
عقیدہ
27/03/2025
مسیح
03/04/2025خدا اور اِنسان

جے۔ گریشام میچن نے جدید ذہن پر تصورِ خدا اور گناہ کے شعور کے کھو جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ میچن کے مطابق جدید لبرل ازم نے سب سے پہلےتصورِ خدا اور عرفانِ خداکی ضرورت کو چیلنج کیا ۔اور یہ دلیل دی کہ خدا کا عرفان حاصل کرنے کا مطلب مذہب کو ختم کر نا ہے۔ اُن کےمطابق ہمیں خدا کو جاننا نہیں بلکہ اُسے محض محسوس کرنا چاہئے؛ اور اگر ہم اُس کا کوئی تصور قائم کریں بھی تو وہ مبہم اور عمومی اصطلاحات پر مبنی ہونا چاہئے۔ اگرچہ،خدا باپ ہے، لیکن اِس سے مرادتمام مخلوقات کے لئے اُس کی عالم گیر پَدرِیت ہے، جو بالواسطہ طور پر تمام اقوام کے مابین ایک عالمگیر اخوت (بھائی چارے) کا تصور پیدا کرتی ہے۔
میچن بلاشبہ اِس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ تھا کہ کلامِ مقدس خدا کی عالمگیر پدریت کو بیان کرتی ہے (اعمال ۱۷: ۲۸؛ عبرانیوں ۱۲: ۹)۔لیکن محض چند ایک منتخب حوالہ جات ہی اِس بات کی تائید کرتے ہیں؛ کلامِ مقدس میں خدا بطورِ باپ کا غالب تصور اُس کے نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ تعلق میں بیان کیا گیا ہے۔ میچن کے نزدیک، خدا کی پدریت مسیحیت کامحور یا بنیادی نظریہ نہیں تھا۔بلکہ یہ ایک واحد صفت ہےجو’’باقی تمام [صفات] کو قابلِ فہم بناتی ہے‘‘ یعنی ’’خدا کی درجہ اُتم سے ماورائیت۔‘‘ میچن دراصل خدا کی بے مثال پاکیزگی، اُس کے امتیاز –اُس کی یگانگت— کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ میچن کے مطابق یہ وہ سچائی تھی جس سے جدید لبرل ازم نے چشم پوشی اختیار کی تھی ۔ اِس کے نتیجے میں لبرل ازم نے خالق و مخلوق کے اُس امتیاز کو مِٹا ڈالا جو حقیقی مسیحیت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے برعکس، اُنہوں نے عقیدہِ واحدت الوجود پر مبنی خدا کا تصور پیش کیا جو محض ’’عالمی عمل‘‘ کا حصہ ہے۔خدا اب ایک الگ ہستی نہیں تھی بلکہ اُس کی زندگی ہماری زندگی میں اور ہماری زندگی اُس کی زندگی میں تھی۔ میچن بیان کرتا ہے کہ :
جدید لبرل ازم، جب اِس تسلسل کے ساتھ عقیدہِ واحدیت الوجود پر مبنی نہیں بھی ہوتی تو یہ اصبحام پرستی ہے۔ یہ خدا اور دُنیا کے درمیان علیحدگی، اور خدا اور انسان کے درمیان واضح امتیاز کوختم کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔
خدا کے بارے میں اِس (غلط) تصور کا ایک نتیجہ انسان کے بارے میں (غلط) تفہیم اور خاص طور پر، ’’گناہ کے شعور کا وسوسہ‘‘تھا۔چونکہ خدا کو اب مُقدس اور ماورائی تصور نہیں کیا جاتا، اِس لئے وہ جدید ذہن اور گناہ پر کوئی خاص اثر نہیں رکھتا تھا۔میچن نے جدید ذہن پر اِس تبدیلی کے محرکات کو جاننے کی کوشش کی۔ پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۱۴-۱۸) کے کچھ عرصے بعد میچن اپنے خیالات کو یوں بیان کرتا ہے کہ جنگ کے باعث لوگ اپنے گناہوں کے بجائے دوسروں کے گناہوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے لگےتھے۔ جنگ میں جب ایک فریق کو سراسر برائی کا مجسم سمجھا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں اپنی قلبی برائی کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جدید ریاست کی اجتماعیت پسندی کا ایک مسئلہ یہ بھی تھاکہ ہر کوئی حالات کا شکار تھا ، جس سے ’’جرم کے انفرادی، شخصی کردار‘‘ کو نظر انداز کر دیا جاتا۔ لیکن گناہ کے جدید تصور میں تبدیلی کے پیچھے میچن نے ایک سنگین اور اہم وجہ ’’بت پرستی‘‘ دیکھی۔ بت پرستی سے میچن کا مطلب بربریت نہیں تھا۔ یونانی سلطنت کے عروج کے دوران، بت پرستی عجیب نہیں بلکہ شان دار تھی ۔دُنیا اور زندگی کا یہ ایک ایسا نظریہ تھا جو ’’انسانی وجود کا اعلیٰ ترین مقصد کو موجودہ انسانی صلاحیتوں کی صحت مند، ہم آہنگ اور پُر مسرت نشوونما‘‘ میں تلاش کرتا تھا۔ یعنی انسانیت بنیادی طور پر اچھی ہے اور اور اپنے ذہن اور بدن کے مناسب استعمال اور نظم ونسق کے ذریعے سے اچھائی حاصل کر سکتی ہے۔ میچن بیان کرتا ہے کہ اُن کے زمانے میں ایک ایسا نقطہ نظر غالب آگیا تھا، جس نے ایک مُقدس خدا کے سامنے گناہ اور شخصی جرم کے مسیحی نظریے کی جگہ لے لی تھی۔
اِس کا نتیجہ انسانیت کے متعلق بالکل متضاد نظریات کی صورت میں نکلا یعنی ’’بت پرستی انسانی فطرت کے بارے میں ایک پُر امید نقطہ نظر رکھتی ہے، جبکہ مسیحیت غم زدہ دِلوں کا مذہب ہے۔‘‘میچن کے مطابق، بت پرستی کا بنیادی مسئلہ قلبی گناہوں کو چھپا نا اور اپنے باطن سے اِن کاحل تلاش کرنا ہے۔ مسیحیت مختلف مذہب ہے ۔ مسیحیت قلبی گناہوں کو بے نقاب کرتی اور کسی بیرونی قوت سے مدد کی خواہاں ہوتی ہے۔ بت پرستی، مسیحیت کو خوشخبری سے محروم کرتی ہے اور اِس کو اچھی نصیحت یا اچھی حوصلہ افزائی سےبدل دیتی ہے۔ اُن کے نزدیک،ہمیں معافی کی نہیں، بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔ ہمیں خدا کے حضور توبہ کی نہیں، بلکہ محض اچھے ردِعمل کی ضرورت ہے۔ میچن نے جدید آزاد خیال واعظ کی خوشخبری کو یوں بیان کیا: ’’آپ سب بہت اچھے لوگ ہیں؛ آپ ہر اُس درخواست پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں؛ جو سماج کی بہتری کے لئے ہوتی ہے۔ اب ہمارے پاس کلامِ مقدس – بالخصوص یسوع مسیح کی حیاتِ مقدسہ میں، کچھ اِس قدر بہترین ہے کہ آپ جیسے اچھے لوگوں کے لئے بھی بہتر ہے۔‘‘ میچن کے دَور میں ، اپنی ذاتی اچھائی ایک طرح سے ایک منجی کی خوش خبری بن گئی تھی۔
میچن کی جدید لبرل ازم پر مبنی مُدرک اور دانش مند تنقید آج ہمارے دَور میں بھی درُست ہے۔ بے شک کلیسیا کا ردِعمل بھی میچن کے زمانےجیسا ہونا چاہئے: یعنی خدا اور انسان کے مابین امتیاز کی ایک بے دھڑک اور غیر متزلزل توثیق ۔ کلیسیا کوخدا کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق خدا اور انسان کے مابین امتیاز کو سمجھنا چاہئے، نہ کہ اپنے خود ساختہ اصولوں کے مطابق۔ اِس سلسلے میں، کلامِ مقدس خدا اور انسان کے درمیان موجود خلیج کے دو اہم پہلو فراہم کرتا ہے۔
اوّل، خالق اور مخلوق کے مابین امتیاز۔ پیدائش کی کتاب کا آغاز خدا کی ماورائیت کے اقرار سے ہوتا ہے۔ ’’خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا‘‘ (۱: ۱ )۔ایک بہتر اور لازمی نتیجے کے طور پر، کلامِ مقدس کے اِس ابتدائی جملے سےخدا کے بارے میں کئی حقائق اخذ کئے جا سکتے ہیں: خدا ایک ہے، معتدد نہیں؛ وہ سادہ ہے، مُرکب نہیں؛ وہ ازلی ہے، عارضی نہیں؛ وہ رُوح ہے، مادہ نہیں؛ وہ لامحدود ہے، محدود نہیں؛ وہ غیر متغیر (لاتبدیل) ہے، متغیر نہیں؛ وہ قائم الذات ہے، محتاج نہیں؛ اُس میں بذاتِ خود زندگی ہے، کسی دوسری زندگی سے نہیں؛ وہ لافانی ہے، فانی نہیں۔ مختصراً، خُدا ماورا ذات ہے اور پاک و لاثانی ہے۔ چونکہ انسان مخلوق ہے، خالق نہیں، اِس لئے انسان کو اپنے خالق خدا کو جلال دینے اور اُس سے لطف اندوز ہونے کے لئے بلایا گیا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو آسمانی مخلوقات تخلیق کے آغاز سے کر رہی ہیں ’’قدوس قدوس قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اُس کے جلال سے معمور ہے‘‘ (یسعیاہ ۶: ۳)۔
دوم، خدا اور انسان کے درمیان گناہ اور بے گناہی کا امتیاز ، جوآدم کے گناہ میں گِرنے کے باعث آیا۔ گناہ میں گِرنے سے پہلے، اگرچہ انسان خالق اور مخلوق کے رشتے میں خدا سے ایک الگ ہستی تھا، لیکن انسان کے پاس ایک ایسی حقیقی راست بازی تھی جو اُسے خدا کی رفاقت سے لُطف اندوز ہونے کے قابل بناتی تھی۔ تاہم، یہ زیرِ آزمائش راست بازی تھی، یعنی خدا کے ساتھ یہ رفاقت کھو بھی سکتی تھی۔ جب آدم کی نافرمانی کے باعث انسان گنا ہ میں گِرا، تو یہ رفاقت ٹوٹ گئی،یوں خدا اور انسان کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جو خالق اور مخلوق کےامتیاز کی طرح لامحدود تھا، اور اب اِس سے کہیں زیادہ سنگین بھی ہے۔ یسعیاہ نبی اپنی رُؤیا میں گناہ اور بے گناہی کے درمیان امتیاز کی اہمیت کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ خدا کی سہ رُوخی قدوسیت کو دیکھنے اور سُننے کے بعد اُس کے ’’واہ‘‘ کا ردِعمل اُس وقت جلد ہی ’’افسوس‘‘ کے ردِعمل میں بدل جاتا ہے جب وہ خدا کی پاکیزگی کی منکشف روشنی میں اپنی گناہ گار فطرت کو سمجھتا ہے (یسعیاہ۶: ۱-۵)۔
اگر خدا اور انسان کے درمیان خالق او رمخلوق کا امتیاز، تخلیق کی ابتدائی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، توگناہ اور بے گناہی کا امتیاز موجودہ انسانی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح، یہ امتیاز انسان کی اِس مشکل کو واضح کرتا ہے کہ ایک پاک خالق اور ایک گناہ گار مخلوق کے درمیان رفاقت کیسے بحال ہو سکتی ہے؟ مسیحیت کا پیغام ہے کہ خدا نے اپنے بیٹے— یسوع مسیح—قدوس کامل خُدا اور کامل انسان میں اس بحالی کا حل مہیا کیا۔ یسوع مسیح میں خدا کی تمام صفات اور بیک وقت انسان کی تمام خصوصیات موجود تھیں، اور اسی لئے وہ اپنے نجات بخش کام کے وسیلے سے خدا اور انسان کے درمیان ملاپ کرانے کے قابل ہے۔یہ مسیحیت کی سادہ لیکن انتہائی اہم خوشخبری ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان ملاپ ، یسوع مسیح کے وسیلے سے ممکن ہوا۔ یہ وہ راسخ العتقادی مسیحیت ہے، جس کے دفاع کے لئے میچن نے نڈر ہو کر کام کیااور جس کی اب بھی جدید لبرل ازم شدید مخالفت کرتی ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔