مضامین
27/08/2026
کی طرف سے شائع ڈاکٹر نیل سٹیورٹ — 27/08/2026
اپنے ہر دُکھ اور رنج کے پیچھے خُداوند کے ہاتھ کو پہچان لینا ، رُوح کو بڑی تسلی بخشتا ہے ۔ وُہ سب تلاطُم لہریں جو ہمیں ڈبو دیتی ہیں ، اُسی کی ملکیت ہیں (زبور ۴۲: ۷)۔ہر مشکل میں اصل کار فرما وہی ہے (زبور ٦٦: ۱۰-۱۲)۔تاہم ، پھر بھی ، خُدا وند ہمارے ساتھ ہے ۔اپنی خودی سے اِنکار اور خُدا کی مرضی کے تابع ہو نا ، ایمان کی زندگی کا وُہ پہلا اور آخری سبق ہے جو سیکھنا لازم ہے ۔لیکن جان نیوٹن درست کہتا تھا کہ بہت کم لوگ ہیں جو یہ سبق سیکھنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں " جب تک کہ وُہ کچھ عرصہ تک نا اُمیدی کی درسگاہ میں تربیت نہ پائیں ۔"
25/08/2026
کی طرف سے شائع ریورنڈ ڈینیل آر ۔ہائیڈ — 25/08/2026
لیکن خیمہ ِ اِجتماع کے ساتھ ایک نئی بات سامنے آئی ۔خُدا کی حضوری اب کسی ایسے مہمان کی مانند نہ تھی جو آتا اور چلا جاتا ، بلکہ ایک ایسے رہائشی کی طرح تھی جو اُن ہی کی مانند ، اُن ہی کے درمیان سکُونت پذیر ہو ۔پس ، خیمہ ِ اِجتماع اُس کا شاہی گھر تھا ، جس میں پردے میں دروازہ ، اُسے ڈھانپنے والے پردے ، روٹی کی میز ، روشنی کے لیے چراغ دان ، اور عہد کا صندُوق اُس کے شاہی پاوٴں کی چوکی کے طور پر موجود تھے ۔
20/08/2026
کی طرف سے شائع لیگونئیر اداریہ — 20/08/2026
اعمال کے عہد میں ، جسے کبھی کبھی تخلیق کا عہد یا زندگی کا عہد بھی کہا جاتا ہے ،خُدا نے آدم اور حوّا کو نیک و بَد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا (پیدایش ۲: ۱۵-۱۷)۔اِس عہد کی کامل فرمانبرداری آدم اور حوّا کو زندگی میں قائم رکھتی ؛ وُہ خُداوند کے حضور راستباز ٹھہرائے جاتے اور اَبدی زندگی کے وارث بنتے۔
مضامین
27/08/2026
کی طرف سے شائع ڈاکٹر نیل سٹیورٹ — 27/08/2026
اپنے ہر دُکھ اور رنج کے پیچھے خُداوند کے ہاتھ کو پہچان لینا ، رُوح کو بڑی تسلی بخشتا ہے ۔ وُہ سب تلاطُم لہریں جو ہمیں ڈبو دیتی ہیں ، اُسی کی ملکیت ہیں (زبور ۴۲: ۷)۔ہر مشکل میں اصل کار فرما وہی ہے (زبور ٦٦: ۱۰-۱۲)۔تاہم ، پھر بھی ، خُدا وند ہمارے ساتھ ہے ۔اپنی خودی سے اِنکار اور خُدا کی مرضی کے تابع ہو نا ، ایمان کی زندگی کا وُہ پہلا اور آخری سبق ہے جو سیکھنا لازم ہے ۔لیکن جان نیوٹن درست کہتا تھا کہ بہت کم لوگ ہیں جو یہ سبق سیکھنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں " جب تک کہ وُہ کچھ عرصہ تک نا اُمیدی کی درسگاہ میں تربیت نہ پائیں ۔"
25/08/2026
کی طرف سے شائع ریورنڈ ڈینیل آر ۔ہائیڈ — 25/08/2026
لیکن خیمہ ِ اِجتماع کے ساتھ ایک نئی بات سامنے آئی ۔خُدا کی حضوری اب کسی ایسے مہمان کی مانند نہ تھی جو آتا اور چلا جاتا ، بلکہ ایک ایسے رہائشی کی طرح تھی جو اُن ہی کی مانند ، اُن ہی کے درمیان سکُونت پذیر ہو ۔پس ، خیمہ ِ اِجتماع اُس کا شاہی گھر تھا ، جس میں پردے میں دروازہ ، اُسے ڈھانپنے والے پردے ، روٹی کی میز ، روشنی کے لیے چراغ دان ، اور عہد کا صندُوق اُس کے شاہی پاوٴں کی چوکی کے طور پر موجود تھے ۔




