
کلیسیا
13/02/2025
غیر متوقع تعارُف
20/02/2025چھوٹے اور چھوٹی چیزیں
’’جو کوئی شاگرد کے نام سے اِن چھوٹوں میں سے کسی کو صرف ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پلائے گا، مَیں تم سے سچ کہتا ہوں وہ اپنا اَجر ہرگز نہ کھوئے گا‘‘ (متی ۱۰: ۴۲)۔ اِس آیت کو پڑھنے کے بعد ہم متعجب ہوتے ہوئےخود سے سوال کرتے ہیں کہ ’’خداوند ہمیں ایک چھوٹے سے کام کے بدلے اتنا بڑا اَجر کیوں دیتا ہے، جبکہ یسوع نے خود ہمارے لئے اتنا بڑا کام کیا، یعنی ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے صلیبی موت برداشت کی، جس سزا کے ہم مستحق تھے وہ اُس نے اپنے اُوپر لے لی۔ ‘‘
یسوع ہمیں ایسے چھوٹے کام کے بدلےبڑا اَجر کیو ں دیتا ہے؟ ایک پیالہ ٹھنڈا پانی تو محض ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اِس کے پیچھے ہماری پوری زندگی چھُپی ہوئی ہے، یعنی تباہی کی راہ جس کا انتخاب ہم نے خود کیا ۔ بے شک ہم اپنی ذات اور گناہ کو کسی بھی اَور چیز یا شخص سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ لیکن خدا نے ہم اُس وقت چُنا جب ہم گناہ گار اور اُس کے دُشمن تھے۔ اُس نےاپنا روح ہمارے دِلوں میں ڈالا، ہمیں بچایا، اور اب ہم اُس کی شکرگزاری سے لبریز ہیں- خدا اور اپنے پڑوسیوں سے حقیقی محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔
یسوع نے روزِ عدالت کا منظر بیان کیا ۔ اُس نے اپنی بَھیڑوں، یعنی راست بازوں کو اپنے ساتھ رہنے کے لئے بلایا۔ یعنی جو اپنے اعمال سے پہچانے جاتے ہیں۔ اُنہوں نےبھوکوں کو کھانا کھلایا، پیاسوں کو پانی پلایا، برہنہ کو کپڑے پہنائے اور پردیسیوں کو اپنے گھر اُتارا، اُنہوں نے بیماروں اور قیدیوں کی عیادت کی۔ یسوع بیان کرتا ہے کہ ’’جب تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلوک کیا تو میرے ہی ساتھ کیا‘‘ (متی ۲۵: ۴۰)۔لیکن جنہوں نے اِن چھوٹے کاموں کی اہمیت کو نہ پہچانا جو اِن چھوٹوں کے لئے مختص تھے، ایسے مسیحی اپنے فرائض کی ادائیگی میں یہی کرتے ہیں، کیوں کہ وہ اِن کاموں کو اَجر کے لحاظ سے نہیں دیکھتے۔ یسوع نے ایسے ایمان داروں کی ہمدردی کو پسند کیا ، کیوں کہ وہ اُس کی ہمدردی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسے مسیحیوں کا دِل اُن کمزور لوگوں کے ساتھ ہے۔ بے شک مسیح اپنے لوگوں کے ساتھ یکساں ہے۔
اِن چھوٹوں کی خدمت بے شک اختیاری نہیں۔ یسوع نےاُن بکریوں کو ہمیشہ کی آگ میں پھینک دیا۔ جو بھوکوں، پیاسوں، بیماروں، ننگے، پردیسیوں اور قیدیوں کے لئے رحم دِلی کے اعمال کی عدم موجودگی سے پہچانے جاتے تھے۔ یسوع اِن چھوٹوں کو ٹھوکر کھلانے کے خلاف متنبہ بھی کرتا ہے کہ اُن کے گلے میں ایک بڑی چکّی کا پاٹ لٹکایا جائے اور اُنہیں سمندر میں پھینک دیا جائے (لوقا ۹: ۴۲)۔ یہ ایک سنگین انتباہ ہیں۔
آج ہمارے درمیان اِن میں سے کون چھوٹے ہیں؟ اور ہمیں کون سے چھوٹے کام کرنے چاہئیں؟ سب سے چھوٹے وہ ہوتے ہیں جن کی ابھی پیدائش نہیں ہوئی ہوتی۔ وہ جو ابھی بول نہیں سکتے، لہٰذا ہمیں اُن کے وجود کا دفاع کرتے ہوئے اُن کی آواز بننا ہو گا۔ ہماری کلیسیاؤں میں بھی ایسے چھوٹے یعنی نوزائیدہ ایمان دار ہوتے ہیں ، جن کی تقدیس کا عمل ابھی شروع ہوتا ہے، اور اُنہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِن تنہا اور اکیلے لوگوں کو ہمیں اپنے گھروں میں مدعو کرنا چاہئے۔ یہ وہ گنوار بچے ہیں جنہیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی تربیت دینی چاہئے کہ وہ اِن سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں، اور اِنہیں اپنے دوستوں کے حلقے میں شامل کریں۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ہمیشہ ایسے چھوٹےیا کمزور لوگ ملتے ہوں گے۔ آئیے اِن چھوٹوں کو وہ اُمید بتائیں جو ہمارے اندر موجود ہے یعنی یسوع مسیح کی اُمید۔ جب ہم اِن چھوٹوں کے لئے چھوٹے اور معمولی کام کرتے ہیں تو ہمیں لامتناہی خوشی اور برکات ملتی ہیں۔لازم ہے کہ ہم ایسی برکات ضائع نہ کریں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


