
مسیح یسوع کب مُوا ؟
17/09/2026مسیحی الٰہی مکاشفہ کے بارے میں کیا ایمان رکھتے ہیں ؟
خُدا اپنے آپ کو اور اپنی پاک مرضی کو اپنے لوگوں پر صرف اپنے ذاتی انکشاف یعنی مکاشفہ کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے ۔بنی نوع انسان کے لیے بطور مخلوق ، خُدا کو بطور خالق جاننا ضروری ہے کیونکہ خُدا اپنی مخلوق سے ماورا اور بالکل جُدا ہے ۔جب تک خُدا اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا چاہے ، بنی نوع انسان اُسے نہیں جان سکتے ۔ خُدا کے ذاتی انکشاف کے بغیر ، وُہ اپنی عقل ، تجربہ یا ذاتی کوشش سے خُدا کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے ۔اِسی لیے خُدا اپنے فضل سے ، خود کو اِس انداز میں ظاہر کرتا ہے جو انسانوں کی محدُود استعداد کے مطابق ہو ۔اِس طرح سے ، خُدا اور اُس کی تخلیق کے مقاصد کے بارے میں انسانوں کی تمام معرفت ، خُدا کی اپنی کامل معرفت جو کہ اُس کی اپنی ذات کے متعلق ہے یا اُس کی مخلوق کے متعلق ہے ، کی ایک مخلوقی مشابہت ہے ۔
ہم دو طریقوں میں امتیاز کر سکتے ہیں جن کے ذریعے خُدا پنے آپ کو اور اپنی مرضی کو انسانوں پر ظاہر کرتا ہے ۔یہ دونوں طریقے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور باہم مل کر کام کرتے ہیں۔پہلا طریقہ عموماً عام مکاشفہ کہلاتا ہے ، جس میں خُدا اپنے آپ کو آفاقی طور پر تمام انسانوں پر اپنی تخلیق کے کاموں ، اپنی پروردگاری اور انسانی ضمیر کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے ۔نظام قدرت اور پوری کائنات ، خُدا کی قدرت ، حِکمت اور الٰہی فطرت کو ظاہر کرتے ہیں (رومیوں ۱: ۱۹-۲۰)۔تاریخ اور انسانی معاملات پر اُس کی حاکمیت اُس کے انصاف اور بھلائی کو ظاہر کرتی ہے (متی ۵: ۴۵؛ اعمال ۱۴: ۱۷)۔انسان اپنی فطری روِش زندگی میں نیکی اور بدی کے بارے میں ایک ایسی اخلاقی آگاہی ظاہر کرتا ہے ، جو خُد ا نے اُس کے اندر رکھی ہے اور جو خُدا کی اخلاقی شریعت کی عکاسی کرتی ہے(رومیوں ۲: ۱۴-۱۵)۔ یہ سب باتیں مسلسل، واضح طور پر ، سچائی کے ساتھ اور مُستند طور پر انسانوں پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا بحثیت خالق کون ہے اور اُس کی شبیہ پر بنائی گئی مخلوق ہونے کے ناطے اُس کے سامنے انسانوں کے کیا فرائض ہیں ۔یہ مُستقل اور دائمی گواہ ہیں جو انسانوں کو ہر وقت خُدا کے سامنے جوابدہ ٹھہراتے ہیں ۔
اگرچہ یہ عام مُکاشفہ تمام انسانوں کو خُدا کے حضور جوابدہ ٹھہرانے کےلیے کافی ہے ، لیکن یہ صرف ایک بنیاد ہے اور انسانوں کی نجات کے لیے کافی نہیں ہے ۔ویسٹ منسٹر اقرارالایمان (1.1)اِسے درج ذیل طریقے سے بیان کرتا ہے :
اگرچہ فطرت کی روشنی ، اور تخلیق اور پر وردگاری کے کام ، خُدا کی بھلائی ، حکمت اور قدرت کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ انسانوں کے پاس کوئی عُذر باقی نہیں رہتا ؛ تاہم وُہ خُدا اور اُس کی مرضی کی وُہ معرفت عطا کرنے کے لیے کافی نہیں جو نجات کے لیے ضروری ہے ۔
یہ اِس لیے نہیں کہ بنی نوع انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے محدُود ہیں اور مخلوق ہونے کے ناطے ، خُدا کے ذاتی انکشاف کی کامل وسعت کو سمجھنے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتے ،بلکہ خُدا ہمیشہ اپنے آپ کو انسانوں پر اِس طرح سے ظاہر کرتا ہے جو اُن کے فہم و استطاعت کے لیے کافی ہوتا ہے ۔اصل کمی ، گُناہ کی حقیقت اور اُس کے انسان کی عقل و ارادہ پر تباہ کُن اثرات کے باعث پیدا ہوتی ہے ۔بنی نوع انسان کی ذات کا ہر پہلو ،جو خُدا کی شبیہ پر بنایا گیا تھا کہ وُہ خُدا کی ذات اور اُس کے الٰہی کردار پر انحصار بھی کرے اور اُس کی عکاسی بھی کرے ۔لیکن گُناہ نے انسان کی عقل اور اُس کے محرکات کو بگاڑ دیا ہے ، جس کے نتیجہ میں وُہ اُس معرفت خُدا کو ، جو اُسے عام مکاشفہ کے ذریعہ سے حاصل ہوئی ہے ، دباتا ، رَد کرتا اور بگاڑ دیتا ہے ۔رُوح القدس کے موثرٴ کام کے بغیر ، انسان اُس مُکاشفہ کی غلط تشریح کرتے، اُسے مسخ کرتے اور اُسے مُسترد کرتے ہیں جوکہ واضح طور پر ظاہر کیا گیا ہے ۔
خاص مُکاشفہ وُہ دوسرا ذریعہ ہے جس کے وسیلہ سے خُدا اپنے آپ کو اور اپنی مرضی کو انسان پر ظاہر کرتا ہے ، اور یہ اُس بات کی وضاحت بھی کرتا ہے اور اُس میں مزید اضافہ بھی کرتا ہے جو وُہ عام مُکاشفہ میں ظاہر کرتا ہے۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا بطور نجات دہندہ کون ہے ، تاریخ میں اُس کے نجات بخش کاموں کے مقاصد کیا ہیں ، اپنے لوگوں کےساتھ اُس کا عہدی تعلق کیا ہے ،اور یسوع مسیح کے ذریعے سے مخلصی کے اُس کے حتمی اور کامل منصوبے کی حقیقت کیا ہے ؟یہ خاص مُکاشفہ نجات کی تاریخ کے دوران مختلف ذریعوں سے دیا گیا ، جن میں خواب ، رُویائیں ، فرشتوں کا ظاہر ہونا ، الٰہی ظہور ، اور نبوت کی باتیں شامل تھیں ۔تاہم ، یہ یسوع مسیح کی ذات میں اپنے عروج اور تکمیل کو پہنچا ، جس کے ذریعے سے خُدا نے حتمی طور پر کلام کیا ہے (عبرانیوں ۱: ۱-۲)، اور جو باپ کا کامل مُکاشفہ ہے (یوحنا ۱: ۱۸؛۱۴:۹)۔اِس تمام حقیقت کی مُستند ، لاخطا ، حتمی اور معقول گواہی پاک نوشتوں میں پائی جاتی ہے ۔ ویسٹ منسٹر اقرارالایمان (1.1)اِس کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے :
خُدا کو پسند آیا کہ مختلف زمانوں میں اور مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو ظاہر کرے اور اپنی مرضی اپنی کلیسیا پر آشکار کرے ؛ اور بعد ازاں ، سچائی کی بہتر حفاظت اور ترویج کے لیے ، اور جسم کی مغلوبیت ، شیطان کی شرارت ، اور دُنیا کی مخالفت کے مقابلہ میں کلیسیا کی زیادہ مضبوطی اور تسلی کےلیے ، اُس نے اِس مُکاشفہ کو مکمل طور پر تحریری صُورت میں سپُرد کیا ؛ اِسی سبب سے مقدس نوشتے نہایت ضروری ٹھہرے ۔
یہی خاص مُکاشفہ ہے جسے رُوح القُدس موثرٴ بناتا ہے تاکہ انسان نجات ، ایمان اور دیندارانہ زندگی کے لیے خُدا کی ضروری معرفت حاصل کرے ،یہ عام مُکاشفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک مکمل اور متحد گواہی پیش کرتا ہے ، تاکہ خُدا خود کو انسان پر ظاہر کرے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


