
؟کیا باقاعدہ علم الہی مفید ہے
12/07/2025
حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کیسے کریں؟
12/07/2025عبرانی شاعری کو کیسے پڑھا جائے؟

مشہور انگریز شاعر سموئیل ٹیلر کولرج(Samuel Taylor Coleridge) ایک بار شاعری کو ، جس کا اُردو مفہوم یہ ہے کہ ’’ بہترین اَلفاظ بہترین ترتیب میں ‘‘ کے طور پر بیان کِیا تھا۔ آج کے دَور میں جب کہ اکثر لوگ شاعری کا مذاق اُڑاتے ہیں یا اُسے یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ہم مسیحیوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس فنِ لطیفہ کی محبت کو دوبارہ دریافت کریں— خصوصاً اِس لیے کہ عہدِ عتیق کا تقریباً ایک تہائی حصہ شاعری پر مشتمل ہے۔
لیکن شاعری کو پڑھنا اکثر مُشکل ہوتا ہے۔ شاعری زُبان کی حدود کو پھیلاتی ہے اور قارئین سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ غیر کہی گئی باتوں کو خُود محسوس کرے، سمجھے اور اُن کی ربط کو جوڑے۔ لیکن اگر خُدا نے مناسب جانا کہ اپنے کلام کا اِتنا بڑا حصہ شاعری کی صورت میں ظاہر کرے، تو ہمیں بھی لازم ہے کہ ہم اُس شاعری کے ماہر قاری بنیں۔ زیرِ نظر سطور میں ہم آپ کو چار ایسے طریقے بتائیں گے، جن کی مدد سے آپ عہدِ عتیق کی شاعری کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
۱۔متوازیّت کی باریکیوں کو اپنائیں
انگریزی شاعری میں اکثر قافیے کا اِستعمال ہوتا ہے، یعنی مصرُعوں کے آخر میں ایک جیسے یا ہم آواز اَلفاظ آتے ہیں۔لیکن عبرانی شاعری کی خاص پہچان متوازیّت ہے—یعنی اشعار یا مصرعے ایک دوسرے کے ساتھ معنوی ربط یا تضاد کے ذریعے جُڑے ہوتے ہیں۔
عبرانی شاعری میں متوازیّت کی دو اَقسام عام طور پر پائی جاتی ہیں:
- مترادف متوازیّت
اِس میں دوسرا مصرع پہلے مصرعے سے معنوی طور پر بہت مِلتا جُلتا اور مماثلت رکھتا ہے، مگر محض اُسے دہرانا نہیں ہوتا—بلکہ ہمیشہ کوئی نیا پہلو، کوئی گہرا نکتہ یا کوئی اضافی رنگ پیش کرتا ہے۔
- متقابل متوازیّت:
اِس میں دونوں مصرعے ایک دوسرے کی متضاد(متضاد مماثلت ) ہوتے ہیں، یعنی ایک ہی حقیقت کے دو مختلف یا متضاد زاویے سامنے آتے ہیں۔ (مثلاً: زبور ۶:۱؛ ا اور جیسے کئی حکِمت کی مثلیں) (اَمثال ۱:۱۰)۔
اکثر لوگ مترادف متوازیّت کو یوں سمجھ لیتے ہیں کہ دوسرے مصرعے میں صرف پہلے والی بات کو دہرا دیا گیا ہے۔ لیکن دراصل ایسا کبھی نہیں ہوتا—ہر بار دوسرا مصرعہ کوئی نیا رُخ، نئی باریکی یا نیا تاثر شامل کرتا ہے۔
مثال کے طور پر:
’’ پس اب اَے بادشاہو! دانِش مند بنو۔
اَے زمِین کے عدالت کرنے والو تربِیّت پاؤ۔ ‘‘ زبُور ۱۰:۲
دوسرے مصرعے میں شاعر اپنی نصیحت کو بادشاہوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اُسے تمام اہلِ زمین کے حاکموں تک وسعت دیتا ہے—یعنی اُن تمام چھوٹے بڑے حکّام اور قاضیوں تک جو زمین پر اِختیار رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ’’دانش مند بنو‘‘ کا مطلب کیا ہے:
یعنی اُس تنبیہ کو سنجیدگی سے لینا، جو خُدا نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ بادشاہ مقرر کر کے دی ہے (دیکھیں: زبُور۵:۲- ۹ )۔
عبرانی شاعری میں متوازیّت کی مختلف اِقسام کے لیے خُود کو تیار رکھیں۔ کبھی مصرعوں کا یہ جوڑا موازنہ پیش کرتا ہے (جیسے زبُور ۱۱:۱۰۳)،کبھی یہ ایک دو حصوں پر مشتمل کہانی بیان کرتا ہے (جیسے زبُور۴:۳) اور کبھی پہلا مصرع بات کا آغاز کرتا ہے اور دوسرا اُسے مکمل کرتا ہے (جیسے زبُور ۱۱۱:۶)۔ ہر بار ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے: ’’ دوسرا مصرع پہلے مصرعے کو کیسے مکمل کرتا ہے یا اُس کے مفہوم کو کیسے نکھارتا ہے؟‘‘
۲۔ اِستعاروں سے لُطف اندوز ہوں
اِستعارہ شاعری کی رُوحِ رُواں ہے۔ (اِستعارہ پر غور کریں)اِستعارے حقیقت کو دیکھنے کا ایک مؤثر اور گہرا انداز فراہم کرتے ہیں۔
ذرا یرمیاہ ۱۳:۲پر غور کیجیے:
’’ کیونکہ میرے لوگوں نے دو بُرائیاں کِیں۔
اُنہوں نے مُجھ آبِ حیات کے چشمہ کو ترک کر دِیا
اور اپنے لِئے حَوض کھودے ہیں۔ شِکستہ حَوض جِن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔ ‘‘
ان اِستعاروں کو سمجھنے کے لیے ہمیں چند تصویریں بنانے کی ضرورت ہے ۔چشمہ ایک چشمہ ہی ہے جہاں سے پانی قدرتی طور سے بلبلوں کے ذریعے نکلتا ہے ، جو زمین سے خُود بخود پھوٹتا ہے— صاف، تازہ پانی اور بلا قیمت۔ ایسے ہی خُدا فیاضی کا لا محدود چشمہ ہے۔
اس کے برعکس، حَوض ایک گڑھا ہوتا ہے جسے محنت سے چٹان میں تراشنا پڑتا ہے، پھر اُسے رَساؤ سے بچانے کے لیے لیپ(پلاسٹر) کِیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف محنت طلب کام ہے، بلکہ ان حَوضوں کا پانی اکثر باسی ہو جاتا ہے اور بدبُو دینے لگتا ہے۔ بت اُن شِکستہ حَوض کی مانند ہیں جو پانی کو رُوک ہی نہیں سکتے—صرف کیچڑ اور گندگی باقی رہ جاتی ہے۔ گناہ کا المیہ یہی ہے کہ ہم زِندہ پانی کے چشمے کو چھوڑ کر شِکستہ حَوضوں کا اِنتخاب کرتے ہیں۔ قدیم مشرقِ قریب کی تصویری زُبان کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایک اچھی بائبل لغات یا مُطالعاتی بائبل بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
خُدا نے ہمیں شاعری عطا کی تاکہ ہم اُس کے کلام میں بے پایاں خُوشی پا سکیں۔
ایک اور بات جو قابلِ توجہ ہے، وہ یہ کہ اِستعارے اکثر ادبی سلسلہ کی صورت میں آتے ہیں۔ مثلاً زبُور ۳:۱ میں ہم پڑھتے ہیں:
’’ وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔
جو اپنے وقت پر پھلتا ہے
اور جِس کا پتّا بھی نہیں مُرجھاتا۔
سو جو کُچھ وہ کرے باروَر ہو گا۔ ‘‘
اس اِستعارے میں، راست بازاِسرائیلی شخص کو ایک ہرے بھرے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ لیکن یہاں اور بھی پوشیدہ اِستعارے موجود ہیں:خُداوند خُود وہ کاشت کار ہے جس نے اُس درخت کو زر خیز جگہ پر لگایا ہے اور پھل اُس اِیمان دار کی نیکیاں اور اَعمالِ صالحہ ہیں۔ یہ کس قدر تسلی بخش تصور ہے کہ خُدا خُود ہمارے باغبان کی حیثیت سے ہماری آبیاری کرتا ہے، ہمیں سنوارتا ہے اور ہمیں پھل دار بناتا ہے۔
جب بھی آپ کسی اِستعارے سے رُو برو ہوں، تو اُسے سطحی طور پر نہ دیکھیں — بلکہ اُسے دِل میں اُتاریں اور یہ سوال ضرور اُٹھائیں: ’’ کیا یہ مرکزی اِستعارہ کسی اور اِستعارے کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے؟‘‘ کیوں کہ اکثر اوقات ایک اِستعارہ، خُدا کے کلام میں پوشیدہ کئی جہتوں کو رُوشن کرتا ہے۔
۳۔ یہ پہچاننے کی کوشش کریں کہ کون بول رہا ہے
بسا اوقات ہم عہدِ عتیق کی شاعری کو سمجھنے میں اس لیے اُلجھ جاتے ہیں، کیونکہ ہم ایک نہایت اہم سوال پوچھنے سے غفلت برتتے ہیں:
’’کون بول رہا ہے ؟‘‘ عہدِ عتیق کے شاعرانہ متون میں اکثر خُداوند اور اُس کے لوگوں کے درمیان مکالمے کو ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں اور کئی بار مقرر کی تبدیلی بغیر کسی پیشگی اِطلاع کے واقع ہو جاتی ہے۔
ایک نہایت مؤثر مثال یرمیاہ ۱۸:۸- ۲۰ کی ہے، جہاں بولنے والے کی حیثیت تین بار تبدیل ہوتی ہے۔ ذیل میں متن کے ساتھ ساتھ بولنے والوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے:
[ یرمیاہ ]
’’ کاش کہ مَیں غم سے تسلّی پاتا!
میرا دِل مُجھ میں سُست ہو گیا۔
دیکھ میری بِنتِ قَوم کے نالہ کی آواز دُور کے مُلک سے آتی ہے۔
[قوم کی پُکار]
کیا خُداوند صِیُّون میں نہیں؟ کیا اُس کا بادشاہ اُس میں نہیں؟
[خُداوند کا جواب]
اُنہوں نے کیوں اپنی تراشی ہُوئی مُورتوں سے اور بے گانہ معبُودوں سے مُجھ کو غضب ناک کِیا؟
[قوم کی فریاد]
فصل کاٹنے کا وقت گُذرا۔ گرمی کے ایّام تمام ہُوئے اور ہم نے رہائی نہیں پائی۔ ‘‘
ہر معاملے میں ، ہم سیاق و سباق اور اَلفاظ کی نوعیت سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون مخاطب ہے۔ یہ سادہ سا سوال — ’’کون بول رہا ہے؟‘‘ — اگر شعوری طور پر پوچھا جائے، تو کئی پیچیدہ اور مبہم متون کی گرہ کھل جاتی ہے۔
۴۔ خُدا کے نازک و پُر مغز کلام میں سرور پائیں
خُدا نے اپنی کتاب میں اتنا بڑا حصّہ شاعری کی صورت میں اس لیے نہیں دیا کہ ہم اُلجھن میں پڑ نہ جائیں، بلکہ اس لیے کہ ہم اُس کے کلام سے پورے دِل و جان سے لُطف اُٹھائیں۔
اپنے آپ کو ایسے مسیحی ساتھیوں سے گھیر لیں جو آپ کو بائبل کی شاعری کی قدر کرنا سِکھا سکیں۔ اچھی انگریزی شاعری کا مُطالعہ کریں، تاکہ آپ کے ذوق میں نرمی، گہرائی اور فہم پیدا ہو۔ یوں کرتے کرتے آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ کا دِل بائبل کی شاعری میں زیادہ سے زیادہ محویت اور سرور پانے لگا ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔