اصلاحی ہونے کی جُرات
18/07/2023
مارٹن لوُتھر کا انتقال کیسے ہوا؟
26/07/2023
اصلاحی ہونے کی جُرات
18/07/2023
مارٹن لوُتھر کا انتقال کیسے ہوا؟
26/07/2023

آپ کام کیوں کرتے ہیں؟

آپ کام کیوں کرتے ہیں؟ ایک دفعہ میَں نے اِس کا بہت مایوس کُن جواب سُنا جو کچھ اِس طرح سے تھا۔ تاکہ ہم نوکری حاصل کر سکیں، تاکہ ہم اپنے بچوں کے سکوُل جانے کےلئے نئے جوُتے خرید سکیں،تاکہ انہیں کسی دِن نوکری مِل جائےتاکہ وہ اپنے بال بچوں کے جوُتے خرید سکیں، دوسرے لفظوں میں کام  بے معنی ہے۔ حقیقت میں اِس نقطہ نظر سے زندگی اپنے آپ میں بے معنی اور کبھی نہ ختم ہونے والا چکر بن  جاتی ہے۔

میَں نے یہ بھی سُنا ہے کہ ہم کام اِس لئے کرتے ہیں کہ ہم اُن منسٹریوں کی مدد کر سکیں جو  حقیقی کام میں دِن رات مصروف ہیں۔ میَں ایسی منسٹریوں کو دینے کے خلاف نہیں ہوں۔ درحقیقیت میَں سمجھتا ہوں کہ آپ اِس کو ایک مضبوط بائبلی معاملہ بنا سکتے ہیں کہ ہم ایسا کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن میَں حیران ہوں کہ کیا اِس سے مکمل طور پر کام کے  معنی برآمد ہوتے ہیں؟ 

پھر آپ کیوں کام کرتے ہیں؟ مجھے جواب کی شروعات زبور نمبر 104 میں ملتی ہیں۔ زبور 104 تخلیق کا عکس بیان کرتا ہے اور  شاید پیدایش 6 تا 8ابواب کے سیلاب کا عکس بھی بیان کرتا ہے۔ہم زبوُر نویس کو نہ صرف خدا کی تخلیق ، زمین اور تمام مخلوقات کو شاعرانہ طور پر بیان کرتے دیکھتے ہیں بلکہ ہم تخلیق اور اُس کی تخلیق کردہ مخلوقات کو قائم رکھنے کے لئے کام کو بھی دیکھتے ہیں(1 تا 13 آیات)۔

آیت 14 میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا مویشیوں اور انسانوں دونوں کی ضروریات کو پوُرا کرتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ انسانوں کا کوئی کردار ہوتا ہے۔ انہیں اِن پودوں اور فصلوں کی کاشت کرنا ہے جن کو خُدا اُگاتا ہے۔ ہمارے یہاں جو کوئی بھی  کام کرتا  ہے  وہ خُدا کی شبیہ رکھتے ہوئے کام کرتا  ہے۔  وہ ایسے ہیں کہ اُن کو خُدا کی شبیہ پر بنایا گیاہے۔ ہمیں زمین کو معمور و محکوم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ ہمیں خُدا کے عطا کردہ اُس اصل باغ کو وسیع کرنا ہے۔ ہم یہاں پر پیدایش 1 باب 26 تا 28 آیت کے ثقافتی منشور کا اطلاق دیکھتے ہیں۔   

ہم زبوُر 104 کی 21 تا 23 آیت میں بھی ایسا ہی دیکھتے ہیں۔ جیسے کہ  شیر شکار کی تلاش میں نکلتے ہیں  اور   وہ ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے کہ وہ بنائے گئے ہیں۔ اِسی طرح انسان اپنے کام اور شام تک محنت کے لئے  باہر نکلتا ہے (آیت 23)۔یہاں پر ایک ہم آہنگی ہے جس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خُدا کی چھوٹی بڑی تمام مخلوقات  کو ان کے مقصد کے مطابق کرنے کے لئے کام سونپا گیا ہے۔  شیر شیروں کی طرح کام کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہمیں اپنی صورت و شبیہ کے مطابق کام کرنے کے لئے  بنایا گیا ہے۔ دراصل زبوُر نویس نہ صرف ایک مخلوق سے دوسری مخلوق بلکہ مخلوق سے خُدا، خالق کی طرف بھی  بڑی روانی سے بڑھتا ہے۔ اگلی ہی آیت میں یعنی آیت 24 میں زبوُر نویس بیان کرتا ہے۔ ’’اے خُداوند تیری صنعتیں کیسی بے شمار ہیں۔  توُ نے یہ سب کچھ حکمت سے بنایا ۔  زمین تیری مخلوقات سے معموُر ہے۔ ‘‘ 

ہمارا کام سب سے زیادہ معنی خیز تصور کیا جا تا ہے

زبوُر نویس چاہتا ہے کہ ہم کام اور وسیع تر معنی کے درمیان کوئی تعلق جوڑیں۔ جیسا کہ ہم کام کرتے ہیں تو ہم خالق خُدا کے کام کی عکاسی  کرتے ہیں۔ ہمارے زیرِ تسلط رہنے  اور تسلط میں رکھنے کے کام میں، ہمارے کھیتی باڑی کے کام میں، ہم کچھ اور دیکھتے ہیں۔ ہمارا کام اُس کی گواہی دیتا اور اُسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی شبیہ پر ہم بنائے گئے ہیں۔ ہمارا کام خالق خُدا کی طرف ایک گواہی اور اشارہ ہے ۔ سی ۔ ایس لوئیس نے ایک بار کہا تھاہم کبھی کسی معمولی انسان سے نہیں ملے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اِس کی تشریح کر سکیں کہ ہمارے پاس کوئی بھی کام معمولی نہیں ہے۔ کام کبھی بھی معمولی، چھوٹا، بے معنی،مضحکہ خیز یا فضول نہیں ہوتا۔ ہمارے کام کو با معنی اور بہت اہمیت والا سمجھا جاتا ہے۔

لیکن انتظار کرو، ابھی کچھ اور بھی ہے۔ آیت نمبر 25 اور 26 میں ہم پڑھتے ہیں کہ

دیکھو یہ بڑا اور چوڑا سمندر جس میں بے شمار رینگنے والے جاندار ہیں

یعنی چھوٹے اور بڑے جانور۔

جہاز اِسی میں چلتے ہیں۔

.اِسی میں لویاتان ہے جِسے توُ نے کھیلنے کو پیدا کیا

واضح طور پر سمندر اور سمندر کی مخلوقات خُدا کی بزرگی اور جلال کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن آیت 26ب پر مزید باریکی سے غور کریں۔ زبوُر نویس دو چیزوں کو ایک دوسری کے مقابل رکھتا ہے۔ جہاز اور لویا تان۔ شاعری کی کتابیں جیسے کہ زبور، ایوب اور کہیں کہیں نبوت کی کتابیں اِس مخلوق یعنی لویاتان کا حوالہ دیتی ہیں۔ اِس مخلوقات کی شناخت کے لئے قیاس آرائیوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ کیا یہ ایک بڑی وہیل ہے؟ کیا یہ ڈائینا سور ہے؟ کیا یہ بڑا اژدہاہے؟ جو کچھ ہم جانتے ہیں کہ لویا تان ہماری سانس نکال دیتا ہے۔ ہم ایک لفظ "خطرناک”بہت ہی کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور نتیجتاً اِس کے معنی کو ختم ہی کر دِیتے ہیں۔ لیکن اِس معاملے میں یہ لفظ بہت ہی موزوں بیٹھتا ہے۔ لویاتان بہت اچھا ہے۔ 

لویا تان بھی کھیلنا پسند کرتا ہے۔ ہم اِس سے بھی احتراز نہیں کر سکتے۔ جانتھن ایڈورڈزنے  اُڑنے والی مکڑی کے عنوان سے لکھا ہے کہ جب مکڑی اُڑتی تھی  تو اِس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اِس سے ایڈورڈ اذِس نتیجہ پر پہنچا کہ خُدا نے ہر قسم کی مخلوُقات ، حتیٰ کہ حشرات الارض کی خوُشی اور تفریح کےلئے  مواقع مہیا کیے ہیں۔ یہاں تک کہ لویا تان  کے لئے بھی۔ یہ شاندار جانور کھیلتا ہے۔  اور پھر آیت 26 میں اور مخلوق ہے۔ یہ مخلوق انسان کی بنائی ہوئی ہے۔ ’’جہاز اِسی میں چلتے ہیں ‘‘اب ہمیں اِس پر غور کرنا چاہیے۔ خُدا کی تخلیق اور ہماری تخلیق متوازی طور پر بالکل ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ  ہیں۔ زبوُر نویس لویاتان پر حیران ہوتاہے۔ آپ اِس کی یوں منظر کشی کر سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے خوُد کو کہا ہو’’دیکھو وہاں جہاز چلتے ہیں۔ واہ کیا بات ہے۔ ‘‘

جہاز سازی میں کیا ہوتا ہے؟ ریاضی اور طبعیات، ہنر مند کاریگر، تجربہ، کثیر جہتی مشترکہ مہارت،بہت زیادہ آزمائش  اور غلطیاں، بہت محنت، یہ سب جہاز سازی میں ہوتا ہے۔ جہاز رانی میں کیا ہوتا ہے؟ جہاز رانی کی تکنیک، مہارت، عضلات، مضبوط کمر، مضبوط بازوُ، ہمت، عزم، اجتماعی دانش مندی، یہ سب بحری جہازوں میں ہوتا ہے۔ 

زبوُر نویس حیران رہ جاتا ہے جب وہ بحری جہازوں کو سمندر کی وسعت میں جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ہمارا زبوُر نویس حیران ہوتا ہے جب وہ  لویاتان کو سمندر کی وسعت پر ہنستے ہوئے دیکھتا ہے۔ یہ واقعی بہت زبردست ہیں۔

جب ہم اِس زبوُر کو بار بار پڑھتے  ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قدرتی اور انسانوں کے بنائے ہوئے دیو ہیکل اجسام کے سمندروں کو عبوُر کرنے اور لہروں میں کھیلنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ 27 آیت ہمیں بتاتی ہے ’’اِن سب کو تیرا ہی آسرا ہے‘‘یہ خُدا کی سب مخلوق کی طرف اشارہ ہے۔ ’’تاکہ تُو اُن کو وقت پر خوُراک دے۔۔۔۔ توُ اپنی مٹھی کھولتا ہے تو یہ اچھی چیزوں سے سیر ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ہمیں خوشی ملتی ہے ، ہماری تکمیل ہوتی ہے۔ ہم اپنے کام کو پُر معنی پاتے ہیں۔ ہم اپنی خُدا دادنعمت ، اپنے خُدا داد منبع کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے کام پر نکل جاتے ہیں۔ اور پھر ہم مطمئن ہوتے ہیں۔ مَے ہمارے دِلوں  کو خوش کرتی ہے (آیت 15)۔ ہماری تخلیق ہمیں حیران کرتی ہے۔

یہ سب ہمارے کام کا نتیجہ ہیں۔ لیکن اِن میں سے کوئی بھی  ہمارے کام کا انجام یا  حتمی نتیجہ نہیں ہے۔ ہمارے کام کا اہم اختتام آیت 31 میں ہے۔  ’’خُداوند کا جلال ابدتک رہے۔ خُداوند اپنی صنعتوں سے خوش ہو۔ ‘‘ ہمارے کام کا کوئی مطلب ہے۔ ہمارا کام اِس کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی شبیہ پر ہم بنائے گئے ہیں۔ جب ہم کام کرتے ہیں تو ہم خُدا کو جلال دیتے ہیں۔ جب ہم کام کرتے ہیں تو خُدا ہم سے خوُش ہوتا ہے۔ ہم اپنے جواب پر لغزش کا شکار ہوتے ہیں  کہ ہم کام کیوں کرتے ہیں۔ 

کیا آپ نے دیکھا کہ زبوُر 104 میں کیا نہیں ہے؟ اِس میں ہیکل کا ایک بھی حوالہ نہیں ہے، نہ  ہیکل کے موسیقاروں کا، نہ  کاہنوں کا، نہ ہی اِن کی سر گرمیوں کا ایک بھی حوالہ ہے۔ کھیتی باڑی کا حوالہ ہے۔ تاکستانوں کی دیکھ بھال کا حوالہ ہے۔ دستی مشقت کا حوالہ ہے۔ کام کرنے کا حوالہ ہے۔ جہاز بنانے کا حوالہ ہے۔ ’’جہاز اِسی میں چلتے ہیں۔‘‘ بزرگی خُدا کے لئے ہی ہے۔ 


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

 

سٹیفن نِیکلس
سٹیفن نِیکلس
ڈاکٹر سٹیفن نیکلس ریفارمیشن بائبل کالج کے صدر ، لیگنئیر منسٹریز کے تعلیمی نصاب کے چیف افسر اور لیگنئیر منسٹریز کے تدریسی ساتھی ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مُصنف ہیں جن میں ’’ہمارے اور ہمارے نجات کے لئے ‘‘ اور ’’ اعتماد کا وقت ‘‘ شامل ہیں۔