شراکت کے نشان اور مہریں
10/11/2023
خطِ منقسم/تقسیم کی لکیر
05/02/2024
شراکت کے نشان اور مہریں
10/11/2023
خطِ منقسم/تقسیم کی لکیر
05/02/2024

شہوت سے نمٹنا

یوحنا  رسول کی بیان کردہ شہوت کی ٹروئیکا (ایک روسی گاڑی جسے تین گھوڑوں سے کھنچا جاتا ہے) ہمارے اُتنے ہی قریب ہے جتنی جِلدجسم سے: ’’کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے  یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ  کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہے‘‘(1 یوحنا 2 باب 16 آیت) ۔یہ ممنوعہ اور بے حد   تمنائیں گنہگارمیں گناہ  کا سرچشمہ ہیں۔ جس کی طرف  اشارہ یعقوب رسول تعلیم دیتے ہوئے  کرتا ہے کہ خدا گناہ  کےذریعےہمیں نہیں آزماتا:’’ہاں۔ ہر شخص اپنی ہی خواہشوں  میں  کھنچ کر اور  پھنس کر آزمایا جا تاہے۔پھر خواہش  حاملہ  ہو کر گناہ کو جنتی ہے اور  گُناہ  جب بڑھ چُکا تو موت پیدا  کرتا ہے‘‘( یعقوب 1 باب 14 تا 15 آیات)۔

حقیقی انسان اپنی شہوت کی غلامی میں  ہوتا ہے (رومیوں  3 باب 10 تا 18 آیات)، لیکن ہمارے تبدل کے دوران چونکہ ہمارا اتحاد مسیح  کے ساتھ ہو جاتا ہے اِس لئےہم شہوت کی حکمرانی سے رہا کر دیئے جاتے ہیں۔’’پس  گناہ تمہارے فانی  بدن میں بادشاہی  نہ کرے  کہ تم اُس کی خواہشوں کے تابع رہو۔ اور اپنے  اعضا ناراستی  کے ہتھیار ہونے کے لئے  گُناہ کے حوالہ نہ کیا کرو بلکہ  اپنے  آپ  کو مُردوں  میں سے زندہ جان  کر خُدا  کے حوالہ کرو اور اپنے  اعضاراست  بازی  کے ہتھیار ہونے کے لئے  خُدا کے حوالہ کرو۔اس لئے کہ گُناہ  کا تم پر اختیار نہ ہوگا  کیونکہ  تم  شریعت کے ماتحت نہیں بلکہ  فضل کے ماتحت ہو‘‘(رومیوں 6 باب 12 تا 14 آیات)۔

بہرحال خُدا  پنی بعید القیاس حکمت میں یہ متعین کرتا ہے کہ وہ  اپنے تبدیل شدہ بیٹوں اور بیٹیوں میں گُناہ کے بقیہ کو رہنے دے  اور یہ  بقیہ  شہوت میں رہتا ہے۔چنانچہ  وہی رسول  جو  اعلان کرتا ہے کہ ہم  اپنے گُناہوں کی حکمرانی میں مُردہ ہیں۔اور وہ  اپنی کشمکش کو یوں یاد کرتا ہے : ’’کیونکہ  میں  جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم  میں کوئی نیکی بسی  ہوئی نہیں  البتہ ارادہ  تو مجھ میں موجود  ہے مگر  نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے۔چنانچہ جس نیکی   کا اِرادہ  کرتا ہوں وہ تو نہیں  کرتا مگر جس بدی  کا اِرادہ  نہیں کرتا اُسے کرلیتا ہوں‘‘(رومیوں 7 باب 18 تا 19 آیات)۔

ہم سب اپنے ہراساں کرنے والے شہوت کے گناہ کی کشمکش سے بخوبی آگاہ ہیں۔جو کہ  کئی مختلف شکلوں ہمارے سامنے آتا ہے  جس میں  مادہ پرستی، طاقت اور غروریا فخر شامل ہیں۔لیکن یہاں میرا  مرکزِ نگاہ موضوع جنسی خواہش کا  مسئلہ ہوہے۔ دورِ حاضر کی کلیسیا میں ہم سب یہ تسلیم کر چُکےہیں کہ  جنسی ناکامی  ایک وبائی مرض بن چُکی ہے۔مُشکل سے کوئی ہفتہ گُزرتا ہے  جس میں ہم نے یہ نہ سُنا ہو کہ پھر کوئی دوسرا  کلیسیائی پاسبان  زنا، شہوت پرستی  ، ہم جنس پرستی یا  فحاشی کا مرتکب نہ ہو ا۔

جنسی آزمائشیں ہر جگہ ہیں ۔جنسی آزمائش کی  گولہ باری    لباس یا کم لباسی ، ٹیلی ویژن،اشتہاری  بورڈ،   گیتوں کے ذریعے، محرک خیال زبان اور فیس بُک  کی عرضوں میں ہم پر ہوتی ہے۔فحشی کی مثال لےلیں،اِب پہلے کی طر ح کسی شخص کو دُکان میں جا کے فحاش مواد خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ آپ سے اُتنا ہی  قریب ہے جتنی آپ کی کمپیوٹرر  اسکرین کی  رازداری  اور اِس میں عادی ہونے کا خدشہ نہایت ہے۔

لیکن کیا ہمیں شکست مان لینی چاہیے؟  اس کا جواب نہیں میں ہے جیسے اُوپر بیان کیاگیاہے۔ہم گُنا ہ کی حکمرانی  سے آزاد ہیں۔اِس کے باوجود ہمیں روز احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔بنیادی طور پر  ہمارے خاندانوں اور کلیسیاؤں کوضرورت ہے کہ وہ پاکیزگی کے ماحول کو فروغ دیں،خیالات ، لباس، گُفتگو اور  چال چلن میں جنسی پاکیزگی کو یقینی بنائیں۔اس طرح کا ماحول  گھر میں والدین اور کلیسیائی عہدہ داروں (خدام اور کلیسیائی عہدہ دار اور اُن کی بیویاں) سے شروع ہوتا ہے۔

ہمیں نہایت احتیاط سے فضل کے  وسائل،کلیسیائی عبادت ،  کلام ، دُعا، پاک رسومات ، روزہ اور ذاتی اور خاندانی  عبادت  کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان سب سے بڑھ کر ہمیں مسیح میں قائم  رہنا چاہیے۔

۱) خُدا سے پاکیزہ دل مانگے جو اُس کے نجات بخش فضل سے تقدیس شدہ اور نیا کیا گیا ہو۔ہمیں ہمیشہ دل سے ہی آغاز کرنا چاہیے، چونکہ یہ دیگر تمام  ترچیزوں کا منبع ہوتا ہے(متی 15 باب 19 آیت)اور خُدا ہماری دُعاؤں  کا جواب دینے کا وعدہ کرتا  ہے جب ہم اُس کی الٰہی مرضی کے مطابق دُعا کرتے ہیں(یوحنا 14 باب 13 تا 14 آیات)۔ہمیں ضرور روح القُدس کی تقدیسی قوت کو مانگنا چاہیے۔

۲)خُدا کے خوف میں سارا دن چلو اور یہ یاد رکھو کے اُس کی  سب کچھ دیکھنے والی آنکھ ہر وقت آپ پر ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ  سب  دیکھ رہا ہوتا ہے۔

۳)  فحش اور ناپاک لوگوں کی صحبت  سے گریز کریں جو کہ شہوت کے دلال ہوتےہیں۔شیطانی صحبت  اچھے اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے۔یاد رہے کہ اس بات  کا اطلاق نہ صرف ہمارے ذاتی تعلقات  پر ہوتا ہے بلکہ اِن سب  پر  بھی جن سے ہمارا سامنا  فلموں، گیتوں، کتابوں، رسالوں اور کمپیوٹرز کے ذریعے ہوتا ہے۔

۴)مُستقل مزاجی سے اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کریں جو کہ گُنا ہ سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہوگا۔آپ اس کہاوت سے بخوبی واقف ہونگے کہ ’’خالی دماغ شیطان کا گھر  ہوتا ہے‘‘۔

۵) اپنی  بھوک کو ضبط کریں   :ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں۔اس بات کا قطعی مطلب یہ نہی ہے کہ  ہم خُدا کی بخشی ہوئی اچھی نعمتوں ، کھانے پینے  اور دوستوں کے ساتھ دعوت کے مزے سے لطف اندوز نہ  ہوں۔لیکن یہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ اگر  ہم ایک طرف  اپنی جسمانی بھوک کو پوراکرتے ہیں،تو  دوسری طرف گرنے کا زیادہ  خدشہ ہوگا۔

۶) ایک شریک ِحیات کا  انتخاب کریں  اور جو  آپ نے منتخب کیا ہے  اس  میں خوش ہوں ۔تحریکِ اصلاح کی  آزادانہ بصیرت میں سے ایک یہ  بھی ہے کہ شادی کے اندر جنسی  عمل  تسکین کے لیے ہے  اور یہ  غیر قانونی خواہشات کے خلاف خُدا کی طرف سے تحفظ ہے۔

۷) گناہ میں نہ گریں اس بات کا خیال رکھیں خاص طور پر  توہم  پرستی اور بت پرستی  جن میں  اور جن صورتوں  اور برائیوں کی سزا کے طور  پر خُدا اکثر انسانوں کو اُن کی بُری اُلفتوں کے حوالہ کر دیتا ہے (رومیوں 1 باب 25 تا 26 آیات)۔گناہ  لامحالہ  گناہ کو جنم دیتا ہے۔

اس طرح کلیسیا اپنے لوگوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔اِن تمام چیزوں کی تعلیم دیں اور  اِنہیں  عملی جامہ پہنائیں

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر۔ جوزف اے ۔پائپا
ڈاکٹر۔ جوزف اے ۔پائپا
ڈاکٹر۔ جوزف اے ۔پائپا جونئیر۔اینٹییاک (Antioch)پریسبیٹیرین چرچ گرین ویل،ایس۔ سی کے پاسٹر اور گرین ویل پریسبیٹیرین تھیولوجیکل سیمنری کے اعزازی صدرِ اور منظم و عملی علم ِ الٰہی کے پروفیسر ہیں۔وہ کئی کتب کے مصنف بھی ہیں جن میں شامل گلتیوں:خُدا کا آزادی کا اعلان ، کیا خُدا وندکا دن آپ کے لیے ہے؟،ویسٹ منسٹر اقرارالایمان کی مطالعہ گائیڈ: کلیسیاؤں کے لیے ایک مطالعیاتی گائیڈ۔