حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کیسے کریں؟
12/07/2025
یاد رکھنا اور بائبل پر عمل کرنا
15/07/2025
حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کیسے کریں؟
12/07/2025
یاد رکھنا اور بائبل پر عمل کرنا
15/07/2025

صحائف الانبیا کا مطالعہ کیسے کریں؟ 

صحائف الانبیا کو سمجھنا ایک دُشوار اَمر ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خُدا نے اپنے آپ کو اُن پر خوابوں اور رُؤیاؤں کے ذریعے ظاہر کِیا۔ صرف موسیٰ ہی وہ نبی تھا  جس سے خُدا نے رُوبرو بات کی (گنتی۶:۱۲- ۸ )۔ اَنبیائے اکبر  میں یسعیاہ، یرمیاہ، حزقی ایل اور دانی ایل شامل ہیں۔ جب کہ  اَبنیائے اصغر  میں ہوسیع ، یوایل، عاموس، عبدیاہ، یوناہ ، میکاہ، ناحُوم، حبقوق، صفنیاہ، حجّی، زکریاہ اور ملاکی شامل ہیں۔

۱۔ سیاق و سباق کا مُطالعہ کیجیے

سب سے پہلے، اِسے  تواریخی مواقعات ، معاشرتی پس منظراور اُس نبی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں جس کے متعلق  آپ پڑھ رہے ہیں۔ ایک عُمدہ اور اعلیٰ  مُطالعاتی بائبل مُقدس ، مثلاً ریفارمیشن اسٹڈی بائبل، اِس ضمن میں آپ کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

۲۔ نبیوں کے کردار کو خُدا کے عہد کے وکیل یا درمیانی کے طور پر پہچانیے

دُوسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ انبیا دراصل خُدا کے عہد کے وکیل ہوتے  تھے۔ اگرچہ وہ  اُس عہد کے کئی پہلوؤں پر کلام کرتے تھے—مثلاً تمہیدی  اور تاریخی پس منظر (’’ مَیں خُداوند تیرا خُدا ہوں، جو تجھے ملکِ مِصر سے نکال لایا ہوں ‘‘)—مگر وہ اکثر قوم کو خُدا کے اَحکام کی پاسداری کی یاد دِہانی بھی کراتے تھے (یعنی ’’شرائط‘‘)۔ تاہم، ان کی اصل ذِمے داری یہ تھی کہ وہ عہد کی سزا و جزا کو بیان کریں۔ آج کی عام زُبان میں ہم ’’اَحکام‘‘  (sanctions) کو صرف منفی معنوں میں لیتے ہیں (جیسے ’’معاشی اَحکام‘‘)، لیکن کلامِ مُقدس میں یہ مثبت بھی ہو سکتی ہیں اور منفی بھی۔ یعنی، اگر تابع داری ہو تو برکت، اور اگر نافرمانی ہو تو پھر  لعنت یا سزا۔ نبی، اچھے وکیلوں کی مانند، بادشاہ یا قوم کے خلاف اپنے مَقدمات ترتیب دیتے، اور اُنھیں وعظ و نصیحت کے ذریعے بتاتے کہ وہ خُدا کے معیار پر پورا نہیں اُترے۔

۳۔ نبوتی  اُسلوب بیان کوسمجھنے کی کوشش کریں 

نبوتی محاورہ اُن باتوں کو سمجھنے میں کُلیدی حیثیت رکھتا ہے جو انبیا مستقبل کے بارے میں فرماتے ہیں۔ انبیا بار بار بنی اِسرائیل، اُن کے قبائل، اُن کی سرزمین اور ہیکل کے انتظام و انصرام پر کلام کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات وہ ان باتوں کی آڑ میں نئے عہد کی وہ حقیقتیں بیان کر رہے ہوتے ہیں جو ابھی ظاہر ہونے والی ہوتی  ہیں۔

چُنانچہ قاری کو مسلسل یہ سوال کرنا چاہیے: ’’کیا نبی جن حالات کا ذکر کر رہا ہے، وہ صرف اُسی وقت اور ماحول سے متعلق ہیں؟ یا وہ کسی آنے والے عہد کی بات کر رہا ہے؟‘‘ 

نبوتی  اُسلوب  در حقیقت وہ طرزِ بیان ہے جس کے ذریعے عہدِ عتیق کے انبیا اِسرائیل کی چیزوں کو بطور  مثالی  استعمال کرتے ہیں، تاکہ آنے والے مسیحی عہد کی حقیقتوں کو بیان کر سکیں۔ یہی نبوتی  طرزِ بیان کی اصل نوعیت ہے، اور اگر ہم اسے نہ سمجھیں، تو انبیا کی کتابوں کا مفہوم بھی کھو بیٹھیں گے۔

یہی حقیقت پَولُسؔ  رَسُول بخوبی جانتا تھا ، یہاں تک کہ جب وہ بادشاہ اَگرِپّا کے سامنے اپنا دفاع کر رہا تھا   (اَعمال ۲۶: ۱۹–۲۹)، تو اُس  نے انبیا کا حوالہ دیا—کہ وہ مسیح کے بارے میں گواہی دیتے ہیں، اور پَولُسؔ رَسُول کی غیر قوموں کے لیے بُلاہٹ کی تصدیق کرتا ہے ۔انبیا کی زُبان، اور وہ علامتی اُسلوب جس میں وہ اپنے پیغام کو بیان کرتے ہیں، خاص طور پر نئے عہد کے اِیمان داروں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اَلفاظ کے ظاہر ہونے کو اُس حقیقت سے جُدا کر کے سمجھیں وہ جو نئے عہد کے وعدوں میں چھپی ہوئی ہے۔

مختصر یہ کہ، نبوت کے اُسلوب میں انبیا اکثر نئے عہد کی حقیقتوں کو پُرانے عہد کے عرصہ  اور حالات کی زُبان میں بیان کرتے ہیں۔ انبیا کی پیشین گوئیوں کی زُبان، اُن کی تمثیلات، اور اُن کا علامتی اندازِ بیان دراصل اُن باتوں کو ظاہر کرتا ہے جو مسیح یسوع میں اور پوری اِنسانیت کے لیے وقوع پذیر ہونے والی ہیں۔ یہ پہلو اُس وقت خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے جب نبی جلاوطنی اور بکھراؤ، قبائل کا جمع ہونا، سرزمین کی طرف واپسی، اور لعنتوں کی صورت گری جیسی باتوں کو بیان کرتے ہیں۔

اگرچہ انبیا مستقبل کے بارے میں علیمِ کُل کے ساتھ کلام نہیں کرتے، پھر بھی وہ خُدا کی آمد کی یقینی حقیقت کو بتاتے ہیں —چاہے وہ مسیح یسوع میں ہو، نئے عہد کے مطابق  ہو، یا خُداوند کے دُوسرے ظہور کے مطابق ہو —وہ اسے بے دھڑک بیان کرتے ہیں، گو وہ تمام مراحل کو الگ الگ کر کے بیان نہیں کرتے۔  تاہم، اِن تمام مراحل میں ایک داخلی وحدت پائی جاتی ہے، کیوں کہ انبیا نے یہ سب کچھ رُوحُ القدس کی تحریک کے تحت بیان کِیا۔

مثال کے طور پر، جب یو ایل نبی رُوحُ‌ القدس کے اُنڈیلے جانے اور خُداوند کے اُس عظیم اور ہولناک دِن کی تمثیلات کو بیان کرتا ہے، تو وہ صرف اپنے زمانے کے سامعین سے مخاطب نہ تھا (یوایل ۲: ۲۸–۳۲)۔ یوایل باب ۲ کا حوالہ اَعمال کی کتاب میں پینتیکُست کے موقع پر دیا گیا ہے (اعمال ۲: ۱۷–۲۱)، اور یہی مناظر ہم مسیح کی صلیب پر قربانی کے وقت بھی دیکھتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ یوایل کی نبوت کی آخری تکمیل خُداوند یسوعؔ کے دُوسرے ظہور پر ہوتی ہے۔ چُنانچہ اگرچہ یو ایل کی نیت ایک ہی تھی، اُس کے اَلفاظ مخلصی کی تاریخ میں کئی مختلف مواقع پر اپنی جھلک دکھاتے ہیں—یعنی وہ ایک سے زیادہ ’’مواقع ‘‘پر لاگو ہوتے ہیں۔ اسی لیے رُوحُ‌ القدس کے اُنڈیلے جانے کے بارے میں یہ حوالہ جان کیلون کے نزدیک نہایت محبوب تھا، کیوں کہ وہ اِسی کے ذریعے نبوتی  طرزِ بیان کی وضاحت کِیا کرتا تھا کہ یہ اُسلوب کس طرح مختلف ادوار میں خُدا کی مرضی کو ظاہر کرتے  ہیں ۔

۴۔ نئے عہد  نامے میں انبیا کے حوالہ جات ، اشارات اور بازگشت کی تلاش کیجیے

چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ چُونکہ خُداوند یسوعؔ نے اِماؤسؔ  کی راہ پر اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ’’ تمام نوشتوں میں جتنی باتیں وہ میرے  بارے میں ہی گواہی دیتی  ہیں‘‘ —چاہے وہ اُس کی خدمت کی بابت ہوں یا اُس کے بدن کی، یعنی کلیسیا کی—لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ تلاش میں رہیں کہ نئے عہد نامے کی کتابیں انبیا کی تحریروں کا حوالہ کیسے دیتی ہیں، اُن کی طرف اشارہ کیسے کرتی ہیں، یا اُن کی بازگشت کہاں سنائی دیتی ہے۔

مثال کے طور پر، پطرسؔ—جو تبدیلی کی گھڑی کا چشم دید گواہ تھا—سمجھ گیا کہ استثنا ۱۸: ۱۵–۱۹ میں جو بات موسیٰ کے بارے میں کہی گئی تھی کہ وہ تمام آنے والے نبیوں کے لیے ایک نمونہ ہو گا، وہ پیشین گوئی دراصل مسیح میں اپنی آخری اور مکمل تعبیر پاتی ہے، جو کہ آخری نبی ہے (دیکھیے: اَعمال ۳: ۱۷–۲۶)۔

یہی تشریح عبرانیوں کے خط کا مصنف بھی کرتا ہے، جب وہ لکھتا ہے کہ ’’ موسیٰ تو اُس کے سارے گھر میں خادم کی طرح  دیانت دار رہا ‘‘ (یعنی پرانے عہد میں)، مگر ’’مسیح بیٹے کی طرح سے اُس کے گھر کا مختار ہے ‘‘؛ یعنی نئے عہد میں۔ مزید برآں، پرانے اور نئے دونوں گھروں کا معمار خود خُدا ہے (عبرانیوں ۳: ۱–۶)۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔