:5-48) اور پیچھے کی طرف کام کریں ۔ ” تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسِی سے محبّت رکھ اور اپنے دُشمن سے عَداوَت “(متی 43:5) یہ کتابِ مقدس کا اِقتباس نہیں ہے، حالاں کہ سادہ لوح اور کم عقل آسانی سے سوچ سکتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اِس جملے کا پہلا نصف حصہ کلامِ مقدس میں سے ہے (احبار 18:19) لیکن دُوسرا نصف حصہ کلام اَقدس میں سے نہیں اور خدا کے کلام میں اِس کے قریب کچھ بھی نہیں پایا جاتا۔ پھر بھی یہ وہ بیان ہے جو لوگوں نے فقہیوں اور فریسیوں سے یوں سنا گویا کہ یہ کلام مقدس کی تعلیم ہے۔ تاہم یہ شریعت کی سنگین تحریف ہے، محض اپنے پڑوسی سے محبت کی ذِمے داری کی حدود متعین کرنا اور دُشمنوں سے نفرت کو جائز قرار دینا (یا تقاضا کرنا)۔ شریعت اور صحائف اُلانبیا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، یسوع مکمل طور پر ایک مختلف چیز کا تقاضا کرتا ہے ” لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے محبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لِئے دُعا کرو۔ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیوں کہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راست بازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے“ (متی 43:5-45)۔ عہدِ عتیق یہی سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر ” اگر تیرا دُشمن بھوکا ہوتو اُسے روٹی کھلا اور اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پلا “(اَمثال 21:25)۔ فقہی اور فریسی خدا کے کلام کو باطل کر رہے تھے (متی 6:15)۔
اِسی طرح فقہیوں اور فریسیوں نے عوامی اِنصاف کے بنیادی اُصولوں کو بگاڑ دیا ” تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت“ (متی 38:5)۔ یہ اُصول شریعت میں تین بار ظاہر ہوتا ہے (خروج 23:21-25؛ احبار 17:24-23؛ اِستثنا 15:19-21)۔ یہ ایک ایسا اُصول ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جرم کی سزا جرم کی شدت کے تناسب سے ہونی چاہئے۔ ہر معاملے میں، یہ عوامی اِنصاف سے متعلقہ قوانین ہیں، جہان مخصوص جرائم کے لئے موزوں سزا کا تعین کیا گیا ہے، یہ اُصول سزا کو محدود کر دیتا ہے تاکہ چھوٹے جرائم پر بڑی سزائیں لاگو نہ کی جائیں۔ لیکن فقہیوں اور فریسیوں نے عوامی اِنصاف کے اِس اُصول کو باہمی تنازعات میں دُوسروں کے خلاف اِنتقامی کارروائی کے اُصول میں تبدیل کر دیا تھا۔ اُنہوں نے آزادانہ طور پر دُوسروں کو معاف کرنے کی کوئی گنجایش نہ چھوڑی۔ وہ آسمانی باپ کے فرزندوں کی طرح کام نہیں کر رہے تھے۔
اِس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ فقہی اور فریسی قسموں اور نذروں کا بہت کم خیال رکھتے تھے، یعنی یہ کہ یہ درحقیقت خدا کے لئے بنائے گئے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ دُوسروں سے کئے ہوئے وعدوں میں شامل ہوں۔ اِس مسئلے کا مکمل حل متی 16:23-22 میں واضح ہوتا ہے کہ فقہیوں اور فریسیوں نے قسموں اور نذروں کو پورا کرنے کے لئے ایک پیچیدہ اور دھوکا دِہی پر مبنی منصوبہ تیار کیا تاکہ کوئی بھی باآسانی اُن فرائض سے آزاد ہو جائے جن کا وعدہ کیا گیاتھا، اِس طرح اُنہوں نے حقیقی وعدے کو غلط بیانی میں تبدیل کر دیا۔ وہ نہ تو سچائی کے فرزند تھے اور نہ ہی سچائی کے خدا کے فرزند تھے۔
اِسی طرح طلاق کے مسئلے کے ساتھ بھی (متی 31:5-32) اِس موضوع پر مزید بحث بعد میں (متی 1:19-11) میں پائی جاتی ہے، لیکن یہاں صرف مختصر طور پر وہ تضاد پیش کیا گیا ہے جو یسوع نے فقہیوں اور فریسیوں کے عہدے پر پیش کیا۔تاہم شاید اِس صورت میں، اِس کے برعکس سب سے زیادہ واضح ہے۔ فقہیوں اور فریسیوں کے نزدیک، جو کوئی بھی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ضرور ہے کہ وہ اُسے طلاق نامہ لکھ کر دے، گویا کہ معاملہ محض اِتنا ہی تھا۔ اُن کی تعلیم موسیٰ کی شریعت میں پائے جانے والے ایک طویل اور پیچیدہ بیان کو کثیف کر دیتی (اِستثنا 1:24-4) اور بڑی ہی سنجیدگی کے ساتھ بگاڑ دیتی ہے۔ اگرچہ ربیوں کے درمیان اِس بات پر بہت بحث تھی کہ کون سے گناہ پر طلاق کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ اِس حوالے میں اِشارہ دیا گیا ہے، یہ عمل عام طور پر رائج تھا کہ شوہروں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی وسیع اِجازت تھی۔ پس یہ طلاق نامہ دینے کا عام معاملہ بن گیا۔ یسوع نے خبردار کیا کہ یہ فعل اکثر دُوسری شادی میں زنا کا باعث بنے گا (جب تک کہ طلاق کی بنیاد جنسی بداخلاقی نہ ہو)۔ اِس صورتِ حال نے شادی کے لئے خدا کے بنیادی منصوبے کو نظر انداز کر دیا جیسا کہ پیدایش 24:2 میں بیان کیا گیا ہے (دیکھئے! متی 4:19-6)۔ فقہی اور فریسی اِس بارے میں فکر مند تھے کہ مرد کو اپنی بیوی کو طلاق دینے میں کس قدر آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن یسوع نے اُن سے کہا کہ اُنہیں سب سے پہلے اِس بارے میں فکر کرنی چاہئے کہ وہ اپنی بیوی سے جڑے رہنے اور شادی کو برقرار رکھنے کے لئے کیا کر سکتا ہے۔
ہم آخر میں اُن پہلی دو متضاد باتوں کی طرف آتے ہیں جن کے ساتھ یسوع نے آغاز کیا تھا۔ وہ احکام ِ عشرہ میں سے دو کے ساتھ نمٹتے ہیں، پہلا قتل اور دُوسرا زنا کے ساتھ۔ ہر ایک میں، یسوع حکم کی نہ صرف سطحی یعنی جسمانی قتل اور زنا کاری کے کے بارے میں بلکہ باطنی خیالات اور دِلی اِرادوں کے ساتھ، شراَنگیز اَلفاظ اور منصوبے کے ساتھ اور گناہ کی خواہشات کے ساتھ بھی وضاحت کرتا ہے جو قتل اور زنا کاری کا سبب بنتے ہیں۔ اِنتقام اور طلاق کے بارے میں فقہیوں اور فریسیوں کے خیالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، یہ دیکھنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ صرف ظاہری اَعمال پر توجہ مرکوز کرتے تھے نہ کہ اُن خیالات اور اِرادوں پر جو اِس طرح کے اَعمال کا سبب بن سکتے تھے۔ اُنہوں نے محض رکابی کے بیرونی اطراف پر توجہ مرکوز کی نہ کہ اِس پر کہ اُس کے اندر کیا ہے (متی 25:23)۔ اُنہوں نے اپنے سب کام لوگوں کو دِکھانے کے لئے کئے (متی 5:23) لیکن یسوع کی بلاہٹ ایک ایسی زندگی کےلئے جو Coram Deo”” ہے (ایک لاطینی جملہ جس کے معنی ایک ایسی زندگی ہے جو خدا کی موجودگی میں بسر کی جائے) خدا کے چہرے کے سامنے، جو اِنسان کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ دِل پر بھی نظر کرتا ہے۔
یسوع ایک ایسی راست بازی کا تقاضا کرتا ہے جو فقہیوں اور فریسیوں کی راست بازی سے بڑھ کر ہو، لیکن جس چیز کا وہ تقاضا کرتا ہے اُسے پوار بھی کرتا ہے۔ فقہیوں اور فریسیوں کے برعکس، جس چیز کی وہ منادی کرتا ہے اُس پر عمل بھی کرتا ہے (متی 3:23) اور وہ بالکل ٹھیک کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھی اِسی راست بازی کے لئے بلاتا ہے تاکہ ہم کامل بنیں، جیسا کہ ہمارا آسمانی باپ کامل ہے۔ لیکن چوں کہ ہم اپنی خطاؤں اور گناہوں کے باعث مردہ ہیں، اِس لئے یہ ہمارے اِختیار میں نہیں ہے۔ لہٰذا اپنے فضل اور محبت کے وسیلہ سے وہ ہمیں گناہوں سے نجات دیتا ہے (متی 21:1)۔ وہ ہمیں اپنی راست بازی عطا کرتا ہے، وہ ہمیں اِس لئے قصوروار ٹھہراتا ہے تاکہ ہم خدا کے سامنے بے اِلزام ٹھہریں اور پھر ہمیں بخشے گئے پاک رُوح کے وسیلہ سے، وہ ہمیں اپنی شبیہ پر تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے تاکہ اُس کی راست بازی ایک دِن ہم میں ظاہر ہو۔ پھراُس کے کلام کا حکم اُس کے وعدے کی تکمیل بن جائے گا ” پَس چاہِیے کہ تم کامِل ہو جَیسا تمہارا آسمانی باپ کامِل ہے“ (متی 48:5)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


