مضامین
14/10/2026
کی طرف سے شائع ٹیری ینٹ — 14/10/2026
ہم کیوں کرسمس کے گیت گاتے ہیں؟ یقیناً اِس لئے کہ وہ ہمارے دلوں میں خوشی پیدا کرتے ہیں، یسوع مسیح کی ولادت اور زندگی کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، اور ہماری رُوحانی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ کرسمس سے پہلے کے ایّام میں ہم مانوس حمدیہ گیتوں اور کرسمس کے گیتوں کے ذریعے تخلیق، جلال، مجسم ہونے اور کفارے جیسے بنیادی عقائد کا بار بار اِقرار کرتے ہیں۔ اِس عمل کے نتیجے میں ہمیں ترغیب ملتی ہے کہ ہم ہر روز مسیح کی خوش خبری کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
07/10/2026
کی طرف سے شائع گائے ایم۔ رچرڈ — 07/10/2026
اِس مضمون میں، مَیں طلبہ کے اُس گروہ سے مخاطب ہوں، جو اِس کشمکش میں مبتلا ہے کہ خدا اُن سے کیا چاہتا ہے۔ جہاں تک دُوسرے گروہ کا تعلق ہے، اُس پر مَیں اگلے مضمون میں گفتگو کروں گا۔ لہٰذا اِس مضمون کا مقصد اُن اَفراد سے براہِ راست گفتگو کرنا ہے، جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اُنہیں سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا نہیں۔ اگر آپ کو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا موقع ملتا، تو مَیں آپ کو یہی مشورہ دیتا۔
30/09/2026
کی طرف سے شائع بینجمن شا — 30/09/2026
جب ہم نئے عہد نامہ کی بات کرتے ہیں تو ابتدا سے آخر تک بنیادی اصُول یہی ہے کہ شادی یک زوجگی پر مبنی ہو یعنی کہ شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہو ۔۱ کرنتھیوں ۷ باب میں پولُس رسو ل کی شادی سے متعلق تعلیم میں بھی یک زوجگی کا اصُول واضح طور پر ملتا ہے ۔اِسی طرح ۱ تیمتھیس ۳ باب اور طِطس ۱ میں کلیسیا کے عُہدیداروں کے لیے یہ اصُول پایا جاتا ہے کہ بزرگوں کو " ایک ہی بیوی کا شوہر " ہونا چاہیے ۔ نئے عہد نامہ میں ایسا کوئی اِشارہ نہیں پایا جاتا جس کے مطابق کثرت ِازدواج کو قابل ِ قبول سمجھا جاتا ہو ۔
مضامین
14/10/2026
کی طرف سے شائع ٹیری ینٹ — 14/10/2026
ہم کیوں کرسمس کے گیت گاتے ہیں؟ یقیناً اِس لئے کہ وہ ہمارے دلوں میں خوشی پیدا کرتے ہیں، یسوع مسیح کی ولادت اور زندگی کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، اور ہماری رُوحانی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ کرسمس سے پہلے کے ایّام میں ہم مانوس حمدیہ گیتوں اور کرسمس کے گیتوں کے ذریعے تخلیق، جلال، مجسم ہونے اور کفارے جیسے بنیادی عقائد کا بار بار اِقرار کرتے ہیں۔ اِس عمل کے نتیجے میں ہمیں ترغیب ملتی ہے کہ ہم ہر روز مسیح کی خوش خبری کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
07/10/2026
کی طرف سے شائع گائے ایم۔ رچرڈ — 07/10/2026
اِس مضمون میں، مَیں طلبہ کے اُس گروہ سے مخاطب ہوں، جو اِس کشمکش میں مبتلا ہے کہ خدا اُن سے کیا چاہتا ہے۔ جہاں تک دُوسرے گروہ کا تعلق ہے، اُس پر مَیں اگلے مضمون میں گفتگو کروں گا۔ لہٰذا اِس مضمون کا مقصد اُن اَفراد سے براہِ راست گفتگو کرنا ہے، جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اُنہیں سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا نہیں۔ اگر آپ کو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا موقع ملتا، تو مَیں آپ کو یہی مشورہ دیتا۔




